... loading ...

عمران خان سے طلاق کے بعد ریحام خان کی پہلی اور اہم تحریر برطانیہ کے معروف روزنامے گارجین میں چھپی ہے لیکن نیوزویک پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تحریر دراصل اس کے لیے لکھی گئی تھی، بلکہ اس میں تمام ترامیم بھی اسی کے عملے نے کیں اور اسے قابل اشاعت بنانے کے بعد جب چھپنے کا مرحلہ آیا تو ریحام خان نے 35 ہزار پاؤنڈز کی خطیر رقم کا مطالبہ کردیا، جو پاکستانی روپے میں 56 لاکھ روپے سے بھی زیادہ کی رقم بنتی ہے۔
یہ اہم ترین انکشاف نیوزویک پاکستان کی ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ریمل محی الدین نے گزشتہ روز ٹوئٹر پر کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ریحام خان کا گارجین میں چھپنے والا مضمون دراصل نیوزویک پاکستان کے حوالے کیا گیا تھا اور تدوین مکمل ہوجانے کے بعد ریحام کی حال ہی میں ملازمت پر رکھی گئی پریس نمائندہ نے 35 ہزار پاؤنڈز کا مطالبہ کردیا جس پر ہم نے انتہائی مہذب انداز میں انہیں منع کردیا۔

اس ٹوئٹ کے جواب میں گارجین میں فیچرز کمیشننگ ایڈیٹر نوشین اقبال بھی میدان میں آئیں، جن کا کہنا تھا کہ برطانوی اخبار سے اس تحریر کا کوئی معاوضہ نہیں لیا گیا۔ جس کے بعد جواب در جواب کا سلسلہ شریک ہوگیا۔ نیوزویک نے نوشین سے کہا کہ جس تحریر کی آپ نے تدوین کی ہے، وہ دراصل ہماری ایڈٹ کردہ تھی۔ جس پر نوشین نے کہا کہ وہ اس معاملے سے آگاہ نہیں ہیں، انہیں تو اصل تحریر کے طور پریہ مواد دیا گیا تھا۔

بالآخر ریحام خان بھی میدان میں کود پڑیں اور نیوزویک کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے اخبارات ادائیگی نہیں کرتے اور میں نے صرف ساکھ کی وجہ سے بڑے اخبار کا رخ کیا۔

اس سہ مکھی جنگ کو دیکھتے ہوئے عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی معاملے پر تبصرے شروع کردیے جس پر ایک کا جواب دیتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ مجھے کسی تحریر یا انٹرویو کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا اور ایک مرتبہ پھر کہا کہ گارجین میں تحریر مفت چھاپی گئی تھی۔

آزاد ذرائع سے اس معاملے کی اب تک تحقیق نہیں ہوئی ہے لیکن بعد ازاں نیوزویک تمام تر ثبوتوں کے ساتھ میدان میں آیا۔ جس نے بتایا کہ 3 نومبر کو ریحام خان کو بتایا گیا تھا کہ ادارہ 10 روپے فی لفظ کے حساب سے اپنے لکھاریوں کو ادائیگی کرتا ہے اور یہ نرخ اس وقت تک قابل بحث نہیں بنے تھے جب تک 8 نومبر کوریحام نے اپنا مضمون واپس نہ لے لیا حالانکہ ایک روز قبل نیوزویک کے عملے نے اس کی تدوین بھی مکمل کرلی تھی اور ریحام اسے قبول بھی کرچکی تھیں۔ اس کے بعد ریحام کی پریس نمائندہ میدان میں آ گئیں، جن کو حال ہی میں اس عہدے پر رکھا گیا تھا اور آگے نیوزویک کے ساتھ خط و کتابت انہوں نے کی۔ انہوں نے سب سے پہلے تو یہ حکم جاری کیا کہ تحریر کو فوری طور پر روک دیا جائے اور جب تک معاوضے کا معاملہ طے نہ پا جائے اسے نہ چھاپا جائے۔ جب نیوزویک نے اپنی پرانی پیشکش کے بارے میں بتایا تو شازانہ راجہ نامی ریحام کی نمائندہ نے کہا کہ یہ بہت کم ہیں اور اس تحریر کے لیے ان کا ممکنہ ہدف 35 ہزار پاؤنڈز ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے نیوزویک کے دیگر بین الاقوامی ایڈیشنز میں بھی اس تحریر کی اشاعت کی ضمانت مانگی اور کہا کہ نیوزویک پاکستان میں یہ تحریر ‘کور اسٹوری’ کی حیثیت سے چھپے۔

مطالبات کی اس طویل، اور بھاری فہرست، کے سامنے آنے کے بعد نیوزویک نے اپنی تدوین شدہ تحریر ہی چھاپنے سے معذرت کرلی۔ جس کے چند دن بعد 13 نومبر کو شازانہ راجہ کی ایک اور ای-میل آئی جس میں معاملے پر دوبارہ غور کے لئے کہا گیا تھا لیکن پہلے تجربے کے بعد نیوزویک نے اسے مزید آگے بڑھانے سے انکار کردیا۔

ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ یہی تحریر، جسے نیوزویک پاکستان کے عملے نے ایڈٹ کیا تھا، برطانوی روزنامے میں چھپ گئی۔ واضح رہے کہ اس تحریر میں ریحام خان نے اپنی طلاق کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ عمران خان کے موجود دباؤ کو کم کرنا چاہتی تھیں، اس لیے اپنا راستہ الگ کرلیا تاکہ عمران خان اپنے اصل مقصد پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...