وجود

... loading ...

وجود

فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

جمعرات 12 نومبر 2015 فوجی حلقوں میں نواز حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی، مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کی جانے لگیں

nwaz zardari raheel

عسکری حلقوں میں گزشتہ کچھ ہفتوں سے سول حکومت کی کارکردگی پر شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے نہایت خوشگوار فضا بنا رکھی ہے مگر دوسری طرف ملک کے سنجیدہ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت کے مصنوعی اعشاریوں اور اشاریوں کے ذریعے جو فضا بنائی جارہی ہے وہ مستقبل قریب میں قومی معیشت کے لئے شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔ اس ضمن میں’’ وجود ڈاٹ کام‘‘ کو نہایت قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جی ایچ کیو میں ماہرینِ معیشت کو مدعو کرکے اُن کی آراء بھی قومی معیشت کے حوالے سے لی گئی ہے۔ باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت جلد ایف بی آر کے اندر پائے جانے والی بدعنوانیوں کی کہانیاں بھی منظر عام پر آنے کے امکانات ہیں۔

انتہائی ذمہ دار ذرائع کی جانب سے سرکاری حلقوں کو بدعنوانیوں کے احتساب کے پورے سرکاری ڈھانچے میں موجود نقائص کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کسی بھی طرح ایک قابل اعتبار احتسابی عمل کو جاری رکھنے کی اہل ثابت نہیں ہورہی۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے طور پر موجود ہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے خلاف بھی بدعنوانیوں کے بہت سے معاملات زباں زد عام وخاص ہیں ۔ اس لئے وہ حکومت کے ساتھ اس پورے عمل میں کسی بھی سطح پر کوئی پریشانی پیدا کرنے کا باعث بھی نہیں بن رہے۔ بدقسمتی سے احتساب کے اس پورے عمل میں آڈیٹر جنرل پاکستان اسد امین کا سب سے اہم کردار ہے۔ مگر اُن کے خلاف بھی بہت سی کہانیاں گردش کررہی ہیں۔ اس لئے احتسابی عمل پورا مشکوک ہو چکا ہے۔ کیونکہ بدعنوانیوں کے پہرے دار خود بدعنوانوں کے ساتھ ملے نظر آتے ہیں۔

’’وجودڈاٹ کام ‘‘ کو اپنے قابلِ اعتماد ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے عالمی اداروں سے بھاری پیمانے پر لئے گئے قرضوں کے قومی معیشت کے ساتھ قومی اثاثوں پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ایک ماہر معاشیات نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُنہیں پچھلے دنوں جی ایچ کیو کے ذرائع سے یہ سوال سننے پڑے ہیں کہ کیا آئی ایم ایف سے لئے جانے والے بھاری قرضے مستقبل میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کسی دباؤ کو پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں؟ کیا قومی معیشت اتنے سارے قرضوں کا بوجھ سہارنے کی طاقت رکھتی ہے؟

باخبر حلقوں کا اس پورے تناظر میں اِصرار ہے کہ فوجی حلقوں نے اپنے بہت اہم فیصلے چیف آف آرمی اسٹاف کے دورۂ امریکا سے واپسی پر اُٹھا رکھے ہیں۔ ماہِ نومبر کے اختتام تک اگر سیاسی حکومت نے بعض بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کئے تو عسکری ادارے کچھ اہم جوابی فیصلوں کے لئے اپنی مشاورت مکمل کرچکے ہیں۔

باخبر حلقے اصرار کر رہے ہیں کہ ملک کے تمام سنجیدہ حلقوں میں وزیر اعظم کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اس ضمن میں وزیراعظم میاں نوازشریف اور اُن کے قریبی حلقے بھی اہم نوعیت کے مشاورتی عمل کا آغاز کرچکے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف ان خطرات کو بھانپتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے دھرنے کے خلاف پارلیمانی اتحاد کی طرح کی فضا بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ جمہوریت کے نام پر پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں میں ایک اتحاد قائم کرنے کے لئے کوشاں ہو چکے ہیں اور اس ضمن میں ابتدائی قدم کے طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔ وجودڈاٹ کام کو اپنے ذرائع نے بتایا ہے کہ میاں نوازشریف نے اس حوالے سے ایک اہم پیغام لے کر سابق صدر آصف علی زرداری کے پاس اپنے ایک وفاقی وزیر کو دبئی بھیجا تھا ۔ جو نہایت خاموشی سے آصف زرداری کے ساتھ مشاورت کرکے واپس آئے ہیں۔ بعد ازاں چیئر مین سینیٹ میاں رضاربانی کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر قومی ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ میاں رضا ربانی کی اس تجویز کو پس پردہ جاری سیاست دانوں کی باہمی مشاورت سے جوڑا جائے تو یہ خاصا معنی خیز بن جاتی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف کو متعد د مرتبہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا جاچکا ہے کہ وہ ضربِ عضب کو صرف دہشت گردی تک محدود کریں اور قومی اداروں اور سیاست دانوں کے احتساب کو اس دائرے میں لے جانے سے روکیں۔ میاں نوازشریف سے اس ضمن میں بار بار قومی ایکشن پلان پر نظرثانی کا مطالبہ پسِ پردہ کیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی ابہام کے بغیر یہ بات بالکل واضح ہے کہ قومی ایکشن پلان کے بعض پہلووؤں سے سیاسی جماعتیں بشمول مسلم لیگ نون متفق نہیں ۔ اسی طرح سیاست دانوں اور حکومت کے لئے جنرل راحیل شریف کے بیرونی دوروں پر بھی شدید تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور روس وچین کے ساتھ تعلقات کی دفاعی جہتوں میں خود کو متعلق بنا کر امریکا کے لئے اپنی اہمیت کے ایک نئے باب کو کھولنے جارہے ہیں۔ساتھ ہی وہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ ایک ایسا کردار بھی نبھانے کے لئے مشاورت کررہے ہیں جو خطے میں پاکستان کی اہمیت کو برقرار رکھنے میں معاون ہو اور آگے چل کر علاقائی سطح پر بھارتی خطرے سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو تنہا نہ ہونے دے۔ مگرحکومت یہ پورا تزویراتی عمل نظر انداز کرکے اِسے فوج کے آئینی کردار سے تجاوز کے زمرے میں رکھ کر نہایت خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔

باخبر حلقے اس پورے تناظر کو سامنے رکھ کر یہ اصرار کررہے ہیں کہ رواں ماہ کے اختتام پر فوج حکومت تنازع نئے دائروں میں داخل ہو کر زیادہ خطرناک بن سکتا ہے اور عسکری حلقوں میں زیر غور فیصلوں کو مہمیز دینے کا باعث بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر