وجود

... loading ...

وجود

منصفِ اعلیٰ سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا سراغ نہ مل سکا!

بدھ 22 جون 2016 منصفِ اعلیٰ سندھ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا سراغ نہ مل سکا!

owais ali shah

دہائیوں سے بے امنی اور دہشت گردی کا شکار شہر قائدمنصف اعلیٰ عدالت عالیہ سندھ کے صاحبزادے اویس سجاد کے اغوا کے بعد قیام امن کے اداروں کے لیے ایک مرتبہ پھر چیلنج بن گیا ہے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ پولیس سے لے کر رینجرز کے ذمہ داران تک سب نے کراچی میں امن وامان کی بہتری کے دعوے کیے تھے۔ یہاں تک کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے جو جو حوالے دیئے جاتے ہیں ، اُن میں شہرقائد کی میں کامیابی کا ذکر بھی لازماً کیا جاتا ہے۔ یہ تو ایک کھلا دعویٰ تھا کہ کراچی میں اغوا کے واقعات پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے۔ مگر ایڈوکیٹ اویس شاہ کے اغوا نے ان تمام دعووں کو شرمندہ کردیا ہے۔ یہ کوئی سادہ نوعیت کے اغوا کا واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کی تفصیلات پر غور کیا جائے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور بے امنی کی قوتیں نہ تو کسی آپریشن سے پریشان ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے اُنہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ اسے اعصاب کی جنگ میں اپنی مرضی اور اپنے وقت کے حساب سے جب جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ دہشت گردی کے ذمہ داران میں سےکچھ کی گرفتاریاں یا مقابلوں میں قتل یا پھر اغوا کی وارداتوں کے کچھ ذمہ داران کو گرفتار کر کے مسئلے پر قابو پالینے کا دعویٰ دراصل خود فریبی سے زیادہ کچھ نہیں۔دراصل اویس شاہ کے اغواکاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرم کو توڑا ہے۔

اغوا کی واردات کے عینی شاہدین سپر مارکیٹ کےگارڈز اتنی تربیت سے بھی محروم تھے کہ آگے بڑھ کرکوئی رکاؤٹ پیدا کرتے۔ حد تویہ ہے ک اُنہوں نے اس واقعے کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع تک دینا گوارا نہیں کیا۔

اویس سجاد شاہ کو 20 جون کو کلفٹن میں آغا سپر مارکیٹ سے اغوا کیا گیاجب وہ کچھ اسنیکس اور ڈرنکس خرید کر قریب واقع دوستوں کی محفل میں جارہے تھے، تو اُنہیں سپر مارکیٹ کے با ہر سے ہی اغوا کر لیا گیا۔ان کے موبائل فون کے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق اس میں کوئی مشکوک کال نہیں تھی۔ تما م رابطے معلوم اور متعلقین کے تھے۔ مگر ریکارڈ کے مطابق اُن کا موبائل کینٹ اسٹیشن سے بند ہوا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اغوا کے بعد ہی بند ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اویس شاہ کا موبائل اغوا کے بعد کینٹ اسٹیشن تک کھلا چھوڑا گیا تھا۔ کیا یہ اغواکاروں کی طرف سے گمراہ کرنے کی کوئی دانستہ کوشش تھی؟ اس کا درست جواب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس کوئی نہیں ۔

جس سفید گاڑی میں اویس شاہ کو اغوا کیا گیا، کیا یہی گاڑی منگھوپیر یا پھر بلوچ کالونی تک اویس شاہ کو ساتھ لے کر گئی یا پھر یہ گاڑی ان راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے دوڑائی جاتی رہی؟ اس امکان پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا کہ آغا سپر مارکیٹ پر اغواکاروں نے اغوا کے فوراً ہی بعد کیمروں کی آنکھ سے بچتے ہوئے اویس شاہ کو دوسری گاڑی اور دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا ہو۔

اس ضمن میں ایک اور پہلو بھی ذراسا عجیب دکھائی دیتا ہے۔پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اویس شاہ کی گاڑی پنجاب چورنگی سے برآمد کی گئی؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اویس شاہ جب آغا سپر مارکیٹ سے اغوا ہوا تو اُن کی گاڑی پنجاب چورنگی تک کیسے پہنچی؟ کیا اغوا کاروں کا کوئی دوسرا گروپ اُن کے مددگار کے طور پر وہاں موجود تھا جنہوں نے اویس شاہ کی گاڑی دانستہ طور پرپنجاب چورنگی تک چھوڑی۔ مگر وہ ایسا کیوں کر رہے تھے؟ ظاہر ہے کہ اغواکاروں کی منصوبہ بندی میں یہ خطرہ موجود رہا ہوگا کہ اویس شاہ کے اغوا ہونے کےذرا ہی دیر میں اس کا علم فوراً ہی ذرائع ابلاغ یا پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوجائے گا۔ اور منصف اعلیٰ سندھ کے صاحبزادے ہونے کے باعث تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے فوراً ہی حرکت میں آجائیں گے۔ چنانچہ لازمی طور پر اویس شاہ کے اغوا کی منصوبہ بندی میں اُنہیں جہاں بھی لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہوگا، اس پہلو کو لازماً اغوا کاروں نے اپنے ذہن میں رکھا ہوگا۔ مگر بدقسمتی سے کلفٹن میں واقع ایک سپرمارکیٹ میں پرہجوم جگہ سے کھلے بندوں اغوا کی واردات بھی کراچی ایسے آپریشن زدہ شہر میں بھی شام سات سےساڑھے آٹھ بجے تک کسی کے علم میں نہیں آسکی۔ اغوا کی واردات کے عینی شاہدین سپر مارکیٹ کےگارڈز اتنی تربیت سے بھی محروم تھے کہ آگے بڑھ کرکوئی رکاؤٹ پیدا کرتے۔ حد تویہ ہے کہ اُنہوں نے اس واقعے کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع تک دینا گوارا نہیں کیا۔ اغوا ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا دہائیوں سے شکار شہر کے گارڈز ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں اور ذمہ داری کا انداز الگانے کے لیے یہ پہلو کافی ہے۔

شرمناک طور پر اس واردات کا علم پولیس کو تب ہوتا ہے جب اویس شاہ کے اہل خانہ افطاری کے موقع پر اُنہیں گھر میں موجود نہیں پاتے تو اُنہیں فون کرتے ہیں جو خلاف معمول بند ملتا ہے۔ بعد ازاں بھاگ دوڑ کرنے پر اندازا ہوتا ہے کہ اویس شاہ کی گاڑی تو پنجاب چورنگی یا کہیں اور موجود ہے مگر وہ نہیں۔ تب اویس شاہ کی پراسرا گمشدگی کا معمہ پولیس کے علم میں اہل خانہ کی طرف سے لایا جاتا ہے۔ جو رات نو بجے تک یہ تعین کر نے میں کامیاب ہو پاتے ہیں کہ یہ گمشدگی نہیں بلکہ اغوا کی ایک منظم واردات ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب تک اویس شاہ کا سراغ لگانے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ ان سطور کے رقم کیے جانے تک ان اداروں کے پا س بتانے کے لیے صرف دوچیزیں ہیں۔ اولاً اویس شاہ کے موبائل فون کا ڈیٹا، جس میں موصوف کے رابطوں کی تفصیلات ہیں۔ ان رابطوں میں کوئی بھی ایسا مجہول رابطہ نمبر نہیں جس پر کوئی بھی شک ظاہر کیا جاسکے۔ لہذا یہ کوئی ایسا سراغ نہیں جس پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جاسکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اس ضمن میں دوسرا اہم سراغ وہ ویڈیو فوٹیجز ہیں جو شہر بھر کی مختلف شاہراؤں سے حاصل کی گئی ہے جس میں اُس گاڑی کی حرکت اور سمت کا اندازا لگایا جاسکے جو سفید رنگ کی ہے، جس کی سبز رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ جعلی تھی اور جس میں سوار مسلح افراد نے پولیس کی کیپ پہنی ہوئی تھی۔ دستیاب ویڈیو فوٹیجز کی روشنی میں اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سامنے آنے والے دعووں کے مطابق اغواکاروں کی گاڑی آخری بار منگھوپیر کے علاقے میں دیکھی گئی۔ جب کہ ایک دوسرے دعوے کے مطابق یہ گاڑی بلوچ کالونی اور پھر ٹیپو سلطان روڈ تک نظر آئی اورپھر اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےپاس سوچنے کے لیے ابھی تک یہ مفروضہ بھی نہیں تھا کہ جس سفید گاڑی میں اویس شاہ کو اغوا کیا گیا، کیا یہی گاڑی منگھوپیر یا پھر بلوچ کالونی تک اویس شاہ کو ساتھ لے کر گئی یا پھر یہ گاڑی ان راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے دوڑائی جاتی رہی؟ اس امکان پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا کہ آغا سپر مارکیٹ پر اغواکاروں نے اغوا کے فوراً ہی بعد کیمروں کی آنکھ سے بچتے ہوئے اویس شاہ کو دوسری گاڑی اور دوسرے لوگوں کے حوالے کردیا ہو۔

حیرت انگیز طور پر ابھی تک اس افسوس ناک وقوعے کے بارے میں جزیات کے ساتھ غور کر نے کی کوئی ٹھوس کوشش بھی سامنے نہیں آسکی۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس عام طورپر اس نوع کے واقعات میں اُٹھنے والے سنجیدہ سوالات پر یہ موقف اختیار کرکے جان چھڑاتی ہے کہ اس ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس معلومات کو اس لئے عام نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ جرائم کے مرتکبین تک پہنچ کر اُن کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ محدود دائروں میں غوروفکر کے عادی اور مجرموں سے ہی حاصل معلومات کو پریس بریفنگ میں بیان کرنے کے ماہر ادارے ہیں۔ اس ضمن میں ٹھوس تجزیاتی کام کہیں پر بھی نہیں پایا جاتا۔ اس کی حساسیت کا اندازا سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل اے ڈی خواجہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اُس بیان کے تجزیئے سے کیا جاسکتا ہے، جو حیران کردینے والا اور ان کے انداز فکروعمل کا آئینہ دار ہے۔ان تمام کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ اویس شاہ کا اغوا سودے بازی کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور اس کے بدلے عسکریت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ایک ذرا سا اس موقف پر غور کرنے سے بآسانی اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ازخود اس واقعے کا کوئی ٹھوس تجزیہ موجود نہیں۔ اور اگر خوش قسمتی سے اویس شاہ کی رہائی کے لیےکوئی فوری کامیابی نہیں مل سکی تو ان کا مکمل انحصار دراصل خود اغواکاروں کی طرف سے کسی رابطے کے انتظار پر ہی ہوگا۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اس پر فوری رپورٹ طلب کر لی ہے یا وزیراعظم نوازشریف نے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کے لیے تمام کوششو ں کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے، کیا اس نوع کی ہدایات سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ اس ضمن میں سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کی رہائی کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں جب اُن سے سوال کیا گیا کہ اُن کی رہائی میں کس ادارے کا بنیادی کردار ہے؟ تو اُنہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے جب وہ فرار ہوکر بلوچستان پہنچنے میں ازخود کامیاب ہو گیے تو بلوچستان سے لاہور پہنچنے میں کسی ادارے نے کردار ادا کیا ہو، تو کیاہو،مگر عملاً اُن کی رہائی میں کسی کا کوئی بھی کردار نہیں۔ یہ جواب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اہلیت کے خلاف ایک پورا مقدمہ ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر