وجود

... loading ...

وجود

نمر النمر کون ہیں؟ سعودی عرب میں جاری سرگرمیوں کے حقائق کی تفصیلات سامنے آگئیں !

جمعه 08 جنوری 2016 نمر النمر کون ہیں؟ سعودی عرب میں جاری سرگرمیوں کے حقائق کی تفصیلات سامنے آگئیں !

Saudi Supreme Court Confirms Sheikh Nimr Death Sentence

سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث شیعہ مذہبی رہ نما نمر النمر کو دی گئی سزائے موت پر ایک واویلا مچا ہوا ہے۔ مگر اس سے متعلق اصل حقائق کو کھوجنے کی جستجو کہیں پر بھی نہیں پائی جاتی۔ گزشتہ دنوں عرب ذرائع ابلاغ پر اس موضوع پر نہایت چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق نمر باقر النمر نامی شدت پسند مذہبی رہ نما طویل عرصے تک دہشت گردوں کی حمایت کرتے رہے۔مگر اُن کی تقاریر کے ذریعے سعودی عرب میں دہشت گردی کی حمایت کو بوجوہ نظر انداز کیا جاتا رہا۔ مگرپھر ایک ایسا وقت آیا جب نمر النمر نے سعودی حکومت کی مخالفت کو مسلح گروہ کی شکل میں تبدیل کرتے ہوئے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی کوششیں شروع کیں ۔جس کے بعدحکومت نےاُن کے خلاف قانونی کارروائی کی۔نمر النمر کے بارے میں عرب ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ذریعے معصوم لوگوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔

عرب ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نمر النمر نہ صرف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے بلکہ وہ ایک مسلح گروپ کی قیادت کرتے ہوئے سعودی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں تیار کرنے میں بھی شامل تھے۔

عرب ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نمر النمر نہ صرف ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے بلکہ وہ ایک مسلح گروپ کی قیادت کرتے ہوئے سعودی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں تیار کرنے میں بھی شامل تھے۔ اور اُنہیں عملاً اسی الزام کے ثابت ہونے پر اُن کے کئی ساتھیوںسمیت 5 اکتوبر 2014ء کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سعودی عرب کی فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ملزم سعودی عرب اور بحرین میں حکومتوں کے خلاف عوام کو بغاوت پر اکسانے، حکومت کو مطلوب انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی مدد اور ان کی پشت پناہی کرنے، بحرین میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور وہاں ایران جیسا ولایت فقیہ کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ ملزم کی جانب سے ریاست مخالف مہم کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں کئی سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں سے بھی محروم ہوئے۔

نمر النمر کے ساتھ دہشت گردی کے الزام میں ان کے حمایت یافتہ کئی دوسرے دہشت گردوں کو بھی موت اور عمر قید کی سزائیں ہوئیں۔ سزائے موت پانے والے بعض دہشت گردوں کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور کچھ تا حال زیرحراست ہیں۔

عرب ذرائع کے مطابق نمر النمر کو چار دہشت گردوں منتظرالسبتی، مرسی آل ربح، خالد اللباد اور محمد کاظم الشاخوری کے ہمراہ دیکھا گیا۔ منتظر سبتی اور محمد کاظم الشاخوری سعودی عرب میں تاحال قید ہیں مگر انہیں بھی سزائے موت سنائی گئی ہے جب کہ ان کے دو ساتھی مرسی آل ربح اور اور خالد اللبادی پولیس مقابلوں میں ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ایک دوسرے گروپ فوٹو میں نمر النمر کو 23 دہشت گردوں کے جھرمٹ میں دیکھا گیا ہے۔ اس گروپ میں سعودی عرب کو مطلوب انتہائی خطرناک دہشت گرد فاضل الصفوانی بھی شامل ہے۔

عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ نمر النمر کو اس کی ملک دشمن سرگرمیوں کی پاداش میں بار بار متنبہ کیا جاتا رہا ہے مگر اس نے ہربار حکومت کی تنبیہ کونظرا نداز کرتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر سازشیں شروع کر دیں۔ اس نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مسلح گروپ تشکیل دیئے اور سرعام عوام الناس کو حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر اکسایا۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق نمر النمر کی خلاف قانون سرگرمیوں کے باوجود سعودی حکومت نے ان کے خاندان کی فلاح وبہبود پر خصوصی توجہ دی۔ اُن کی اہلیہ کینسر کے مرض میں متبلا ہوئیں تو حکومت نے سرکاری خرچے پر انہیں علاج کےلیے امریکا بھیجا، تاہم زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا اس وقت بھی امریکا میں خادم الحرمین الشریفین کے بیرون ملک تعلیمی پروگرام کے تحت زیر تعلیم ہیں۔ بیٹا میکنیکل انجینینرنگ کر رہا ہے۔ ایک بیٹی میڈیکل جب کہ دوسری قانون کی طالبہ ہے۔ حکومت انہیں مکمل مالی تعاون دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نمرالنمر پھانسی سے قبل پچھلے تین سال سے زیرحراست تھے۔ اس دوران میں سعودی عرب میں موجود ان کے تمام عزیز واقارب ان سے جیل میں ملاقات کرتے رہے ،تاہم ان کے بچے امریکا سے واپس نہیں آئے۔


متعلقہ خبریں


کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر