وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سیکولر نظام میں خدا کو ماننے کی پوری آزادی ہے، البتہ بندہ بننے پر سخت پابندی ہے

جمعه 05 اگست 2016 سیکولر نظام میں خدا کو ماننے کی پوری آزادی ہے، البتہ بندہ بننے پر سخت پابندی ہے

ahmed-javed-sahib

سیکولرزم ایک سیاسی نظام کے طور پر دنیا میں عملاً قائم ہے، اور ایک فکر کے طور پر علوم اور ذہن میں جاری ہے۔ یہ ایک کامیاب ترین نظام اور موثر ترین فکر ہے۔ اب سیکولرزم دنیا کا معمول بھی ہے اور عرف بھی۔ عام طور پر یہ سمجھا اور کہا جاتا ہے کہ یہ مذہب کے خلاف ہے۔ ہمارے خیال میں یہ بات درست نہیں، کیونکہ یہ مذہب کو اتنی اہمیت بھی نہیں دیتا کہ اسے اپنے ”خلاف“ قرار دے کر اس کی اہمیت کا اعتراف کرے۔ طاقت اور علم میں سیکولرزم کا غلبہ اتنا مکمل ہے کہ اہل مذہب کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ اور بولنے کے لیے کوئی زبان بھی باقی نہیں رہی۔ اہل مذہب ایمانی قوت سے اس کا انکار تو یقیناً کرتے ہیں، لیکن بھولپن میں اپنے ”انکار“ کو ”رد“ سمجھ لیتے ہیں۔ انکار کے لیے سمجھ اور علم ضروری نہیں ہوتا، رد کے لیے سمجھ اور علم تو ضروری ہیں بھلے تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں، اور اب تو ان کا بھی کال پڑا۔

سیکولرزم اپنا تفصیلی تعارف بھی کراتا ہے لیکن وہ بھی عموماً اہل مذہب کی سمجھ میں نہیں آتا، اس لیے سیکولرزم اپنا موقف بہت سادہ کر کے، ایک مقولہ بنا کے سامنے لاتا ہے تاکہ اہل مذہب سمیت سب کی سمجھ میں آ جائے۔ سیکولرزم کا موقف ہے کہ مذہب نجی معاملہ ہے۔ اس کا بہت ہی سادہ مطلب ہے کہ مذہب کا قانون سے اور علم سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے۔ اور سادہ کریں تو یہ کہ مذہب کا انسان کے عمل سے اور ذہن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیکولرزم کہتا ہے کہ آدمی مذہب کو تعویذ بنا کر گلے میں ڈال لے چاہے گھٹنے سے باندھ لے، اس کی مرضی۔ اس کے آگے کچھ نہیں، بس یہی تعویذ ہی تعویذ ہے۔ سیکولرزم میں خدا کو ماننے کی جو ”پوری آزادی“ ہے وہ اسی طرح کی ہے۔ خدا کو مان لینے کا مطلب اگر اس کا بندہ بننا بھی ہے تو یہ ممکن نہیں کیونکہ سیکولرزم اپنے نظام اور فکر سے اس کی کوئی گنجائش رہنے ہی نہیں دیتا۔

تسلیم کہ خدا کو مان لینا ایک شعوری چیز ہے، اور سیکولر نظام اس کی مکمل آزادی دیتا ہے، لیکن اس کا بندہ بننے کے لیے جو عمل درکار ہے وہ تو ذہن ہی ذہن میں نہیں ہو سکتا۔ عمل معاشرے اور تاریخ میں واقع ہوتا ہے۔ معاشرہ اور تاریخ سیچو ایشن کے نہ ختم ہونے والے اور ہر وقت بدلتے رہنے والے مجموعے کا نام ہے۔ فکر کا تعلق اگر ذہن کو کنٹرول کرنا ہے تو نظام کا مطلب سیچوایشن کو کنٹرول کرنا نہیں ہے، اسے پیدا کرنا ہے۔ سیکولر نظام معاشرے اور تاریخ میں ہر سیچوایشن اپنی مرضی، مفاد اور ترجیحات کے مطابق پیدا کرتا ہے اور پھر اسے تبدیلی کو ایک سلسلہ بنا دیتا ہے۔ سیکولر نظام کے پاس سیچوایشن پیدا کرنے کا ذریعہ قانون اور کلچر ہے۔ وہ انسان کے بندہ بننے پر پابندی قانونی معانی میں نہیں لگاتا، وہ معاشرتی اور تاریخی سیچوایشن“ کو انسان کی تقدیر بنا دیتا ہے اور انسان اس ”سخت پابندی“ سے ادھر ادھر نکلنے کی اتنی ہی گنجائش رکھتا ہے جتنی ریل کی پٹڑی پر چلنے والی ٹرین۔ سیکولر نظام اپنے کلچر اور معاش سے جو معاشرتی اور تاریخی صورت حال پیدا کرتا ہے، عام آدمی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ آدمی سیکولر نظام کی پیدا کردہ سیچوایشن کے سانچے میں ڈھالا جا رہا ہو تو اسے جدید تعلیم کے بنائے ہوئے اپنے ذہن کے طاق نسیاں میں پڑے احکام الٰہی یاد نہیں رہتے۔ آنجناب کے قول زریں سے ناچیز کو جو سمجھ آئی وہ مختصراً عرض کر دی۔


متعلقہ خبریں


سب اندھیرے ایک سے نہیں ہوتے، کچھ رات میں پھیلتے ہیں اور کچھ، دن میں! محمد دین جوہر - اتوار 04 ستمبر 2016

اندھیرے جو دل کو ظلمت خانہ بنا دیں وہ رات کو آتے ہیں اور جو ذہن کو تاریک کر دیں وہ دن کو پھیلتے ہیں۔ اندھیرے جو احوال بن جائیں وہ رات میں اترتے ہیں، اور ظلمت جو فکر بن جائے وہ دن کو بڑھتی ہے۔ آج دنیائے آفاق خود اپنے ایندھن سے اور انسانی کاوش سے روشن ہے۔ یہ دنیا انسان کا گھر تو ہے، کوئی عارضی مانے اور کوئی مستقل کہے، وہ الگ بات ہے، گھر تو ہے، اور یہاں اندھیرے بھی ہیں، اور روشنیاں بھی۔ ساری روشنیاں گھر کو منور کرنے میں کھپتی جا رہی ہیں، اور انسان نے اندھیروں کو دنیا سے جلاوطن ک...

سب اندھیرے ایک سے نہیں ہوتے، کچھ رات میں پھیلتے ہیں اور کچھ، دن میں!

ذہانت صرف علم سے نہیں، جہل سے بھی پیدا ہوتی ہے محمد دین جوہر - بدھ 31 اگست 2016

اگر اس قول زریں میں ”ذہانت“ کا مفہوم طے ہو جائے تو اشکال ختم ہو جاتا ہے۔ یہ اشکال ذہانت کے حوالے سے ”علم“ اور ”جہل“ کی ہم منصبی سے پیدا ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ذہانت کا مفہوم کیا ہے یا درست تر معنی میں اس کی تعریف کیا ہے؟ علم کی عمارت دراصل تعریفات کی اینٹوں سے کھڑی ہوتی ہے۔ اینٹ جتنی اچھی گھڑی ہوئی ہو گی، تعمیر کی صفائی اتنی ہی ظاہر ہو گی۔ ”ذہانت“ کی تعریف کو رندہ لگاتے ہوئے مجھے ایک پرانی بات یاد آ گئی جو شاید قارئین کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہو۔ یونی ورسٹی کے زمانے میں و...

ذہانت صرف علم سے نہیں، جہل سے بھی پیدا ہوتی ہے

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ محمد دین جوہر - هفته 27 اگست 2016

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ اس سے احمق بلبلہ، اس سے نادان ذرہ، اس سے بے وفا لمحہ قابل تصور نہیں ہو سکتا۔ یہ اس مسخ شدہ، کارٹون نما بلبلے، ذرے اور لمحے کی کہانی ہے جو نہ خود سے واقف ہے نہ اس دنیا سے جس میں وہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش میں ہے۔ ان احوال کے ساتھ ہونا، کرنا سب لاحاصل اور بے معنی ہے۔ بلبلے کا دریا کی مخالفت کرنا مضحکہ خیز ہے، ذرے کی مٹی سے بغاوت لایعنی ہ...

دیکھو تو ہم کیا بن گئے ہیں! دریا کی مخالفت پر کمربستہ بلبلہ، مٹی سے بغاوت پر آمادہ ذرہ اور تاریخ کو للکارنے والا ایک ضدی لمحہ

شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں محمد دین جوہر - جمعرات 18 اگست 2016

"شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں!" جمال کے آتش پیرہن جلوے آب معانی میں بسنے پر راضی ہو جائیں تو شاعری پیدا ہوتی ہے، اور اس ”آبدار پانی“ کا جرعہ نصیب ہونا ذوق ہے۔ ہمارے ہاں شاعری پر جھگڑا نہیں، اور وہ جو عظیم المرتبت یونانی استاد شاگرد کا جھگڑا ہے، اس کی اصل ہمارے ہاں نہیں۔ اس لیے ہم ابھی شعریات کی طرف نہیں جاتے، اور آنجناب کے قول زریں میں ذوق کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حس کے دشت میں ذہن کے بگولوں سے رستگاری ذوق کے چشمے پر ہوتی ہے۔ ذ...

شاعری کا ذوق نہ ہو تو آدمی 'مولوی' تو بن سکتا ہے، عالم نہیں

بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں محمد دین جوہر - جمعه 12 اگست 2016

"بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں" بعض اوقات اصل بات اس قدر اہم ہوتی ہے کہ اسے براہ راست کہنے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس قول زریں کی تہہ داری ہمارے عصری حالات پر تبصرہ بھی ہے، اور اصل بات تک پہنچنے کے لیے مہمیز بھی ہے۔ اول تو اس قول میں ”بعض“ کا لفظ نہایت معنی خیز ہے، جس کا اشارہ ہر سمت پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ایک غالب رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس قول سے بظاہر تو یہی مراد ہے کہ لوگ مذہبی ہو جاتے ہیں، لیکن اچھے نہیں بنتے۔ یہاں توجہ دلانا مقصود ہے کہ ی...

بعض لوگ اچھا آدمی بننے سے بچنے کے لیے مذہبی ہو جاتے ہیں

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی! محمد دین جوہر - هفته 30 جولائی 2016

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی! اس قول زریں میں احمد جاوید صاحب نے علم پر مذہبی موقف کو سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ سب سے پہلے اس قول کی تہہ میں کارفرما موقف کو دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ گزارش ہے کہ علم کی ایسی تعریف کہیں میسر نہیں ہے، یعنی کہیں بھی میسر نہیں ہے، جس کے مطابق مثلاً فزکس اور وحی کا بیک وقت علم ہونا ثابت ہو جائے۔ اگر اس تعریف کے مطابق فزکس علم ہے تو وحی یقیناً اس تعریف سے خارج ہو گی۔ اور اگر اس تعریف پر وحی علم ہے تو فزکس...

ایمان کو علم بنا دینا بے ایمانی ہے، اور علم کو ایمان بنا لینا، لاعلمی!

مجذوب کا رجز وجود - اتوار 25 اکتوبر 2015

احمد جاوید تنہ نا ھا یا ھو تنہ نا ھا یا ھو گم ستاروں کی لڑی ہے رات ویران پڑی ہے آگ جب دن کو دکھائی راکھ سورج سے جھڑی ہے غیب ہے دل سے زیادہ دید آنکھوں سے بڑی ہے گر نہ جائے کہیں آواز خامشی ساتھ کھڑی ہے لفظ گونگوں نے بنایا آنکھ اندھوں نے گھڑی ہے رائی کا دانہ یہ دنیا کوہ ساری یہ اڑی ہے وقت کے پاؤں میں کب سے پھانس کی طرح گڑی ہے کتنی بدرو ہے یہ ، تھو تھو تنہ نا ھا یا ھو طرفہ دام و رسن ایجاد! میں ہوں سیّاروں کا صیّاد از فلک تا بہ زمیں ہے گرم ہنگامۂ بے داد آتشی...

مجذوب کا رجز

مناجات وجود - اتوار 06 ستمبر 2015

اونچی لہر بڑھا دیتی ہے دریا کی گہرائی تیرے غیب نے دل کو بخشی روز افزوں بینائی سات سمندر بانٹ نہ پائے موتی کی تنہائی ناپ چکا ہے سارا صحرا میری آبلہ پائی مالک میں ہوں تیرا چاکر مولا! میں مولائی دل ہے میرا گیلا پتھر جمی ہے جس پر کائی (احمد جاوید)

مناجات