... loading ...

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے اعلان کو قبل ازوقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے لوگوں کی امیدیں مایوسی میں بدل جائیں گی ،کیونکہ داخلی اور بیرونی عناصر ملک کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے ہیں۔دبئی سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی پرخلوص اور پرعزم جدوجہد ملکی استحکام کی ضامن ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور قربانیاں پیش کرنے پرانہیں سلام پیش کرتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر زرداری نے جنرل راحیل کے کردار کواُن کی مدت ملازمت سے آگے دیکھتے ہوئے ان خیالات کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد اور پرامید ہے کہ یہ جنگ جنرل راحیل کی سربراہی میں منطقی انجام تک پہنچے گی۔
آصف زرداری کے ان خیالات کو قومی حلقوں میں انتہائی حیرت سے دیکھا جارہا ہے۔ کیونکہ یہ زرداری صاحب کی سیاسی پوزیشن سے قطعی مختلف اور متضاد خیالات ہیں۔ آصف علی زرداری نے 16 جون 2015 کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے پارٹی عہدیداروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہاتھا کہ اگر اُنھیں دیوار سے لگانے اور ان کی کردار کشی کرنے کی روش ترک نہ کی گئی تو وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک جرنیلوں کے بارے میں وہ کچھ بتائیں گے کہ فوجی جرنیل وضاحتیں دیتے پھریں گے۔زرداری صاحب نے تب فوج کی تقریباً تمام پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا تھاکہ وہ(فوی قیادت) تو تین سال کے لیے آئے ہیں اور پھر چلے جائیں گے جبکہ سیاست دانوں نے ساری عمر پاکستان میں رہنا ہے۔ سیاست دانوں کے راستے میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں ورنہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ آصف علی زرداری کی طرف سے ان خیالات کے اظہار کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے اگلے روز اُن سے ملاقات کے طے شدہ پروگرام کو منسوخ کردیا تھا۔ اور فوج کے حق میں ایک بیان جاری کیا تھا۔ بعد ازاں آصف علی زرداری ملک سے باہر چلے گئے تھے اور جب سے وہ آج تک پاکستان تشریف نہیں لاسکے۔ اس ضمن میں یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کرتی رہیں کہ اُنہیں وطن واپسی پر بعض معاملات کی تحقیقات کے لئے طلب کیا جاسکتا ہے۔اس دوران میں پیپلز پارٹی کی سارے رہنما آصف علی زرداری کے اس بیان کے مضر اثرات کا مقابلہ کرتے رہے اور اُن کا مقدمہ لڑتے رہے۔ مگر اچانک گزشتہ روز آصف علی زرداری نے دبئی سے اپنے تمام سابقہ خیالات کے برعکس ایک بیان جاری کرتے ہوئے نہ صرف موجودہ فوجی قیادت پر اپنے کھلے اعتماد کا اظہار کیا بلکہ اُن کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں اپنا جھکاؤ بھی ظاہر کردیا۔
سابق صدر اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کے خلاف بدعنوانی کے مختلف مقدمات میں تحقیقات کی ساری ذمہ داری بھی ماضی میں فوجی اداروں پر عائد کرتے رہے ہیں۔ مگر اپنے تازہ بیان میں اُنہوں نے فوج کو ان الزامات سے بھی بری کردیا ہے۔ اُنہوں نے اپنی ماضی کے موقف کے بالکل برخلاف یہ بھی کہا ہے کہ کچھ حلقوں کی طرف سے سیاسی معاملات، احتساب یا دیگر قومی معاملات میں فوج کا ممکنہ کردار تلاش کرنا مناسب نہیں جب کہ قوم اور میڈیا کو قیاس آرائیوں اور افواہوں سے گریز کرنا چاہیے۔پیپلزپارٹی سندھ میں ہونے والے احتسابی عمل کے حوالے سے فوجی اداروں بشمول رینجرز کو نشانہ تنقید بناتی رہی ہے۔ مگر زرداری صاحب کے حالیہ بیان میں اس حوالے سے بھی ایک الٹی قلابازی کھائی گئی ہے۔
سیاسی حلقے اس امر پر غور کررہے ہیں کہ آخر آصف علی زرداری نے اس موقع پر اس قسم کے خیالات کا اظہار کیوں کیا ؟ کیا وہ سیاسی حالات اور موجودہ سیاسی بندوبست میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں؟ یا کیا وہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ نون سے مکمل طور پر دور اور علیحدہ دکھائی دینا چاہتے ہیں؟
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...