وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

هفته 04 جون 2016 اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

ishaq  dar 1

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مالی سال برائے 17-2016 کے لیے 10 کھرب 64 ارب خسارے پر مبنی 49 کھرب کا وفاقی میزانیہ پیش کردیا ہے۔ میزانیے کا بیشتر حصہ سود اور قرضوں کی ادائی پر خرچ ہوگا۔ جس میں دفاعی میزانیے کو بڑھا دیا گیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی دس فیصد اضافہ کردیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 3 جون کو اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت شروع ہوا جس میں وفاقی ویزخزانہ اسحاق ڈارنے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت مستحکم کی اور معاشی ترقی بھی ہوئی اور مہنگائی کو روکا گیا۔ اقتصادی اعشاریئے ہماری کارکردگی کےعکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے، رواں سال معاشی ترقی کی شرح 4.7 فیصد ہے اور یہ مزید بہتر ہوتی اگر کپاس کی فصل کو نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔اس طرح اسحاق ڈار نے معاشی ترقی کے گزشتہ سال کے طےشدہ ہدف کے حصول میں ناکامی کو ایک جواز دینے کی کوشش کی۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق معاشی ترقی کی شرح 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر21.6 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، گزشتہ تین سال میں ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال 3104 ارب کی ٹیکس وصولی کاہدف حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد کی شرح پر آگیا ہے جو آئندہ مالی سال 3.8 فی صد تک لائیں گے، برآمدات 11 فیصد کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر اور درآمدات 32.7 ارب ڈالر رہیں، پالیسی ریٹ 5.75 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ شرح سود 40 سال کی کم ترین سطح پر ہے، مشینری کی درآمد میں 40 فیصد اضافہ ہوا، تیل کے درآمدی بل میں 40 فیصد کمی ہوئی جب کہ ملک کی تینوں اسٹاک ایکسچینج ایک بن چکی ہیں، قرضےکو جی ڈی پی کے 50 فیصد تک لایا جائے گا۔

تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2016 سے رننگ بیسک پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔ 2012 اور 13 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں شامل کردیا گیا ہے، وفاقی ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، جبکہ وفاق کے 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، وفاقی ملازمین کے لیے ایم فل الاؤنس 2500 روپےماہانہ کردیا گیا ہے اور ایڈیشنل چارج اور ڈیپورٹیشن الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کردیا گیا ہے، گریڈ 1 سے 15 کے وفاقی ملازمین،کنونس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، اس کے علاوہ مزدور طبقے کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ وفاق کےخطیب کی پوسٹ گریڈ 12 سے 15، مؤذن کی پوسٹ گریڈ 7 اور خادم کی گریڈ 6 کردی گئی جب کہ یوڈی سی کی پوسٹ گریڈ 9 سے 11، ایل ڈی سی کی پوسٹ گریڈ 7 سے اپ گریڈ کرکے 9، اسسٹنٹ کی پوسٹ گریڈ 14 سے 16 اور اسسٹنٹ انچارج گریڈ 15 سے 16 کردیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ معذور افراد کا اسپیشل کنونس الاؤنس 1 ہزار روپے ماہانہ کیا جارہا ہے۔

