وجود

... loading ...

وجود

اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

هفته 04 جون 2016 اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

ishaq  dar 1

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مالی سال برائے 17-2016 کے لیے 10 کھرب 64 ارب خسارے پر مبنی 49 کھرب کا وفاقی میزانیہ پیش کردیا ہے۔ میزانیے کا بیشتر حصہ سود اور قرضوں کی ادائی پر خرچ ہوگا۔ جس میں دفاعی میزانیے کو بڑھا دیا گیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی دس فیصد اضافہ کردیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 3 جون کو اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت شروع ہوا جس میں وفاقی ویزخزانہ اسحاق ڈارنے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت مستحکم کی اور معاشی ترقی بھی ہوئی اور مہنگائی کو روکا گیا۔ اقتصادی اعشاریئے ہماری کارکردگی کےعکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے، رواں سال معاشی ترقی کی شرح 4.7 فیصد ہے اور یہ مزید بہتر ہوتی اگر کپاس کی فصل کو نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔اس طرح اسحاق ڈار نے معاشی ترقی کے گزشتہ سال کے طےشدہ ہدف کے حصول میں ناکامی کو ایک جواز دینے کی کوشش کی۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق معاشی ترقی کی شرح 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر21.6 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، گزشتہ تین سال میں ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال 3104 ارب کی ٹیکس وصولی کاہدف حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد کی شرح پر آگیا ہے جو آئندہ مالی سال 3.8 فی صد تک لائیں گے، برآمدات 11 فیصد کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر اور درآمدات 32.7 ارب ڈالر رہیں، پالیسی ریٹ 5.75 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ شرح سود 40 سال کی کم ترین سطح پر ہے، مشینری کی درآمد میں 40 فیصد اضافہ ہوا، تیل کے درآمدی بل میں 40 فیصد کمی ہوئی جب کہ ملک کی تینوں اسٹاک ایکسچینج ایک بن چکی ہیں، قرضےکو جی ڈی پی کے 50 فیصد تک لایا جائے گا۔

تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2016 سے رننگ بیسک پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔ 2012 اور 13 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں شامل کردیا گیا ہے، وفاقی ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، جبکہ وفاق کے 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، وفاقی ملازمین کے لیے ایم فل الاؤنس 2500 روپےماہانہ کردیا گیا ہے اور ایڈیشنل چارج اور ڈیپورٹیشن الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کردیا گیا ہے، گریڈ 1 سے 15 کے وفاقی ملازمین،کنونس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، اس کے علاوہ مزدور طبقے کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ وفاق کےخطیب کی پوسٹ گریڈ 12 سے 15، مؤذن کی پوسٹ گریڈ 7 اور خادم کی گریڈ 6 کردی گئی جب کہ یوڈی سی کی پوسٹ گریڈ 9 سے 11، ایل ڈی سی کی پوسٹ گریڈ 7 سے اپ گریڈ کرکے 9، اسسٹنٹ کی پوسٹ گریڈ 14 سے 16 اور اسسٹنٹ انچارج گریڈ 15 سے 16 کردیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ معذور افراد کا اسپیشل کنونس الاؤنس 1 ہزار روپے ماہانہ کیا جارہا ہے۔

مختلف منصوبوں کے لیے مختص رقمیں

وزیرخزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے بجٹ میں 860 ارب روپے، ہائرایجوکیشن کے لیے 21.5 ارب ، ریلوے کے لیے 78 ارب ، متاثرین فاٹا کے لئے 100 ارب، سرحدی امورکے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 22 ارب، پانی کے منصوبوں میں 32 ارب، پاکستان بیت المال کے فنڈزکو 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے اور کارپوریٹ ٹیکس 31 فیصد کردیا گیا ہے، وزیراعظم کے انٹرن شپ پروگرام ، دیگرمنصوبوں پر 1 ارب روپے خرچ ہوں گے، موبائل فونزکی درآمد پرسیلز ٹیکس میں 500 روپے اضافہ کیا گیا اور مواصلاتی نظام کے لیے 188 ارب روپے رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2018 تک 10 ہزارمیگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل ہوجائے گی جب کہ دیامر، بھاشا اور دیگرمنصوبوں سے 15 ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادرکی معاشی ترقی کے لیے خصوصی رقم مختص کی جائے گی جب کہ داسو ڈیم کے لیے 42 ارب، بھاشا دیامر ٹیم کے لیے 32 ارب، وزارت کیڈ کے شعبہ تعلیم کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 38 لاکھ 13 ہزار روپے اور توانائی کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم 130 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کاشت کاروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2016 سے کھاد کی فی بوری کی قیمت 1400 روپے کی جارہی ہے اور ڈی اے پی کھاد یکم جولائی سے 2500 روپے کی جارہی ہے جب کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک درآمد ڈیوٹی کو 5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نے 6.8 فیصد کی شرح ترقی سے موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لہٰذا صنعتی سرمایہ کاری کے عمل میں مزید اضافہ بہت ضروری ہے، صنعتی یونٹس پرڈیوٹی کی شرح 5 سے کم کر کے3 فیصد کردی گئی جبکہ 3 ٹیکسٹائل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اسکیم یکم جولائی سے نافذ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں زرعی قرضوں کا حجم 336 ارب روپے سے 600 ارب روپے رہا، زرعی صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 5 روپے 35 پیسے ہوگی، سرمایہ کاری کے 10 فیصد شرح پرٹیکس میں 2 سال کے لیے ٹیکس کریڈٹ دیا جارہا ہے اور آیندہ مالی سال کے لیے اس اسکیم میں ایک ارب روپے مختص کررہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے قرضوں کی عدم واپسی، مالیاتی اداروں کو 50 فیصد تک مالی ضمانت دے گی جب کہ ٹیکس کریڈٹ کی مدت کو بھی بڑھا کر30 جون 2019 تک توسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، استعمال شدہ ملبوسات پرعائد سیلز ٹیکس کی مجموعی شرح میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی 2 ہزار اشیا، مشینری، خام مال پر کسٹم ڈیوٹی 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے صنعتی شعبے کو 18 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جبکہ خام مال اور مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی تجویز ہے، اجناس کو ذخیرہ کرنے والی مشینری اور آلات، کیڑے مار ادویات اور اجزا پر سیلز ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، خصوصی رعایت کی مد میں حکومت تقریباً 27 ارب روپے کے اخراجات اٹھائے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سگریٹ پر ایکسائز ٹیکس 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سیمنٹ پر ایک روپیہ فی کلو ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز اور ڈیوٹی کی شرح دگنی کردی گئی جب کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ودہولڈنگ ٹیکس، گھریلو صنعت کےٹرن اوورکی حد، مقامی طورپرتیارشدہ ڈراموں اورسیریلز کو ترویج دینے، مقامی چینلز پرغیرملکی ڈرامے اور سیریلز دکھانے پرودہولڈنگ ٹیکس، بیرون ملک بنائے گئے اشتہارات پر20فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائربنانے والی صنعت بیڈ وائر پر 10 فیصد کسٹم اور 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جب کہ میوچل فنڈزکے منافع پرنان فائلر کے لیے 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھائی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مضر صحت اشیا کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر 2 مرحلوں میں ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت نچلے درجے کے سگریٹ کے ریٹ میں تقریبا 23 پیسے اضافے اور اعلیٰ درجے کے سگریٹ پر تقریبا 55 پیسہ فی سگریٹ اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا، ایل ای ڈی لائٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد کم کردی گئی اور سولر پینل اور توانائی کے متبادل آئٹمز پر ڈیوٹی ایک سال کے لیے ختم کردگئی ہے جب کہ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت اعلیٰ درجے کے موبائل پر سیلز ٹیکس 1500 روپے، درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس ایک ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، نچلے درجے کے موبائل فون پر ٹیکس کی شرح 500 روپے رہے گی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملک پاؤڈر پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے باعث ذائقہ دار ڈبہ بند دودھ، مکھن اور پولٹری فیڈ بھی مہنگی ہوجائے گی جب کہ اسٹیشنری، مشروبات، میک اپ کا سامان اور شیمپو مہنگے کردیئے گئے، اس کے علاوہ امپورٹڈ مرغی اور گارمنٹس بھی مہنگی کردی گئی ہیں۔ آئندہ بجٹ میں پلاسٹک کے کھلونے، برتن شاپنگ بیگ سستے کردیئے گئے جب کہ پینٹس، وارنش، انجن آئل، گیئر آئل، ایئرکنڈیشنز مہنگے ہوگئے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ڈیری، لائیو اسٹاک پر ڈیوٹی 5 فیصد سے کم کرکے 2 کردی گئی تاہم 30 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد فروخت کرنے پر ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں نوازشریف کی حکومت نے زراعت کے شعبے کو مکمل نظرانداز کر رکھا تھا۔ مگر یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اچانک زراعت کے شعبے کو بے اندازاہ مراعات دے دی گئی ہے۔ ایسے بعض ماہر ین نوازحکومت کے اس اندیشے سے تعبیر کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی حالات کی نئی کروٹوں میں کسی بھی وقت انتخابات کے خیال کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ اسی لیے نوازحکومت پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی تین سالہ روش سے ہٹ کر زراعت کے شعبے پر خاص طور پر متوجہ ہوئے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین نے اسے الیکش بجٹ سے بھی تعبیر کر دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر