وجود

... loading ...

وجود

مقبوضہ وادی میں جنگ کا ماحول، پیپر اسپرے سے سری نگر خون میں نہا گیا

پیر 18 جولائی 2016 مقبوضہ وادی میں جنگ کا ماحول،  پیپر اسپرے سے سری نگر خون میں نہا گیا

حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد آج نویں دن بھی وادی میں عوامی مظاہروں اور فورسز کی طرف سے جلاؤ گھیراؤ،براہ راست فائرنگ،پیلٹ گن فائرنگ اور معصوم شہریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق 45افراد شہید اور بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق 3160کشمیری زخمی ہوئے ہیں ۔پوری وادی اور جموں کے بیشتر علاقوں میں مو بائل اور انٹر نیٹ سروس آج نویں روز بھی بند رہیں۔جگہ جگہ بھارتی غا صبانہ قبضے کے خلاف اور آزادی کے حق میں مظا ہرے ہورہے ہیں اور فورسز بے تحاشا طاقت کا استعمال کررہی ہے ۔تر کی میں با غی فوجیوں کے خلاف ،جس طرح نہتے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور ٹینکوں اور توپوں کو قوت ایمانی اور جذ بہ حب الوطنی سے مقابلہ کیا ،کشمیری عوام اس سے بھی زیادہ ولولے اور جوش خروش کے ساتھ بھارتی فورسز کا مقابلہ کرہے ہیں ۔تاہم مقامی میڈیا پر قدغن اور عالمی میڈیا کی عدم موجودگی کی وجہ سے اندر کی پوری صورتحال دنیا کے سا منے نہیں آرہی ہے۔

مہذب ممالک میں عا م طور پر مظاہرین پر رنگین پانی کا چھڑکاؤ یا ہلکالا ٹھی چارج کیا جا تا ہے اور اگر مظا ہرین بے قابو ہوجائیں تو انہیں خو فزدہ کرنے کیلئے ہوا میں فائرنگ کی جاتی ہے ،لیکن جموں و کشمیر میں پر امن مظا ہرین پر نہ صرف بے تحاشا لاٹھی چارج بلکہ ،پیلٹ گن فا ئرنگ ،پیپر سپرے اور براہ راست فائرنگ کی جاتی ہے۔پچھلے نو دنوں سے ان تمام مہلک ہتھیاروں کواندھا دھند طریقے سے کشمیری قوم کے جذبہ آزادی کو سرد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ جس کے نتیجے میں شہادتوں کے ساتھ ساتھ بچ جا نے والے بھی یا تو عمر بھر کیلئے نا خیز یا چھاتی اور دیگر خوفناک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ واضح رہے کہ پیپرا سپرے سے اندھا پن ،متلی اور نشا نا بننے والامفلوج ہو جاتا ہے اور چھاتی کی کئی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ معروف کشمیری اخبار “روزنامہ آفتاب “کے مطا بق مرچی گیس سے لوگ چھاتی کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں اور جب یہ اسپرے کی جاتی ہے تو کھانسی سے لوگوں کا برا حال ہوتا ہے۔ ناک بے تحاشا بہنے لگتی ہے اور سینے میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ اب تک شہر سری نگر میں اس ا سپرے سے درجنوں افراد سینے کے امراض میں مبتلا ہوئے ہیں۔ کئی ایک اس دنیا سے بھی چل بسے ہیں” ۔پیلٹ گن کی فائرنگ اور پیپرا سپرے AK..47کی فا ئرنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ اس کا نشانا بنے والا عمر بھر اپنے خاندان پر بوجھ بن کر ہی زندہ رہتا ہے ۔

بھارت یا دنیا کے کئی اور خطوں میں عام طور پر جو پیلٹ گن استعمال کی جاتی ہے ،اس میں ایک چھرا بھرا ہوتا ہے ،لیکن جموں و کشمیر میں جو پیلٹ گن استعمال کی جاتی ہے اس میں کارتوس استعمال ہوتا ہے جس میں مختلف شکلوں کے چھرے بھرے ہوتے ہیں۔فا ئر کرنے کے بعد یہ مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں ۔عام طور پر پیلٹ گن سے ٹا نگوں کو نشانا بنایا جاتا ہے ،لیکن جموں و کشمیر میں جب بھی اس کا استعمال

ہوا تو فورسز اہلکارسر سے پیر تک کا نشا نا با ندھتے ہیں ، جس کا لا زمی نتیجہ یہ نکلتا ہے ،کہ نشا نابننے والے عمر بھر کیلئے معذور ہوجا تے ہیں۔ سری نگر کے صرف دو ہسپتالوں جہلم ویلی میڈیکل کالج ہسپتال اور صدر ہسپتال سری نگر کے اندرونی ذرائع کے مطابق 2010سے 2014تک ان ہسپتالوں میں 165 افراد کو داخل کیا گیا جو پیلٹ گن فائرنگ کی زد میں آئے تھے ۔ان میں سے ایک درجن افراد مکمل طور پر آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے تھے ۔ یہ صرف دو ہسپتالوں کے اعداد شمار ہیں ۔تاہم پچھلے نو دنوں میں پوری وادی میں پیلٹ گن اور پیپر سپرے کا بے تحاشا استعمال ہوا ہے ،اور جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطا بق اب تک 200سے زائد لوگ بینا ئی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ لیکن پیلٹ گن فا ئرنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔معروف کشمیر صحافی اور کالم نگار زیڈ جی محمد نے اپنی ایک پو سٹ میں سری نگر میں قائم ایک ہسپتال میں پیلٹ گن سے متاثرہ افراد کی ددرد ناک کہانی بیان کی ہے ،جس کے مطابق معصوم بچیاں ،بچے اور جوانوں کی ایک کثیر تعداد وہاں داخل کی جا چکی ہے ،جن میں اکثر زخمیوں کی آنکھیں متا ثرتھیں ۔پورا ہسپتا ل بھرا پڑا ہے اور ایک ایک بیڈ پر کئی کئی مریض رکھے گئے ہیں ،کیونکہ گنجائش سے کہیں زیادہ لوگ ہسپتال میں داخل ہیں زیڈ جی محمد کے مطا بق 2000لوگوں کے سروں اور آنکھوں کو پیلٹ گن کا نشانا بنایا گیا ہے۔لگتا ہے کہ اس قوم کے نو نہالوں کو اندھا کرنے کی سازش تیار کی جا چکی ہے ۔

1-indian-brutalities-in-kashmir-2016

2-indian-brutalities-in-kashmir-2016

4-indian-brutalities-in-kashmir-2016

6-indian-brutalities-in-kashmir-2016

7-indian-brutalities-in-kashmir-2016

8-indian-brutalities-in-kashmir-2016

9-indian-brutalities-in-kashmir-2016

10-indian-brutalities-in-kashmir-2016

11-indian-brutalities-in-kashmir-2016

12-indian-brutalities-in-kashmir-2016

13-indian-brutalities-in-kashmir-2016

14-indian-brutalities-in-kashmir-2016

15-indian-brutalities-in-kashmir-2016

16-indian-brutalities-in-kashmir-2016

17-indian-brutalities-in-kashmir-2016

18-indian-brutalities-in-kashmir-2016

20-indian-brutalities-in-kashmir-2016

21-indian-brutalities-in-kashmir-2016

22-indian-brutalities-in-kashmir-2016

24-indian-brutalities-in-kashmir-2016

26-indian-brutalities-in-kashmir-2016

28-indian-brutalities-in-kashmir-2016

29-indian-brutalities-in-kashmir-2016

30-indian-brutalities-in-kashmir-2016

31-indian-brutalities-in-kashmir-2016

32-indian-brutalities-in-kashmir-2016


متعلقہ خبریں


سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

مضامین
نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر