... loading ...

سندھ حکومت نیب اور ایف آئی اے کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ہی پوری طرح نہ صرف کمربستہ ہے بلکہ اب رینجرز کو بھی اپنے پُرانے تیور دکھا رہی ہے۔ رینجرز کے کردار سے شدید نالاں پیپلز پارٹی کے رہنما اپنی تمام بیٹھکوں میں اب خودرینجرز کی سندھ میں موجودگی کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھانے لگے ہیں۔ احتساب اور بدعنوانیوں پر قانونی گرفت سے خوف زدہ پیپلز پارٹی کے بد عنوان رہنماوؤں نے نیب ، ایف آئی اے اور رینجرز کے خلاف ایک نہایت دورس حکمت ِ عملی مرتب کر لی ہے جو آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اور مقتدر حلقوں کے لئے شدید ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ماحول پیدا ہو چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ٹارگٹ کلنگ ، کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات میں رینجرز کی مدعیت کرنے والے نو وکلاء کی تنخواہوں کی ادائی کی سمری کو روک دیا ہے۔ایک اطلاع کے مطابق ماہِ جون سے ان تمام نو وکلاء کو تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔
رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان جاری تنازع مختلف اوقات میں خود صوبائی حکومت کی طرف سے منکشف کیا جاتا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس بارے میں پہلی مرتبہ 28مئی کو یہ کہا تھا کہ میرا کام پالیسی اور ہدایات دینا ہے۔ اور اُس پر عمل درآمد خود رینجرز کی ذمہ داری ہے۔ اُس پر ڈی جی بھی عمل کرے گا اور آئی جی بھی کرے گا۔ اس سے تجزیہ کاروں کو اندازا ہوا تھا کہ یہاں کوئی آگ لگی ہوئی ہے جس سے بیانات کا یہ دھواں اُٹھا ہے۔بعد ازاں سندھ حکومت نے اپنی شکایتوں کا رخ مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کی جانب بھی کیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے 6 جولائی کو ایف آئی اے اور نیب کے کردار پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کے کردار کے لیے ہر سال صوبائی حکومت سے پوچھا جاتا ہے۔ مگر ان دونوں ایجنسیز (مراد ایف آئی اے اور نیب تھیں) کے متعلق ہم سے کچھ نہیں پوچھا گیا۔مگر 24 جولائی کی شب بروز جمعہ رینجرز کی جانب سے سوک سینٹر پر چھاپے نے سندھ حکومت کو تقریباً حواس باختہ کردیا۔ اور اُنہیں پہلی بار رینجرز کے غیر متزلزل عزم کی “سنگینی “کا اداراک ہوا جس پر ملک بھر میں رینجرز کے کردار کے حوالے سے سوالات بھی پیدا ہوئے یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے اس خاص واقعے کا ذکر کرتے ہوئے 6 اگست کو برسرِ عام اس پر احتجاج کیا ۔ پھر 28 اگست کو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ اُنہوں نے ملاقات کے لیے آئے ڈی جی رینجرز کو کہا ہے کہ صوبے کی قیادت میرے پاس ہے اور آپ اور آئی جی سندھ میرے ماتحت کام کررہے ہیں۔
سندھ حکومت اور رینجرز میں جاری اس کشمکش میں تب بہت شدت آگئی جب رینجرز نے 26 اگست بروز بدھ ڈاکٹر عاصم حسین کو بھی گرفتار کر لیا۔ سندھ حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیا۔ یہاں تک کہ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے باقاعدہ طور پر عدالت عالیہ سندھ کو یہ کہا کہ رینجرز نے غیر قانونی طور پر ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا ہے اور اس حوالے سے قانونی ضرورتیں پوری نہیں کی گئیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے ایک واضح سیاسی اور قانونی پوزیشن لے رکھی ہے۔ اس پورے تناظر میں رینجرز کےمقدمات کی مدعیت کرنے والے نو وکلاء کی تنخواہ کو روکنے کے معاملے کو سیاسی مبصرین بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ بعض حلقے اِسے سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کو آپریشن کے ممکنہ نئے مرحلے سے روکنے کی کوشش کے طور پر لے رہے ہیں۔رینجرز کے حوالے سے سندھ حکومت کے اس اقدام کو اس لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ متوازی طور پر پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی اور سینیٹ میں وفاقی اداروں کو صوبے میں احتساب سے روکنے کے لیے قانون سازی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ یوں اِسے ایک منظم عمل کے طور پر لیا جارہا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے نیب کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا ایک بل سینیٹ میں پیش کیا ہے۔ جہاں تاحال پیپلز پارٹی کی اکثریت برقرار ہے۔بل کے ذریعے پی پی نیب قوانین میں جو ترامیم کرانا چاہتی ہیں اُن میں نیب اور ایف آئی اے کو صوبائی معاملات میں کسی بھی نوع کی تحقیقات سے روکنا شامل ہے۔بل کی رو سے صوبائی حکومتیں اپنا احتساب کمیشن خود بنائیں گی ۔ پیپلز پارٹی اس طرح کی ترمیم کے ذریعے نیب کو صوبے میں ہر قسم کی مداخلت سے قانونی طور پر روک دینا چاہتی ہے۔ یہی کچھ ایک دوسرے وفاقی ادارے ایف آئی اے کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت کے پیش نظر ہے ۔ سندھ اسمبلی میں پیش کیے گیے ایک مجوزہ بل میں بھی یہی کچھ تجویز کیا جارہا ہے ، جسے احتساب کمیشن بل کا نام دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ اور سندھ اسمبلی میں پیش کیے گئے بل بنیادی طور پر جن معاملات سے متعلق ہیں اس کا تعلق بھی ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمے سے ہی بنتا ہے۔سندھ حکومت کا احتساب کمیشن بل جن تین بنیادی نکات پر کھڑا ہے اس کے مطابق
1۔ نیب اور ایف آئی اے سمیت کوئی بھی وفاقی ادارہ سندھ میں کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات نہیں کر سکے گا۔
2۔ وفاقی اداروں سے تعلق رکھنے والے بدعنوانی کے بھی کسی معاملے پر کارروائی یا تحقیقات کے لیے سندھ احتساب کمیشن سے پہلے اجازت لینا لازمی ہوگی۔
3۔ سندھ احتساب کمیشن بھی کرپشن کے خلاف صرف مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ شکایات پر ہو اقدام اُٹھا سکے گا ۔
گویا وفاق مکمل طور پر صوبائی احتساب کمیشن کا محتاج ہوگا اور صوبائی احتساب کمیشن مکمل طور پر مجاز اتھارٹی کا محتاج ہوگا۔اس طرح بدعنوانی کے کسی بھی معاملے کی تحقیقات “مجاز اتھارٹی ” کے بغیر نہیں ہو سکے گی جو ظاہر ہے کہ سندھ میں قائم علی شاہ کی صورت میں آصف علی زرداری کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتے۔ گویا آصف علی زرداری اور اُن کے دوستوں میں سے کسی کے خلاف بھی تحقیقات کے لیے سندھ اور وفاق کے تمام ادارے صرف اورصر ف آصف علی زرداری کی مرضی سے ہی قدم اُٹھا سکیں گے۔ خود احتساب کمیشن بھی ازخود کارروائی کرنے میں کسی بھی صورت آزاد نہیں ہوگا۔
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...
بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...
180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...
ایران کیخلاف جارحانہ فوجی مرحلہ ختم ہو چکا، امریکا کا مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ،ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی گفتگو ایران شرائط مان لیتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کی تہران کیخلاف جنگ ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھ...
موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...
چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...
عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...
تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...