وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کوئٹہ اور کاسئی، ایک پہلو

منگل 08 مارچ 2016 کوئٹہ اور کاسئی، ایک پہلو

Quetta

دْر محمد کاسی کی شخصیت اور نام سے گویا بچپن سے آشنا ہوں۔ پاکستان ٹیلی ویڑن کوئٹہ مرکز سے وقتاً فوقتاً ان کی ڈاکیومینٹریز نشر ہوتیں اور ہم بڑے اشتیاق سے دیکھتے۔ پی ٹی وی سینٹر میں تو بہت ساری رپورٹس یا ڈاکیومینٹریز کئی لوگوں کی نشر ہوتیں اور میں کیوں ان میں محض دْر محمد کاسی کو ہی نمایاں پاتا، بلا شبہ ان کی ڈاکیومینٹریز معیار اور کام کے اعتبار سے اعلیٰ ہوتی تھیں لہذا یہ تورہا اچھا اور تخلیقی کام، چونکہ میں قلعہ کاسی میں پلا بڑھا، چنانچہ رغبت کی ایک بڑی وجہ در اصل یہ قریبی تعلق بھی ہے۔ وقت گزرتا گیا سال بیت گئے یوں مجھ پر ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی افشا ہوا، وہ یہ کہ دْر محمد کاسی کا شعر و ادب سے بھی یارانہ ہے، اس طرح انہیں ایک ادیب، شاعر اور افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی پہچانا۔

چند سال قبل ان کی تصنیف ’’کوئٹہ اور کاسئی ‘‘ پر نظر پڑی تو ان کی شخصیت میں ایک اضافہ محقق کا بھی دیکھا۔ اس کتاب کا اجمالی مطالعہ کیا، بعد ازاں ترمیم و اضافے کے ساتھ تیسری اشاعت کا نسخہ جس پر حصہ سوئم تحریر ہے اپنے شفیق دوست منصور بخاری کی سیلز اینڈ سروسز سے خریدا اور قدر ے تفصیل سے مطالعہ کر ڈالا۔ موضوع کوئٹہ اور کاسی قبیلہ ہے، پر اسے بجا طور پر خطے اور پشتونوں کی تاریخ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مصنف نے پشتون نسل اور قوم پر بھی اختصار سے روشنی ڈالی ہے اس کے ساتھ کاسی قبیلے کی قدیم و جدید تاریخ کا روانی اور حوالوں کے ساتھ احاطہ کیا ہے۔

اس کتاب میں بابلان سے کوئٹہ تک کاسی قبیلے کے نشیب و فراز اور عروج و زوال کا بیان ہے کتاب میں ’’شال‘‘ کے معنیٰ کی تفصیل کئی مروجہ مغالطوں کی نفی کرتی ہے۔ اس میں کوئٹہ کی تاریخ ہی نہیں بلکہ ارضیاتی و جغرافیائی پس منظر، رسومات، رہن سہن، کھیل حتیٰ کہ بچوں کے کھیل، پہاڑ، میدان، معدنیات، جنگلات و حیوانات، زراعت و کاریزات، مساجد، خانقاہیں و زیارات، اولیا ء کرام، قبائلی شخصیات کا تذکرہ اور وادی کی کاسی قبائل کے درمیان تقسیم کی تفصیل در اصل مصنف کی تحقیق کے دوران دوڑ دھوپ، عرق ریزی اور ہمہ پہلو ورق گردانی کا پتہ دیتا ہے۔

تاریخ نویسی اور تحقیق کے چند جاندار اصول ہیں، مورخ کا موضوع اور اس سے متعلق علوم پر وسیع مطالعہ کا ہونا لازم ہے۔ محقق اغلاط سے اجتناب کرتا ہے اور مقدم اور موخر کے اصول سے آگاہ ہوتا ہے۔ یعنی ان کے لئے معقول حد تک شد بْد تو ضروری ہی ہے۔ جب تک موضوع سے متعلق دیگر علوم و فنون اور متعلقہ عہد کے بارے میں پوری معلومات نہ ہوں، تحقیق پایہ اعتبار تک نہیں پہنچ پائے گی۔ جن کْتب کا مطالعہ کیا جائے وہ قدرے مستند ہوں اور صاحب تصنیف کے علم، فن اور معیار کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مصنف کی جانبداری تک کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ آیا مصنف کسی نظریاتی، جماعتی گروہی یا کسی بھی نوع کے تعصب کا شکار تو نہیں۔ محقق اخذ و استنباط کے فن سے آراستہ ہوتا ہے۔ اس ذیل میں وہ اپنی تمام تنقیدی اور تخلیقی صلاحیتیوں کا استعمال کرتا ہے اور حقائق کا بہر طور خیال رکھتا ہے، گویا بنیادی مآخذ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی تصنیف پر مخالفت یا موافقت میں تنقید فن تاریخ و تحقیق کا لازمہ ہے۔ چنانچہ ’’کوئٹہ اور کاسئی‘‘ ایک عمدہ نسخہ ہے۔ محاکمہ ہر گز مقصود نہیں، کسی بحث میں پڑے بغیر اس زیل میں فقط ایک پہلو کی نشاندہی اور اصلاح کو ضروری گردانا۔

قلعہ کاسی، قبیلہ کاسی کا قدیم مسکن ہے اور یہ قلعہ قبیلے کا مرکز ہے چنانچہ اس قلعے کی جامع مسجد کو بھی اس لحاظ سے مرکزیت حاصل ہے، بلا شبہ یہ کوئٹہ کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔ فاضل مصنف کتاب کے صفحہ نمبر 207 میں لکھتے ہیں کہ 1929ء میں افغانستان کے’’ ملا شور بازار‘‘ قلعہ کی مسجد میں امام رہے، ساتھ یہ بھی تحریر ہے کہ سابق صوبائی وزراء مولانا حسن جان اور مولانا نور محمد مرحوم بھی امام رہے ہیں۔ جو کہ قطعی درست نہیں ہے۔ یہ دونوں حضرات کبھی بھی اس مسجد کے خطیب نہیں رہے ہیں نہ ہی ملا شور بازار نے اس مسجد کی امامت کی، یعنی مولانا نیاز محمد دْرانی مرحوم کا مصنف نے تذکرہ ہی نہیں کیا، جنہوں نے اس مسجد میں امامت و خطابت کے طویل فرائض انجام دئیے۔

quetta-tribes

ارباب عثمان کاسی اپنی کتاب ’’شال سے کوئٹہ‘‘ کے صفحہ نمبر 154میں کچھ اس طرح تفصیل دی ہے کہ اخوندزادہ لال محمد کاسی جو کلی عالم خان کے رہائشی تھے، مسجد کے امام مقرر ہوئے اور قلعہ میں ہی سکونت اختیار کر لی تھی۔ ان کی وفاقت کے بعد مولانا لال محمد کاسی کے چھوٹے بھائی اخوند زادہ نور محمد امامت کے فرائض پر مامور ہو گئے جو اکتوبر 1971ء میں وفات پا گئے۔ ارباب عثمان نے البتہ مولانا نور محمد مرحوم سے متعلق اتنا لکھا ہے کہ اْن کا بھی اس مسجد سے تعلق رہا ہے۔ شائد وہ یہاں طالب علم کی حیثیت سے رہے ہوں۔ جسے عرف عام میں طالب کہا جاتا ہے۔ اور لکھا ہے کہ کچھ عرصہ مو لانا نیاز محمد درانی بھی امام رہے۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ 1971ء سے 1989تک مولانا نیاز محمد دْرانی اس مسجد کے خطیب تھے، مولانا دْرانی کے بعد سابق صوبائی وزیر مولانا عبدالباری آغا خطیب مقرر ہوئے جنہوں نے بوجوہ چند سال بعد امامت چھوڑ دی۔ مولانا عبدالباری آغا کو جمعیت علمائے اسلام( ف) کے بعض افراد نے مولانا دْرانی سے بْغض کی بنیا دپر یہاں امامت دلوائی تھی۔ چند صاحب ظرف علما ء حضرات نے مولانا دْرانی مرحوم کے احترام میں اْن کی جگہ امامت کے فرائض انجام دینے سے گریز کیا۔ البتہ مولانا حسین احمد شرودی نے اسی مقصد کے تحت قلعہ کاسی کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھائی، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے سور ہ اخلاص کو موضوع بنا کر تقریر کی اور اگلے ہی جمعہ مولانا عبد الباری آغا بحیثیت امام تعینات ہو ئے۔۔ معلوم نہیں کہ مصنف (در محمد کاسی ) کی یاداشت میں مولانا نیاز محمد دْرانی کی گنجائش کیوں نہ رہی۔ مولانا کا عبدالصادق کاسی شہید سے بڑا احترام اور محبت کا تعلق تھا اور مولانا نے عبدالصادق خان کاسی شہید کی خواہش اور اصرار کے تحت اس مسجد کی امامت قبول کی تھی۔

مولانا دْرانی مرحوم سطحی اور گمنام شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ اْن کی شخصیت بہت بڑی تھی وہ سیاسی، علمی اور قبائلی لحاظ سے بلوچستان کے اندر نمایاں شہرت رکھتے تھے انہی حیثیتوں سے گراں قدر کام کیا، نیز قندہار، ہلمند، فراح، غزنی اور مقر سمیت افغانستان کے کئی علاقوں میں معروف تھے، اْن کا نہ صرف بلوچستان کے اندر علماء، سیاسی و قبائلی زعماء سے گہرا تعلق تھا بلکہ افغانستان کے سرکردہ قبائلی مشران اور علماء سے بھی بڑے قریبی تعلقات تھے۔ سابق شاہ افغانستان ظاہر شاہ نے ان کی افغان مہاجرین کی خدمت کے پیش نظر ملک اٹلی سے تعریفی اور شکریہ کے الفاظ پر مشتمل مکتوب بھیجا، سابق افغان صدر صبغت اللہ مجددی، حزب اسلامی کے سربراہ گل بدین حکمت یار، سید احمد گیلانی، مولوی محمد نبی، پروفیسر عبدالرب رسول سیاف، مولوی یونس خالص، برہان الدین ربانی اور کئی بڑی و سرکردہ افغان شخصیات سے قریبی مراسم تھے۔ مولانا دْرانی مرحوم کا کاسی قبیلے کے اندر بڑا احترام ہے، وہ ایک جاندار اور نڈر انسان تھے۔ پاکستان و افغانستان کے اندر نورزئی قبائل کے انتہائی واجب الاحترام و تعظیم مرشد، بزرگ او ر رہبر تھے۔ مولانا دْرانی کے ایک صاحبزادے ملک شیر حسن کاسی مرحوم کی صاحبزادی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔ خود فاضل مصنف کے خاندان اور والد کے ساتھ بڑے اچھے اور احترام کا تعلق تھا۔

دْر محمد کاسی کے والد صوفی غلام محمد، قلعہ کاسی کے مرکزی گیٹ کے سامنے ایک محدود چار دیواری میں چھوٹا سا کاروبار کرتے تھے، اسی احاطے میں ان کا ایک بھائی آغا محمد کاسی رکشوں کی ڈنٹنگ کا کام کرتا تھا ساتھ ہی مصنف کا ایک اور بھائی نیک محمد جسے ہم ’’نیکو‘‘ کہہ کر پکارتے تھے کی ایک چھوٹی سے پرچون کی دکان تھی۔ مولانا نیاز محمد دْرانی مرحوم کم و بیش بیس سال تک قلعہ کاسی میں خطیب رہے لیکن وہ پھر بھی مسجد کے خطیبوں کے صف میں شمار نہیں کئے گئے ( تعجب ہے کہ جو نہیں تھے وہ خطیب ٹھرائے گئے)۔ آپ بلند پا یہ خطیب ومقرر، دانشور اور نقاد تھے، اعلیٰ ادبی ذوق ررکھتے تھے، پشتو، اردو و فارسی ادب کی باریکیوں کا گہرائی و گیرائی سے ادراک رکھتے تھے۔ مو لانا جلال الدین رومی حافظ شیرازی اور اقبال کے فارسی کلام پر زبردست عبور حاصل تھا۔ رومی و سعدی تو طلباء کو پڑھایا بھی۔ عورت کی سربراہی کے موضوع پر اور اسلامی ریاست پر تصنیف موجود ہے۔ ان کی متفرق تحاریر کو یکجا کرنے کام کیا جا رہا ہے۔ اب اس کو فاضل مصنف کی صریح و دانستہ بھول چوک بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، پر باعث استعجاب ضرور ہے۔ تاہم اس نوع کی غلطی سے مصنف کی Credibility متاثر ہو تی ہے۔ کتاب، ’’شال سے کو ئٹہ ‘‘کی طرح نام کی حد تک ہی ذکر ہوتا تو شاید تحریر اور تحقیق کا حق ادا ہو جاتا۔۔ دْر محمد کاسی کی تحقیق کے مطابق ملا شور بازار اس جامع مسجد میں خطیب رہے ہیں، لہذا یہ تحقیق بھی درست نہیں ہے۔

amanullah-khan

1929ء کا زمانہ افغانستان کے اندر بڑا ہنگامہ خیز تھا، شاہ امان اللہ خان کی بادشاہت سے دستبرداری کی تحریک گویا آخری مراحل میں تھی اور اس تحریک کا سرخیل فضل عمر، المعروف بہ حضرت شور بازار یا ملا شور بازار تھے جن کو افغان حکومت نے نور المشائخ کا خطاب دیا تھا جبکہ شمس المشائخ کا خطاب صبغت اللہ مجددی کے دادا کو دیا گیا تھا۔ افغانستان میں شاہ امان اللہ خان کی اصلاحات افغان لڑکیوں کو بیرون ملک تعلیم کی غرض سے بھیجنے اور ملکہ ثریا کی یورپ میں کھینچی گئی تصاویر کے خلاف تحریک اْٹھی تھی۔

یوں تو 1927ء سے ہی افغان سیاست میں ارتعاش پیدا ہو چکا تھا تاہم 14نومبر 1928ء کو گویا نظام کا تہس نہس ہونا شروع ہو گیا اور سترہ جنوری 1929ء کو غازی امان اللہ خان افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ جنوری 1922ء کو ایک شاہی اعلان میں تمام اصلاحات جدیدہ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ تعلیم کیلئے ترکی جانے والی لڑکیوں کو اپس لانے کا حکم ہوا۔ اس شاہی پر فرمان پر دیگر علما ء و مشائخ کے علاوہ حضرت شور بازار کے بھی دستخط تھے۔ امان اللہ خان کے افغانستان کے اندرجاری تحریک کے دوران ملا شور بازار کا ہندوستان آنا جانا رہتا تھا وہ وہاں کے علماء و مشائخ میں بھی معروف تھے۔ البتہ علامہ سید سلیمان ندوی یہ کہتے ہیں کہ ملا شور بازار، غازی امان اللہ کی اصلاحات، فکر اور طرز حکمرانی سے نالاں ہو کر ہندوستان چلے گئے۔

جنوری 1929ء سے پہلے حضرت شور بازار لاہور دورے پر گئے تھے جہاں علامہ محمد اقبال نے اپنے دیگر احباب کے ہمراہ ان سے ملاقات کی، چونکہ اب غازی امان اللہ خان سبکدوش نہ ہوئے تھے اس لئے علامہ اقبال نے حضرت شور بازار کو قائل کرنے کی کوشش کی اور بے حد اصرار کیا کہ وہ شاہ کے خلاف تحریک ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ علامہ اقبال کے دل میں شاہ امان اللہ خان کے لئے بہت عقیدت اور محبت تھی۔ ملا شور بازار بچہ سقہ کے پورے عہد میں ہندوستان میں ہی رہے۔ ہندوستان میں بھی اْن کے مرید تھے بالخصوص کاٹھیاواڑ میں۔ وہ طریقہ مجددی تھے۔ افغانستان کے اندر ان کے ہزاروں لاکھوں مریدین تھے، افغان فوج اور افسر شاہی میں بھی ان کے مریدوں عقیدت مندوں کی کمی نہیں تھی۔۔ بچہ سقہ نورالمشائخ کے دربار میں عقیدتاً پانی لایا کرتا تھا۔ بچہ سقہ کو اقتدار سے ہٹانے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ حضرت شور بازار افغان جنگ آزادی میں جنرل نادر خان کے ساتھ جہاد میں بھی شریک رہے، جب نادر خان شاہ افغانستان بنے تو ساتھ وہ بھی افغانستان پہنچ گئے۔ نادر شاہ کے دور میں علامہ اقبال، علامہ سید سلمان ندوی اور سر راس مسعود نے دورہ افغانستان کے دوران ملا شور بازار سے بھی ملاقات کی اس وقت حضرت شور بازار علیل اور ضعیف تھے یہ ملاقات 1933ء میں ہوئی۔ وہ کچھ عرصہ افغانستان کے وزیر عدل بھی رہے پھر درویشی اور طریقہ ارشاد کے مسلک کے خلاف سمجھ کر اس عہدے سے دست کش ہو گئے تھے۔ ان کے خاندان افراد بھی نور محمد ترکئی کے دور میں اشتراکی انتقام کا نشانہ بنے۔ گویا اْن کا علمی، مذہبی اور سیاسی مقام افغانستان کے اندر بہت بڑا تھا، علمائے ہند کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے تھے، بڑے خطیب و پیر تھے انہیں کم از کم کوئٹہ میں امامت کی نہ فرصت تھی اور نہ ہی ضرورت۔ ان سطور میں مخالفت و موافقت کے اصول سے احتراز کرتے ہوئے محض ’’کوئٹہ اور کاسئی ‘ میں مذکورہ پہلوؤں کی نشاندہی ضروری سمجھا۔ اْمید ہے کہ اگلی اشاعت میں تصحیح فرمائی جائے گی۔ ’’کوئٹہ اور کاسئی ‘‘ فاضل مصنف کی گراں قدر مساعی ہے جس میں صاف اور آسان زبان کا استعمال کر کے کتاب کو قا ر ی کے لئے مزید پْر کشش بنایا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ کو ئٹہ: دہشت گردوں کا سفاکانہ وار جلال نورزئی - جمعه 12 اگست 2016

8 اگست 2016 کا دن کوئٹہ کے لئے خون آلود ثابت ہوا۔ ظالموں نے ستر سے زائد افراد کا ناحق خون کیا ۔یہ حملہ در اصل ایک طویل منصوبہ بندی کا شاخسانہ تھا جس میں وکیلوں کو ایک بڑی تعداد میں موت کے گھاٹ اُتارنا تھا ۔یو ں دہشت گرد اپنے غیر اسلامی و غیر انسانی سیاہ عمل میں کامیاب ہو گئے۔ اس خون آشامی میں ساٹھ سے زائد وکلاء پیوند خاک کر دئیے گئے ۔ایک بڑی تعداد وکیلوں اور دیگر شہریوں کی زخموں سے چور ملک بھر کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہے۔ سفاک قاتلوں نے پہلے پہل بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صد...

سانحہ کو ئٹہ: دہشت گردوں کا سفاکانہ وار

کوئٹہ میں پھر دھماکا: زرغون روڈ پر دھماکے میں 14 افراد زخمی وجود - جمعرات 11 اگست 2016

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زرغون روڈ پر الخیر ہسپتال کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس میں اینٹی ٹیررزم فورس (اے ٹی ایس) کے اسکواڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق اب تک دھماکے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کسی جا نی نقصان کی اطلاع نہیں۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے لیے بارودی مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا، جب اینٹی ٹیررازم فورس کی گاڑی وہاں سے گزری تو ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جب کہ سڑک پر بھی گڑھا پڑ ...

کوئٹہ میں پھر دھماکا: زرغون روڈ پر دھماکے میں 14 افراد زخمی

سانحہ کوئٹہ: قومی سلامتی کی صورت حال کے لیے اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ، اہم فیصلے وجود - جمعرات 11 اگست 2016

سانحہ کوئٹہ کے بعد 10 اگست کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں ملکی سلامتی کی اندرونی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ۔ اور کوئٹہ دھماکے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ یہ اس اعتبار سے ایک اہم اجلاس تھا کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ اجلاس کیے تھے۔ بعد ازاں سیاسی اور عسکری اداروں کی اعلیٰ قیادت نے بدھ کے روز ایک مشترکہ اجلاس میں ملک کی اندرونی صورت حال پر اکٹھے فیصلے لیے۔...

سانحہ کوئٹہ: قومی سلامتی کی صورت حال کے لیے اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ، اہم فیصلے

چودھری نثار پھر ناراض! آخر وفاقی وزیرداخلہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ وجود - منگل 09 اگست 2016

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار مسلم لیگ نون کی حکومت میں مستقل ایک مسئلہ اور موضوع تنازع بنے رہتے ہیں۔ ملک میں کوئی بھی المنا ک واقعہ پیش آجائے، وہ منظر سے غائب ہوتے ہیں۔ اور اچانک خبر آتی ہے کہ وہ وزیراعظم نوازشریف سے یا وزیرا عظم نوازشریف اُن سے ناراض ہیں۔ اُن کا روٹھنا اور اُنہیں منانا سب کچھ ایک خودکار عمل سا لگتا ہے۔ مگر یہ معاملہ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے پارٹی سے استعفیٰ کی طرح اتنی بار ہو چکا ہے کہ جب بھی یہ چودھری نثار کی ناراضی اور ایم کیوایم کے قائد کا استعفیٰ ...

چودھری نثار پھر ناراض! آخر وفاقی وزیرداخلہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟ باسط علی - منگل 09 اگست 2016

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار گروپ نے کوئٹہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے نام پر ذمہ داری قبول کرنے کا یہ عمل درست بھی ہے یانہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں کیے جانے والے خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار گروپ نے قبول کی ہے۔ خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جماعت الاحرارکے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ای میل میں ...

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟

جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں آپریشن کومبنگ کا حکم دے دیا! وجود - پیر 08 اگست 2016

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے لرزہ خیز واقعے کے بعد فوراً ہی کوئٹہ کا دورہ کیا ۔ اور کور ہیڈکوارٹر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ نے انٹیلی جینس اداروں کو ملک بھر میں اسپیشل کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک مرحلےپر یہ اعلان کیا تھا کہ اب فوج آپریشن ضرب عضب کے ساتھ آپریشن کومبنگ بھی کرے گی۔ مگر آپریشن کومبنگ کے خدوخال پوری طرح واضح نہیں ہو سکے تھے۔...

جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں آپریشن کومبنگ کا حکم دے دیا!

کوئٹہ دھماکا: فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کوئٹہ پہنچ گئے، وزیراعظم نوازشریف روانہ وجود - پیر 08 اگست 2016

کوئٹہ دھماکے کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف فوراً ہی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ وزیراعظم نواز شریف بھی سانحہ کوئٹہ کے بعد اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرکے کوئٹہ روانہ ہو رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس نے اس معاملے کو ایک بڑے المیے میں بدل دیا ہے۔ اس پر پاک فوج کے سربراہ نے کوئٹہ پہنچنے کا فوری فیصلہ کیا۔ جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ پہنچ کر سول اسپتال کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی ۔ عس...

کوئٹہ دھماکا: فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کوئٹہ پہنچ گئے، وزیراعظم نوازشریف روانہ

کوئٹہ لہو لہو، سول ہسپتال میں دھماکا، 97 جاں بحق وجود - پیر 08 اگست 2016

کوئٹہ میں سول ہسپتال کے اندر ہونے والے ایک دھماکے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 171 ہے۔ یہ خوفناک دھماکا اس وقت ہوا جب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی نامعلوم افراد کے حملے میں جاں بحق ہوئے اور ان کی لاش سول ہسپتال لائی گئی تھی۔ اس موقع پر وکلا کی بڑی تعداد ہسپتال میں موجود تھی اور صحافی بھی کوریج کے لیے آئے ہوئے تھے کہ اچانک ایمرجنسی وارڈ کے دروازے پر ایک دھماکا ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے اسے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کی کا...

کوئٹہ لہو لہو، سول ہسپتال میں دھماکا، 97 جاں بحق

کوئٹہ میں دہشت گردی: چار ایف سی اہلکار جاں بحق، ایک راہ گیر زخمی! وجود - جمعرات 30 جون 2016

كوئٹہ كے علاقے ڈبل روڈ پر رئیسانی سینٹر كے باہر ایف سی اہلكار سوئی سے گاڑی مرمت كرانے كیلئے آئے تھے كہ نامعلوم موٹرسائیكل سواروں نے اچانك ان پر فائرنگ كردی جس سے چاروں اہلكار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق اہلکاروں کی شناخت نائیك اول دراز خان، سپاہی شریف، نائیك عتیق اورلانس نائیك تنویر کے ناموں سے ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے ایک راہ گیر بھی زخمی ہوا ہے۔ واقعہ كی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایف سی كی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے كا محاصرہ كرل...

کوئٹہ میں  دہشت گردی: چار ایف سی اہلکار جاں بحق، ایک راہ گیر زخمی!

کوئٹہ دھماکا: سیکورٹی فورسز پھر نشانے پر ، چھ ایف سی اہلکاروں سمیت دس افراد جاں بحق وجود - هفته 06 فروری 2016

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ضلع کچہری کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر خودکش حملے میں 6 ایف سی اہلکاروں سمیت 10 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ 35 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے سول لائنز ایریا میں اس وقت زوردار دھماکا ہوا جب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔دھماکا اس قدرزوردار تھا کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے کے نیتجے میں سیکیورٹی فورسز کی تین ...

کوئٹہ دھماکا: سیکورٹی فورسز پھر نشانے پر ، چھ ایف سی اہلکاروں سمیت دس افراد جاں بحق

دہشت گردی کی جڑیں جلال نورزئی - بدھ 20 جنوری 2016

بدھ 13جنوری2016ء کی صبح ہی شہر کوئٹہ پولیس جوانوں کے خون سے رنگ دیا گیا۔ حملہ خودکش تھا جو سیٹلائٹ ٹاؤن میں حفاظتی ٹیکوں کے مرکز کے سامنے ہوا ، یہاں سے پولیو ٹیموں نے روانہ ہونا تھا۔ ڈسٹرکٹ پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار ان کی حفاظت کیلئے ساتھ جانے کو تیار تھے۔ کسی ظالم نے خود کو اُڑا کر دھماکا کیا اور ٓان واحدمیں پندرہ لاشیں گرگئیں۔ ان میں ایک سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے کاسب انسپکٹر تھا ،ایک فرنٹیئر کور کا اہلکار تھا ، باقی 11اہلکار بلوچستان کانسٹیبلری کے جوان تھے۔ ان شہیدو...

دہشت گردی کی جڑیں

کوئٹہ میں پولیو مرکز پر حملہ : 14 اہلکار ہلاک ،پولیو مہم معطل وجود - بدھ 13 جنوری 2016

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں حفاظتی ٹیکہ جات کے مرکز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب انسداد پولیو کی ٹیموں کی حفاظت کے لئے مامور پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان وہاں جمع ہورہے تھے۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا ممکنہ طور پر خودکش ہوسکتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 12 پولیس اہلکار ،ایک ایف...

کوئٹہ میں پولیو مرکز پر حملہ : 14 اہلکار ہلاک ،پولیو مہم معطل