وجود

... loading ...

وجود

بول کی بندش: ذرائع ابلاغ کی سازشوں کے تانے بانے بہت گہرے ہیں!

منگل 12 اپریل 2016 بول کی بندش: ذرائع ابلاغ کی سازشوں کے تانے بانے بہت گہرے ہیں!

axact bol

بول اور ایگزیکٹ کے خلاف رچائے گیے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے “سیٹھوں ” کا کھیل انتہائی پرپیچ ہے۔ یہ نامعلوم رستوں سے شروع ہو کر معلوم منطقوں میں جب داخل ہوتا ہے تو یہ اندازہ لگانا دشوار ہوتا ہے کہ اس میں کون کون کیا کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟اگرچہ بول کی اب محدود انتظامیہ اپنا سارے مقدمات عدالتوں میں لڑ رہے ہیں۔ مگر یہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ بول کے خلاف کون کہاں لڑ رہا ہے۔ مثلاً یہ واقعہ ایک دلچسپ مشاہدے اور نمونے (پیٹرن) کے طور پر رونما ہوتا ہے کہ جب بھی بول اور ایگزیکٹ کے حوالے سے مقدمات کی تاریخ عدالتوں میں پڑتی ہے تو اُسی روز میر شکیل الرحمان کے اخبارات اور ٹیلی ویژن بول کے حوالے سے مختلف من گھڑت خبریں پھیلاتے ہیں۔ افسوس ناک طور پر ابھی تک کسی نے عدالت کو یہ باور نہیں کرایا کہ منظم منصوبہ بندی سے ایک پروپیگنڈے کے ذریعے ایگزیکٹ کو تالے لگوانے اور بول کو بولنے سے روکنے کی مہم چلانے والے یہ ادارے ایک متعصبانہ اور جانبدارنہ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور عین عدالتی تاریخوں پر خبروں کی اشاعت سے دراصل عدالتوں پر منفی انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر بول اور ایگزیکٹ کے خلاف خبروں کی اشاعت ممکن بنائی گئی جب اس حوالے سے مختلف عدالتوں میں تین مقدمات زیر سماعت تھے۔

کسی نے عدالت کو یہ باور نہیں کرایا کہ منظم منصوبہ بندی سے ایک پروپیگنڈے کے ذریعے ایگزیکٹ کو تالے لگوانے اور بول کو بولنے سے روکنے کی مہم چلانے والے یہ ادارے ایک متعصبانہ اور جانبدارنہ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور عین عدالتی تاریخوں پر خبروں کی اشاعت سے دراصل عدالتوں پر منفی انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایگزیکٹ کے حوالے سے11 اپریل کو عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ایک مقدمے کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ایگزیکٹ کمپنی کے منجمد اثاثے بحال کرنے کے خلاف عدالت عالیہ سندھ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ایگزیکٹ کمپنی کے وکیل عابد زبیری نے اپنے دلائل دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ مقدمے کا چالان انتہائی تاخیر سے پیش ہونے کے باوجود تاحال ابھی تک کوئی مزید کارروائی نہیں ہورہی۔ ایگزیکٹ کمپنی کے باہر تاحال ایف آئی اے کے اہلکار بیٹھے ہیں اور عدالتی احکامات کے باوجود ملازمین کو داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ عابد زبیری نے بتایا کہ کمپنی کے کھاتے منجمد کرنے کا حکم دے کر عدالت عالیہ سندھ نے حدود سے تجاوز کیا ہے۔ جبکہ ایف آئی اے کے اہلکار دفاتر سے کمپنی کے تمام سرورز بھی لے گیے ہیں۔ مگر حسب معمول عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹسز جاری کرکے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے۔

دوسری طرف عدالت عالیہ سندھ میں 11 اپریل کو ہی جسٹس محمد اقبال کلہوڑ پر مشتمل بینچ نے ایگزیکٹ کے ملازمین کی جانب ست دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔ سماعت کےد وران میں عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹرز شہاب اوستو، حق نواز تالپوراور صلاح الدین گنڈاپور نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جن کے استعفے عدالت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ اس پر عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ وکلاء کی علیحدگی کا معاملہ ایف آئی اے کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایف آئی اے اس معاملے کو اپنے طور پر دیکھے۔ چونکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوتے ہیں اس لئے عدالت دلائل سن کر میرٹ پر اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ عدالت نے سماعت 15 اپریل کے لیے ملتوی کردی ہے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے اپنی تفتیش اور تحقیقات سے کوئی چیز بھی ملزمان کے خلاف پیش نہیں کر سکی اور اس ضمن میں ایف آئی اے کی جانب سے جتنے بھی پراسیکیوٹرز مقرر کیے گیے وہ کچھ عرصے کے بعد استعفے دے کر چلے گیے۔ اُنہوں نے اپنے استعفے کی وجوہات کو بھی ریکارڈ پر لانا ضروری نہیں سمجھا۔ تاہم ان تمام پراسیکیوٹرز کے استعفوں کا فائدہ ایف آئی اے کو اس طرح پہنچا کہ اُنہیں مقدمے کو الجھانے اور تاخیر سے دوچار کرنے کا موقع ملتا رہا۔ اس طرح مذکورہ مقدمے کا دلچسپ مشاہدہ یہ ہے کہ اس میں ملزمان کو کسی تفتیش کی وجہ سے ضمانتوں سے محروم نہیں رکھا گیا اور نہ نئے نئے انکشافات کے بعد اس کی قانونی ضرورت کا کوئی دفاع عدالت کو دیا گیا بلکہ مختلف چالبازیوں کے ذریعے ایف آئی اے نے اس مسئلے کو الجھائے رکھا ہے۔ جس میں پراسیکیوٹرز کی طرف سے دیئے جانے والے باربار کے استعفے بھی شامل ہیں۔

اس سامنے کی حقیقت کو جنگ اور دی نیوز نے اپنی متعصبانہ وقائع نگاری کے ذریعے نیا رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ جنگ نے اپنی 12 اپریل کی اشاعت میں ایف آئی اے کے افسران کی طرف سے اپنے تین اسپیشل پراسیکیوٹرز کی جانب سے پیروی کے انکار کو دراصل کسی دباؤ کا نتیجہ قرارد یا ہے۔ حیرت انگیز طور پر استعفے دینے والے اب تک کے تمام پراسیکیوٹرز عدالت میں مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے عبرت کی تصویر دکھائی دیئے کیونکہ اُن کے پاس صرف تاریخ لینے اور مقدمے کو التوا میں ڈالنے کے علاوہ اپنے مقدمے کے حق میں عدالت میں پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ کیا یہ دباؤ کسی وکیل پر کم ہو سکتا ہے۔ اس ماحول میں پراسیکیوٹرز کے استعفے ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے میں تفتیش کی ناکامی اور غلط دعوؤں کے حق میں ثبوتوں کے حصول میں نامرادی کے علاوہ کو ن سا دباؤ ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات جنہیں ذرائع ابلاغ پر رہنے کا شوق حد سے زیادہ ہے اور جو بات بات پر پریس کانفرنس کرنے کے عادی ہیں، وہ جنگ اور دی نیوز کے رابطے پر بھی اُنہیں گزشتہ روز دستیاب نہیں ہوسکے۔ کیا یہ بات بجائے خود حیرت انگیز نہیں کہ شاہد حیات جن کے بارے میں جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین عمران شیخ نے گزشتہ دنوں دوران ِ حراست انتہائی حساس معلومات دی ہیں ، جن میں ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ سازی کے علاوہ اس کی پشت پر جہانگیر صدیقی کے سمدھی میر شکیل الرحمان کی دلچسپیوں اور “تحائف” کی گردش کا بھی خاصا عمل دخل تھا، وہی شاہد حیات جنگ اور دی نیو زکو دستیاب ہی نہ ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر