... loading ...

بالآخر بھارت نے صاف صاف کہہ دیا کہ نئے سال میں بھی پاکستان کے خلاف سیریز کا کوئی امکان نہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف سیریز 2015ء میں طے شدہ تھی، جو نہ ہو سکی، نئے سال میں ایسا کچھ طے نہیں اس لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں باہمی ٹکراؤ تو ہوگا لیکن دو طرفہ کوئی سیریز نہیں کھیلی جائے گی۔ یہ بیان ایک تمانچہ ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتاؤں کے منہ پر کہ جو پچھلے پورے سال عوام کو دھوکے میں ڈالے رہے کہ دسمبر میں بھارت کے خلاف ایک تاریخی سیریز کھیلی جائے گی۔ ان کی بھارت نوازی، چاپلوسی اور چمچہ گیری نے پاکستان کی ساکھ اور قومی کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام سے سرے سے بات کرنے سے انکار کیا گیا، سیریز کے امکانات صفر ہونے کی بات کہی گئی، پھر پی سی بی عہدیداران کو بھارت بلا کر ان سے ملاقات نہیں کی گئی، یہاں تک کہ انگلینڈ کی جانب سے ضمانت ملنے کے بعد بھی لیت و لعل سے کام لیا گیا لیکن اس کے باوجود بھارت نوازی کی پٹی اس بری طرح آنکھوں پر بندھی ہوئی تھی کہ اس وقت تو کجا اب بھی پی سی بی کے “بزرگ” اس امید سے ہیں کہ 2015ء نہ سہی، 2016ء میں دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات بحال ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ شہریار خان اور نجم سیٹھی پاکستان نہیں بھارت کے مفادات کے محافظ ہیں۔
بھارت نے جب 2014ء میں “بگ تھری” سفارشات کی منظوری میں مدد کے لیے پاکستان کو 8 سالوں میں 5 سیریز کا خواب دکھایا، نظریں رکھنے والوں نے تو اسی وقت بھانپ لیا تھا کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔ پھر جیسے جیسے دسمبر 2015ء میں آٹھ سال بعد پہلی پاک-بھارت سیریز قریب آتی گئی، بھارت کے کرکٹ حکام کی آنکھیں سر پر چلی گئیں۔ کیونکہ اس طے شدہ سیریز کا میزبان پاکستان تھا یعنی ہونے کی صورت میں زیادہ مالی فائدہ پاکستان کو ملتا، اس لیے بھارت نے پہلے تو “پہچاننے” سے ہی انکار کردیا، لیکن جب “مزا” نہ آیا تو کچھ “مذاق، مذاق ” کھیلنے کا منصوبہ بنایا۔ کہا کہ محدود اوورز کی سیریز کھیل لیتے ہیں، پاکستان نے پہلے انکار کیا لیکن اصولی موقف اپنانے کے بجائے پھر رضامندی اختیار کرلی۔ تب بھارت نے متحدہ عرب امارات میں کھیلنے سے انکار کردیا، جب تیسرے مقام پر کھیلنے کی بحث چھڑی تو بھارت نے اپنی میزبانی پیش کردی۔ وقت ٹلتا رہا یہاں تک کہ سری لنکا میں سیریز کھیلنے کے وعدے کے بعد جب وقت آیا تو بھارت نے ایسی خاموشی اختیار کرلی کہ اب تک نہیں ٹوٹی اور پاکستان “تے فیر میں ناں ای سمجھاں” کی عملی مثال بن گیا۔
ایسی جگ ہنسائی، تذلیل اور خفت کے باوجود نجم سیٹھی اور شہریار خان نہ صرف اب تک اپنے عہدوں پر برقرار بلکہ “امید” سے بھی ہیں کہ نیا سال پاک-بھارت کرکٹ کا سال ہوگا۔ ان کے لیے انوراگ ٹھاکر کا بیان کافی ہے۔ سب سے پہلے تو حکومت پاکستان یہ طے کرے کہ قومی غیرت کا سودا کرنے والے کسی شخص کو اس کے عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے اور اس کے خلاف چارہ جوئی بھی ہونی چاہیے۔
کرکٹ کی دنیا میں بھارت کے عزائم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ کو تنہا کر دینا چاہتا ہے اور باہمی کرکٹ تعلقات کی بحالی پر جو ڈرامے اس نے رچائے، اس نے تو “اسٹار پلس” کے ڈراموں کے ہدایت کاروں کو بھی شرما دیا ہوگا۔ لیکن ہمارے بورڈ میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں، جن کی عمر اب بیٹھنے کے بجائے ایک تو لیٹنے کی ہے، دوسرا وہ کرکٹ معاملات کی چنداں سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی نمائندگی پر فخر کرنے کے بجائے بھارت کی وکالت کرتے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی بات “بھارت کرکٹ کی بہت بڑی طاقت ہے” سے شروع ہوتی ہے، اور “پاکستان کرکٹ کی بقا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں ہے” پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ 2007ء سے آج تک پاک بھارت کرکٹ نہیں کھیلی گئی تو پاکستان کرکٹ ختم ہوگئی؟ دراصل ان کے ذہنوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان میں کبھی کوئی ایسا خیال نہیں آئے گا جو پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ہو۔
شہریار خان اور نجم سیٹھی سے تو کہیں بہتر گزشتہ چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف تھے کہ جن کی تقرری تو سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہوئی تھی لیکن انہوں نے ہمیشہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور ‘بگ تھری’ معاملے پر نہ صرف بھارت بلکہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی بھی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کی۔
اب پاکستان سپر لیگ کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جو بلاشبہ ملک میں کرکٹ کی ترقی کی جانب نیا قدم ہوگا۔ یہ خیال بھی ذکا اشرف ہی کی ذہنی اختراع تھا لیکن ان کی راہ میں ‘نامعلوم افراد’ نے روڑے اٹکائے اور ان کے عہد میں یہ کام مکمل نہیں ہو سکا۔ پھر نئی حکومت کے آتے ہی معاملات نجم سیٹھی کے حوالے کردیے گئے جو چیئرمین کے عہدے سے ہٹائے جانے کے باوجود آج بھی پی سی بی کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، بلکہ جو کچھ سفید ہے اسے بھی سیاہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لیے فی الحال تو پاکستان سپر لیگ سے بھی بہت زیادہ خوش فہمیاں مت باندھیں۔ نجانے اس پٹاری سے اب کیا برآمد ہوگا؟
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...