وجود

... loading ...

وجود
وجود

اتوار بازار اور خوشونت سنگھ

جمعرات 31 مارچ 2016 اتوار بازار اور خوشونت سنگھ

ہم نے سوچا آپ کو شریک مطالعہ کرلیں۔

ڈیفنس کراچی کے فیز آٹھ میں چھ ماہ پہلے تک ایک اتوار بازار لگا کرتا تھا، اب نہیں لگتا۔ بازار کا ٹھیکیدار بے ایمان تھا اور مجاز افسران عالی مقام سخت گیر، نازک مزاج۔ خالصتاً عسکری نقطۂ نگاہ رکھنے والے کہ If you are not with us , you are against us۔ (ہم اس کا شاعرانہ ترجمہ احمد فراز کے اس مصرعے سے کیے دیتے ہیں کہ ع جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں) یہاں دور دراز سے لوگ آکر خریداری کرلیتے تھے۔ اس ہفتہ وار میلے کے تین بڑے فوائد تھے۔ اوّل تو بہت سے لوگوں کا مہنگائی کے اس دور پر آشوب میں ہفتے بھر کے لیے دال روٹی کا بندوبست ہوجاتا تھا۔ دوم یہ کہ فیملی کی تفریح کا اچھا سامان تھا۔ لوگ دور دراز سے آتے تھے سہ پہر تک وہاں گھوم پھر کر پٹھان دکانداروں کی جھڑکیاں سن کر سستا کھانا کھالیتے تھے۔ ان میں کچھ نوجوانان ملت ایسے بھی ہوتے تھے جو شام کو سمند رکی لہریں گن کر ڈوبتے سورج اور ہرجائی چاند کو دیکھ کر اس کا موازنہ اپنی رفیق حیات، یا غیر منکوحہ دوست، جسے مفتی عبدالقوی نے تو اب آن کر حلال قرار دیا ہے، کے حسن جہاں تاب سے کرتے۔ اسی وارفتگی اور بے اختیاری میں اس کو کبھی ایشوریا رائے تو کبھی سیلینا گومز سے ملاتے تھے (اس موازنہ پر فریب میں یہ فیڈرل بی ایریا اور لیاری کے دل پھینک عاشق قندیل بلوچ کو بھی شامل کرلیتے مگر وہ انگارہ بر زباں تب تک مُنی کی طرح بدنام نہیں ہوئی تھی۔ قندیل کا ارادہ تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے لیے جھنڈو بام بننے کا بھی تھا مگر ٹیم کی کارکردگی سے وہ اتنی مایوس ہوئی ہے کہ شکستہ دلی کی کیفیت میں رجوع الی اللہ کی خاطر وینا ملک اور مبشر لقمان سے مولانا طارق جمیل کا فون نمبر مانگ رہی تھی)۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے پٹھان دیکھ کر کرکٹ سیکھ گئے مگر ہمارے نجم سیٹھی کی آنکھ کے تارے اور شہریار کے راج دلارے کھیل کر بھی کرکٹ نہ سیکھ پائے۔ آپ کی طرح ہم بھی دوسرے فائدے سے زیادہ ہی جڑ گئے۔ سوئم فائدہ یہ تھا کہ یہاں بہت سا ایسا سامان جسے کراچی کے بازاروں میں ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا وہ بآسانی یہاں مل جایا کرتا تھا۔ مثلاً ہمارے ایک دوست نے کوہ پیمائی کے پرانے مگر بے حد اعلیٰ کوالٹی کے سامان کی ایک پوری KIT کل چار ہزار روپے میں خریدی تھی۔ دوسرے وہاں پر وہ کتابیں اور رسالے جو وزن کے حساب سے دنیا بھر سے آتے تھے وہ سستے داموں مل جایا کرتے تھے۔ سنگاپور کی ایک لائبریری کی کئی کتب ایسی تھیں جو زراعت اور معاشیات کے حوالے سے پاکستان میں دستیاب نہ تھیں مگر ہمارے ایک کرم فرما نے اتوار بازار سے کوئی سو کے قریب ایسی کتابیں کل آٹھ ہزار روپے میں خریدیں اور انہیں پنجاب میں مختلف تعلیمی اداروں کو تحفتاً بھجوادیا۔

sunday-bazaar-books

ڈیفنس اتھارٹی کے ایڈمنسٹریٹر صاحب اور کور کمانڈر صاحب جن کے بارے سنا ہے کہ وہ کتب بینی کے شوقین ہیں۔ ان کے کافی پرانے پیشرو جنرل طارق وسیم غازی سے تو ہماری ایک دفعہ ملاقات لیاری کے ایک ایسے گودام میں ہوئی تھی جو کراچی میں پرانی کتابوں اور رسائل کے لیے بہت عمدہ مگر بے حد گمنام مرکز تھا۔ وہیں ہم نے انہیں ایک ایسا مینوئل ڈھونڈ کر دیا جو Sniper Training کا بڑا جدید کورس تھا۔ وہ وہاں سے اپنے ایک اور شوق بونسائی کے بارے میں بہت کتابیں لیا کرتے تھے۔

کور کمانڈر صاحب اگر مناسب سمجھیں تو اس بازار کے نئے مقام پر دوبارہ انعقاد سے بالخصوص سمندر کے کنارے دو دریا کے سامنے ایسا بہت بڑا خالی علاقہ موجود ہے جہاں یہ اتوار بازار آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک حصہ Student Corner ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس میں ادارے بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص کنسٹرکشن اور فوڈ انڈسٹری سے متعلق جو ڈیفنس میں بہت کثرت سے ہورہی ہے۔ اس میں ایک ماہ کے لیے وہ باقاعدہ طالب علم ہی سیلز مین ہوں جو غریب ہوں۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی تشکیل ایک اہم مسئلہ ہے۔ شاید یہاں کے سیکھے ہوئے سبق یہ طالب علم اپنی تعلیم کی روشنی میں کامیاب زندگی میں ڈھال سکیں۔ ہندوستان کے علاقے بنگلور اور حیدرآباد کے شہر ایسے ہی Entrepreneur کی وجہ سے آج امریکہ کی Silicon Valley پر راج کررہے ہیں۔

سوچئے نا اس ڈیفنس بستی میں چائے خانے جو رات بھر آپ کا ناک میں دم کیے رہتے ہیں، ان کو کھولنے پر کوئی قدغن نہ ہو مگر ایسا میلہ جو بہ یک وقت تفریح، حلال روزگار اور ذہنی نشوونما کا مرکز ہو، اسے ٹھیکیدار کی بدنیتی کی وجہ سے جڑ سے ہی اکھاڑ دیں۔ یہ مناسب نہیں اتھارٹی کے لیے۔

khushwant-singh

ایک اتوار ہمیں اسی بازار سے خوشونت سنگھ کی چار پانچ کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ چونکہ کتابیں دل چسپ اور آسان انگریزی زبان میں تھیں لہذا ہمارے ایک دوست جذباتی ہوکر لے گئے۔ کتاب، کرائے کا مکان اور قرضہ واپس مانگیں تو احباب ناراض ہوجاتے ہیں۔ انہیں مانگتے وقت آپ سائل کا رویہ دیکھا کریں اور لوٹانے کے مطالبے پر ان کی کمینگی کا مظاہرہ بھی، ایک مقام عبرت ہوتا ہے۔ اس کا شکار داغ دہلوی بھی ہوئے تھے جنہوں نے کہا تھا:

دل لے کہ مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا

خوشونت سنگھ کی انہیں کتابوں میں ایک کتاب تھی جس کا نام تھا ’’اچھے بُرے اور مضحکہ خیز ‘‘” The Good, The Bad and The Ridiculous”۔ اس سے ہم نے کچھ نوٹس محفوظ کرلیے تھے۔ سو درد اب جا کے اٹھا چوٹ لگے دیر ہوئی کے مصداق سوچا اس میں بیان کردہ کچھ خاکوں سے لیے گئے اقتباسات آپ سے شیئر کرلیں۔ وہ تمام لوگ جو خوشونت سنگھ کے حلقۂ احباب میں نہیں رہے انہیں خوش ہونا چاہیے کہ وہ اس میں مذکور نہیں۔ انسانوں کو دیوتا بنانا شاید الیکٹرانک میڈیا نے ہندوستان سے سیکھا ہے۔ کامیاب افراد ہوں یا عمر رسیدہ یا وفات شدگان سب کی بے وجہ تکریم ہم نے اپنے آپ پر لازم کر رکھی ہے۔ جب کہ مغرب میں ایسے افراد جو پبلک لائف میں اس رعایت کے مستحق نہیں ٹہرتے۔ اگر ہمارے ہند وپاک والے معیار سے جانچا جائے تو پھر یزید، حسن بن سبا، مامون الرشید، ہلاکو، محمد شاہ رنگیلا سبھی لائق تعظیم ٹہرتے ہیں۔

فیض کی شخصیت ایک عجیب مجموعہ تضاد تھی۔ ایک جانے مانے کمیونسٹ ہونے کے باوجود انہیں سکون روساء اور امراء کے حلقۂ احباب میں محسوس ہوتا تھا

خوشونت سنگھ اس لحاظ سے ان چند بے باک صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں کوئی بلا وجہ لائق تعظیم نہیں ٹہرتا، جو جیسا ہے اسے ویسا ہی بیان کرتے ہیں۔ ان کے انسان سچ مچ کے انسان دکھائی دیتے ہیں جعلی دیوتا نہیں۔ سوچیں ایسے شخص سے آپ سجدۂ تعظیم کی کیسے توقع کرسکتے ہیں جو اپنے والدین کی ایک رات کی جنسی رفاقت بھی اپنی جزئیات سمیت بیان کردے۔ یہ امر اس لیے بھی حیرت کا باعث ہے کہ یہ کتاب لکھنے کی فرمائش ان کی صاحبزادی نے کی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ چینی قوم کہتی ہے کہ مدھم ترین روشنائی بھی طاقتور ترین یادداشت پر بھاری پڑتی ہے۔

فیض احمد فیض

faiz-ahmed-faiz

فیض احمد فیض سے خوشونت سنگھ کا تعلق دیرینہ تھا۔ گورنمنٹ کالج کے دنوں کا۔ ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ فیض صاحب کو سولہ سال کی عمر سے ہی پزیرائی ملنا شروع ہوگئی تھی۔ جب انہوں نے کسی مشاعرے میں یہ شعر پڑھا ع

لب بند ہیں ساقی میری آنکھوں کو پلا
وہ جام جو منت کش صہبا نہیں ہوتا

اس شعر کو سنتے ہی سخن شناس لوگوں نے ان کے آئندہ کے تیور بھانپ لیے تھے۔ لاہور آن کر وہ اس حلقے میں نشست و برخاست کے حق دار ٹہرے جس میں امتیاز علی تاج، پطرس، صوفی تبسم اور ایم ڈی تاثیر جو سلمان تاثیر مرحوم کے والد اور فیض کے ہم زلف بھی بنے۔ فیض کی رنگت سیاہی مائل جس کی چمک پر تیل کی مالش کا شائبہ ہوتا تھا۔ قد پستہ، بہت ہی کم اور نرم گو اور غیر جذباتی طرز عمل کے مالک، وہ لیڈی کلر نہ تھے مگر اپنی شاعری کی وجہ سے نگاہ بن کر حسینوں کی انجمن میں رہتے تھے۔ وہ بہت انسان دوست تھے ہر قسم کے تعصب سے بلند و بالاتر۔ لیکن ان کی شخصیت ایک عجیب مجموعہ تضاد تھی۔ ایک جانے مانے کمیونسٹ ہونے کے باوجود انہیں سکون روساء اور امرا ء کے حلقۂ احباب میں محسوس ہوتا تھا۔ خدا کے وجود کو نہ ماننے کہ باوجود بھی ان سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا انسان کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ صوفیا کے نزدیک اللہ کا خوف ہی دین کی اصل ہے اور اعمال کی درستگی کی ضمانت ہے۔ اپنی تخلیقات میں وہ معاشرے کے مفلوک الحال اور غربت اور افلاس کے ہاتھوں ستائے ہوئے افراد کا دکھ سمیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کا اپنا طرز زندگی شاہانہ تھا۔ ایک دن میں ان کا سگار اور ولایتی شراب کا جو خرچہ تھا وہ ایک مزدور کے گھرانے کو مہینے بھر خوراک مہیا کرسکتا تھا۔

(جاری ہے)


متعلقہ خبریں


ملک میں سستے بازار بھی سستے نہ رہے وجود - پیر 03 جنوری 2022

ملک بھر میں مہنگائی بڑھنے سے خریداروں کے ساتھ دُکاندار بھی پریشان ہوگئے ،ملک میں سستے بازار بھی سستے نہ رہے،ملک میں بڑھتی مہنگائی کے سبب دالیں، انڈے، گوشت اور سبزی سمیت تمام ہی اشیا کی قیمتوں کو پر لگ گئے،نئے سال کے آغاز پر حکومت کے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ شہریوں کے لی...

ملک میں سستے بازار بھی سستے نہ رہے

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود - جمعرات 16 دسمبر 2021

سقوطِ ڈھاکہ پر لکھی گئیں۱۶دسمبر۱۹۷۱ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعدپھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعدکب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہارخون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعدتھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کےتھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعددل تو چاہا پر شکست...

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں

راجیوگاندھی کاقتل (قسط 2) محمد اقبال دیوان - جمعرات 06 اکتوبر 2016

[caption id="attachment_41354" align="aligncenter" width="576"] رانا سنگھے پریماداسا، سری لنکا کے وزیر اعظم [/caption] پچھلی قسط میں ہم نے بتایا تھا کہ راجیو کا ہفتہ وار میگزین سنڈے میں یہ انٹرویو کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سری لنکا سے امن معاہدے کی تجدید کر...

راجیوگاندھی کاقتل (قسط 2)

راجیو گاندھی کا قتل (قسط ۔۱) محمد اقبال دیوان - بدھ 05 اکتوبر 2016

ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے مقاصد کے تیز تر حصول لیے راج نیتی (سیاست) میں شارٹ کٹ نکالنے کی خاطر دہشت گرد تنظیمیں بنانے کی ماہر تھیں ۔ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بناکر ان کو بنگلا دیش بنانے میں جو کامیابی ہوئی ،اس سے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے۔ اندرا گاندھی جن ...

راجیو گاندھی کا قتل (قسط ۔۱)

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا! (آخری قسط) محمد اقبال دیوان - پیر 03 اکتوبر 2016

[caption id="attachment_41267" align="aligncenter" width="1080"] مارماڈیوک پکتھال[/caption] سن دو ہزار کے رمضان تھے وہ ایک مسجد میں تراویح پڑھ رہا تھا، نمازیوں کی صف میں خاصی تنگی تھی۔ جب فرض نماز ختم ہوئی تو اس نے اُردو میں ساتھ والے نمازی کو کہا کہ وہ ذرا کھل کر بیٹھے ت...

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا! (آخری قسط)

جلا ہے جسم جہاں ، دل بھی جل گیا ہوگا! (قسط 2) محمد اقبال دیوان - اتوار 02 اکتوبر 2016

ہم نے اُن (گوروں اور عرب پر مشتمل ٹولی) سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام اور مسلمان ہر جگہ پر تصادم کی کیفیت میں ہیں۔ کہیں ایسا کیوں نہیں سننے میں آتا کہ بدھ مت کے ماننے والوں میں اور عیسائیوں میں تصادم ہو یا اور ایسے مذاہب آپس میں بر سرپیکار ہوں؟ اس پر وہ گورا کہنے لگا کہ کیا ...

جلا ہے جسم جہاں ، دل بھی جل گیا ہوگا! (قسط 2)

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا ! (قسط اول) محمد اقبال دیوان - هفته 01 اکتوبر 2016

بہت دن پہلے کی بات ہے۔ اس شعلہ مزاج پارٹی کو سیاست میں قدم رکھے ہوئے بہت دن نہ ہوئے تھے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں امتیازی کوٹا سسٹم، ٹرانسپورٹ میں ایک طبقے کی کرائے سے لے کر ہر طرح کی بدسلوکی اور من مانیاں، پولیس جس میں 1978ء سے مقامی لوگوں کی بتدریج تخفیف اور پھر زبان اور عصبیت ک...

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا ! (قسط اول)

شیخ مجیب الرحمن کا قتل(آخری قسط) محمد اقبال دیوان - جمعرات 29 ستمبر 2016

[caption id="attachment_41140" align="aligncenter" width="200"] خوندکر مشتاق احمد[/caption] کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ، ایک دم، نہیں ہوتا کچھ ایسا ہی معاملہ بنگلہ دیشی فوج کے ٹینکوں کے ساتھ ہوا۔ یہ ٹینک جذبۂ خیر سگالی کے تحت مصر ن...

شیخ مجیب الرحمن کا قتل(آخری قسط)

شیخ مجیب الرحمٰن کا قتل (پہلی قسط) محمد اقبال دیوان - منگل 27 ستمبر 2016

[caption id="attachment_41071" align="aligncenter" width="370"] بنگ بندھو شیخ مجیب اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی [/caption] یہ کوئی عجب بات نہیں کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی جیسی نفیس اور زیرک خاتون نے بھارت کا چین سے شکست کا داغ دھونے، بر صغیر کے علاقے کا نقشہ یکسر تبدی...

شیخ مجیب الرحمٰن کا قتل (پہلی قسط)

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟ محمد اقبال دیوان - پیر 26 ستمبر 2016

پچھلے دنوں وہاں دہلی میں بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے Security Apparatus اور’’ را‘‘ کے نئے پرانے کرتا دھرتا سب کے سب نریندر مودی جی کو سجھاؤنیاں دینے جمع ہوئے۔ ان سب محافل شبینہ کے روح رواں ہمارے جاتی امراء کے مہمان اجیت دوال جی تھے۔ وہ آٹھ سال لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک کھولی ...

