وجود

... loading ...

وجود

بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات۔امریکہ خوش

جمعه 11 دسمبر 2015 بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات۔امریکہ خوش

sirtaj aziz

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات کے بعد جواعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق طرفین نے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے۔خارجہ سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مذاکرات کے تحت آنے والے امور،جن میں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،وولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں و فود کے تبالوں اور مذہبی سیاحت جیسے معاملات شامل ہیں،کیلئے شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیں گے۔

  • پاک بھارت جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں عمل میں لانے پر متفق نہیں ہوتے مذاکرات فضول ہیں
    ( حریت سربراہ سید علی گیلانی)
  • بھارت مذاکرات کی آڑ میں روز بروز ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے ، عسکری مزاحمت ہی اس مسئلے کا حل ہے
    (سید صلاح الدین)
  • جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو ایک فریق کی حیثیت سے شامل کئے بغیر مذاکرات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں(یٰسین ملک)
  • ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت وولر بیراج کے قضیے کی سطح پر آگئی ہے (کشمیری صحافی)

عالمی برادری نے جامع مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مل کر حل کریں اور ان مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں جن کا انھیں تاحال سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا تو بس چاہتا ہے کہ بات چیت جاری رہے اور اس لئے وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا سمجھتا ہے کیونکہ یہ بالکل وہی چیز ہے جس کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امریکا پاکستانی فوج کی سفارت کاری کے عمل میں شمولیت کو قبول کرتا ہے، ان کاکہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے کہ کون شامل ہوتا ہے یا نہیں۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو خوش آئندقرار دیا ہے ۔

اُدھر بھارت کے اندر ابھی تک سیاسی پارٹیاں اور بھارتی میڈیا محتاط رد عمل کا مظاہرہ کررہا ہے ۔کا نگریس کے ترجمان ٹام وڈاکنTom Vadakkan نے ان مذاکرات پر خوشی کا اظہار کیا تاہم مودی حکومت سے انہوں نے یہ سوال کیا کہ مذاکرات کی بحالی کی وجہ کیا بنی۔مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے بی جے پی حمایت یا فتہ وزیر اعلیٰ نے ہندو پاک بات چیت عمل کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی جیت سے تعبیر کیا ہے۔اُنہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ہندوستان پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کیلئے کوئی دباؤ تھا۔

syed ali geelani

بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے ان مذاکرات کو فضول مشق قرار دیتے کہا کہ ہندوپاک نے گزشتہ68سال سے کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن صرف یہ طے پایا کہ اگلی بات چیت کب ہوگی۔دونوں ممالک ہمیشہ ان مذاکرات کے دوران میں کشمیر کی زمینی صورتحال بدلنے میں ناکام رہے۔سید علی گیلانی جمعرات کو حریت کا نفرنس کے صدر دفتر پر’’جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اوراقوام متحدہ‘ ‘کے عنوان پر سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ حریت سربراہ نے کہا کہ ایک طرف مذاکراتی عمل جاری تھاتو دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کشمیری عوام کے عزم کو دبانے کیلئے بھارتی فورسز اور پولیس کی طرف سے بلا روک ٹوک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بزرگ مزاحمتی رہنمانے کہا کہ 1947سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین150مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور پھر بھی کشمیری مسلسل سزا بھگت رہے ہیں، کشمیری، مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔یہ مذاکرا ت تب تک ایک فضول مشق ہے جب تک ہندوپاک اقوام متحدہ کی قراردادیں عمل میں لانے پر متفق نہیں ہوجاتے۔

syed salahhudin

حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے’’ وجود ڈاٹ کام ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک کروڑ 40لاکھ لوگوں کے مستقبل کا معا ملہ ہے۔اس مسئلے کو یا تو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے عین مطا بق حل کیا جا سکتا ہے یا پھر انہی قرادادوں کی روشنی میں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔سید صلاح الدین نے کہا کہ ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے سے ہی حل ہوجائے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بھارت مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل ہے اور ان مذاکرات کی آڑ میں وہ روز بروز ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے ۔اس لئے عسکری مزاحمت ہی اس مسئلے کا حل ہے اور یہ مزاحمت تاحصول آزادی پوری قوت سے جاری رہیگی۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یا سین ملک نے ان مذاکرات کو تب تک وقت کا ضیاع قرار دیا جب تک بنیادی فریق جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو ایک فریق کی حیثیت میں مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر متنازع مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کی مرضی کے خلاف کشمیریوں پر کوئی منصوبہ تھونپا گیا تو حساس کشمیری قوم2 199ء کی طرح آر پار کشمیر کے مابین دیوار کو توڑ کر خونی لکیر کو روندکر ایک دوسرے سے آ ملیں گے۔جمعرات کو سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے جس میں ہندوپاک بیٹھ کر فیصلہ سنائیں گے ۔مسئلہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور یہ کوئی بے زبان جانوروں کا مسئلہ نہیں ہے جس میں ان سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کے فیصلے لئے جائیں۔

mirwaiz-umar-farooq

تاہم حریت کا نفرنس میر واعظ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فارق نے بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مذاکراتی عمل تب تک ادھورا ہے جب تک ان مذاکرات میں کشمیری عوام کو شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور حکومت ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے ضمن میں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جرأت مندی سے عبارت اقدامات اٹھائے۔معروف کشمیری رائٹر اور صحافی گو ہر گیلانی نیان نے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک طرف بھارتی میڈیا کی زبان نہیں تھکتی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،وہیں دوسری طرف یہی کشمیر دو طرفہ مذاکرات میں شا مل ہے۔،تو اس کا صاف مطلب ہے کہ بھارت نے اسے متنا زع تسلیم کیا ہے ۔ممتاز کشمیری صحافی احمد علی فیاض نے وزراء خارجہ کے مشتر کہ اعلامئے کو کشمیری عوام اور شہداء کی توہین قرار دیا ہے۔لکھتے ہیں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،ولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں ،و فود کے تبادلوں کے موضوعات میں 26سالہ خونریزی اور ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت وولر بیراج کے قضیے کی سطح پر آگئی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر