وجود

... loading ...

وجود

سندھ حکومت اور رینجرز کشمکش کا نیا دور: پیپلز پارٹی کے رہ نما رینجرز کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھانے لگے

بدھ 04 نومبر 2015 سندھ حکومت اور رینجرز کشمکش کا نیا دور: پیپلز پارٹی کے رہ نما رینجرز کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھانے لگے

rangers

سندھ حکومت نیب اور ایف آئی اے کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ہی پوری طرح نہ صرف کمربستہ ہے بلکہ اب رینجرز کو بھی اپنے پُرانے تیور دکھا رہی ہے۔ رینجرز کے کردار سے شدید نالاں پیپلز پارٹی کے رہنما اپنی تمام بیٹھکوں میں اب خودرینجرز کی سندھ میں موجودگی کی قانونی حیثیت پر سوال اُٹھانے لگے ہیں۔ احتساب اور بدعنوانیوں پر قانونی گرفت سے خوف زدہ پیپلز پارٹی کے بد عنوان رہنماوؤں نے نیب ، ایف آئی اے اور رینجرز کے خلاف ایک نہایت دورس حکمت ِ عملی مرتب کر لی ہے جو آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اور مقتدر حلقوں کے لئے شدید ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ماحول پیدا ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے ٹارگٹ کلنگ ، کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات میں رینجرز کی مدعیت کرنے والے نو وکلاء کی تنخواہوں کی ادائی کی سمری کو روک دیا ہے۔ایک اطلاع کے مطابق ماہِ جون سے ان تمام نو وکلاء کو تنخواہ ادا نہیں کی گئی۔

رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان جاری تنازع مختلف اوقات میں خود صوبائی حکومت کی طرف سے منکشف کیا جاتا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس بارے میں پہلی مرتبہ 28مئی کو یہ کہا تھا کہ میرا کام پالیسی اور ہدایات دینا ہے۔ اور اُس پر عمل درآمد خود رینجرز کی ذمہ داری ہے۔ اُس پر ڈی جی بھی عمل کرے گا اور آئی جی بھی کرے گا۔ اس سے تجزیہ کاروں کو اندازا ہوا تھا کہ یہاں کوئی آگ لگی ہوئی ہے جس سے بیانات کا یہ دھواں اُٹھا ہے۔بعد ازاں سندھ حکومت نے اپنی شکایتوں کا رخ مقتدر حلقوں کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کی جانب بھی کیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے 6 جولائی کو ایف آئی اے اور نیب کے کردار پر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کے کردار کے لیے ہر سال صوبائی حکومت سے پوچھا جاتا ہے۔ مگر ان دونوں ایجنسیز (مراد ایف آئی اے اور نیب تھیں) کے متعلق ہم سے کچھ نہیں پوچھا گیا۔مگر 24 جولائی کی شب بروز جمعہ رینجرز کی جانب سے سوک سینٹر پر چھاپے نے سندھ حکومت کو تقریباً حواس باختہ کردیا۔ اور اُنہیں پہلی بار رینجرز کے غیر متزلزل عزم کی “سنگینی “کا اداراک ہوا جس پر ملک بھر میں رینجرز کے کردار کے حوالے سے سوالات بھی پیدا ہوئے یہاں تک کہ خود وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے اس خاص واقعے کا ذکر کرتے ہوئے 6 اگست کو برسرِ عام اس پر احتجاج کیا ۔ پھر 28 اگست کو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا تھا کہ اُنہوں نے ملاقات کے لیے آئے ڈی جی رینجرز کو کہا ہے کہ صوبے کی قیادت میرے پاس ہے اور آپ اور آئی جی سندھ میرے ماتحت کام کررہے ہیں۔

وفاق مکمل طور پر صوبائی احتساب کمیشن کا محتاج ہوگا اور صوبائی احتساب کمیشن مکمل طور پر مجاز اتھارٹی کا محتاج ہوگا۔اس طرح بدعنوانی کے کسی بھی معاملے کی تحقیقات “مجاز اتھارٹی ” کے بغیر نہیں ہو سکے گی۔

سندھ حکومت اور رینجرز میں جاری اس کشمکش میں تب بہت شدت آگئی جب رینجرز نے 26 اگست بروز بدھ ڈاکٹر عاصم حسین کو بھی گرفتار کر لیا۔ سندھ حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیا۔ یہاں تک کہ سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے باقاعدہ طور پر عدالت عالیہ سندھ کو یہ کہا کہ رینجرز نے غیر قانونی طور پر ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا ہے اور اس حوالے سے قانونی ضرورتیں پوری نہیں کی گئیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے ایک واضح سیاسی اور قانونی پوزیشن لے رکھی ہے۔ اس پورے تناظر میں رینجرز کےمقدمات کی مدعیت کرنے والے نو وکلاء کی تنخواہ کو روکنے کے معاملے کو سیاسی مبصرین بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ بعض حلقے اِسے سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کو آپریشن کے ممکنہ نئے مرحلے سے روکنے کی کوشش کے طور پر لے رہے ہیں۔رینجرز کے حوالے سے سندھ حکومت کے اس اقدام کو اس لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ متوازی طور پر پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی اور سینیٹ میں وفاقی اداروں کو صوبے میں احتساب سے روکنے کے لیے قانون سازی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ یوں اِسے ایک منظم عمل کے طور پر لیا جارہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے بد عنوان رہنماوؤں نے نیب ، ایف آئی اے اور رینجرز کے خلاف ایک نہایت دورس حکمت ِ عملی مرتب کر لی ہے جو آئندہ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے

پاکستان پیپلزپارٹی نے نیب کے حوالے سے قانون میں ترمیم کا ایک بل سینیٹ میں پیش کیا ہے۔ جہاں تاحال پیپلز پارٹی کی اکثریت برقرار ہے۔بل کے ذریعے پی پی نیب قوانین میں جو ترامیم کرانا چاہتی ہیں اُن میں نیب اور ایف آئی اے کو صوبائی معاملات میں کسی بھی نوع کی تحقیقات سے روکنا شامل ہے۔بل کی رو سے صوبائی حکومتیں اپنا احتساب کمیشن خود بنائیں گی ۔ پیپلز پارٹی اس طرح کی ترمیم کے ذریعے نیب کو صوبے میں ہر قسم کی مداخلت سے قانونی طور پر روک دینا چاہتی ہے۔ یہی کچھ ایک دوسرے وفاقی ادارے ایف آئی اے کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت کے پیش نظر ہے ۔ سندھ اسمبلی میں پیش کیے گیے ایک مجوزہ بل میں بھی یہی کچھ تجویز کیا جارہا ہے ، جسے احتساب کمیشن بل کا نام دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ اور سندھ اسمبلی میں پیش کیے گئے بل بنیادی طور پر جن معاملات سے متعلق ہیں اس کا تعلق بھی ڈاکٹر عاصم حسین کے مقدمے سے ہی بنتا ہے۔سندھ حکومت کا احتساب کمیشن بل جن تین بنیادی نکات پر کھڑا ہے اس کے مطابق

1۔ نیب اور ایف آئی اے سمیت کوئی بھی وفاقی ادارہ سندھ میں کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات نہیں کر سکے گا۔

2۔ وفاقی اداروں سے تعلق رکھنے والے بدعنوانی کے بھی کسی معاملے پر کارروائی یا تحقیقات کے لیے سندھ احتساب کمیشن سے پہلے اجازت لینا لازمی ہوگی۔

3۔ سندھ احتساب کمیشن بھی کرپشن کے خلاف صرف مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ شکایات پر ہو اقدام اُٹھا سکے گا ۔

گویا وفاق مکمل طور پر صوبائی احتساب کمیشن کا محتاج ہوگا اور صوبائی احتساب کمیشن مکمل طور پر مجاز اتھارٹی کا محتاج ہوگا۔اس طرح بدعنوانی کے کسی بھی معاملے کی تحقیقات “مجاز اتھارٹی ” کے بغیر نہیں ہو سکے گی جو ظاہر ہے کہ سندھ میں قائم علی شاہ کی صورت میں آصف علی زرداری کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتے۔ گویا آصف علی زرداری اور اُن کے دوستوں میں سے کسی کے خلاف بھی تحقیقات کے لیے سندھ اور وفاق کے تمام ادارے صرف اورصر ف آصف علی زرداری کی مرضی سے ہی قدم اُٹھا سکیں گے۔ خود احتساب کمیشن بھی ازخود کارروائی کرنے میں کسی بھی صورت آزاد نہیں ہوگا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر