... loading ...

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے سے ایک سال قبل ہی امریکا کو یقین دہانی کرا دی تھی کہ اگر صدام حسین کے خلاف کارروائی کی گئی تو وہ امریکا کی مکمل حمایت کرے گا۔ یہ انکشاف برطانیہ کے اخبار ‘ڈیلی میل’ نے ایک نئی خفیہ دستاویز کے حوالے سے کیا ہے۔
اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے لیے ایک یادداشت میں وزیر خارجہ کولن پاول نے لکھا تھا کہ “ہم جیسے جیسے دہشت گردی اور عراق کے خلاف جنگ میں آگے بڑھیں گے، بلیئر بدستور آپ اور امریکا کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ وہ آپ کی تزویراتی، تدبیراتی اور عوامی امور کی گفتگو کریں گے جو ان کے خیال میں ہمارے مشترکہ مقصد کے لیے عالمی حمایت کو بڑھائے گی۔”
یکم اپریل 2012ء کو ‘ڈی کلاسیفائی’ ہونے والی یہ یادداشت اپریل 2002ء کے اوائل میں برطانوی وزیراعظم کے دورۂ امریک سے قبل صدر جارج بش کو دی گئی ایک بریفنگ کا حصہ تھی۔ پاول نے بش کو بتایا تھا کہ “ٹونی بلیئر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آپ کے ساتھ کرافورڈ میں وقت گزارنا چاہتے ہیں تاکہ آپ اور لارا بش کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو بھی مزید بہتر بنا سکیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “بلیئر افغانستان، عراق، مشرق وسطیٰ، روس اور نیٹو میں توسیع اور تجارت و ترقی کے موضوعات پر آپ سے بات کرنا چاہیں گے۔”
باہمی تعاون صرف عراق تک محدود نہیں تھا، یادداشت کے مطابق “بلیئر اور برطانیہ طویل عرصے سے ہمارے ساتھ افغانستان میں ہیں۔ وہ 1700 کمانڈوز پیش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں حالانکہ ان کے ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ برطانوی افواج سخت دباؤ میں ہیں۔ افغانستان میں بین الاقوامی سیکورٹی امدادی افواج (ایساف) کی قیادت پر ترکی کو مائل کرنے کے لیے متحرک سیاسی، عسکری اور مالیاتی امداد کا بھی برطانیہ خیرمقدم کرتا ہے۔”
“عراق کے خلاف اگر فوجی آپریشن ضروری ہوا تو بلیئر ہمارے ساتھ ہوں گے۔ وہ دو نکات پر قائل ہیں: خطرہ حقیقت پر مبنی ہے؛ اور صدام حسین کے خلاف یہ کارروائی مزید علاقائی کامیابیاں فراہم کرے گی۔ ان کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع قائل ہیں البتہ کابینہ تقسیم ہے۔ لیبر پارٹی اور برطانوی عوام عسکری کارروائی کی ضرورت پر قائل نہیں ہیں۔ اب بلیئر اپنے خیالات پیش کریں گے کہ عراق سے بین الاقوامی امن کو کیا خطرات درپیش ہیں؟ اور عراق کے پڑوسیوں کو اپنے ساتھ کیسے ملایا جائے؟ ساتھ ساتھ برطانیہ خطے اور یورپ میں حمایت کو بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ساتھی بنے گا اور یہ بھی ظاہر کرے گا کہ آنے والے دنوں کے لیے ہم نے کیا سوچ رکھا ہے۔
1997ء سے 2007ء تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہنے والے ٹونی بلیئر بارہا تردید کرچکے ہیں کہ انہوں نے عراق کے خلاف جنگ میں جلد بازی دکھائی تھی اور اب بھی یہی کہتے ہیں کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے سے عراق سے دنیا کو درپیش ایک ممکنہ جوہری خطرہ ختم ہوا ہے۔
عراق پر حملے اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بارے میں مزید انکشافات بھی وقت کے ساتھ ساتھ ہوتے رہیں گے، لیکن عالمی سیاسی “رہنماؤں” پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ صرف عراق میں امریکی و اتحادی جارحیت سے 10 لاکھ افراد کی جانیں گئیں، اور ملک ہمیشہ کے لیے داخلی و خارجی مسائل سے دوچار ہوا۔ اس پر کسی کا احتساب شاید کبھی نہ ہو۔
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...
مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...
شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...
ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...
صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...
وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...
عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...