مختلف منصوبوں کے لیے مختص رقمیں

وزیرخزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے بجٹ میں 860 ارب روپے، ہائرایجوکیشن کے لیے 21.5 ارب ، ریلوے کے لیے 78 ارب ، متاثرین فاٹا کے لئے 100 ارب، سرحدی امورکے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 22 ارب، پانی کے منصوبوں میں 32 ارب، پاکستان بیت المال کے فنڈزکو 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے اور کارپوریٹ ٹیکس 31 فیصد کردیا گیا ہے، وزیراعظم کے انٹرن شپ پروگرام ، دیگرمنصوبوں پر 1 ارب روپے خرچ ہوں گے، موبائل فونزکی درآمد پرسیلز ٹیکس میں 500 روپے اضافہ کیا گیا اور مواصلاتی نظام کے لیے 188 ارب روپے رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2018 تک 10 ہزارمیگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل ہوجائے گی جب کہ دیامر، بھاشا اور دیگرمنصوبوں سے 15 ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادرکی معاشی ترقی کے لیے خصوصی رقم مختص کی جائے گی جب کہ داسو ڈیم کے لیے 42 ارب، بھاشا دیامر ٹیم کے لیے 32 ارب، وزارت کیڈ کے شعبہ تعلیم کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 38 لاکھ 13 ہزار روپے اور توانائی کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم 130 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کاشت کاروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2016 سے کھاد کی فی بوری کی قیمت 1400 روپے کی جارہی ہے اور ڈی اے پی کھاد یکم جولائی سے 2500 روپے کی جارہی ہے جب کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک درآمد ڈیوٹی کو 5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نے 6.8 فیصد کی شرح ترقی سے موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لہٰذا صنعتی سرمایہ کاری کے عمل میں مزید اضافہ بہت ضروری ہے، صنعتی یونٹس پرڈیوٹی کی شرح 5 سے کم کر کے3 فیصد کردی گئی جبکہ 3 ٹیکسٹائل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اسکیم یکم جولائی سے نافذ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں زرعی قرضوں کا حجم 336 ارب روپے سے 600 ارب روپے رہا، زرعی صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 5 روپے 35 پیسے ہوگی، سرمایہ کاری کے 10 فیصد شرح پرٹیکس میں 2 سال کے لیے ٹیکس کریڈٹ دیا جارہا ہے اور آیندہ مالی سال کے لیے اس اسکیم میں ایک ارب روپے مختص کررہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے قرضوں کی عدم واپسی، مالیاتی اداروں کو 50 فیصد تک مالی ضمانت دے گی جب کہ ٹیکس کریڈٹ کی مدت کو بھی بڑھا کر30 جون 2019 تک توسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، استعمال شدہ ملبوسات پرعائد سیلز ٹیکس کی مجموعی شرح میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی 2 ہزار اشیا، مشینری، خام مال پر کسٹم ڈیوٹی 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے صنعتی شعبے کو 18 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جبکہ خام مال اور مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی تجویز ہے، اجناس کو ذخیرہ کرنے والی مشینری اور آلات، کیڑے مار ادویات اور اجزا پر سیلز ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، خصوصی رعایت کی مد میں حکومت تقریباً 27 ارب روپے کے اخراجات اٹھائے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سگریٹ پر ایکسائز ٹیکس 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سیمنٹ پر ایک روپیہ فی کلو ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز اور ڈیوٹی کی شرح دگنی کردی گئی جب کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ودہولڈنگ ٹیکس، گھریلو صنعت کےٹرن اوورکی حد، مقامی طورپرتیارشدہ ڈراموں اورسیریلز کو ترویج دینے، مقامی چینلز پرغیرملکی ڈرامے اور سیریلز دکھانے پرودہولڈنگ ٹیکس، بیرون ملک بنائے گئے اشتہارات پر20فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائربنانے والی صنعت بیڈ وائر پر 10 فیصد کسٹم اور 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جب کہ میوچل فنڈزکے منافع پرنان فائلر کے لیے 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھائی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مضر صحت اشیا کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر 2 مرحلوں میں ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت نچلے درجے کے سگریٹ کے ریٹ میں تقریبا 23 پیسے اضافے اور اعلیٰ درجے کے سگریٹ پر تقریبا 55 پیسہ فی سگریٹ اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا، ایل ای ڈی لائٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد کم کردی گئی اور سولر پینل اور توانائی کے متبادل آئٹمز پر ڈیوٹی ایک سال کے لیے ختم کردگئی ہے جب کہ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت اعلیٰ درجے کے موبائل پر سیلز ٹیکس 1500 روپے، درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس ایک ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، نچلے درجے کے موبائل فون پر ٹیکس کی شرح 500 روپے رہے گی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملک پاؤڈر پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے باعث ذائقہ دار ڈبہ بند دودھ، مکھن اور پولٹری فیڈ بھی مہنگی ہوجائے گی جب کہ اسٹیشنری، مشروبات، میک اپ کا سامان اور شیمپو مہنگے کردیئے گئے، اس کے علاوہ امپورٹڈ مرغی اور گارمنٹس بھی مہنگی کردی گئی ہیں۔ آئندہ بجٹ میں پلاسٹک کے کھلونے، برتن شاپنگ بیگ سستے کردیئے گئے جب کہ پینٹس، وارنش، انجن آئل، گیئر آئل، ایئرکنڈیشنز مہنگے ہوگئے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ڈیری، لائیو اسٹاک پر ڈیوٹی 5 فیصد سے کم کرکے 2 کردی گئی تاہم 30 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد فروخت کرنے پر ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں نوازشریف کی حکومت نے زراعت کے شعبے کو مکمل نظرانداز کر رکھا تھا۔ مگر یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اچانک زراعت کے شعبے کو بے اندازاہ مراعات دے دی گئی ہے۔ ایسے بعض ماہر ین نوازحکومت کے اس اندیشے سے تعبیر کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی حالات کی نئی کروٹوں میں کسی بھی وقت انتخابات کے خیال کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ اسی لیے نوازحکومت پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی تین سالہ روش سے ہٹ کر زراعت کے شعبے پر خاص طور پر متوجہ ہوئے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین نے اسے الیکش بجٹ سے بھی تعبیر کر دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر