وجود

... loading ...

وجود

کوئٹہ میں حالات بہتر مگر کارروائیاں جاری

بدھ 09 ستمبر 2015 کوئٹہ میں حالات بہتر مگر کارروائیاں جاری

BLA

بلوچستان کے حالات میں بلاشبہ قدرے بہتری آئی ہے ۔حکومت کے دعوے اپنی جگہ درست ، لیکن مکمل امن کے قیام کے لئے ابھی مزید جتن کرنے ہوں گے۔ مشکلات مختلف النوع ہیں۔ یعنی صوبے میں خوشحالی کے دن کے لوٹنے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہوگا۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کے طول و عرض میں فرنٹیئر کور، پولیس ، لیویز اور حساس اداروں کی کارروائیاں رپورٹ ہورہی ہیں، دہشتگرد مارے جاتے ہیں، گرفتار ہوتے ہیں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں سے بھاری اسلحہ برآمد کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ناخوشگوار واقعات یعنی تخریب کاری اور دہشت گردی پر مبنی واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ کوئٹہ کے اندر بھی اس نوعیت کے واقعات وقتاً فوقتاًہوتے رہتے ہیں۔ مکران ریجن میں تعمیراتی کمپنیوں سے وابستہ افراد نشانا بن رہے ہیں۔

سابق ڈی آئی جی پولیس قاضی عبدالواحدکے قتل سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تنظیمیں اگر کوئی پولیس اہلکار یا افسر ریٹائرڈ بھی ہوتا ہے تو انہیں ہدف بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ر ہتی ہیں

ساحلی شہر گوادر سے تقریباً چالیس کلو میٹر دور جیوانی کے مقام پر ائیرپورٹ پر شدت پسندوں کا منظم حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انکی قوت تمام تر کوششوں کے باوجود مجتمع ہے۔ یہ واقعہ اتوار 24؍اگست 2015ء کو پیش آیا۔ کئی موٹر سائیکلوں پر مسلح افراد نے ائیرپورٹ پر حملہ کردیا،ریڈارسسٹم کو تباہ کردیا۔ حساس آلات اور مواصلات کو پیٹرول ڈال کر آگ لگادی۔ جدید اسلحہ سے لیس ان ملزمان نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ سول ایوی ایشن کے اسسٹنٹ انجینئر خلیل اللہ کو قتل کردیا۔ اسی جگہ الیکٹرانکس سپروائزر الطاف حسین کو گولیاں ماریں مگر اللہ نے انہیں محفوظ رکھا، وہ زخمی ہوگئے۔ ایئر پورٹ کے انچارج خالد محمود نیازی کو ہمراہ لے گئے اور ’’درون‘‘ کے مقام پر ان کی گو لیوں سے چھلنی لاش ملی۔ رات گئے ائیر پورٹ پر حملہ ہوا اور مسلح افراد آسانی سے اپنے ٹھکانوں کو فرار ہوگئے۔ ایرانی سرحد بھی قریب واقع ہے۔ جاں بحق اہلکار کراچی کے رہائشی تھے ۔ حملہ آوروں نے مقامی افراد کی جاں بخشی کرکے چھوڑ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جیوانی کا یہ ایئر پورٹ پندرہ سالوں سے غیر فعال تھا ۔محض ہنگامی صورتحال میں اس ہوائی ڈگر کا استعمال ہوتا تھا، البتہ عملہ ڈیوٹی پر موجود رہتا تھا۔ ایئر پورٹ کے ریڈار سسٹم سے بین الاقوامی پروازوں کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لاس لحاظ سے اس ایئر پورٹ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اس حملے سے گوایا ایئر پورٹ میں نصب مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کے حملے کے وقت ائیر پورٹ پر سیکورٹی مامور نہ تھی۔ ان جنگی حالات میں بھی اگرا حساس ذمہ داری کا یہ عالم ہو تو امن کیسے قا ئم ہوگا اور کیا اس طرز عمل سے کسی کی جان و مال اور قومی تنصیبات کا تحفظ یقینی ہو سکتا ہے؟

اس سے قبل بھی اس نوعیت کا ایک اور حملہ پسنی میں ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود غفلت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور پھر یہ پورا علاقہ حساس ہے۔ کوئٹہ میں مسلح افراد نے سابق ڈی آئی جی پولیس قاضی عبدالواحد کو سریاب کے علاقے عارف گلی میں ان کے گھر کے قریب گولیاں برسا کر قتل کردیا۔ 2ستمبر2015ء کی رات وہ اپنی گاڑی میں رہائشگاہ سے نکلے کچھ ہی فاصلے پر تاک میں بیٹھے افراد نے انہیں نشانابنایا ۔ قاضی واحد جب سروس میں تھے تب بھی ان کی جان محفوظ نہیں تھی اور یہ خطرہ لشکر جھنگوی سے تھا۔ مغربی بائی پاس پر پولیس مقابلے میں لشکر جھنگوی کے ترجمان علی شیر حیدری ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت قاضی واحد ڈی آئی جی آپریشن تھے۔ اس مسلح تنظیم کے کئی اہم کمانڈر اور منصوبہ ساز مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں ، جس کے بعد ان کی کے کارروائیوں میں واضح کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔ لیکن اکا دکا واقعات پھر بھی ہوتے رہتے ہیں۔ قاضی واحد کی ٹارگٹ کلنگ کو اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ وہ پرانے انتقام کا ہدف بن چکے ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے قتل کی ذمہ داری قبول بھی کرلی ہے۔ قاضی واحد کو سنگینی کا اندازا تھا۔ چنانچہ انہیں سریاب سے رہائشگاہ منتقل کردینی چاہیے تھی ۔ اس عرصے میں یہ اطلاع بھی آئی کہ مرحوم نے لشکر جھنگوی سے معاملات طے کرلیے ہیں۔ ان کے قتل سے اندازا لگانا چاہیے کہ یہ تنظیمیں اگر کوئی پولیس اہلکار یا آفیسر ریٹائرڈ بھی ہوتا ہے، تو انہیں ہدف بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ر ہتی ہیں۔

وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے یکم ستمبر کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو طلب کرکے انھیں بتایا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے دو اہم ٹارگٹ کلرز گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ ان میں ایک شخص محمد ابراہیم نیچاری کوئٹہ جبکہ شفقت علی رودینی خضدار کا رہائشی بتایا گیا ۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ان دو افراد نے کوئٹہ کے اندر کئی سنگین وارداتیں کی ہیں جن میں سرفہرست بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل حبیب جالب ایڈووکیٹ، انوائرمینٹل ٹربیونل کے جج سخی سلطان ایڈووکیٹ اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ارشاد احمد مستوئی کی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ یہ افراد جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمداللہ کے قتل کی منصوبہ بندی بھی کررہے تھے تاکہ اس کے بعد پشتون قبائل میں منافرت اور تصادم پیدا ہو۔ اسی طرح وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کو مارنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی تاکہ ان کے قتل کا الزام حساس اداروں پر عائد کیا جائے۔ ارشاد احمد مستوئی کا قتل 28 اگست 2014ء کو ان کے دفتر میں ہوا تھا۔ اس دوران ملزمان نے وہاں کام کرنے والے عبدالرسول اور محمد یونس کو بھی قتل کردیا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بٹھایا جس میں صحافی پیش نہ ہوئے۔ اس طرح جوڈیشل کمیشن کا کام مکمل نہ ہوسکا۔ ان دو افراد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر کوئٹہ میں تخریب کاری اور دہشتگردی کے کئی واقعات کا اقرار کیا ہے ۔ حجام ، فرنیچر ، ویلڈنگ کی دکانوں پر فائرنگ، دستی بم حملے اور آباد کاروں کو قتل کیا ہے ۔ ایک ملزم محمد ابراہیم نیچاری کوئٹہ کے شیخ زید اسپتال کے ملازم بھی ہے۔ اعترافی ویڈیو میں ایک ملزم شفقت علی یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں ہدایت دی گئی تھی کہ ماما قدیر کے ساتھ بھی وہی کریں گے جو ہم نے حبیب جالب کے ساتھ کیا تھا یعنی ماریں گے اور ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ گویا یہ اقرار ہے کہ حبیب جالب کو بھی اسی گروہ نے قتل کیا تھا۔ لیکن حبیب جالب کیس میں ملزمان بہت پہلے گرفتار ہوچکے ہیں ۔ اس وقت کے آئی جی پولیس ملک محمد اقبال نے 13؍اگست 2010ء کو خود میڈیا کے سامنے تفصیلات پیش کردی تھیں۔ بی این پی تو الزام سرکار پر دھرتی ہے لیکن اپنے دعوے پر بی این پی نے بہت زیادہ زور نہیں دیا۔ پولیس کی تفتیس سے البتہ یہ بات سامنے آئی کہ ان کے قتل کے اسباب کچھ اور تھے۔ یعنی نجی معاملہ بتایا گیا تھا۔ اب اچانک بی ایل اے کے گرفتار کارندوں کے اقرار کے بعد دفن معاملہ پھر زندہ ہوگیا ہے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی طرف سے بھی تادم تحریر کوئی رد عمل نہیں آیا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر