وجود

... loading ...

وجود

ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟

پیر 28 دسمبر 2015 ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟

Axact-Geo-Express-SRB

سندھ ریونیو بورڈ کی انتظامیہ کی صریح غفلت کی وجہ سے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس نے ایگزیکٹ سے ‘سیلز ٹیکس آن سروسز’ وصول نہیں کیا۔ مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے، اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ پُرپیچ ہے اور یہ ایگزیکٹ سے کہیں زیادہ سندھ ریونیو بورڈ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان موجود ایک خاموش ملی بھگت کے بدترین اور مسلسل جاری بدعنوانی کے ایک سلسلے سے جڑی ہے۔

سب سے پہلے تو ایگزیکٹ کے مسئلے کو ہی لیجئے جس کی تفصیلات سے اصل کہانی کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ دستاویزی ثبوت اور ایگزیکٹ کے جمع کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز ظاہر کرتے ہیں کہ 2014ء کے چار مہینوں مئی، جون، جولائی اور اگست میں ایگزیکٹ نے ‘فراہم کردہ یا مقامی طور پر سپرد کردہ خدمات’ کے ضمن میں 1.18 ارب روپے ظاہر کئے؛ یہ رقم ایگزیکٹ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریٹرنز کے منسلکہ ‘سی’ میں شامل ہے لیکن ادارے کی جانب سے اعلان کے باوجود سندھ ریونیو بورڈ 16 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے میں بدستور جھجک رہا ہے۔

یہ ایس آر بی انتظامیہ کی صریح غفلت ہے یا نااہلی، لیکن اس سے خزانے کو 200 ملین روپے کا نقصان ضرور پہنچا ہے۔ اگر مذکورہ چار مہینوں میں اعلان کردہ رقم کو درست سمجھا جائے اور اوسط کاروبار کا اندازہ لگایا جائے تو ان مہینوں میں جن میں ایگزیکٹ نے سرے سے آمدنی ہی ظاہر نہیں کی، اوسط سیلز ٹیکس تقریباً 1.2 بلین روپے بنتا ہے، جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ایگزیکٹ کے اپنے جمع کردہ سیلز ٹیکس ریٹرنز ظاہر کرتے ہیں کہ 2014ء کے چار مہینوں مئی، جون، جولائی اور اگست میں ایگزیکٹ نے اپنی خدمات کی فراہمی کے ضمن میں 1.18 ارب روپے کمائے،اگر اسی اوسط کو پور ے سال پر قیاس کیا جائے تو اوسط سیلز ٹیکس ایک ارب سے زائد بنتا ہے۔

ایگزیکٹ نے حیران کن طور پر جولائی 2013ء سے مارچ 2014ء کے درمیان نو ماہ میں ایس آر بی کے روبرہ پیش کردہ دستاویزات میں کوئی رقم ظاہر نہیں کی۔ اس کا مطلب ہےکہ نو مہینے تک ایگزیکٹ نے کوئی کاروبار نہیں کیا، نہ کوئی درآمد کی، نہ برآمد اور نہ ہی کوئی سروسز انجام دیں اور نہ فراہم کیں۔ جبکہ سروسز ایکٹ 2011ء میں سندھ سیلز ٹیکس کی شق 28 کے مطابق ایس آر بی قانونی طور پر کم از کم اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے کے کسی افسر کو تحقیقات یا تفتیش کے لیے مقرر کر سکتا ہے جو ایس ایس ٹی ایکٹ 2011ء کی شق 48 کے مطابق اس عرصے میں ہونے یا نہ ہونے والے آڈٹ کی تحقیقات یا تفتیش کر سکتا ہے۔ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایگزیکٹ نے جولائی 2013ء سے اب تک سیلز ٹیکس آن سروسز پر ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا اور ایس آر بی نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایس آر بی ایگزیکٹ کے ریٹرنز پر فراڈ کو جاننے کی صلاحیت رکھتا تھا یا وہ ناقابلِ بیان وجوہات کی بنیاد پر جان بوجھ کر خاموش رہا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سندھ ریونیو بغیر کسی باقاعدہ چیئرمین اور چار اراکین کے اپنے امور چلا رہا ہے۔ صرف ایک رکن تاشفین خالد نیاز ہیں جو چیئرمین کا عبوری عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کے عہدے کی میعاد بھی 28 فروری 2015ء کو مکمل ہو چکی ہے۔ ایس آر بی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ کوئی ممبر آڈٹ ہوتا تو ایگزیکٹ کے آڈٹ کا اندازہ لگاتا اور ایس آر بی کو ریٹرنز جمع نہ کروانے پر سزا لاگو کرنے میں مدد دیتا۔

Shoaib-Shaikh

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گروپ، حکومت پاکستان کے افسر نذیر احمد سیہڑ کو اپریل 2014ء میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، حکومت پاکستان کی جانب سے رکن آڈٹ سندھ ریونیو بورڈ مقرر کیاتھا۔ لیکن چیئرمین بورڈ تاشفین خالد نے ان کو اجازت نہیں دی اور تقرری کے معاملے کو مجازاتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کی منظوری کے لیے سندھ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ڈپارٹمنٹ منتقل کردیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ قانون، وزارت سندھ کی خاموش رضامندی کے بعد نذیر احمد سیہڑ کی تقرری کی منظوری دی۔

ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ کی رضامندی سے نذیر احمد سیہڑ کی بطور رکن ایس آر بی تقرری کی منظوری دی جاچکی ہے لیکن چیئرمین تاشفین خالد نے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت ظاہر کرتے ہوئے بی-20 کے افسر کو ایس آر بی میں شمولیت سے روک دیا۔

اب اس بھدنامے (اسکینڈل) کے اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ایگزیکٹ نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا دعویٰ کیا اور نتیجے میں تمام ذرائع ابلاغ کی اکٹھ سے زبردست مخالفت کا سامنا کیا۔ اسی ادارے نے ایک ٹی وی چینل بول کو لانے کا اعلان کیا اور چینل کے منظرعام پر آنے سے قبل ہی اِسے ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا ادارہ باور کرادیا۔ دوسری طرف پاکستان کے دیگر تمام چینلز اور اخبارات نے اس ادارے کے خلاف جعلی اسناد دینے کے اب تک غیر ثابت شدہ اسکینڈل پر ایک طوفان اُٹھا دیا ۔ یہاں تک کہ ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو شعیب شیخ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور بول کا بولنے سے پہلے ہی گلا گھونٹ دیا گیا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ جس ایگزیکٹ کے خلاف ہر جھوٹی سچی خبرکو شائع کر رہے تھے، جس میں سے ابھی تک ایک خبر بھی کسی قانونی اور سرکاری سطح پر ثابت نہیں کی جاسکی۔بول اور ایگزیکٹ کے خلاف کاروباری مسابقت کی وجہ سے تعصبات کے شکار ہو کر ذرائع ابلاغ کو اُس کے خلاف ننگی تلوار بنا دینے والے ٹی وی اور اخبار کے مالکان نے ایگزیکٹ کے خلاف اس 200 ملین کے اصلی اور حقیقی اسکینڈل (بھدنامے) کو تمام تر ثبوتوں کے باوجود اُٹھانے سے گریز کیا۔ آخر کیوں؟

دراصل ایگزیکٹ کے خلاف مہم میں اصل کردار ادا کرنے والے جیو ، ایکسپریس اور دنیا سمیت تمام ادارے اس 200 ملین کے اسکینڈل (بھد نامے) کو اس لئے منظر عام پر لانے سے گریز کرتے رہے کیونکہ اس طرح سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کا کردار بھی سامنے آتا۔ پاکستان کے تمام ذرائع ابلاغ کے ادارے سندھ ریونیو بورڈ اور اس کے عبوری چیئرمین تاشفین خالد نیاز کے ساتھ ایک ملی بھگت رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سندھ میں شائع ہونے والے تمام اشتہارات پر سندھ حکومت کی طرف سے عائد کئے گئے سولہ فیصد سیلز ٹیکس کو وصولنے کا مجاز ادارہ سندھ ریونیو بورڈ ہے۔ اور تاشفین خالد نیاز سالہا سال سے یہ ٹیکس وصول نہیں کر رہے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کے تمام ادارے سندھ ریونیو بورڈ سے متعلق کسی بھی خبر کو اپنے ہاں جگہ نہیں دیتے۔ اس معاملے میں ان کی حساسیت کا عالم یہ ہے کہ جیو اور ایکسپریس جو روایتی طور پر ایک دوسرے کے حریف ہیں ، اور ایگزیکٹ کے معاملے میں متفق ہو کر اس مہم کا حصہ تھے، یہاں تک کہ اُن کے خلاف جھوٹی خبریں شائع ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ گھڑ بھی رہے تھے، اُنہوں نے بھی اس خبر کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کیا۔ کاروباری مفادات اور مسابقت میں ایگزیکٹ کے خلاف دنیا کا ہر اُصول ، مذہب کا ہر حوالہ، سچائی کا ہر کلیہ ، انصاف کا ہر زاویہ اُبھارنے والے یہ ادارے صرف سندھ ریونیو بورڈ سے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ اور ٹیکس کی رقم ہڑپنے کی خاطر اپنے سب سے بڑے ظاہر کئے گئے دشمن کے خلاف میسر خبر اور اس بھدنامے کی اشاعت سے بھی اپنا دامن بچا گئے۔ یہ اس پورے اسکینڈل (بھدنامے)کی پوری تصویر ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر