... loading ...

پاکستان میں بدترین مالیاتی دہشت گردی کے حوالے سے سنجیدہ غورو فکر کی بے حد کمی ہے۔ یہاں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ اونٹوں کو نگلنے والے آزاد گھومتے پھرتے ہیں اور چیونٹیوں کو چھاننے کاعمل جاری رہتا ہے۔ اگر اس اُصول کے تناظر میں جہانگیر صدیقی کے پوری کاروباری سلطنت کا جائزہ لیا جائے تو حیرتیں منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں کہ کس طرح “گاڈ فادر” بننے کی لامحدود حرص میں جہانگیر صدیقی نے قومی اداروں کے ساتھ کھلواڑ کیا اور سرکاری اداروں کو “مال مفت دل بے رحم “کے بمصداق لوٹا۔ اس ضمن میں کیوں نہ کچھ نکات کی شکل میں ایک اجمالی نگاہ ڈال لی جائے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ جہانگیر صدیقی کی سلطنت نے کہاں کہاں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کا ایک واقعاتی جائزہ

2014ء میں جے ایس گروپ نے ای ایف یو جنرل انشورنس کے حصص کی قیمتوں کو ہیرا پھیری کے ذریعے گرانا شروع کیا اور یوں سرکاری ادارے ایبنڈنڈ پراپرٹیز آرگنائزیشن (اے بی او) سے 95.5 روپے فی حصص کے نرخ پر 5.4 ملین حصص حاصل کرلیے۔ اے بی او سے حصص حاصل کرنے کے بعد حصص کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھنے لگیں اور یکم دسمبر 2014ء کو 160 روپے تک پہنچ گئیں۔ اے بی او کو کل 427 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ حیرت ہے اس کھلے کھلے نقصان کے پورے اسکینڈل کی تحقیقات کے بجائے ایف آئی اے کے ذمہ داران” سمدھی” کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں دیتے پھر رہے ہیں کہ ایف آئی اے جہانگیر صدیقی کے خلاف کسی مقدمے میں تفتیش نہیں کررہا۔

جے ایس گروپ کے ادارے آزگرد نائن لمیٹڈ (اے این ایل) نےقرضہ جات کی ادائیگی سے نادہندہ ہونے کا اعلان کیا اور ان قرضوں کو برابر کرنے کے لیے اس کے حصص بینکوں اور مالیاتی اداروں کو 35 روپے فی حصص کے نرخ پر فراہم کیے گئے، جو اس وقت کی 111 روپے کی قیمت سے کہیں زیادہ تھے۔ تب اندازا لگایا گیا کہ نیشنل بینک کو پہنچنے والا نقصان ہی 3.283 بلین روپے تھا جبکہ پاک برونائی انوسٹمنٹ کمپنی کو 0.9 بلین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ مزید برآں، قرضے کی تبدیلی بھی کمپنیز آرڈیننس 1984ء کی دفعہ 87 کے تحت نہیں کی گئی تھی جس کے مطابق کسی بھی قرضے کے بقایا جات کے لیے حصص کی ادائیگی کل باقی قرضے کے صرف 20 فیصد کے طور پر کی جا سکتی ہے۔

نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ نے جے ایس پرنسپل سیکیور فنڈ I میں 2 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جو فنانس ڈویژن کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی تھی ، جس کے مطابق صرف 200 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی تھی۔ مارچ 2010ء تک فنڈ کا کل حجم 2.7 بلین روپے تھا جس میں سے 2.3 بلین روپے تو صرف این آئی سی ایل ہی کے تھے۔ جے ایس (جس کے سی ای او اس وقت نجم علی تھے) نے این آئی سی ایل بورڈ/انتظامیہ کی صریح مجرمانہ شمولیت و خاموشی کے ذریعے معاہدے کی شرائط بھی سرکاری ادارے کے مفادات کے خلاف رکھیں، جو نہ صرف غیر قانونی تھیں بلکہ صنعت میں رائج معیارات کے بھی خلاف تھیں جیسا کہ 1.75 فیصد کی انتظامی فیس، 3.5 فیصد فرنٹ اینڈ فیس اور 5 فیصد جلدی ادائیگی فیس۔اس میں این آئی سی ایل کو لگ بھگ 255.243 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

2008ء میں جے ایس سی ایل نے 465 روپے کے پریمیئم پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 22,020,000 حقوق کے حصص جاری کیے اور 10.5 بلین روپے اینٹھ لیے۔ ادارے کے اسپانسرز کو حقوق حصص کی فہرست میں درج نہیں کیا گیا اور انہوں نے ایس ای سی پی سے حقوق سے دستبردار ہونے کا بازنامہ حاصل کیا۔
حقق کے مسئلے سے پہلے جے ایس سی ایل اور دیگر جے ایس گروپ کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں بھی قابل ذکر طور پر بڑھیں اور لیکوئیڈٹی کا تاثر پیدا کرنے کے لیے روزانہ کا ٹرن اوور بھی زیادہ تھا تاکہ جے ایس سی ایل کا خالص اثاثہ جاتی حجم زیادہ ظاہر ہو۔ جے ایس سی ایل کے حصص کی کی ہیرا پھیری کے ذریعے بنائی گئی قیمت 31 جنوری 2008ء کو 1326 روپے کی سطح تک پہنچائی گئی جو بالآخر 4 روپے تک آئی۔
اس فراڈ میں پھنسنے والے غیر ملکی سرمایہ کار مختلف ادارے تھے اور ان میں سنگاپور میں قائم خیراتی ادارہ بھی شامل تھا۔ اس دھوکہ دہی نے 2008ء میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سخت دھچکا پہنچایا، نتیجے میں انہوں نے پاکستان سے اپنا سرمایہ واپس لےجانا شروع کردیا۔یوں ملک کے پہلے سے معمولی غیر ملکی زر مبادلہ پر سخت دباؤ پڑا اوربالآخر معیشت پر بھی۔ 2008ء میں اسٹاک مارکیٹ کے زوال کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی تھی جس کی وجہ سے پورے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ ان تمام خساروں کے حقیقی فائدہ اٹھانے والے پڑوسی ممالک تھے، اس لیے غیر ملکی ہاتھ کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
معیشت کو پہنچنے والے حقیقی نقصان کا حساب لگانے کے لیے سب سے پہلے 2007ء اور 2008ء کے دوران جے ایس سی ایل کمپنی کا پورا تجارتی ریکارڈ کراچی اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کیا جائےتو اس ڈیٹا پرہونے والی تحقیق ملک کو پہنچنے والے حقیقی نقصان کو سامنے لے آئے گی۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس بنیاد پر ایس ای سی پی نے ایسے پریمیئم پر حقوق حصص کی اجازت دی بغیر ضمانت اور اسپانسر کے عہد کے۔ مبینہ طور پر جے ایس نے ڈاکٹر عاصم حسین اور اس وقت کے وزیر خزانہ نوید قمر کے اثر و رسوخ کو استعمال کیا تاکہ وہ یہ غیر قانونی استثنا حاصل کریں۔ اس معاملے کی ٹھوس تحقیقات تب کی حکومت کے پردہ داروں کو بھی بے نقاب کردے گی۔
حقوق اجرا کے بعد جے ایس سی ایل نے 2008ء کے دوران 356.32 روپے فی حصص کے نرخ پر 7 ملین حصص دوبارہ خریدنے کا اعلان کیا۔ البتہ بہانہ بنا کر اس پیشکش سے دستبردار ہوگیا کہ سالانہ عمومی اجلاس میں اس کی منظوری نہیں ملی، جو حیران کن تھی کیونکہ بیشتر حصص یافتگان جے ایس گروپ کا حصہ تھے تو کیا اسے منظور نہیں کروایا جا سکتا تھا۔ کیا دوبارہ خریدنے کا اعلان حصص کی قیمت پر اثر انداز ہونے اور کسی کو راہ فرار دینے کے لیے تھا؟ کیا یہ اعلان ہیرا پھیری کے لیے کیا گیا تھا۔ جے ایس سی ایل کا تفصیلی تجارتی ڈیٹا حقیقی نقصانات کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ ایس ای سی پی نے تب کوئی قدم نہیں اٹھایا جب جے ایس گروپ حصص یافتگان کو فریب دینے کے لیے یہ طریقہ استعمال کررہا تھا اور گروپ کے افراد کے جعلی کھاتوں کے ذریعے زیادہ قیمت پر مارکیٹ میں حصص بیچ رہا تھا۔ غیر حقیقی کھاتوں کی حرکت کا یہ اثر آزگرد نائن تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ظاہر ہے۔
جے ایس خاندان نے کم حصص رکھنے والوں کو حقیقی فائدے سے محروم رکھنے کے لیے اپنے اکثریتی حصص کا استعمال کیا۔ مثال کے طور پر 2006ء سے 2012ء تک 716 ملین روپے کی مشاورتی فیس/بونس علی جہانگیر صدیقی کو ادا کیا گیا۔ 2012ء میں علی جہانگیر صدیقی کو 430 ملین کا بونس/مشاورتی فیس ادا کی گئی، جس کی منظوری 2014ء میں حصص یافتگان سے لی گئی۔ 2012ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں کیسے بونس ادا کیا جا سکتا ہے کہ جس کی منظوری 2014ء میں ختم ہونے والے مالی سال میں لی جائے۔ ان سب جعلسازیوں کا مقصد دولت کو اپنی جیبوں میں ٹھونسنا تھا تاکہ کم حصص رکھنے والے حقیقی فائدے سے محروم رہیں اور ایسا ہی ہوا۔
ایس ای سی پی کی رپورٹ کے مطابق علی جہانگیر کو ادا کی گئی مشاورتی فیس مبنی بر انصاف نہیں تھی اور تحقیق کرنے والوں نے سفارش کی تھی کہ 430 ملین روپے کی مشاورتی فیس کی ادائیگی کے ضمن میں مالی سودے کو حل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں اور ادارے اور اس کے ڈائریکٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا جائے۔

جے ایس گروپ منی لانڈرنگ اور ساتھ ساتھ ایسے سودوں میں ملوث رہا ہے جو دہشت گردوں کے لیے سرمایہ کاری کا شبہ بڑھاتے ہیں۔ آزگرد نائن لمیٹڈ کے معاملے میں بینک دولت پاکستان کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹ میں ایس ای سی پی نے ایسی بڑی نقدی نکلواتے دیکھی تھی جو منی لانڈرنگ کی حدود میں آتے ہیں۔ ایک خاص موقع وہ تھا جب 19 اپریل 2008ء کو جے ایس گلوبل نے سعد سعید کو 14 کروڑ 30 لاکھ روپے کی ادائیگی کی تھی۔ یہ رقم سعد سعید کے بینک کھاتے سے 28 اور 29 اپریل 2008ء کو نقد کی صورت میں نکلوائی گئی۔ یہ معاملہ اب بھی تحقیق طلب ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم کا حقیقی فائدہ اٹھانے والا کون تھا؟
اس کے علاوہ اے این ایل تحقیقاتی رپورٹ (ایس ای سی پی تحقیقاتی رپورٹ کا صفحہ 211) میں متعدد ایسے حوالے ہیں جو 327 ملین روپے کی کل نقدی نکلوائی گئی اور ایک واحد معاملے میں تو 100 ملین روپے نکلوائے گئے جس میں فائدہ اٹھانے والے کی شناخت چھپائی گئی۔ مجموعی طور پر نکلوائے گئے نقد 327 ملین روپے تھے جو مندرجہ بالا مواقع پر نکلوائے گئے۔ ان کے علاوہ بھی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے حوالے موجود ہیں جہاں مالی ربط کو توڑنے کے لیے نقد رقم نکلوائی گئی۔ ان میں سے چند رقوم اورنگی ٹاؤن کیماڑی وغیرہ کے رہائشیوں نے نکالیں۔ اس ضمن میں ایس ای سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ کے صفحہ 47 پر تمام حقائق دیکھے جا سکتے ہیں۔ پھر کراچی کے مخصوص حالات میں اس امر کا بھی دھیان رہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے مراکز اور شہر میں منظم جرائم کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تمام بڑی رقوم منی لانڈرنگ کے بھیانک عمل سے جڑی ہوئی ہیں اور دہشت گردوں کو سرمایہ کاری کے شبہات کو تقویت دیتی ہیں۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ جے ایس بینک کس طرح دھوکہ دہی کے پورے منصوبے کا سہولت رساں رہا، جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ کاری پر لاگو ہونے والے تمام قواعد و ضوابط کا مذاق اڑاتا رہا اور بینک دولت پاکستان کی مانیٹرنگ اور نگرانی کی نظروں سے بچنے میں کامیاب رہا۔
اے این ایل کی رپورٹ کے صفحات 44 اور 48 سے سابق منی ایکسچینجر خانانی اینڈ کالیا کے ساتھ مختلف ملزمان کے رابطے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان ملزمان کے بینک کھاتوں پر مزید تحقیقات منی لانڈرنگ کے ثبوت سامنے لانے میں مددگار ہونگیں ۔
آزگرد نائن نے سال 2008ء کے آڈٹ شدہ کھاتوں کے مطابق سوئیڈن میں قائم ایک ہولڈنگ کمپنی فاریٹال اے بی کے ذریعے ایک اطالوی ادارے مونٹی بیلو ایس آر ایل کی خریداری کے لیے 23.758 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی۔ اس طرح 23.75 ملین یوروز ادارے سے نکالے گئے۔ اے این ایل نے 2013ء میں اپنے آڈٹ شدہ کھاتوں میں بتایا کہ فاریٹال اے بی تحلیل ہو چکی ہے۔ فاریٹال اے بی مونٹی بیلو ایس آر ایل میں 100 فیصد حصہ حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ مزیدتحقیقات ثابت کریں گی کہ ادارے سے اتنی بڑی رقم کون نکال کر لے گیا؟ یہ سیدھا منی لانڈرنگ کا معاملہ بنے گا۔تب 10 اکتوبر کو پاکستانی روپے اور یورو کا فرق 118 روپے کا تھا جس کے مطابق یہ پاکستانی روپے میں 2.803 بلین روپے بنتے ہیں۔ اتنے برسوں میں یہ رقم 5.606 بلین روپے تک جا پہنچی ہے۔
جولیس بایرنے 2,235,083 پی آئی سی ٹی حصص کی خریداری کے لیے 225 ملین روپے کی ادائیگی کی جس کا حقیقی فائدہ اٹھانے والوں کا اب بھی علم نہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات انکشاف کریں گی کہ اس کا مالک کون تھا اور ہو سکتا ہے کہ کس قسم کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ دریں اثنا تحقیقات کے لیے ایس ای سی پی کے حکم پر سینٹرل ڈپازیٹری کمپنی میں جو حصص منجمدد کیے گئے تھے وہ اب بھی اسی حالت میں موجود ہیں۔ ان حصص کی مالیت 8 اگست 2015ء کے مطابق 625 ملین ڈالرز تھی۔

ایس ای سی پی نے اکتوبر اور نومبر 2007ء میں آئی سی آئی حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے معاملے پر ابتدائی تحقیقات کیں۔ ریکارڈز اور تجارتی تفصیلات کے جائزے اور ساتھ ساتھ جے ایس گلوبل بروکریج ہاؤس کے ادائیگی ریکارڈز سے ظاہر ہوا کہ مناف ابراہیم (ملازم اور جے ایس کا بااعتماد ساتھی) اور علی جہانگیر صدیقی (جے ایس کا بیٹا) نے مل کر یہ ‘پمپ اینڈ ڈمپ’ منصوبہ بنایا تھا جہاں وہ ابتدائی طور پر آئی سی آئی حصص کی بھاری تعداد خریدتے تاکہ عوام میں ترغیب پیدا کرتے اور یوں بڑی تعداد میں حصص فروخت کرتے جو انہوں نے اکتوبر 2007ء میں خریدے تھے، یہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے تحت ایک قابل تعزیر جرم ہے۔
مناف ابراہیم نے اس غیر قانونی سرگرمی سے 53 ملین روپے کمائے، جبکہ علی جہانگیر صدیقی نے 37 ملین روپے حاصل کیے۔ ایس ای سی پی نے اس معاملے کو چھپا دیا۔
یہ تمام حقائق دراصل گاڈ فاڈر بننے کے خواہش مند جہانگیر صدیقی کی سلطنت کے اُن رازوں سے پردہ اُٹھاتے ہیں جو پردے کے پیچھے اور تاریکیوں میں سلا دیئے گیے۔ اس کے پیچھے بے پناہ دولت اور اثرورسوخ کا استعمال کیا گیا اور سرکاری اداروں کو گونگا بہرا اور اندھا رکھا گیا ۔ یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ اور انتہائی بھیانک طریقے سے اس میں مسلسل گہرائی آتی جارہی ہے۔
(جاری ہے)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...