... loading ...

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب سفارتی تعلقات کا خاتمہ کرکے اپنے “جرائم” چھپا نہیں سکتا اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ خطے کے ممالک میں عدم اتفاق دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کر سکتا ہے۔
تہران میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ کرستیان جینسن کے ساتھ ملاقات کے موقع پر حسن روحانی نے کہا کہ ہم سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ دو ممالک کے درمیان تمام مسائل کو حل کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔ علاقائی عدم اتفاق خطے میں دہشت گردی کے ہاتھوں درپیش خطرات سے نمٹنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا۔
حسن روحانی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور اس کے بعد بحرین، سوڈان اور کویت نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی تعلقات کو محدود کرلیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب تہران میں نامعلوم افراد نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا اور اسے نذر آتش کردیا۔
یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی غیر ملکی سفارت خانوں پر حملوں کی طویل تاریخ میں ایک نیا سیاہ باب ہے۔ 1979ء میں امریکی سفارت خانے پر حملہ اور اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے مشہور واقعے کے بعد 1987ء میں کویت، 1988ء میں سعودی عرب، 2006ء میں ڈنمارک اور 2011ء میں برطانیہ کے سفارت خانے “عوامی حملوں” کی زد میں آ چکے ہیں۔ سفارت خانوں پر حملوں کی ایسی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ہوگی۔
مشرق وسطیٰ میں نیا بحران اس وقت پیدا ہوا جب سعودی عرب نے چند روز پہلے 46 افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا۔ ان میں حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے والے شیعہ عالم دین نمر النمر بھی شامل تھے۔ سزائے موت پانے والوں میں سے نمر سمیت تین افراد شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ باقی سب کا تعلق القاعدہ سے تھا اور تمام سنّی تھے۔ اس کے بعد ایران نے سعودی عرب کے خلاف سخت بیانات جاری کیے جس کا جواب سعودی عرب نے سفارتی تعلقات منقطع کرکے دیا ہے۔
تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے نے خود حکومت ایران کو پچھلے قدموں پر دھکیل دیا ہے جو ظاہر یہی کر رہی ہے کہ یہ نامعلوم افراد کی کارروائی ہے۔ ایران نے یہ تک کہا ہے کہ اس حملے میں بیرونی عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا ہے کہ چند افراد، جن کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ وہ کس قوم سے تعلق رکھتے تھے، عوام کے بھڑکتے ہوئے جذبات و احساسات کا فائدہ اٹھایا اور یہ کارروائی کی۔ ایران کے وزیر انصاف مصطفیٰ پورمحمدی نے کہا کہ سعودی سفارت خانے پر حملہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی اور یہ ملک میں موجود دشمن کے ایجنٹوں کا کارنامہ تھی۔ خود صدر حسن روحانی نے سفارت خانے پر حملہ کرنے والوں کو شدت پسند قرار دیا اور کہا کہ ایران کو سفارت خانوں پر اس طرح کے حملوں کو ہمیشہ کے لیے روکنا ہوگا۔
حالانکہ امریکی سفارت خانے پر حملے کو ہر سال بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے اور اسے ایران میں انقلابِ ثانی کہا جاتا ہے۔ جب سرکاری سطح پر اس طرح سفارت خانوں پر حملہ کرنے والوں کو عظمت کے درجے پر فائز کیا جائے گا تو جب بھی موقع ملے گا لوگ ایسا کر گزریں گے۔ اس کی مثال ہمیں انقلاب ایران کے بعد سے اب تک ہونے والے سفارت خانوں پر کئی حملوں میں ملتی ہے۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...