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟

پھر یہ سود ا، گراں نہ ہوجائے محمد اقبال دیوان - هفته 24 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40973" align="aligncenter" width="940"] درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء[/caption] سیدنا نظام الدین اولیاؒ کے ملفوظات کا مجموعہ فوائد الفواد ( یعنی قلوب کا فائدہ ) ان کے مرید خاص علاء الدین سنجری نے مرتب کیا ہے۔ راہ سلوک کا مسافر اگر طلب صادق رکھتا ہو ...

پھر یہ سود ا، گراں نہ ہوجائے

ہاؤس آف کشمیر محمد اقبال دیوان - بدھ 21 ستمبر 2016

[caption id="attachment_40876" align="aligncenter" width="720"] ہاؤس آف کشمیر[/caption] ہمارے پرانے دوست صغیر احمد جانے امریکا کب پہنچے۔جب بھی پہنچے تب امریکا ایسا کٹھور نہ تھا جیسا اب ہوچلا ہے۔ اُن دنوں آنے والوں پر بڑی محبت کی نظر رکھتا تھا۔اس سرزمین کثرت (Land of Plen...

ہاؤس آف کشمیر

مضامین
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر وجود اتوار 02 اکتوبر 2022
دوستوں سے ریاکی بات نہ کر

چالیں اور گھاتیں وجود هفته 01 اکتوبر 2022
چالیں اور گھاتیں

ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
ایران میں پرتشدد مظاہروں کے سلگتے ہوئے انگارے

وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
وزیرِ اعظم کا گھر غیر محفوظ تو محفوظ ہے کیا ؟

بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں وجود بدھ 28 ستمبر 2022
بلوچستان ،کابینہ میں ردو بدل کی باتیں

چند ان کہی کہانیاں وجود منگل 27 ستمبر 2022
چند ان  کہی کہانیاں

اشتہار

تہذیبی جنگ
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
پاک بھارت میچ کے باعث ہندو مسلم کشیدگی برمنگھم تک پہنچ گئی

برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف وجود پیر 19 ستمبر 2022
برلن میں مسلم کمیونٹی کو ناموافق حالات کا سامنا ہے، جرمن حکومت کے پینل کا اعتراف

بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور وجود جمعه 16 ستمبر 2022
بھارت:مسلمان طلبا سے پڑھائی کا حق  چھین لیا گیا، 17 ہزار طالبات اسکول چھوڑنے پر مجبور

بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
بے روزگاری کا خوف، بھارتی مسلمان شناخت تبدیل کرنے لگے

نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے وجود اتوار 11 ستمبر 2022
نائن الیون، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کو 21 برس بیت گئے

اشتہار

بھارت
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
تمام خواتین کو اسقاط حمل کا اختیار ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ

مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی وجود جمعرات 29 ستمبر 2022
مودی حکومت کی اقلیتوں کے خلاف کارروائی، مسلم مذہبی گروپ پر 5 سال کی پابندی لگا دی

جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
جھوٹے ٹوئٹر اکاؤنٹس:امریکی یونیورسٹی اسٹین فورڈ نے بھارت کو بے نقاب کردیا

بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی وجود بدھ 21 ستمبر 2022
بھارت، ریپ کے بعد جلائی گئی دلت لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی
افغانستان
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ وجود بدھ 28 ستمبر 2022
افغا ن طالبان حکومت کا پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ

قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ وجود هفته 24 ستمبر 2022
قتل کی دھمکی کے ساتھ ملا برادر کو ان کی رہائش گاہ کی تصویر بھیجی تھی، ٹرمپ

یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا وجود جمعه 23 ستمبر 2022
یو این کی جانب سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور، طالبان نے نیا وزیر تعلیم مقرر کر دیا

افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق وجود پیر 22 اگست 2022
افغانستان کے صوبے لوگر میں سیلاب سے تباہی، 20 افراد جاں بحق
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے وجود پیر 26 ستمبر 2022
مسلم دنیا کے معروف اسکالر شیخ یوسف القرضاوی انتقال کر گئے

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے وجود پیر 19 ستمبر 2022
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز انتقال کر گئے

ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں وجود جمعرات 08 ستمبر 2022
ملکہ الزبتھ دوئم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی