... loading ...

عامر لیاقت حسین جیو انٹرٹینمنٹ کی صدارت سے ایک بار پھر مستعفی ہو گئے ہیں۔ اُنہیں اس عہدے پر ۲؍نومبر ۲۰۱۵ء کو دوبارہ فائز کیا گیا تھا۔ صرف تیرہ روز میں اُنہوں نے اچانک ایک عجیب وغریب اعتراض داغ کر اپنے عہدے کو چھوڑنے کا اعلان بذریعہ ٹوئٹر کر دیا ہے۔

عامر لیاقت حسین نے جیو نیوز پر ۱۶؍ دسمبر کو نیوز ریڈرز کی جانب سے آرمی پبلک اسکول کی یونیفارم پہن کر خبریں پڑھنے پر اعتراض کیا ہے۔ نیوز ریڈرز کی جانب سے یہ یونیفارم شہدائے پشاور کی یاد میں اظہارِ یکجہتی کے لئے پہنے گئے ہیں۔ مگر ڈاکٹر عامر لیاقت کے اعتراض کے مطابق آرمی پبلک اسکول کی یونیفارم پہن کر تفریحی اور بھارت سے متعلق خبریں پڑھنا شہداء کے خون کے ساتھ مزاق اور قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ ایسے ادارے کے صدر نہیں رہ سکتے جہاں حق بات نہیں سنی جاتی۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عامر لیاقت حسین نے جب صدات سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تب تک نیوز ریڈرز کے پاس بھارت کے متعلق کوئی خاص خبریں پڑھنے کا موقع تک نہیں آیا تھا۔ مگر اُنہوں نے اس کو ایک مفروضے کے طور پر جواز بنایا کہ ’’کیا آرمی پبلک اسکول کا یونیفارم پہن کر بھارتی فلمی خبریں نہیں پڑھی جائیں گی؟
عامرلیاقت حسین ایک انتہائی متنازع کردار ہونے کے باوجوداپنی مقبولیت کے باعث جیو انتظامیہ کے لئے ہمیشہ لپک پیدا کرتے رہے ہیں۔ وہ حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک ایسے موقع پر جیو ٹی وی چھوڑ گیے تھے، جب یہ ادارہ عسکری اداروں کے سخت دباؤ میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ عامر لیاقت حسین نے اس دفعہ بھی صدارت چھوڑتے ہوئے ایک ایسا جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو براہِ راست عسکری حلقوں یا پھر عوامی حلقوں میں اُن کے لئے کسی پزیرائی کا باعث بن سکے۔ مگر عامر لیاقت حسین خود بھی اپنے ٹی وی پروگراموں میں اسی طرح کے اعتراضات کا نشانہ رہے ہیں۔ اس مرتبہ اُنہوں نے خود کو جیو انٹرٹینمنٹ کی صدارت سے علیحدہ کیا ہے مگر اعلان کیا ہے کہ وہ ایک میزبان کی حیثیت سے اپنا پروگرام اور کالم نگار کی حیثیت سے اپنا کالم ادارے میں جاری رکھیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ایک مذہبی اسکالر کہلواتے ہیں۔ صدارت جیو انٹرٹینمنٹ کی فرماتے ہیں اور اعتراض جیو نیوز پر اُٹھاتے ہیں۔ جن کا اُن سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
جیو ٹی وی کے اندرونی ذرائع کا اصرار ہے کہ عامر لیاقت حسین کے جیو انٹرٹینمنٹ کی صدارت سے استعفیٰ کی وجہ دراصل آرمی پبلک اسکول کے سانحے سے اظہارِ یکجہتی کرنے کے لئے نیوز ریڈرز کی طرف سے پہنی گئی یونیفارم نہیں ہے۔ بلکہ اس کے اصل اسباب جیو نیٹ ورک میں جاری مناصب کے کھیل میں ایک دوسرے پر وارد ہونے والے اعتراضات ہیں۔
عامر لیاقت حسین کی طرف سے اُٹھائے گیے اس اقدام کی پشت پر دراصل چار روز قبل کی ایک بڑی تبدیلی بھی بیان کی جارہی ہے۔ جیو کے اندرونی ذرائع کے مطابق چار روز قبل ۱۲؍ دسمبر کو عمران اسلم کو جنگ گروپ اور پورے جیو ٹی وی نیٹ ورک کے صدر کے عہدے پر ترقی دینے کی خبر جاری کی گئی تھی۔ عمران اسلم بھی اُن لوگوں میں شامل تھے جو جیو کی اُتھل پتھل میں کچھ پر کشش پیشکشوں کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے۔ مگر جیو انتظامیہ اپنے افراد کا جس طرح تعاقب جاری رکھتی ہے اسی طرح اُس نے حالات کو سازگار بنانے کے بعد ایک بار پھر اپنے افراد نیے سرے سے شکار کرنے شروع کر دیے تھے۔ جس کے بعد اہم ترین پیشرفت عمران اسلم کی صورت میں سامنے آئی۔ جنہیں پورے جیو نیٹ ورک کی صدارت سپر د کردی گئی۔ جس میں جیو کا انٹرٹینمنٹ چینل بھی شامل تھا۔ جیو اور جنگ گروپ نے عمران اسلم کی ذمہ داریوں کا اعلان کرتے ہوئے یہ بات بھی بطور خاص اجا گر کی تھی کہ عمران اسلم کی صدارت میں ہی جیو نیٹ ورک نے جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ، جیو سپر، آگ، جیو کہانی اور جیو تیز چینلز شروع کئے ۔ عامر لیاقت حسین کو جو کچھ بھی میسر ہو وہ مزاجاً ہمیشہ خود کو اُس سے زیادہ کا مستحق سمجھتے ہیں، چنانچہ جیو کے اندرونی ذرائع عمران اسلم کی آمد کو اس ناراضی کا محرک سمجھتے ہیں۔
اس پس منظر میں ایک اور خبر بھی گردش میں ہے کہ عامر لیاقت حسین کی جیو انٹرٹینمنٹ اور عمران اسلم کی جیو نیٹ ورک کی صدارت پر جیو کے کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر بھی خوش نہیں تھے۔ وہ اس تمام پیش رفت پر اپنے تحفظات جیو کے مالکان تک پہنچا چکے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جیو کے مالکان نے عسکری حلقوں کی پُرانی ناراضی کے خاتمے کے لئے ایک نئی مہم بھی شروع کررکھی ہے جس میں اُنہیں حامد میر کے کردار کو ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام سے آگے بڑھا کر کسی انتظامی منصب تک پھیلانے سے مشکلات بھی پیش آسکتی تھی۔ لہذا جیو کے مالکان اس موقع پر کوئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتے تھے۔ ایسے ہی حساس موقع پر عامر لیاقت حسین نے ایک بار پھر آرمی پبلک اسکول کے واقعے کو استعمال کرتے ہوئے جیو مخالف جذبات کو خود اس ادارے میں رہتے ہوئے ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپنے صرف مفادات کو پیش نظر رکھ کر کام کرنے کی شہرت رکھنے والے جیو کے مالکان عامر لیاقت حسین کے اس اقدام کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں؟ جیو کے مالکان کی طبیعت اور فیصلوں کے مزاج سے آشنا افرادکی رائے یہ ہے کہ جیو کے مالکان اس موقع پر بھی ’’باغباں بھی خوش رہے اور خوش رہے صیاد بھی‘‘ کی حکمت ِ عملی استعمال کرنے کی طرف گامزن رہیں گے۔ یہی کچھ معاملہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بھی ہے، وہ بھی کسی بھی وقت اپنا استعفیٰ واپس لے کر دوبارہ جیو انٹرٹینمنٹ کی صدارت سنبھال سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...