... loading ...

امریکا افغانستان میں تیل، گیس اور معدنیات کی صنعت کی تعمیر پر نصف ارب ڈالرز اور پانچ سال لگا چکا ہے، لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔
اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) نے جنگ زدہ ملک میں امریکا کی کوششوں پر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ منصوبے کی ناکامی دراصل ناقص منصوبہ بندی کے پروگرام، ناکافی بنیادی ڈھانچہ اور افغان حکومت کے ساتھ ایک مشکل شراکت داری ہیں۔ یہ نتائج ان 200 رپورٹوں کے بعد سامنے آئے ہیں جنہوں نے تعمیر نو کے غیر موثر، ناکام اور واضح طور پر زیاں کار رہے ہیں۔ ایک حالیہ تجزیے نے پایا ہے کہ کم از کم 17 ارب ڈالرز کے اخراجات ایسے ہیں جن پر سوالات اٹھنے چاہئیں۔
امریکا کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقیات (یو ایس ایڈ) اور پنٹاگون کی ایک ٹاسک فوس افغانستان کے معدنی ذخائر کی ترقی کی ذمہ دار تھی جس کا بنیادی مقصد قیمتی ذخائر کو زمین سے نکالنا اور کمرشل مارکیٹوں تک پہنچانا تھا۔ 200 رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایڈ اور محکمہ دفاع کس طرح ناکام ہوئے۔ درحقیقت پٹرولیم اور قدرتی گیس کی صنعت کی نگرانی کرنے کے ذمہ دار افغان ادارے کے لیے بین الاقوامی امداد ہی روک دی گئی اور دو تہائی عملہ ملازمت سے نکال دیا گیا۔
ان وسائل کا استعمال، جن کا اندازء ایک ٹریلین ڈالرز تک کا لگایا گیا تھا، افغانستان کے معاشی ڈھانچے کے لیے ضروری ہیں۔ ان رپورٹوں نے بتایا کہ افغان حکومت نے یو ایس ایڈ کی نگرانی میں ان وسائل کی کمرشل بنیادوں پر برآمد کو باضابطہ بنانے اور آگے بڑھانے میں پیشرفت کی تھی، لیکن منصوبہ اب بھی بدعنوانی، کان کنی کی صنعت کے لیے بنیادی ڈھانچے جیسا کہ سڑکوں کی کمی اور دیگر مسائل کا شکار ہے۔ کئی کانیں غیر قانونی طور پر کام کر رہی ہیں، جن سے حاصل ہونے والی رقوم شدت پسند گروہوں کو جا رہی ہے۔
پنٹاگون کی متنازع ٹاسک فورس جو زیادہ تر معاملات کی ذمہ دار ہے، نے 11 منصوبوں میں 215 ملین ڈالرز خرچ کیے، لیکن 5 سال افغانستان میں کام کرنے کے بعد بھی تقریباً تمام ہی منصوبے نامکمل ہیں۔ البتہ تین منصوبے تکنیکی اعتبار سے مکمل تو ہوئے ہیں لیکن کارآمد نہیں ہیں۔ ٹاسک فورس نے بہت بڑی رقم کے ساتھ ایک گیس اسٹیشن بنایا اور اب حال یہ ہے کہ اس کا کوئی صارف نہیں۔ تو جہاں اسٹیشن کی تعمیر کا مقصد حاصل کیا گیا، وہاں اس کی قیمت کی وجہ سے آمدنی کے حصول کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔
یہ ٹاسک فورس زیادہ تر غیر فوجی کاروباری ماہرین پر مشتمل ہے اور جو افغان معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، غیر معمولی اور مہنگی سہولیات طلب کرنے پر کانگریس اور سگار کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس معاملے پر اگلے ہفتے سینیٹ میں ایک سماعت بھی ہو رہی ہے۔
تازہ ترین رپورٹ میں ‘سگار’ نے ظاہر کیا ہے کہ ٹاسک فورس اداروں کو معدنی وسائل کی تعمیر کے لیے قائل کرنے پر ہی 46.5 ملین ڈالرز خرچ کر چکی ہے، لیکن کسی ایک نے بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ لگ بھگ 122 ملین ڈالرز کے منصوبوں کے نتائج ملے جلے ہیں۔
محکمہ دفاع نے ان نتائج پر تبصرہ مانگنے کی سگار کی درخواست مسترد کردی ہے۔ اپنے جواب میں یو ایس ایڈ نے کہا ہے کہ کوئی بھی نتیجہ نکالنا یا تنقید کرنا اس لیے مناسب نہیں کیونکہ کان کنی طویل المیعاد منصوبہ ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...