وجود

... loading ...

وجود

کوئٹہ میں حالات بہتر مگر کارروائیاں جاری

بدھ 09 ستمبر 2015 کوئٹہ میں حالات بہتر مگر کارروائیاں جاری

BLA

بلوچستان کے حالات میں بلاشبہ قدرے بہتری آئی ہے ۔حکومت کے دعوے اپنی جگہ درست ، لیکن مکمل امن کے قیام کے لئے ابھی مزید جتن کرنے ہوں گے۔ مشکلات مختلف النوع ہیں۔ یعنی صوبے میں خوشحالی کے دن کے لوٹنے میں ایک لمبا عرصہ درکار ہے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہوگا۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کے طول و عرض میں فرنٹیئر کور، پولیس ، لیویز اور حساس اداروں کی کارروائیاں رپورٹ ہورہی ہیں، دہشتگرد مارے جاتے ہیں، گرفتار ہوتے ہیں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں سے بھاری اسلحہ برآمد کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ناخوشگوار واقعات یعنی تخریب کاری اور دہشت گردی پر مبنی واقعات بھی رونما ہورہے ہیں۔ کوئٹہ کے اندر بھی اس نوعیت کے واقعات وقتاً فوقتاًہوتے رہتے ہیں۔ مکران ریجن میں تعمیراتی کمپنیوں سے وابستہ افراد نشانا بن رہے ہیں۔

سابق ڈی آئی جی پولیس قاضی عبدالواحدکے قتل سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تنظیمیں اگر کوئی پولیس اہلکار یا افسر ریٹائرڈ بھی ہوتا ہے تو انہیں ہدف بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ر ہتی ہیں

ساحلی شہر گوادر سے تقریباً چالیس کلو میٹر دور جیوانی کے مقام پر ائیرپورٹ پر شدت پسندوں کا منظم حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انکی قوت تمام تر کوششوں کے باوجود مجتمع ہے۔ یہ واقعہ اتوار 24؍اگست 2015ء کو پیش آیا۔ کئی موٹر سائیکلوں پر مسلح افراد نے ائیرپورٹ پر حملہ کردیا،ریڈارسسٹم کو تباہ کردیا۔ حساس آلات اور مواصلات کو پیٹرول ڈال کر آگ لگادی۔ جدید اسلحہ سے لیس ان ملزمان نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ سول ایوی ایشن کے اسسٹنٹ انجینئر خلیل اللہ کو قتل کردیا۔ اسی جگہ الیکٹرانکس سپروائزر الطاف حسین کو گولیاں ماریں مگر اللہ نے انہیں محفوظ رکھا، وہ زخمی ہوگئے۔ ایئر پورٹ کے انچارج خالد محمود نیازی کو ہمراہ لے گئے اور ’’درون‘‘ کے مقام پر ان کی گو لیوں سے چھلنی لاش ملی۔ رات گئے ائیر پورٹ پر حملہ ہوا اور مسلح افراد آسانی سے اپنے ٹھکانوں کو فرار ہوگئے۔ ایرانی سرحد بھی قریب واقع ہے۔ جاں بحق اہلکار کراچی کے رہائشی تھے ۔ حملہ آوروں نے مقامی افراد کی جاں بخشی کرکے چھوڑ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جیوانی کا یہ ایئر پورٹ پندرہ سالوں سے غیر فعال تھا ۔محض ہنگامی صورتحال میں اس ہوائی ڈگر کا استعمال ہوتا تھا، البتہ عملہ ڈیوٹی پر موجود رہتا تھا۔ ایئر پورٹ کے ریڈار سسٹم سے بین الاقوامی پروازوں کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ لاس لحاظ سے اس ایئر پورٹ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اس حملے سے گوایا ایئر پورٹ میں نصب مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کے حملے کے وقت ائیر پورٹ پر سیکورٹی مامور نہ تھی۔ ان جنگی حالات میں بھی اگرا حساس ذمہ داری کا یہ عالم ہو تو امن کیسے قا ئم ہوگا اور کیا اس طرز عمل سے کسی کی جان و مال اور قومی تنصیبات کا تحفظ یقینی ہو سکتا ہے؟

اس سے قبل بھی اس نوعیت کا ایک اور حملہ پسنی میں ہوچکا ہے مگر اس کے باوجود غفلت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور پھر یہ پورا علاقہ حساس ہے۔ کوئٹہ میں مسلح افراد نے سابق ڈی آئی جی پولیس قاضی عبدالواحد کو سریاب کے علاقے عارف گلی میں ان کے گھر کے قریب گولیاں برسا کر قتل کردیا۔ 2ستمبر2015ء کی رات وہ اپنی گاڑی میں رہائشگاہ سے نکلے کچھ ہی فاصلے پر تاک میں بیٹھے افراد نے انہیں نشانابنایا ۔ قاضی واحد جب سروس میں تھے تب بھی ان کی جان محفوظ نہیں تھی اور یہ خطرہ لشکر جھنگوی سے تھا۔ مغربی بائی پاس پر پولیس مقابلے میں لشکر جھنگوی کے ترجمان علی شیر حیدری ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت قاضی واحد ڈی آئی جی آپریشن تھے۔ اس مسلح تنظیم کے کئی اہم کمانڈر اور منصوبہ ساز مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں ، جس کے بعد ان کی کے کارروائیوں میں واضح کمی دیکھنے کو ملی ہے ۔ لیکن اکا دکا واقعات پھر بھی ہوتے رہتے ہیں۔ قاضی واحد کی ٹارگٹ کلنگ کو اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ وہ پرانے انتقام کا ہدف بن چکے ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے قتل کی ذمہ داری قبول بھی کرلی ہے۔ قاضی واحد کو سنگینی کا اندازا تھا۔ چنانچہ انہیں سریاب سے رہائشگاہ منتقل کردینی چاہیے تھی ۔ اس عرصے میں یہ اطلاع بھی آئی کہ مرحوم نے لشکر جھنگوی سے معاملات طے کرلیے ہیں۔ ان کے قتل سے اندازا لگانا چاہیے کہ یہ تنظیمیں اگر کوئی پولیس اہلکار یا آفیسر ریٹائرڈ بھی ہوتا ہے، تو انہیں ہدف بنانے کی حکمت عملی پر کاربند ر ہتی ہیں۔

وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے یکم ستمبر کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو طلب کرکے انھیں بتایا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے دو اہم ٹارگٹ کلرز گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ ان میں ایک شخص محمد ابراہیم نیچاری کوئٹہ جبکہ شفقت علی رودینی خضدار کا رہائشی بتایا گیا ۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ان دو افراد نے کوئٹہ کے اندر کئی سنگین وارداتیں کی ہیں جن میں سرفہرست بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل حبیب جالب ایڈووکیٹ، انوائرمینٹل ٹربیونل کے جج سخی سلطان ایڈووکیٹ اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ارشاد احمد مستوئی کی ٹارگٹ کلنگ ہے۔ یہ افراد جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمداللہ کے قتل کی منصوبہ بندی بھی کررہے تھے تاکہ اس کے بعد پشتون قبائل میں منافرت اور تصادم پیدا ہو۔ اسی طرح وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کو مارنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی تاکہ ان کے قتل کا الزام حساس اداروں پر عائد کیا جائے۔ ارشاد احمد مستوئی کا قتل 28 اگست 2014ء کو ان کے دفتر میں ہوا تھا۔ اس دوران ملزمان نے وہاں کام کرنے والے عبدالرسول اور محمد یونس کو بھی قتل کردیا تھا۔ حکومت نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بٹھایا جس میں صحافی پیش نہ ہوئے۔ اس طرح جوڈیشل کمیشن کا کام مکمل نہ ہوسکا۔ ان دو افراد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر کوئٹہ میں تخریب کاری اور دہشتگردی کے کئی واقعات کا اقرار کیا ہے ۔ حجام ، فرنیچر ، ویلڈنگ کی دکانوں پر فائرنگ، دستی بم حملے اور آباد کاروں کو قتل کیا ہے ۔ ایک ملزم محمد ابراہیم نیچاری کوئٹہ کے شیخ زید اسپتال کے ملازم بھی ہے۔ اعترافی ویڈیو میں ایک ملزم شفقت علی یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں ہدایت دی گئی تھی کہ ماما قدیر کے ساتھ بھی وہی کریں گے جو ہم نے حبیب جالب کے ساتھ کیا تھا یعنی ماریں گے اور ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ گویا یہ اقرار ہے کہ حبیب جالب کو بھی اسی گروہ نے قتل کیا تھا۔ لیکن حبیب جالب کیس میں ملزمان بہت پہلے گرفتار ہوچکے ہیں ۔ اس وقت کے آئی جی پولیس ملک محمد اقبال نے 13؍اگست 2010ء کو خود میڈیا کے سامنے تفصیلات پیش کردی تھیں۔ بی این پی تو الزام سرکار پر دھرتی ہے لیکن اپنے دعوے پر بی این پی نے بہت زیادہ زور نہیں دیا۔ پولیس کی تفتیس سے البتہ یہ بات سامنے آئی کہ ان کے قتل کے اسباب کچھ اور تھے۔ یعنی نجی معاملہ بتایا گیا تھا۔ اب اچانک بی ایل اے کے گرفتار کارندوں کے اقرار کے بعد دفن معاملہ پھر زندہ ہوگیا ہے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی طرف سے بھی تادم تحریر کوئی رد عمل نہیں آیا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر