وجود

... loading ...

وجود
وجود

جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش!

پیر 25 اپریل 2016 جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش!

shahid and jahangeer

(گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نےتحریک انصاف کے جلسے سے قبل ایک عجیب وغریب منطق یہ اختیار کی کہ جن لوگوں پر ای او بی آئی میں خورد بُرد کے الزامات لگے وہ عمران خان کے جلسے کے اخراجات اُٹھاتے ہیں۔وزیراطلاعات یہ فراموش کر گیے کہ پاناما لیکس میں نوازشریف کے بچوں پر جو الزامات لگے ہیں اُس کی وضاحت سرکاری طور پر کیوں کی جارہی ہے؟ اور اس کے لیے عوامی پیسوں سے اشتہارات کیوں دیئے جارہے ہیں؟ وفاقی وزیراطلاعات یہ امر بھی فراموش کر گیے کہ خود اُن کی جماعت بھی اپنے اخراجات خود نہیں اُٹھاتیں ۔وہ جب حکومت میں ہوتی ہے تو اس کا بوجھ مختلف ہتھکنڈوں سے قومی خزانے پر اس طرح ڈالاجاتا ہے کہ جو افراد اس قسم کی سرگرمیوں کے اخراجات اُٹھاتے ہیں ، اُنہیں خاموشی سے مختلف ٹھیکوں سے نواز کر نوازشوں کا بدلہ اُتارا جاتا ہے۔ پرویز رشید یہ بھی بھول گیے کہ خود اُن کی جماعت مسلم لیگ نون بھی انتخابات میں پاکستان کے سرمایہ داروں اور کاروباری گروپوں سے رقوم اینٹھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں کچھ کاروباری گروپوں کی ننگی بدعنوانیوں کے منظر عام پر آنے کے باوجود اُن پر کہیں سے کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا ۔ جہانگیر صدیقی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ جن کے مختلف گندے کاموں کے نگران عمران شیخ نے گزشتہ دنوں ایک حساس ادارے کے زیرحراست یہ سنسنی خیز انکشافات کیے کہ کس طرح موجودہ نواز حکومت جہانگیر صدیقی کی پشتیبان ہے۔اب یہی عمران شیخ دبئی فرار ہو چکے ہیں ۔ جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں پر اُنہیں تحفظ فراہم کرنے والے خود نواشریف کے سیکریٹری فواد حسن فواد وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اسی شرمناک تحفظ کی چھتری تلے وہ نیب میں مختلف معاملات کی تحقیقات سے اپنا دامن بچاتے آرہے ہیں۔ اور سرکاری اداروں کو اپنے مقاصد کے تحت اُن لوگوں کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں جو اُن کی لوٹ مار میں رکاؤٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہانگیر صدیقی نے گزشتہ دنوں جبری چھٹی پر جانے والے ایف آئی اے کے بدنام زمانہ افسر شاہد حیات ، ایس ای سی پی کے طاہر محمود اور وزارت داخلہ و خزانہ کی حمایت سے کراچی کے کاروباری حلقوں کو ہراساں کرنے کے لیے ہر طرح کا اودھم مچانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر کچھ نجی ہاتھوں میں سرکاری اداروں کے ایسے بہیمانہ اور مجرمانہ استعمال پر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اتنا ہی نہیں ، بلکہ جہانگیر صدیقی کی کھلی بدعنوانیوں پر کوئی ہاتھ تک ڈالنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ اب فوجی افسران کی بدعنوانیوں پر بھی تحقیقات کرکے اُنہیں سزائیں دی جارہی ہیں، مگر جہانگیر صدیقی کےپاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ اُنہیں ہر طرح کی تحقیقات میں تحفظ مل جاتا ہے۔ وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی کے خلاف مختلف دستاویز ی ثبوتوں کی روشنی میں مرتب ایک تحقیقاتی رپورٹ کو قسط وار شائع کر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ اقساط میں مختلف بیس نکات سے جہانگیر صدیقی کے مختلف کارباری معاملات میں موجود بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ یہ اس سلسلے کی چھٹی قسط ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ وجود ڈاٹ کام ایک مرتبہ پھر یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہاں شائع ہونے والے تمام مواد سے متعلق تمام دستاویز ی ثبوت ادارے کے پاس محفوظ ہیں ۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام کسی بھی قانونی فورم یا تفتیشی ادارے کو یہ ثبوت پیش کرنے کو تیار ہے۔ ادارہ قومی دولت کو لوٹنے والے ان بدعنوانوں کو بےنقاب کرنا اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ )

21 ۔ جے ایس کی غیر قانونی سرگرمیاں بی او پی، پکک اور پی این ایس سی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سےجے ایس نے جہاں بھی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا، بے جا فائدے اٹھائے اور سرکاری اداروں کو نقصان پہنچایا۔ اس کی کچھ تفصیلات ذیل میں دی جارہی ہے۔

ا) بینک آف پنجاب جعل سازی میں جے ایس کی شمولیت: جہانگیر صدیقی چودھری برادران اور ہمیش خان کے فرنٹ مین تھے اور جب عوام کا پیسہ لوٹا کھسوٹا گیا تو اس وقت یہ بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر تھے۔ جہانگیر صدیقی نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور بینک کے فنڈز کی جے ایس میوچوئل فنڈز اور جے ایس گروپ کے دیگر اداروں کے حصص میں سرمایہ کاری کی۔ بینک آف پنجاب کو جے ایس میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری پر 454 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ جے ایس گروپ کے اداروں کے حصص، ٹی ایف سیز، ترجیحی حصص اور میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری نے ایک بلبلہ تخلیق کرنے میں مدد دی جو بالآخر 2008ء میں پھٹ گیا اور ملک کی اسٹاک مارکیٹوں پر اثر انداز ہوا۔ مزید برآں، بینک آف پنجاب کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جہانگیر صدیقی کو قرض نادہندگان کی حقیقی حالت اور بینک آف پنجاب کے مالیاتی گوشوارے برائے 2007ء پر آڈیٹرز کے شرائط کا حقیقی اندازہ تھا اور سرمایہ کاروں کو حقیقی صورت حال کا علم ہونے سے پہلے انہوں نے اس کا غیر قانونی فائدہ اٹھا لیا۔

ب) آئی سی پی فنڈز حاصل کرنے کے لیے جے ایس کی جانب سے اندرونی معلومات کا استعمال

جے ایس ابامکو لمیٹڈ نے 2002ء میں نجکاری عمل کے ذریعے آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے انتظامی حقوق حاصل کیے، جو 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز پر مشتمل تھے۔ اتفاق ہے کہ اس سے قبل انوسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان (آغی سی پی) کی جانب سے منظم کردہ 12 کلوزڈ اینڈ فنڈز کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جہاں پہلی لاٹ ابامکو نے حاصل کی جبکہ باقی پکک (PICIC) نے۔ ہم حیران ہی ہو سکتے ہیں کہ اگر جہانگیر صدیقی اس وقت پکک کے بورڈ میں خدمات انجام نہ دے رہے ہوتے، کہ جہاں نیلامی کے عمل پر گفتگو اور حتمی فیصلہ کیا گیا تھا، تو ابامکو لمیٹڈ نجکاری کمیشن کی جانب سے پیش کردہ آئی سی پی لاٹ ‘اے’ حاصل بھی کرپاتا یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہانگیر صدیقی کی جانب سے اندرونی معلومات کا غلط استعمال اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابامکو آئی سی پی لاٹ ‘اے’ کے لیے بڑی بولی لگانے والا ادارہ بنا جبکہ پکک دوسرے نمبر پر آیا۔

ج) پی این ایس سی جعل سازی: جہانگیر صدیقی نے خواجہ خسرو اور کمال افسر جیسے فرنٹ مینوں کے ساتھ 1991ء سے 2009ء تک پی این ایس سی میں اہم عہدہ حاصل کیا۔ جےایس نے 2009ء اور 2010ء میں جے ایس بینک کے پاس 400 ملین روپے کے ٹی ڈی آر رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا حالانکہ اس سے بہترین ریٹرن شرح اور کریڈٹ ریٹنگ رکھنے والے بینک موجود تھے۔ جے ایس اور خواجہ خسرو بحری جہازوں کی خریداری میں اربوں روپے کے گھپلے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر احتساب عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

د) کے ای ایس سی گھپلا: جہانگیر صدیقی اور ان کے فرنٹ مین خواجہ خسرو نے 1990ء سے 1999ء تک کے ای ایس سی میں خدمات انجام دیں اور اس اہم ادارے کے زوال کے ذمہ دار تھے۔

22۔ جے ایس کا نام استعمال کرنے پر رائلٹی کی مد میں بھتہ

جہانگیر صدیقی 2004ء سے اپنا نام استعمال کرنے پر جے ایس سی ایل سے 9.9 ملین روپے سالانہ لے رہے ہیں۔ اس مالی سودے کی قانونی حیثیت کیا ہے اور یہ چھوٹے حصص یافتگان کو لوٹنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ اب تک 109 ملین روپے اس دن دیہاڑے ڈکیتی کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جہانگیر صدیقی جے ایس انوسٹمنٹس سے بھی 10 ملین روپے سالانہ لیتے ہیں۔ کیونکہ اپنے اداروں میں جہانگیر صدیقی بڑے حصص یافتہ ہیں، اس لیے دیگر حصص یافتگان کو ان کی سرمایہ کاری کے حقیقی ثمرات سے محروم رکھا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ایس ای سی پی کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

ایس ای سی پی کے تب کے چیئرمین ظفر الحق حجازی اعلانیہ کہتے تھے کہ ادارہ اختیار رکھتا ہے کہ کسی بھی منافع بخش ادارے کا اندراج کرے اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر حصص کے فائدے کو ایک خاندان تک محدود نہ ہونے دے۔ لیکن ایس ای سی پی ان گروہوں کو نہیں روک رہا (جو پہلے سے مندرج ہیں) اور چھوٹے حصص یافتگان کی دولت لوٹ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام حرکتوں پر پردہ بھی انہی کا ادارہ ڈال رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اداروں کے معیارات دوہرے ہیں، ایک آنکھ کا تارا جے ایس گروپ ہے اور باقی کاروباری برادری کے لیے دوسرے معیارات ہیں۔

23۔ گروپ کے نجی اداروں میں سرمایہ کاری کے ذریعے فنڈز کھینچنا

جے ایس گروپ مختلف کھاتوں میں جے ایس سی ایل سے فنڈز کھینچ چکا ہے جس میں ایس ای سی پی کی ناک تلے جہانگیر صدیقی کے مختلف نجی اداروں میں بے احتیاطی سے کی گئی سرمایہ کاریاں شامل ہیں۔ چند واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

ا) جے ایس سی ایل نے جے ایس انٹرنیشنل میں 294 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جو مکمل طور پر بیکار ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جا سکتا ہے۔)

ب) جے ایس سی ایل انوسٹمنٹس کی کریڈٹ چیکس (پرائیوٹ) لمیٹڈ میں 189.5 ملین روپے کی سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب ہے۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی سالانہ رپورٹ میں نوٹ10.1 اور 16.1 دیکھا جاسکتا ہے)

ج) جے ایس انفوکوم لمیٹڈ میں 708 ملین روپے کی سرمایہ کاری میں سے 216 ملین روپے خراب ہیں۔( 31 دسمبر 2012ء کو مکمل ہونے والے سال کی رپورٹ میں نوٹ 10.1 کو دیکھا جاسکتا ہے)

24۔ سالانہ رپورٹ میں غلط بیانی

جے ایس سی ایل نے 2008ء میں (آنے والے سالوں میں کیپٹل گین ٹیکس کا بہانہ بناکر)ماتحت اور منسلکہ اداروں کے حصص کی خرید و فروخت سے مصنوعی فائدے حاصل کیے۔ یوں مصنوعی طور پر بڑا ای پی ایس ظاہر کیا حالانکہ مفید ملکیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ غیر ملکیوں کو بھی گمراہ کیا گیا، جنہوں نے رائٹ شیئرز حاصل کیے۔ 30 جون 2008ءکو مکمل ہونے والی مالی سال کے لیے سالانہ کھاتوں کے ساتھ ڈائریکٹرز رپورٹ میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے۔

2009ء میں مکمل ہونے والے سال کےلیے سالانہ رپورٹ 16.7 بلین روپے کی خراب سرمایہ کاری ظاہر کرتی ہے جو ثابت کررہی ہے کہ 2008ء میں حاصل کیا گیا فائدہ مصنوعی تھا اور ہیراپھیری، دھوکہ دہی اور فراڈ سے حاصل کیا گیا تھا۔ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل میں مزید سرمایہ کاری مکمل طور پر خراب نہیں تھی (جو خراب ہونے کی صورت میں نقصان کو مزید بڑھاتی)۔

بونس حصص (عبوری) 30 جون 2009ء کو مکمل ہونے والے سال کے دوران 244 فیصد تھے، زیادہ تر پریمیئر سے باہر جاری کیے گئے (رائٹ ایشو کے برخلاف زیادہ تر غیر ملکی سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے)۔ یوں غیر ملکیوں سے حاصل کیے گئے پریمیئم نے اسپانسرز کو فائدہ پہنچایا کیونکہ وہی سب سے بڑے حصص یافتہ تھے۔

2009ء کو مکمل ہونے والے سال میں عبوری بونس قانونی طور پر درست نہیں تھا کیونکہ خراب سرمایہ کاری کو مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا (کیونکہ جے ایس آئی ایل اور جے ایس گلوبل کی مارکیٹ ویلیو کم تھی)۔ یہ آزاد ریزروز کی شرائط پر پورا نہیں اترا۔
سالانہ رپورٹ برائے 2011ء ظاہر کرتی ہے کہ جے ایس آئی ایل خرابی ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ سالوں کے کھاتے درست نہیں تھے۔(جاری ہے)


متعلقہ خبریں


انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ وجود - جمعه 03 مئی 2024

ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ پر سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے ۔پاکستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے بارے میں رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر ایرانی تیل اسمگل کیا جاتا ہے اور اسمگلنگ سے قومی خزانے کو سالان...

انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ

رینجرز تعیناتی کی مدت میں 180 دن کا اضافہ، سندھ کابینہ کی منظوری وجود - جمعه 03 مئی 2024

سندھ کابینہ نے رینجرز کی کراچی میں تعیناتی کی مدت میں 180 دن کے اضافے کی منظوری دے دی۔ترجمان حکومت سندھ نے بتایا کہ رینجرز کی کراچی میں تعیناتی 13 جون 2024 سے 9 دسمبر 2024 تک ہے ، جس دوران رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت اختیارات حاصل رہیں گے ۔کابینہ نے گزشتہ کابینہ ا...

رینجرز تعیناتی کی مدت میں 180 دن کا اضافہ، سندھ کابینہ کی منظوری

انتخابی حربے، مودی کی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی وجود - جمعه 03 مئی 2024

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات میں کامیابی کے لیے بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی دے رہے ہیں ۔ دی وائر کے مطابق بی جے پی نے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کے ذریعے مودی کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مودی کہتے ہیں کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو وہ ہندؤں کی جائیداد اور دولت م...

انتخابی حربے، مودی کی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی

نیتن یاہو کا جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار وجود - جمعه 03 مئی 2024

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کسی بھی صورت غزہ میں جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا معاہدہ تسلیم نہیں جس میں جنگ کا خاتمہ شامل ہو۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ ...

نیتن یاہو کا جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار

جمعیت علماء اسلام کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 03 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر شرقی نے بتایا کہ جے یو آئی کو ایس ایس پی ایسٹ کی رپورٹ پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایس ایس پی ایسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر بڑے عوامی اجت...

جمعیت علماء اسلام کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی

عمران خان نے بات چیت کا ٹاسک دیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے پی وجود - جمعرات 02 مئی 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کوئی بات ہوگی تو سب کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چیت کسی سے چھپ کر نہیں ہوگی،بانی پی ٹی آئی نے نہ کبھی ڈیل کی ہے اور نہ ڈیل کے حق میں ہیں، یہ نہ سوچیں کہ وہ کرسی کیلئے ڈیل کریں گے ۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گن...

عمران خان نے بات چیت کا ٹاسک دیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے پی

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کیخلاف طلبہ کا احتجاج یونان اور لبنان تک پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 مئی 2024

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ دنیا بھر کی جامعات میں پھیلنے لگا۔امریکا، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا کی جامعات کے بعد یونان اور لبنان کی جامعات میں بھی طلبہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔امریکی جامعات میں احتجاج کا سلسلہ تیرہویں روز بھی...

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کیخلاف طلبہ کا احتجاج یونان اور لبنان تک پہنچ گیا

کے ایف سی بائیکاٹ جاری، ملائیشیا میں 100سے زائد ریستوران بندکرنے پر مجبور وجود - جمعرات 02 مئی 2024

غزہ میں مظالم کے خلاف اسرائیل کی مبینہ حمایت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم میں شدت آتی جا رہی ہے ۔ معروف امریکی فوڈ چین کے ایف سی نے ملائیشیا میں اپنے 100 سے زائد ریستوران عارضی طور پر بند کرنیکا اعلان کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں امریکی فوڈ چین کی فرنچائز کم...

کے ایف سی بائیکاٹ جاری، ملائیشیا میں 100سے زائد ریستوران بندکرنے پر مجبور

پتا نہیں وہ ہمیں ڈانٹ رہے تھے یا اپنے سسرال والوں کو؟فضل الرحمان کا کیپٹن صفدر کے خطاب پر طنز وجود - جمعرات 02 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔لاہور میں فلسطین کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ یہاں بلاوجہ شہباز شریف کی شکایت کی گئی اس بیچارے کی حکومت ہی...

پتا نہیں وہ ہمیں ڈانٹ رہے تھے یا اپنے سسرال والوں کو؟فضل الرحمان کا کیپٹن صفدر کے خطاب پر طنز

کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، شہباز شریف وجود - جمعرات 02 مئی 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، ہم سب مل کر پاکستان کو انشااللہ اس کا جائز مقام دلوائیں گے اور جلد پاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کر لے گا۔لاہور میں عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنی ذاتی رہائش گاہ پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ ا...

کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، شہباز شریف

ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کیلئے تیار رہیں،بی جے پی کی مسلمانوں کو دھمکیاں وجود - جمعرات 02 مئی 2024

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے رہنما راجوری اور پونچھ میں مسلمانوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ یا تو سنگھ پریوار کے حمایت یافتہ امیدوار کو ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1947میں جموں خطے میں ہن...

ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کیلئے تیار رہیں،بی جے پی کی مسلمانوں کو دھمکیاں

تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ وجود - بدھ 01 مئی 2024

پی ٹی آئی نے جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ کیا ہے ، جے یو آئی ف کے سربراہ کو احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کے لیے باقاعدہ دعوت دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مذاکراتی ک...

تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ

مضامین
ٹیکس چور کون؟ وجود جمعه 03 مئی 2024
ٹیکس چور کون؟

٢١ ویں صدی کا آغازاور گیارہ ستمبر وجود جمعه 03 مئی 2024
٢١ ویں صدی کا آغازاور گیارہ ستمبر

مداواضروری ہے! وجود جمعه 03 مئی 2024
مداواضروری ہے!

پاکستان کے خلاف مودی کے مذموم عزائم وجود جمعه 03 مئی 2024
پاکستان کے خلاف مودی کے مذموم عزائم

''مزہ۔دور'' وجود بدھ 01 مئی 2024
''مزہ۔دور''

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر