... loading ...

پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کے بعد بھارت کی جانب سے جو معلومات پاکستان کو مہیا کی گئی تھی، وہ کسی بھی اقدام کے لئے انتہائی ناکافی اور نامکمل تھیں ۔ وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو فون کے بعد اُنہوں نے یہ معلومات آئی بی (انٹیلی جینس بیورو) اور دیگر انٹیلی جینس اداروں کو مہیا کی تھیں۔ مگر پاکستانی وزیر اعظم نے اصل انحصاربوجوہ آئی بی پر کیا تھا۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں سیاسی حکومت کے اقدامات پر ملکی اداروں میں ہر سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ مگر ایک ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے ادارے کی مخصوص زاویہ بند رپورٹوں اور ٹیلی ویژن کے پروگرامات سے اسے ایک خاص ڈھب دی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ کا یہ سب سے بڑا ادارہ پہلے بھی بھارت کی جانب اپنے واضح جھکاؤ کے باعث حساس اداروں میں شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے پٹھان کوٹ حملے کے حوالے سے سیدھی اُنگلی جیش محمد کی جانب اُٹھائی تھی۔ جس نے ابتدا میں اس کی ذمہ داری قبول کرکے چپ سادھ لی تھی۔اس کے فوراً بعد پٹھان کوٹ حملے کی ذمہ داری ایک کشمیری گروپ نے قبول کر لی تھی۔ مگر بھارت کو مذکورہ گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ذمہ داری سے اس لئے دلچسپی نہیں تھی۔ کیونکہ اُن کا عالمی سطح پر حریت کی جدوجہد کے لئے ایک مضبوط مقدمہ پہلے سے موجود ہے اور وہ اپنی کارروائیوں کے تسلسل میں پاکستان کے لئے زیادہ بڑے دباؤ کا باعث نہیں بن سکتے تھے۔ چنانچہ بھارت نے اپنی توجہ کا مرکز صرف اور صرف جیش محمد رکھا ۔ اور بہاولپور میں موجود جیش کے کچھ ذمہ دارں کی نشاندہی کی۔ مگر اس نشاندہی کا تعلق پٹھان کوٹ حملے سے براہِ راست نہیں تھا۔ بھارت نے اس حوالے سے پاکستان کو پانچ موبائل نمبر ز مہیا کئے تھے۔ جن کی بنیاد پر کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ انتہائی موثق ذرائع نے تصدیق کی ہے ان گرفتار لوگوں کا تعلق جیش محمد سے ضرور ہے مگر ان میں سے کسی ایک کا بھی پٹھان کوٹ حملے سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی بھی تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ حیرت انگیز طور پر مذکورہ پانچ موبائل نمبر ان میں سے کسی کے زیراستعمال بھی نہیں تھا۔ یہ ایک پراسرار واقعہ ہے کہ مذکورہ موبائل نمبر ز کی لوکیشن آخری بار کے استعمال ہونے والے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ علاقوں سے ہی ظاہر ہو رہی ہے مگر اسے استعمال کرنے والے کبھی بھی وہ لوگ نہیں رہے جو بھارتی معلومات کی روشنی میں گرفتار ہوئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان نے اب تک اس معاملے میں جو بھی اقدام اُٹھائے ہیں وہ کسی ٹھوس تحقیقات کا نتیجہ نہیں ہیں۔انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے بہاولپور اور سیالکوٹ میں دو بڑے مدارس کو سربمہر کر دیا ہے جنہیں مولانا مسعود اظہر کے بھائی کی سرپرستی میں چلایا جاتا تھا۔حیرت انگیز طور پر ان مدارس کی چھان پھٹک کے دوران میں بھی ایسی کوئی چیز میسر نہیں آسکی جسے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کے لئے معاون تک سمجھا جا سکتا۔ مگر اس کے باوجود مذکورہ مدارس کو سر بمہر کردیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات گردش کرہی ہیں کہ مولانا مسعود اظہر ، اُن کے بھائی مولانا عبدالرؤف اور اُن کے بہنوئی کو حراست میں لے لیا گیا ہے، مگر اس کی کسی بھی سطح پر تصدیق سے گریز کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے کا سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف نے دودن قبل ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے مہیا کی گئی معلومات پر پاکستان کے اندر تحقیقات کا جائزہ لیا تھا۔ اور اُس میں آئی بی کی تعریف کی گئی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی بھی معاملے سے اب تک شواہد کی بنیاد پر کوئی ایک بات بھی واضح تک نہیں ہو سکی تو آئی بی نے ایسا کیا کام کیا ہے جس پر وہ تعریف کی مستحق سمجھی گئی۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف بھارت سے ہر قیمت پر مذاکرات کے لئے جو ماحول چاہتے ہیں اُسے حاصل کرنے کے لئے پٹھان کوٹ واقعے کی بنیاد پربھارت کی دلجوئی کرنا چاہتے ہیں۔یہ ایک نہایت مشکل ہدف ہے جسے پورا کرنے کے لئے اُن کے پاس پاکستان کے اندر ایسے کوئی واضح شواہد نہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں اُن کا واحد انحصار اب آئی بی کی رپورٹوں پر رہ گیا ہے۔ حکومت کا یہ طرزِ عمل پاکستان کے اندر بہت سے حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ اس یکطرفہ تعاون کے نتیجے میں بھارت سے حکومت کے لئے کیا خوشگوار پیغام آتا ہے؟ مگر ایک بات بالکل صاف ہے کہ بھارت سے جو بھی پیغام آئے مگر پاکستان کے اندرونی حلقوں میں اس معاملے میں کافی ناگواری پائی جاتی ہے۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...