وجود

... loading ...

وجود

فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

جمعرات 12 نومبر 2015 فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

nwaz zardari raheel

عسکری حلقوں میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے سول حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے نہایت خوشگوار فضا بنا رکھی ہے مگر دوسری طرف ملک کے سنجیدہ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت کے مصنوعی اعشاریوں اور اشاریوں کے ذریعے جو فضا بنائی جارہی ہے وہ مستقبل قریب میں قومی معیشت کے لئے شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔ اس ضمن میں’’ وجود ڈاٹ کام‘‘ کو نہایت قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جی ایچ کیو میں ماہرینِ معیشت کو مدعو کرکے اُن کی آراء بھی قومی معیشت کے حوالے سے لی گئی ہے۔ باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت جلد ایف بی آر کے اندر پائے جانے والی بدعنوانیوں کی کہانیاں بھی منظر عام پر آنے کے امکانات ہیں۔

انتہائی ذمہ دار ذرائع کی جانب سے سرکاری حلقوں کو بدعنوانیوں کے احتساب کے پورے سرکاری ڈھانچے میں موجود نقائص کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کسی بھی طرح ایک قابل اعتبار احتسابی عمل کو جاری رکھنے کی اہل ثابت نہیں ہورہی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے طور پر موجود ہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف بھی بدعنوانیوں کے بہت سے معاملات زباں زد عام وخاص ہیں ۔ اس لئے وہ حکومت کے ساتھ اس پورے عمل میں کسی بھی سطح پر کوئی پریشانی پیدا کرنے کا باعث بھی نہیں بن رہے۔ بدقسمتی سے احتساب کے اس پورے عمل میں آڈیٹر جنرل پاکستان اسد امین کا سب سے اہم کردار ہے۔ مگر اُن کے خلاف بھی بہت سی کہانیاں گردش کررہی ہیں۔ اس لئے احتسابی عمل پورا مشکوک ہو چکا ہے۔ کیونکہ بدعنوانیوں کے پہرے دار خود بدعنوانوں کے ساتھ ملے نظر آتے ہیں۔

’’وجودڈاٹ کام ‘‘ کو اپنے قابلِ اعتماد ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے عالمی اداروں سے بھاری پیمانے پر لئے گئے قرضوں کے قومی معیشت کے ساتھ قومی اثاثوں پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر معاشیات نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں پچھلے دنوں جی ایچ کیو کے ذرائع سے یہ سوال سننے پڑے ہیں کہ کیا آئی ایم ایف سے لئے جانے والے بھاری قرضے مستقبل میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کسی دباؤ کو پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں؟ کیا قومی معیشت اتنے سارے قرضوں کا بوجھ سہارنے کی طاقت رکھتی ہے؟

باخبر حلقوں کا اس پورے تناظر میں اِصرار ہے کہ فوجی حلقوں نے اپنے بہت اہم فیصلے چیف آف آرمی اسٹاف کے دورۂ امریکا سے واپسی پر اُٹھا رکھے ہیں۔ ماہِ نومبر کے اختتام تک اگر سیاسی حکومت نے بعض بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کئے تو عسکری ادارے کچھ اہم جوابی فیصلوں کے لئے اپنی مشاورت مکمل کرچکے ہیں۔

باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اس ضمن میں وزیراعظم میاں نوازشریف اور اُن کے قریبی حلقے بھی اہم نوعیت کے مشاورتی عمل کا آغاز کرچکے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف ان خطرات کو بھانپتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے دھرنے کے خلاف پارلیمانی اتحاد کی طرح کی فضا بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ جمہوریت کے نام پر پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں میں ایک اتحاد قائم کرنے کے لئے کوشاں ہو چکے ہیں اور اس ضمن میں ابتدائی قدم کے طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔ وجودڈاٹ کام کو اپنے ذرائع نے بتایا ہے کہ میاں نوازشریف نے اس حوالے سے ایک اہم پیغام لے کر سابق صدر آصف علی زرداری کے پاس اپنے ایک وفاقی وزیر کو دبئی بھیجا تھا ۔ جو نہایت خاموشی سے آصف زرداری کے ساتھ مشاورت کرکے واپس آئے ہیں۔ بعد ازاں چیئر مین سینیٹ میاں رضاربانی کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر قومی ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ میاں رضا ربانی کی اس تجویز کو پس پردہ جاری سیاست دانوں کی باہمی مشاورت سے جوڑا جائے تو یہ خاصا معنی خیز بن جاتی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کو متعد د مرتبہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاچکا ہے کہ وہ ضربِ عضب کو صرف دہشت گردی تک محدود کریں اور قومی اداروں اور سیاست دانوں کے احتساب کو اس دائرے میں لے جانے سے روکیں۔ میاں نوازشریف سے اس ضمن میں بار بار قومی ایکشن پلان پر نظرثانی کا مطالبہ پسِ پردہ کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی ابہام کے بغیر یہ بات بالکل واضح ہے کہ قومی ایکشن پلان کے بعض پہلووؤں سے سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ نون متفق نہیں ۔ اسی طرح سیاست دانوں اور حکومت کے لئے جنرل راحیل شریف کے بیرونی دوروں پر بھی شدید تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور روس وچین کے ساتھ تعلقات کی دفاعی جہتوں میں خود کو متعلق بنا کر امریکا کے لئے اپنی اہمیت کے ایک نئے باب کو کھولنے جارہے ہیں۔ساتھ ہی وہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسا کردار بھی نبھانے کے لئے مشاورت کررہے ہیں جو خطے میں پاکستان کی اہمیت کو برقرار رکھنے میں معاون ہو اور آگے چل کر علاقائی سطح پر بھارتی خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو تنہا نہ ہونے دے۔ مگرحکومت یہ پورا تزویراتی عمل نظر انداز کرکے اِسے فوج کے آئینی کردار سے تجاوز کے زمرے میں رکھ کر نہایت خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔

باخبر حلقے اس پورے تناظر کو سامنے رکھ کر یہ اصرار کررہے ہیں کہ رواں ماہ کے اختتام پر فوج حکومت تنازع نئے دائروں میں داخل ہو کر زیادہ خطرناک بن سکتا ہے اور عسکری حلقوں میں زیر غور فیصلوں کو مہمیز دینے کا باعث بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر