وجود

... loading ...

وجود

پاکستانی قیادت کشمیریوں کی پشتیبا ن بنے یا دستبردار ہو جائے

بدھ 20 جنوری 2016 پاکستانی قیادت کشمیریوں کی پشتیبا ن بنے یا دستبردار ہو جائے

syed salahhudin

متحدہ جہاد کونسل جموں و کشمیر کے چیئرمین پیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کاوکیل ہے لیکن پاکستانی قیادت کو قاتل کی حمایت یا مخالفت میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔ کشمیر کی وکالت اور بھارت سے دوستی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پٹھان کوٹ ایئر بیس پر کارروائی کشمیری مجاہدین کے نیشنل ہائی وے اسکواڈ نے کی۔ اس کارروائی میں کوئی بھارتی سول آدمی متاثر نہیں ہوا۔ ہماری جنگ بھارتی فوج کے خلاف ہے ،مجاہدین کسی بھی جگہ بھارتی فوج کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور بنائیں گے۔ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے کشمیری مایوس ہوں یا مجاہدین کی حوصلہ شکنی ہو۔گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے سے تحریک آزادی کشمیر ختم ہو جائیگی ،بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قبضے کا موقع ملے گا اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادیں غیر موثر ہو جائینگی۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے بجائے وہاں کے عوام کو سیاسی ، معاشی اور اقتصادی حقوق دیئے جائیں۔ پاک بھارت مذاکرات فضول مشق ہے ، یہ مذاکرات تب ہی کامیاب ہونگے جب بھارت کشمیر کو متنازع تسلیم کرے گا۔ پاکستانی قیادت پہلی ترجیح مسئلہ کشمیر کو دے۔ اسکے بعد دوستی اور تجارت کی جائے۔ پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیئے کہ بھارت مذاکرات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں اپنے فوجی قبضے کو مستحکم کر رہا ہے اور اربوں ڈالر دفاعی منصوبوں پر خر چ کر رہا ہے ۔

گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر کےحل تک اسے پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہم اس کی اجازت دینگے۔

پاکستان کے اندر دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے۔ پاکستانی قیادت کو کھل کر بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی مذمت کرنی چاہیئے ۔سید صلاح الدین نے ان خیالات کا اظہار مرکزی ایوان صحافت میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد آزادی اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوج کیخلاف آزادی کیلئے برسر پیکار مجاہدین دہشتگرد نہیں فریڈم فائٹر ہیں۔ بزدل بھارتی فوج مجاہدین کے ہاتھوں پٹنے کے بعد نہتے عوام ، خواتین ، بچوں ، مردوں اور بوڑھوں کو انتقام کا نشانہ بناتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم و بربریت کی انتہاکرر کھی ہے۔ اب تک سوا پانچ لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ہماری جنگ بھارتی فوج کے خلاف ہے اور بھارتی فوج کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنا سکتے ہیں خواہ یہ کاروائی کشمیر کے اندر ہو یا باہر۔ پٹھانکوٹ پر مجاہدین کے حملے میں ایک کرنل سمیت آٹھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، کوئی سول آدمی نشانہ نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق اور کشمیریوں کا وکیل ہے۔ اس وقت بھی کشمیریوں کی وکالت کر رہا ہے لیکن ہندوستان سے دوستی اور تجارت کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کشمیریوں کی وکالت اور بھارت سے دوستی دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے پاکستان قیادت کو دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے پٹھانکوٹ سے متعلق پیش کردہ ثبوت جعلی ثابت ہوئے۔ تحقیقات کیلئے کمیٹی بنی ،کمیٹی نے ابھی کام کا آغاز ہی نہیں کیا لیکن مجاہدین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ دفاتر کو سیل کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا اس پار غلط تاثر جا رہا ہے موجودہ حالات میں پاکستانی قیادت اپنا موقف واضح کرے ۔ پاکستانی قیادت کشمیریوں کی پشتیبا ن بنے یا دستبردار ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارتی فورسز مظالم ڈھاتی رہیں گی ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی اور خون کے آخری قطرے تک جدوجہد آزادی جاری رکھیں گے ۔کشمیر کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا پیر صلاح الدین احمد نے کہا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل تک اسے پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہم اس کی اجازت دینگے ۔گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانا بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی راہ دینے کے مترادف ہو گا ۔گلگت بلتستان کے عوام کی شکایات جائز ہیں یہاں کے عوام کو سیاسی ، معاشی اور اقتصادی حقوق دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات میں کبھی مخلص نہیں رہا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 155بار مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ پاکستان اور اسکی قیادت کو مودی کی چانکیا سیاست کو سمجھنا ہو گا ۔مذاکرات کی آڑ میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی قبضے کو مستحکم کر رہا ہے اور تیزی سے دفاعی منصوبوں کو مکمل کر رہا ہے چیئرمین متحدہ جہاد کونسل نے واضح کیا کہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ریاست کے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حق خودارادیت کا مسئلہ ہے جس کا فیصلہ عالمی نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے ۔ آزاد کشمیر میں مہاجرین کی آباد کاری نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 9ہزار میں سے اڑھائی خاندان آج تک آباد نہیں ہو سکے۔ اور مہاجرین کے گزار ہ الاؤنس میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے مہاجرین کے گزارہ الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔ اور مہاجرین کی آباد کاری کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر