وجود

... loading ...

وجود

کشمیری اور پاکستانی رہنماؤں کی باہمی ملاقاتوں سے ہماری صحت پرکوئی فرق نہیں پڑے گا ! بھارت کا نیا راگ

بدھ 04 مئی 2016 کشمیری اور پاکستانی رہنماؤں کی باہمی ملاقاتوں سے ہماری صحت پرکوئی فرق نہیں پڑے گا ! بھارت کا نیا راگ

vk sing

بھارت کے مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ وی کے سنگھ نے پارلیمنٹ کو ایک تحریری جواب میں بتایا ہے کہ نئی دلی کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اگر کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماء پاکستان کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ کشمیری علیحدگی پسندرہنماؤں اور کسی بھی غیر ملکی نمائندے کے درمیان میٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔تاہم انہوں نے یہ راگنی بھی ساتھ چھیڑی کہ جموں وکشمیر روز اول سے ہی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیری رہنماء بھارتی شہری ہیں اور بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ وی کے سنگھ نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششیں باعث تشویش ہیں اور بھارت نے پاکستان کو اس حوالے سے بار بار آگاہ کیا ہے ۔

سرکاری سطح پر مزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پرپابندیاں سرکاری دہشت گردی کا بدترین نمونہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے مبنی برحق جدوجہد کوہرگزدبایا نہیں جاسکتا۔ (میر واعظ عمر فاروق )

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگست 2014ء میں نئی دلی نے پاکستان کے ساتھ خارجہ سطح کے مذاکرات منسوخ کئے اور یہ اعتراض کیا تھا کہ پاکستان نے سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علیحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی ۔علیحدگی پسند رہنماؤں اور پاکستان کے درمیان مذاکرات پر مرکزی حکومت کے تازہ بیان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے کہا ہے کہ شکر ہے ،حکومت ہند کو اپنی اُس غلطی کا احساس ہوا جس کی بنیاد پر اُس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اُس وقت بار بار کہا تھا کہ حریت اور پاکستانی رہنماؤں میں ملاقا ت کوئی نئی بات نہیں اس لئے مذاکرات کو منقطع نہ کیا جائے لیکن اُس وقت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا، شکر ہے مرکزی حکومت کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوا جس کی بنیاد پر اس نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کئے ۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت نے علیحدگی پسند رہنماؤں اور پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ ملاقات کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ باہمی مذاکرات منسوخ کئے جو بڑی غلطی تھی۔ادھرحریت کا نفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جموں و کشمیر کی مزاحمتی قیادت، عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کی مذموم کو ششیں کی جا رہی ہیں ،جس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ میرواعظ عمر فاروق نے حکومتی سطح پر مزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پرپابندیاں عائد کرنے کو سرکاری دہشت گردی کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ہتھکنڈوں سے مبنی برحق جدوجہد کو ہرگزدبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس یہاں کے عوام کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کرتی ہے اور رواں تحریک مزاحمت کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ یہاں کے عوام کی تحریک ہے اور اسکو طاقت کے بل پر دبانے اور حریت پسند قیادت کو نظر بند کرنے سے یہ تحریک نہ تو ماضی میں دب سکی ہے اور نہ آئندہ اس قسم کے حربے اس تحریک کو دبانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔میرواعظ نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ حریت پسند نوجوانوں اور تنظیمی اور تحریکی کارکنوں کو روزانہ تھانوں میں حاضری دینے اور انکی تصاویر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ چسپاں رکھنے اور مختلف اضلاع اور علاقوں میں تحریک پسند نوجوانوں اور ہمدردوں کی فہرست بناکر انہیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے اور اس طرح یہاں کی نوجوان نسل کو جان بوجھ کر تشدد کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مار دھاڑ ، تشدد کی سیاست اور انتہا پسندی سے یہاں کی مزاحمتی قیادت اور عوام کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یا بزرگ رہنما سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک اور دیگرحریت پسند قیادت کو خانہ یا تھانہ نظر بند کرنے اور انکی پر امن سرگرمیوں پر پہرے بٹھانے سے حق و انصاف کی ہماری جدوجہد کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا اور نہ عوام کے جذبات اور جذبہ حریت پر پہرے بٹھائے جاسکتے ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ مزاحمتی قیادت اور یہاں کے حریت پسند عوام کے حوالے سے حکومت کی انتہا پسندی سے عبارت پالسیاں اگر تبدیل نہیں ہوتی تو یہاں کے عوام کو سڑکوں پر نکل آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کشمیر میں سیاحوں کی آمد کیخلاف نہیں لیکن جس طرح یہاں کے عوام پر ہر لحاظ سے یہاں کی زمین تنگ کی جارہی ہو اور عوام پر مظالم اور تشدد ڈھانا حکومتی پالیسی کا حصہ بن گیا ہو، ایسے میں یہ عالمی برادی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہاں کی سنگین صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں اور یہاں کے عوام پر ظلم اور نا انصافیاں بند کرانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قومی تحریک کو کمزور کرنے کیلئے یہاں کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول اور روایتی بھائی چارے کو زک پہنچانے کیلئے یہاں مسلکی منافرت پھیلانے کیلئے باضابطہ کچھ ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں اور اس ضمن میں کئی نام نہاد مدارس ،نام نہاد علمائے کرام اور شخصیات کو استعمال کیا جارہا ہے جس سے عوام کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور آپسی اتحاد کو بھی قائم و دائم رکھنا ہے تاکہ ان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنایا جاسکے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر