وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نقص ِامن یا نقضِ امن

هفته 31 اکتوبر 2015 نقص ِامن یا نقضِ امن

urdu words

عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر آئین کے مطابق قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام دینے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ 1973ء کے آئین میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لیے غالباً 10 سال کی مدت طے ہوئی تھی۔ ایسے کئی دس سال گزر گئے۔ لیکن اب عدالت نے نہ صرف حکم جاری کیا ہے بلکہ نئے منصفِ اعلیٰ نے اپنا حلف بھی اردو میں لیا ہے۔ سرکاری سطح پر قومی زبان اردو کی جب اہمیت مسلّم ہوجائے گی تو اردو بولنے، لکھنے میں بھی بہتری آئے گی۔ چین سے تعلقات کے پیش نظر چینی زبان سکھانے کا سرکاری اہتمام کیا جارہا ہے تو کیا عجب کہ صحیح اردو سکھانے پر بھی توجہ دی جائے اور ٹی وی چینل والوں کا تلفظ بھی درست ہوجائے جو ہمارے بچوں کا تلفظ خراب کررہے ہیں۔ مہربخاری صِفَتْ کو صِفْت بروزن گفٹ (Gift) کہیں گی تو سننے والے اسے ہی سند سمجھیں گے۔ مہر سے یاد آیا کہ کچھ لوگ سردمِہری کو بھی سرد مُہری کہتے ہیں۔

اردو کو فروغ دینے کے لیے پہلے اپنے اداروں کے نام اردو میں لکھے جائیں۔ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اچھا بھلا نام ’ادارۂ ترقیات کراچی‘ ہے مگر کتنے لوگ، اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ نام لیتے ہیں! بلکہ اس کا مخفف کے ڈی اے ہی رائج ہے۔ اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ اردو میں نام رکھیں تو مخفف کیا ہو، کیا ’ا۔ ت۔ ک۔‘

بلدیہ کراچی بھی آسانی سے کے ایم سی ہوگیا۔ غور کریں تو ہمارے تمام ادارے اور محکمے انگریزی زدہ اور غیر ملکی ہیں۔ مثلاً ایف آئی اے، سی آئی ڈی، واٹراینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، واٹر اینڈ سیوریج، کراچی اسٹاک ایکسچینج وغیرہ۔ بیشتر سیاسی جماعتوں کے نام میں انگریزی شامل ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان نیشنل پارٹی وغیرہ وغیرہ۔

کسی ایک دن کے اردو اخبارات اٹھاکر دیکھ لیں، سرخیوں اور متن میں انگریزی الفاظ کی بھرمار ہوگی۔ مثال کے طور پر ڈکٹیشن، نیشنل ایکشن پلان، مارکیٹ کریش، یوٹرن، ٹارگٹڈ آپریشن، بریک تھرو، پی۔ اے۔ سی، کرپشن، پارکنگ فیس، ایس بی سی اے (سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی)، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، پنشنرز اسکینڈل، فیکٹ ایگزیبیشنز، ڈس ایبلڈ کرکٹ ٹیم، سول ایوی ایشن اتھارٹی (محکمہ شہری ہوا بازی)، نوٹی فکیشن وغیرہ۔ یہ صرف ایک اخبار (25 اگست) سے ’’مشتے از خروارے‘‘ ہے۔ دوسرے اخبارت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ان میں کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا اردو میں عام فہم متبادل موجود ہے۔ اور جن کا مناسب اور عام فہم متبادل موجود نہیں ان کا ترجمہ متواتر شائع ہو تو عام فہم ہوجائے گا، جیسے انگریزی کے مذکورہ الفاظ۔ ایک کم تعلیم یافتہ شخص تو ان بھاری بھرکم انگریزی الفاظ سے پہلے ہی مانوس نہیں ہے۔ معاملات ’’الارمنگ‘‘ ہیں۔ اس سے مشکل ہے ’’نیشنل انرجی ایفی شئنسی۔ خدا جانے یہ کیا ہے!

چلیے، اس کام میں تو وقت لگے گا لیکن اخبارات میں جو نثر لکھی جارہی ہے وہ تو ذمہ داران کی ذرا سی توجہ سے درست ہوسکتی ہے۔ ایک کثیرالاشاعت اخبار میں آدھے صفحہ پر میجر جنرل ضیاء الدین مرحوم کے بارے میں تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے جو ریٹائرڈ کرنل اعظم قادری نے لکھا ہے۔ اس میں ’’کھوج‘‘ کو مونث لکھا ہے، جب کہ خواہ کتنی ہی پرانی تہذیبوں کا کھوج لگایا جائے، یہ مذکر ہی رہے گا۔ حیرت ہے کہ اسی مضمون میں کرنل صاحب نے ’’کیڈٹ کور‘‘ کو کورپس لکھا ہے، جب کہ CORPS کا تلفظ ’کور‘ ہے۔ لغت میں اس تلفظ کی وضاحت ’’KOHR‘‘ سے کی گئی ہے۔ یہ ایسا تلفظ ہے جس سے ہر فوجی واقف ہے۔ اور جہاں تک کورپس(CORPSE) کا تعلق ہے تو اس کا مطلب لاش ہے۔ ذمہ داران کو تصحیح کردینی چاہیے تھی۔ لیکن منگل 25 اگست کے اسی شمارے میں کالم نگار علی معین نوازش جنرل ضیاء الحق کو 14اگست 1989ء کی تقریب میں موجود دکھا رہے ہیں۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ وہ اگست 1988ء میں شہید ہوگئے تھے۔ کسی کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ شہید مرتے نہیں، زندہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ممکن ہے کہ شہید ضیاء الحق اگلے سال کی تقریب دیکھنے آگئے ہوں اور صرف علی معین کو نظر آئے ہوں۔

لاہور سے ہمارے ’’نادیدہ‘‘ کرم فرما جناب افتخار مجاز نے ایک اور کالم نگار جناب صالح ظافر کی ڈائری کی طرف توجہ دلائی ہے، جنہوں نے میاں نوازشریف کے کراچی میں خطاب کے بارے میں لکھا کہ ’’ان کی حس ظرافت زیادہ ہی پھڑک اٹھا‘‘۔ ہمیں تو اس میں اعتراض کا کوئی پہلو نظر نہیں آیا سوائے اس کے کہ ’’حس‘‘ مذکر ہوگئی۔ اب یہ وزیراعظم کی حس تھی، اسے تو مذکر ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کو مذکر بنانے کے لیے ’’ان کا‘‘ لکھنا زیادہ بہتر ہوتا۔ اور اگر حسِ ظرافت کے پھڑکنے پر اعتراض ہے تو بھائی اگر ’’رگِ ظرافت‘‘ پھڑک سکتی ہے تو حس بھی پھڑک سکتی ہے۔ کسی کا مصرع ہے ’’پسلی پھڑک اٹھی ہے نگہِ انتخاب کی‘‘۔ یعنی نگاہ کی پسلی بھی ہے اور پھڑکتی بھی ہے۔میرا نیس تو یہ بھی کہہ گئے کہ ’’پڑ جائیں لاکھ آبلے پائے نگاہ میں‘‘۔ گویا نگاہ کی صرف پسلیاں ہی نہیں، پیر بھی ہوتے ہیں۔ پھر ہاتھ بھی ہوتے ہوں گے۔ چنانچہ حس اگر ’بے حس‘ نہ ہو تو پھڑک بھی سکتی ہے اور بھڑک بھی۔ یہ چھوٹی موٹی کوتاہیاں یا سہوِ قلم ہے جسے مدیران خود ٹھیک کرسکتے ہیں بشرطیکہ انہیں صحیح، غلط کا علم ہو۔ ایک کالم نگار نے جسارت میں لکھا ہے ’’احساس محرومی بڑھتی ہے‘‘۔ انہوں نے مذکر، مونث کا تعین محرومی سے کیا ہے۔ جسارت ہی میں ایک فاضل سب ایڈیٹر اب بھی عوام کو مونث واحد لکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے وہ بھی ٹی وی پروگرام زیادہ دیکھتے ہوں۔

ایک لفظ ہے نقض امن۔ اس کے آخر میں ’ص‘ نہیں ’ض‘ ہے لیکن اس کو عموماً نقص امن لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے تو ’ن‘ پر پیش بھی لگا دیا۔

ایک لفظ ہے نقض امن۔ اس کے آخر میں ’ص‘ نہیں ’ض‘ ہے لیکن اس کو عموماً نقص امن لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے تو ’ن‘ پر پیش بھی لگا دیا۔ غالباً انہوں نے اس کا تعلق نقصان سے جوڑا۔ اب کہیں نقض امن لکھیں تو پروف ریڈر ٹھیک کردیتے ہیں، اور کسی کے سامنے بولو تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ یہ بات اپنی جگہ کہ نقص کہنا زبان پر آسان ہے۔ لیکن یہ لفظ ہے نقض ہی۔ اس سے اور بھی مشتقات ہیں مثلاً ’’متناقض، تناقض، نقیض وغیرہ۔ متناقض کا مطلب ہے: مخالف، برعکس، الٹا، خلاف۔ اور نقض کا مطلب ہے: جھگڑا، فساد، امن شکنی۔ نقض اور امن دونوں الفاظ عربی کے ہیں، مگر یہ ترکیب فارسی ہے۔ نقض عہد کا مطلب ہوگا: وعدہ خلافی، عہد شکنی۔ اور نقص (ن پر زبر) کا مطلب ہے: کم کرنا، کم ہونا، کجی، کوتاہی، کسر، عیب، برائی، کھوٹ وغیرہ۔

ماہنامہ ’قومی زبان‘ کے شمارہ اگست میں ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا مضمون ’’ذرائع ابلاغ اور املائی مسائل‘‘شائع ہوا ہے۔ یہ پورا مضمون ایسا ہے جسے پورے کا پورا اور بار بار شائع کیا جائے۔ ہم اس کا ایک اقتباس پیش کیے دیتے ہیں:

’’ٹی وی کے بیشتر چینل لفظ ’’عوام‘‘ کو مذکر اور جمع کی بجائے (کے بجائے) مونث اور واحد بولتے ہیں یعنی ’’عوام سوچ رہی ہے‘‘۔ ان کی دیکھا دیکھی اب اخبارات بھی اسی طرح لکھنے لگے ہیں …… املا کی بھی عجیب غلطیاں دکھائی دینے لگی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اردو کے ایک بہت بڑے اخبار میں خانہ پُری کو خانہ پوری لکھا ہوا دیکھا۔ یہی اخبار دکھانا کو دیکھانا لکھنے لگا ہے۔ ایم فل کا ایک مقالہ راقم کے پاس تنقیح کے لیے بھیجا گیا۔ اس مقالہ نگار نے بٹھانا کا املا بیٹھانا اور دکھانا کا املا دیکھانا کیا تھا۔ اب تو ایک بڑا اخبار بالکل کوبلکل لکھنے لگا ہے۔‘‘

امید ہے کہ مذکورہ طالب علم نے ایم فل کرلیا ہوگا اور اب پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے ہوں گے۔ ایک جماعت نے یوم اردو منانے کا اعلان کیا ہے اور اس کی طرف سے جاری خبر میں لکھا ہے کہ ’’اسمبلی حال سے ریلی نکالی جائے گی‘‘۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام قومی نفاذ اردو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی زبان تحریک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ہر صوبے میں اردو اور علاقائی زبان پڑھائی...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے بھی نئے خریدار بن نہیں رہے ۔ بتانے لگا کہ کسی زمانے میں انگریزی کی ریڈرز ڈائجسٹ دُکان پر دو سوکے لگ بھگ آتی اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتیں۔ طلبہ اورکم آمدنی والے نوجوان پرانے شمار ے سستے داموں فراہم کرنے ...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