وجود

... loading ...

وجود

عمران ریحام طلاق کے بعد ڈیل: کیا ہورہا ہے کون کررہا ہے؟

منگل 03 نومبر 2015 عمران ریحام طلاق کے بعد ڈیل: کیا ہورہا ہے کون کررہا ہے؟

Imran-and-Reham-marriage

نوازشریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ڈیل کی سب سے زیادہ باتیں کرنے والے عمران خان اپنی نجی زندگی میں ایسی پیچدگیوں کے شکار ہوگئے ہیں کہ اب وہ خود ریحام خان سے بعدازطلاق ڈیل کے لیے کوشاں ہیں ۔ تاکہ طلاق کے فیصلے کے بعد اس کے ممکنہ مضر اثرات اُن کی آئندہ سیاسی اور نجی زندگی میں نہ پڑیں ۔ مگر عمران خان کے اندرونی معاملات سے آگاہ ایک قریبی ذریعے کے مطابق عمران خان کو ریحام سے شادی کے فیصلے سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا اُنہیں طلاق کے فیصلے سے پہنچنے کا خدشات لاحق ہیں۔

لندن سے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ریحام خان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ایک اہم ذریعے نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ریحام خان سے برطانوی نشریاتی اداروں کے رابطے کی خبر خود ریحام خان نے ذرائع ابلاغ میں پھیلائی ہے تاکہ وہ اس بات کا پورا پورا فائدہ اُس ڈیل میں اُٹھا سکے جو اُنہیں خاموش رکھنے کے لیے عمران خان کی جانب سے اُن کے ایک انتہائی قریبی دوست ان دنو ں کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز (2 نومبرکو) یہ خبر افشا کی گئی تھی کہ برطانوی نشریاتی اداروں نے ریحام خان کو شادی کے دس ماہ بائیس روز پر مبنی حالات کا احاطہ ایک کتاب میں کرنے کی درخواست کی ہے جس کے عوض اُنہیں لاکھوں پاؤنڈ کی ادائی کی پیشکش کی گئی ہے۔اگرچہ عمران خان کی پہلی مطلقہ جمائما برطانوی ذرائع ابلاغ میں خاصا اثرورسوخ رکھتی ہیں اور طلاق کے فوراً بعد اُن کی طرف سے ریحام خان کے برطانوی ذرائع ابلاغ میں مثبت تاثر کو ختم کرنے کی زوردار کوششیں ہوئی ہیں۔ مگر ٹیبلائڈ صحافت میں مشہور برطانوی ذرائع ابلاغ کے بعض ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ ریحام خان کے دس ماہ ایک کتاب کے لیے بہت مصالحے دار ثابت ہو سکتے ہیں۔ جس میں ریحام خان کی قدرے آزاد روی بارہ مصالحے کی لذیذ چاٹ بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں جہاں ان باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے کہ رہنماوؤں کی نجی زندگیاں کیسی ہوتی ہیں؟ وہ خواتین کے لیے کیا میلانات رکھتے ہیں؟ نشے کے عادی ہیں یا نہیں؟ برطانوی ذرائع ابلاغ کے نزدیک عمران خان کے بارے میں اس طرح کے انکشافات ریحام خان کے قلم سے شاندار ثابت ہوسکتے ہیں۔چنانچہ ریحام خان سے بعض نشریاتی اداروں کا خاموش رابطہ ریحام خان نے خود منکشف کرکے پہلا فائدہ پہلی ڈیل میں اُٹھانے کے لیے کیا ہے جو عمران خان کی جانب سے اُن کے ایک دوست لندن میں کر رہے ہیں۔

عمران خان کے دوست ذوالفقار بخاری تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن سید واجد بخاری کے صاحبزادے ہیں۔ لندن میں” پراپرٹی ” کے کاروبار سے منسلک ذوالفقار بخاری عمران خان کے شوکت خانم اسپتال کے ایک بہت بڑے

“ڈونر” بھی ہیں۔ اُن پر دھرنے کے دنوں میں یہ الزام عائد کیا جاتا تھا کہ وہ نوازحکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے لندن سازش کا سب سے کلیدی کردار تھے جو مختلف کرداروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں نہایت سرگرم رہے۔ مثلاً وہ جہاں ایک طرف سابق ڈی جی آئی ایس آئی پاشا اور ظہر الاسلام عباسی سے قربت کی شہرت رکھتے تھے، وہیں یہ ذوالفقار بخاری کا دفتر تھا جہاں پر طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان کم ازکم تین ملاقاتوں میں دھرنے کے ممکنہ خدوخال اور اس کے ممکنہ نتائج پر بات چیت ہوتی رہیں۔صرف سرمایہ دار دوستوں کے نرغے میں ہمیشہ رہنے والے عمران خان ذوالفقار بخاری سے بھی نہایت قریبی تعلق رکھتے ہیں۔

عمران خان کو ریحام سے شادی کےفیصلےسےاتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا اُنہیں طلاق کےفیصلے سے پہنچنے کے خدشات ہیں۔

وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتا یا ہے کہ برمنگھم میں نائٹس برج کے قریب واقع ایک ہوٹل میں ہونے والی ذوالفقار بخاری اور ریحام خان کے درمیان سوا تین گھنٹے پر محیط ملاقات کے بعد اگر چہ ریحام خان نے لندن میں کسی نامعلوم میڈیا کانفرنس میں شرکت سے تو انکار کر دیا تھا مگر یہ ملاقات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ ملاقات کی جو کچھ تفصیلات حاصل ہو سکی ہیں اُس کے مطابق ریحام خان اس امر پر انتہائی غصے میں تھی کہ عمران خان نے کسی طریقہ کار کو طے کئے بغیر یکطرفہ طور پر طلاق دینے کا فیصلہ کیسے کردیا؟ ریحام خان جو عمران خان کی طرف سے طلاق دیئے جانے کے خدشےسے پہلے دوچار تھیں اور کافی دنوں سے بنی گالہ سے باہر نکلنے سے گریز کر رہی تھیں ۔ ریحام خان نے لندن جانے کا فیصلہ بھی اُن دنوں میں کیا جب اُ س کے خیال میں بلدیاتی انتخابات میں سیاسی نقصان پہنچنے کے خدشات کے باعث عمران خان اس قسم کے کسی فیصلےسے گریز کریں گے۔ مگر عمران خان نے بنی گالہ سے ریحام کے نکلتے ہی اپنے ایک بہنوئی سے مشورہ کیا اور نہایت خاموشی سے ایک ای میل کے ذریعے شرعی طلاق بھیج دی۔ ریحام نے لندن پہنچ کر جب اپنے ای میل پرعمران خان کی طرف سے طلاق کی اطلاع دیکھی تو وہ غصے میں لال پیلی ہوگئی تھی۔ اور اُس نے ابتدا میں یہ چاہا کہ معاملات طے ہونے تک طلاق کی خبر افشا نہ کی جائے چنانچہ اُس نے اپنے طور پر ذرائع ابلاغ کو یہ بتایا کہ ہمارے درمیان طلاق کے معاملے پر بات ہوئی ہے مگر ابھی یہ پراسیس شروع نہیں ہوا۔ مگر عمران اس بات کو کسی بھی طرح مزید خفیہ رکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اُدھر ریحام نے لندن سے اپنے اسٹاف کو معمول کے مطابق بنی گالہ جانے کی ہدایت کی مگر یہاں بنی گالہ میں اُنہیں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ چنانچہ ریحام خان ،عمران خان کو اب کوئی بھی رعایت دینا نہیں چاہتی۔ وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ذوالفقار بخاری سے ریحام کی پہلی ملاقات کامیاب نہیں ہو سکی تھی ۔ جس میں ریحام خان نے ذوالفقار بخاری کے سامنے عمران خان کے لیے نہایت ناشائستہ زبان استعمال کرنے کے علاوہ اُن کی زندگی کے بعض ایسے گوشے افشا کرنے کی دھمکیاں بھی دیں جو عمران خان شاید کبھی منظرعام پر لانا نہ چاہیں۔ چنانچہ یہ ملاقات مسلسل سواتین گھنٹے پر پھیل گئی۔ اس دوران میں ذوالفقار بخاری نے عمران خان سے فون پر مسلسل رابطے کرکے ہدایات بھی لیں ۔ مگر یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی۔

ریحام خان سے برطانوی نشریاتی اداروں کے رابطوں کی خبر خود ریحام خان نے ذرائع ابلاغ میں پھیلائی ہے۔تاکہ وہ عمران خان سے ڈیل میں اس کا فائدہ اُٹھا سکے۔

وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ذوالفقار بخاری نے عمران خان کی ہدایت پر کچھ دیر کے لیے خاموشی اختیار کی جس پر ریحام خان نے برطانوی نشریاتی اداروں سے اپنے رابطوں کی خبر افشا کی۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق ریحام خان عمران خان کے مسٹر کلین ہونے کے تاثر پر حملہ آور ہونے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وہ عمران خان کو ملنے والے فنڈز اور چندوں کے پورے عمل کو شبہات سے آلودہ کردینے کے لیے کچھ ٹھوس حقائق جمع کر چکی ہیں۔ مگر وہ اِسے سامنے لانے کے بجائے اِسے سامنے رکھ کر عمران خان سے پہلے ڈیل کرنا چاہتی ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق عمران خان کے قریبی حلقے اس ڈیل کے لیے تیار ہیں مگر اُنہیں یہ یقین نہیں ہے کہ ڈیل کے بعد ریحام خان واقعتاً ڈیل کے مطابق خاموش بھی رہے گی یا نہیں؟ چنانچہ عمران خان کے قریبی حلقوں کی یہ رائے ہے کہ عمران خان کی ریحام سے شادی اتنی نقصان دہ نہیں تھی جتنی کہ طلاق نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر