... loading ...

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا خاندان لندن کے پوش علاقے پارک لین میں واقع ان چار فلیٹوں کی آڑ میں ڈوئچے بینک سے 7 ملین پاؤنڈز کا خطیر قرضہ حاصل کرچکا ہے، جو آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ یہ املاک اس وقت حاصل کی گئی تھیں جب نواز شریف حزب اختلاف میں تھے۔ یہ برطانوی ورجن جزائر میں موجود شیل کمپنیوں کی ملکیت ہیں، جو آف شور ایجنٹ ‘موساک فونسیکا’ کے کاغذات میں درج ہیں۔
برطانوی اخبار “گارجیئن” کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق لندن میں شریف خاندان کی اس انتہائی مہنگی جائیداد کا پہلی بار انکشاف 1998ء میں ان کے سیاسی حریف اور ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمٰن ملک نے کیا تھا، جو مبینہ گرفتاری اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد لندن فرار ہوگئے تھے۔ رحمٰن ملک نے ایک رپورٹ مرتب کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مے فیئر کے یہ گھر بدعنوانی کے پیسے اور “کالے دھن” سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، اس لیے یہ خلاف قانون ہیں۔
اکتوبر 1999ء میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا اور پاکستان کے نئے فوجی حکمران پرویز مشرف نے انہیں قید خانے میں ڈال دیا۔ بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والوں نے اس وقت بارہا کہا تھا کہ یہ جائیداد پاکستان کے عوام سے لوٹی گئی دولت سے بنائی گئی ہے۔ لیکن شریف خاندان ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور آج تک کسی پر یہ الزام ثابت نہیں ہوا۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات محض سیاسی نوعیت کے ہیں اور کسی آف شور کمپنی کے ذریعے املاک رکھنا غیر قانونی نہیں ہے۔
ابھی گزشتہ دنوں شریف خاندان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاناما پیپرز نے شریف خاندان پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا اور یہ کہ شریف خاندان کے تمام ادارے قانونی و مالی لحاظ سے مکمل اور شفاف ہیں۔
بہرحال، نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اور بیٹی مریم نواز نے اکتوبر 2008ء میں قرضے کے حصول کے لیے ڈوئچے بینک کے سوئٹزرلینڈ میں واقع شعبے سے رابطہ کیا تھا اور قرضے کے لیے اس فلیٹوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ ان کی ملکیت برطانوی ورجن جزائر کی تین کمپنیوں کے پاس تھی، جس کے بعد نواز شریف کے اہل خانہ نے ساڑھے 3 ملین پاؤنڈز کی نقد رقم اور مزید اتنے ہی “لکوئڈ ایسیٹس” یعنی “سیال اثاثوں” کی صورت میں حاصل کیے۔
ڈوئچے بینک کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور اس نے اپنے صارفین کے کاروباری اداروں کی تصدیق کے طریقے کار کو بہتر بنایا ہے۔ “ہماری پالیسیاں، طریقے اور نظام اس طرح تیار کیے گئے ہیں جو یقینی بناتے ہیں کہ ہم تمام قواعد و ضوابط پر پورا اتر رہے ہیں۔”
ڈوئچے بینک 2013ء سے اپنے نجی صارفین کا محاسبہ کررہا ہے، اور وہ تصدیق چاہتا ہے کہ صارفین تمام ٹیکس قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس کے سوئس اور لکسمبورگ میں واقع شعبوں کے صارفین کی پڑتال تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔
مذکورہ فلیٹس لندن کے علاقے پارک لین کے قریب ایون فیلڈ ہاؤس میں واقع ہیں، جہاں سے کبھی نواز شریف اور ان کی سیاسی حریف بے نظیر بھٹو کی پریس کانفرنس کی تصویر بھی منظر عام پر آئی تھی۔ یہ تو برطانوی ورجن جزائر کے اداروں کی ملکیت ہیں، جن کے مالک موساک فونسیکا کے کاغذات کے مطابق دو ادارے ہیں، ایک نیلسن انٹرپرائزز اور دوسرا نیسکول لمیٹڈ۔ مریم نواز نے 2006ء میں موساک فونسیکا کو لکھے گئے خط میں شادی کے بعد والا نام مریم صفدر استعمال کرتے ہوئے خود کو اس کا واحد حصص یافتہ بتایا تھا۔
ڈوئچے بینک کے ساتھ معاہدے میں نیسکول اور نیلسن کو 1.75 ملین پاؤنڈز حاصل کرنے کی اجازت تھی، اور برطانوی ورجن جزائر میں واقع ایک تیسری کمپنی جو موساک فونسیکا کی نہیں تھی، اور اس کا نام کومبر گروپ تھا، نے مزید ساڑھے 3 ملین پاؤنڈز حاصل کیے۔ کومبر کے کاغذات پر جون 2007ء میں مریم اور حسین نواز نے دستخط کیے تھے۔
خاندان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ بالا ادارے حسین نواز کے ہیں، مریم کے نہیں اور یہ کہ انہوں نے تمام متعلقہ ٹیکس جمع کرائے ہیں۔ “ان میں سے کوئی ادارہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نہیں چلاتے۔ مریم نواز کسی بھی ادارے کی مالک یا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں۔” یہ بیان مزید کہتا ہے کہ مریم نواز اپنے بھائیوں کی ملکیت ان اداروں سے کوئی آمدنی یا فائدہ نہیں اٹھاتیں۔ “وہ حسین نواز کے ادارے میں صرف ٹرسٹی ہیں، جو ضرورت پڑنے پر حسین نواز کے خاندان میں محض اثاثے تقسیم کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ حسین نواز نے حالیہ ٹیلی وژن انٹرویوز میں لیکس میں پیش کردہ تمام اداروں کو صاف صاف بیان کیا، اور یہ بھی کہ ان کے سرمائے کا ذریعہ کیا ہے – جو بنیادی طور پر جدہ میں ایک اسٹیل مل فروخت کرکے حاصل کیا گیا تھا – اور دیگر مالی حقائق بھی پیش کیے۔” اپنے والد کی جماعت پاکستان مسلم لیگ میں ابھرتی ہوئی شخصیت مریم صفدر نے گزشتہ انتخابات میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
گارجیئن کے مطابق 1980ء کی دہائی میں چینی اور فولاد کے کاروبار میں سرمایہ کاری نے شریف فیملی کو جنوبی ایشیا کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک بنا دیا تھا۔ پارک لین کے فلیٹس 1993ء اور 1996ء کے درمیان خریدے گئے تھے لیکن ان کی پشت پر موجود کمپنیاں 2006ء تک موساک فونسیکا میں منتقل نہیں کی گئیں۔ پاناما پیپرز ظاہر کرتے ہیں کہ موساک فونسیکا کو 2012ء میں جاکر اندازہ ہوا کہ وہ کمپنیوں کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ 2013ء میں نواز شریف ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم بن گئے۔ ادارے کو اتنی تشویش ہوئی کہ اس نے کمپنیوں کو فوری طور پر نظر میں رکھنا شروع کردیا اور ہر چھ ماہ بعد ان کو چیک کرنے کے احکامات جاری کیے۔
فائلوں پر موجود نوٹ ظاہر کرتے ہیں کہ موساک فونسیکا کا اپنا عملہ نامزد ڈائریکٹر یا حصص یافتہ نہیں بن سکتا۔ برطانوی ورجن جزائر کے حکام بھی مستعد ہوگئے، ایک خط بھی لکھا گیا جس میں نیلسن کی مالکن کے طور پر مریم صفدر کا حوالہ دیا گیا اور یہ کہ ادارے نے جنیوا میں ڈوئچے بینک سے قرضہ لیا ہے۔ لیکن ادارے نے دو سال بعد عملی قدم اٹھاتے ہوئے نئے ڈائریکٹرز کی تقرری کی اور یوں شریف خاندان کی طرف سے ان کمپنیوں کو دیگر نمائندگان تک منتقل کیا۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...