وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

افغان امن: پاکستانی مقتدرہ کا اصل امتحان

اتوار 06 ستمبر 2015 افغان امن: پاکستانی مقتدرہ کا اصل امتحان

general-raheel-ashraf-ghani

وزیر اعظم نواز شریف اور مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی حالیہ ملاقات میں ایک بار پھر افغانستان میں قیامِ امن کے لئے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ درحقیقت پاکستان کی نوکر شاہی کے لئے افغانستان میں قیام ِ امن اور وہاں متحارب گروہوں میں ایک نمائندہ اجتماعی نظم کا قیام ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔

افغانستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری مسلسل جنگ نے پورے افغانستان کو ایک کھنڈر میں بدل دیا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ افغان عوام آئے دن کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی مسلسل بڑھتی تعداد ایک اور طرح کے المئے سے گزر رہا ہے۔ طالبان کی ستمبر ۱۹۹۶ء میں کابل پر عملداری قائم ہونے کے بعد یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب افغانستان میں خانہ جنگی اور بدامنی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا۔طالبان ایک کامیاب حکومت کی بنیاد رکھ کر اپنی پیش رو جہادی تنظیموں کی غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔مگر بوجوہ ایسا نہ ہوسکا۔طالبان نے ایک طرف شریعت کی سخت گیر تعریف کے ساتھ ایک جبری ماحول پیدا کردیا تو دوسری جانب عالمی برادری نے اُسامہ بن لادن اور دیگر جہادی تنظیموں کی حمایت پر طالبان کو نہ صرف الگ تھلگ کر دیا بلکہ اُن پر ادویات اور غذائی اجناس کی فراہمی تک پر پابندی لگادی۔اس دوران میں افغانستان کے پڑوسی ممالک نے یہاں اپنی مداخلت جاری رکھی۔یہاں تک کہ روس بھی اس مداخلت میں برابر ملوث رہا۔طالبان مخالف باغیوں کو اسلحہ ، گولہ بارود اور دیگر امداد فراہم کی جاتی رہیں، اگر چہ یہ مخالفین سکڑتے سکڑتے صرف پنج شیر تک ہی محددو رہ گئے تھے، مگر اس مسلسل امداد کے باعث جنگ کے فوری خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔

امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کی جانب سے اکتوبر ۲۰۰۱ء میں ایک جنگ کے ذریعے طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ مگر عالمی برادری نے ۲۰۰۱ء میں بون کانفرنس کے ذریعے ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظم قائم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی نوید دی۔تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔ ایک دکھاوے کے مسلسل انتخابات کے ذریعے حامد کرزئی کے صدر بن جانے کے باوجود حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ طالبان اور دیگر مسلح مزاحمتی تنظیموں کی کارروائیاں زور پکڑتی گئیں۔یہاں تک کہ امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کا غرور خاک میں مل گیااور وہ مکمل شکست سے دوچاہو ئے۔امریکا نے دسمبر ۲۰۱۴ء تک اپنے تمام فوجی دستے افغانستان سے واپس بُلائے۔اور وہاں سے اپنی جنگی مہم کے خاتمے کا اعلان کیا۔تاہم اُس نے افغان حکومت کے ساتھ دوطرفہ معاہدۂ امن کی رو سے اپنے کئی فوجی دستوں کو افغانستان میں باقی رکھنے کا فیصلہ کیا۔عالمی برادری ، امریکا اور مغربی طاقتوں نے افغانستان میں قیامِ امن کے لئے متعدد کوششیں کی ۔ان طاقتوں نے ایک طرف’’ افغان ہائی پیس کونسل‘‘ کی حمایت کے ذریعے مسلح مخالفین کو لڑائی ترک کرنے اور اُنہیں افغان آئین کے تحت زندگی گزارنے کی غرض سے سرنڈر کرنے پر اُبھارا۔چنانچہ کونسل نے اس میں کروڑوں ڈالر پھونک ڈالے۔مگر یہ پیسے امن کے حقیقی عمل پر خرچ ہونے کے بجائے بدعنوان افغان اہلکاروں کی جیبوں میں چلے گئے۔اس کے علاوہ جرمنی، ناروے، فرانس، انگلینڈ اور متعدد دیگر یورپی ممالک بھی افغان عمل کے نام پر بروئے کار رہے۔مگر کسی کی کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں۔کیونکہ حکومت کی اہم ترین مخالف تنظیم طالبان نے اُن کا ساتھ نہیں دیا۔مغربی طاقتوں اور افغان حکومت نے اپنا من پسند منصوبہ کامیاب کرنے کے لئے طالبان تحریک کو ایک طرف دھکیل کر طالبان کے نمائندوں کے نام پر کچھ اجنبی چہروں کو سامنے لانے کی کوششیں کی۔لیکن ان چہروں کی پشت پر کوئی مسلح قوت نہ تھی اس لئے یہ امن منصوبے میں مطلوبہ جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ مغربی طاقتوں نے آخری حد پر جاکر طالبان تحریک کی قیادت میں ہی پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کی اور اُن میں سے ایک دھڑے کو ساتھ ملانے کے منصوبے بنائے۔ مگر دیگر کوششوں کی طرح اس نے بھی ناکامی کا منہ دیکھا۔

عالمی برادری اور کابل کے سرکردہ لوگوں کاخیال ہے کہ پاکستان نے طالبان پر اپنے اثرورسوخ کے حوالے سے جو دعوے کئے ہیں ، وہ مبالغے پر مبنی ہیں

قطر میں طالبان کا رابطہ دفتر کھلنے کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ اب بین الاقوامی برادری آسانی سے اصلی طالبان سے رابطہ کر سکیں گے۔اور یوں قیامِ امن کے حوالے سے طالبان سے جو عدمِ تعاون کی شکایت کی جارہی تھی وہ جاتی رہے گی۔تاہم قطر دفتر کے فعال کردار میں کچھ علاقائی طاقتوں نے روڑے اٹکانے شروع کر دیئے۔اُن سے تعاون کے بجائے مخالفت کی گئی۔قطر دفتر کی مخالفت کے ضمن میں دیگر ممالک کی بہ نسبت پاکستان سے زیادہ شکایتیں کی جاتی تھیں۔چینی حکومت سے طالبان کے روابط قطر دفتر کے توسط سے شروع ہوئے تھے۔تاہم اطلاعات کے مطابق پاکستان بعد میں اِن روابط کو اپنے توسط سے جاری رکھنے پر مُصر تھا۔چنانچہ چین جاتے ہوئے طالبان وفد کے سفر میں مبینہ طور پر مشکلات کھڑی کی جاتی رہیں۔یہاں تک کہ پاکستان میں مقیم طیب آغا کے دو بھائیوں کو پاکستانی اہلکاروں نے اُٹھا کر قید بھی کرلیا۔عالمی برادری کا خیال تھا کہ پاکستان یہ سب کچھ افغان معاملے کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لئے کررہا تھا۔اُن حلقوں میں یہ تبصرے ہورہے تھے کہ پاکستان طالبان پر اپنے اثرورسوخ کی بدولت افغان امن کے عمل میں ایک قابلِ لحاظ کردار کا خواہاں ہے۔عالمی برادری کو طالبان پر پاکستانی اثر کایقین تھا۔اور شاید وہ اِسی اثر کی بدولت پاکستان کو امن کے عمل میں ایک مناسب کردار بھی دینے پر رضامند تھی۔چنانچہ افغان صدر اشرف غنی نے انتخابی جھمیلوں ، قومی انتخاب کی حکومت اور دیگر بنیادی اُمور سے فراغت کے بعد امن عمل پر توجہ مرکوز کر دی۔اور اِس ضمن میں پاکستان کو کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

پاکستان ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۴ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کی وجہ سے صدمے کی کیفیت میں تھا۔اور حکومت نے ’’قومی ایکشن پلان‘‘ کی رو سے پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف تابڑ توڑ حملے شروع کر رکھے تھے۔توقع یہ کی جارہی تھی کہ پاکستان جس تیزی سے اپنے ہاں دہشت گردوں کا قلع قمع کر رہا ہے ، اُسی تیزی سے وہ افغان امن کے عمل میں بھی تعاون کرے گا۔تاہم ایسا عملاً نہ ہوسکا۔ پاکستان نے اپنے تئیں طالبان قیادت کو افغان حکومت سے مذاکرات پر رضامند کرنے کی بہتیری کوششیں کی۔ یہاں تک کہ اُنہیں صرف ایک بار مذاکرات میں شریک ہوکر مستقل بائیکاٹ کرنے کی بھی اپیل کی۔مگر طالبان قیادت نے پاکستان کی خواہشات کے برعکس اپنی ترجیحات اور اپنے وقت پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ طالبان حکمت کاروں کے نزدیک یہ وقت مذاکرات کے لئے موزوں نہیں تھا، لہذا اُنہوں نے یہ کہہ کر خود کو الگ تھلگ کر لیا کہ مذاکرات کا اختیار قطر دفتر کو دے دیا گیا ہے۔ وہ جس وقت اور جہاں چاہیں مذاکرات کر سکتے ہیں۔چین کے شہر ارومچی اور بعد میں پاکستان کے پر فضامقام مری میں طالبان نمائندوں کے نام پر جو لوگ مذاکرات میں شریک ہوئے، اُن کے بارے میں اب یہ خبریں مل رہی ہیں کہ وہ درحقیقت طالبان کے قائد ملا اختر منصور کی رضامندی کے بغیراور محض پاکستانی اداروں کے دباؤ میں شریک ہوئے تھے۔عالمی حلقوں اور یہاں کابل میں بھی اب یہ تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی حکام نے بین الاقوامی برادری کے سامنے طالبان پر اثرورسوخ کی کمّیت اور کیفیت کے حوالے سے مبالغہ کیا ہے۔اور اس ضمن میں پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو طالبان پر اپنے اثرورسوخ کے حوالے سے اب اپنی حیثیت کا اندازا ہوچکا ہے اور عالمی برادری بھی پاکستانی اثرورسوخ کے حوالے سے اپنے اندازوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس دوران میں طالبان کے نئے امیر کے انتخاب سے اس تزویراتی کھیل کی نوعیت یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ ملا اختر منصور ایک مقتدر اور خود مختار رہنما کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔کابل میں یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ مری مذاکرات میں شرکت کرنے والے پاکستان کے’’ نمائشی طالبان ‘‘(یہ اصطلاح حکومت کے اہم ادارے کے ایک ذمہ دار نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے استعمال کی)ایک کمزور اور ناراض دھڑے میں شامل ہو کر اپنی رہی سہی حیثیت بھی گنوا چکے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی مقتدرہ ، طالبان کے کسی ایک دھڑے پر سودے بازی کے بجائے اُن کے حقیقی مرکز کی طرف رجوع کریں،اُن سے اپنے اختلافات کاخاتمہ کرکے اعتماد میں لیں اور ایک بہتر انداز میں افغان مصالحتی عمل کا حصہ بننے پر راضی کریں۔بلاشبہ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر خود پاکستان کے طویل المیعاد ریاستی مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ازبس ضروری ہے۔


متعلقہ خبریں


خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات وجود - جمعرات 03 اکتوبر 2019

افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ازسر نو کوشش کے تحت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پاکستانی حکام اور طالبان رہنمائوں کے درمیان دفترخارجہ میں ملاقات ہوئی ،جس میں مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار صدق دل سے ادا کرتا رہے گا، پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،افغانستان میں قیام امن کیلئے "مذاکرات"...

خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات

افغان صدارتی انتخاب، اشرف غنی کے بعد عبداللہ عبداللہ کا بھی کامیابی کا دعوی وجود - منگل 01 اکتوبر 2019

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے بعد نتائج کے باقاعدہ اعلان سے قبل صدر اشرف غنی کے بعد چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی کامیابی کا دعوی کردیاہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اشرف غنی پر برتری حاصل ہے۔عبداللہ عبداللہ نے کامیابی کا کوئی ثبوت پیش کیے بغیر دعوی کیا کہ انتخاب میں ہمیں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج کا اعلان انڈیپنڈنٹ الیکشن کمیشن(آئی ای سی)کرے گا لیکن ہمیں زیا...

افغان صدارتی انتخاب، اشرف غنی کے بعد عبداللہ عبداللہ کا بھی کامیابی کا دعوی

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی وجود - هفته 29 جولائی 2017

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کے بعد اب اُن کا نام تمام قومی اور سرکاری جگہوں سے بتدریج ہٹایا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے رکن اسمبلی کے طور پر اُن کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی ائیرپورٹ پر قائداعظم اور صدرِ مملکت ممنون حسین کے ساتھ اُن کی موجود تصویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوازشریف کو 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد فوری طور پر لندن میں بھی زیر بحث آگئی اور نوازشریف کی نااہلیت کے عدالتی فیصل...

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں وجود - هفته 29 جولائی 2017

٭3 اپریل 2016۔پاناما پیپرز (گیارہ اعشاریہ پانچ ملین دستاویزات پر مبنی ) کے انکشافات میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نوازشریف اور اْن کا خاندان منظر عام پر آیا۔ ٭5 اپریل 2016۔وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے حوالے سے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیاتاکہ وہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے قیام کے حوالے سے اپنی تحقیقات کرے۔ ٭22 اپریل 2016- وزیراعظم کا دوسرا خطاب نشر کیا گیا جس میں اْنہوں نے یقین دلایا کہ اگر پاناما کیس کی تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہوئے...

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ انوار حسین حقی - هفته 29 جولائی 2017

عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن...

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے  مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ رانا خالد محمود - هفته 29 جولائی 2017

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے ...

نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

افغانستان میں امدادی رقوم میں خورد برد.. عالمی برادری مزید امداد دینے میں تحفظات کاشکار صبا حیات - منگل 01 نومبر 2016

افغانستان کی مالی امداد کے لیے برسلز اجلاس میں 70ممالک اور 30 بین الاقوامی امدادی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے افغانستان کو مزید امداد دینے کے وعدوں کاانحصار اصلاحات اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات پر ہوگا، امریکی حکام افغانستان کی حکومت ان دنوں شدید معاشی مشکلات کاشکار ہے اور صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب افغان حکومت کو نہ صرف یہ کہ سرکاری اہلکاروں کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صورت حال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے اہ...

افغانستان میں امدادی رقوم میں خورد برد.. عالمی برادری مزید امداد دینے میں تحفظات کاشکار

بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں وجود - جمعه 28 اکتوبر 2016

افغان نیشنل آرمی کے کمانڈرز اور ارکان پارلیمنٹ طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کو پرتعیش گاڑیوں میں بٹھاکر ان کے مطلوبہ مقام تک پہنچاتے ہیں موجودہ افغان حکومت کے ساتھ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ ہواتھا،جس سے پاکستان کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوسکاٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی دنیا اب روز بروز سکڑتی جارہی ہے اور جوں جوں دنیا سکڑ رہی ہے قوموں کے معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردار بھی بڑھتا جارہاہے، جس کا اندازہ برطانیہ،امریکا، جرمنی، فرانس ...

بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں

سانحہ کوئٹہ:"را" اورافغان خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی، کَڑیاں ملنے لگیں وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

کوئٹہ پولیس ٹریننگ مرکز پر حملے کی نگرانی افغانستان سے کی گئی، مقامی نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا حساس اداروں نے تفصیلات جمع کرنا شروع کردیں ، افغانستان سے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے  بھاری ہتھیاروں  کے ساتھ کوئٹہ پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے خود کش  حملے کے سراغ ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع نے جرات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارسی بولنے والے حملہ آوروں کی تمام گفتگو کا ریکارڈ حسا س اداروں کے پاس موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مستقل ...

سانحہ کوئٹہ:

 مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی ایچ اے نقوی - جمعه 21 اکتوبر 2016

بروقت تنخواہوں اور راشن کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے دوسری بڑی وجہ افغان فوج میں موجودہ افغان حکومت اور امریکی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت بھی ہے افغانستان سے ملنے والی خبروں سے یہ انکشاف ہواہے کہ افغان فوج کو بروقت تنخواہوں اور راشن وغیرہ کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور اب انھوں نے اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے اپنا اسلحہ اور یہاں تک کہ چیک پوسٹ تک طالبان اور دوسرے جنگجو گ...

 مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی

پاک فوج کے نئے سربراہ کا تقرر، حکومت کے لئے کڑا امتحان ایچ اے نقوی - جمعرات 06 اکتوبر 2016

جوں جوں نومبر کامہینہ قریب آرہا ہے، پاک فوج کے ممکنہ نئے سربراہ کے حوالے سے قیاس آرائیوں کاسلسلہ بھی دراز ہوتا جارہاہے، تاہم بھارت کے موجودہ جنگی جنون کے بعد پیداہونے والی صورت حال میں عوام اور تجزیہ کاروں کی اکثریت کاخیال یہی ہے کہ وزیر اعظم اس نازک وقت میں آرمی چیف تبدیل کرنے کی حماقت نہیں کریں گے اور جنرل راحیل شریف کو ہی اپنی ذمے داریاں انجام دیتے رہنے پر رضامند کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ موجودہ تلاطم خیز صورتحال میں فوج کے سربراہ کی تبدیلی حکومت کیلیے ایک بڑا امتحان ہوگ...

پاک فوج کے نئے سربراہ کا تقرر، حکومت کے لئے کڑا امتحان

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟ عارف عزیز پنہور - منگل 04 اکتوبر 2016

پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کے اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو شریک ہوئے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صد...

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار