وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

رفاعی یا رفاہی

اتوار 06 ستمبر 2015 رفاعی یا رفاہی

Urdu

صوبہ خیبرپختون خوا کے شہر کرک سے ایک اخبار ’’دستک‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ زبان کے حوالے سے یہ سلسلہ وہاں بھی شائع ہورہا ہے، جس کا فائدہ یہ ہے کہ پشتو بولنے والے اُن بھائیوں سے بھی رابطہ ہورہا ہے جو اردو میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اردو کو قومی سطح پر تو اب تک رائج نہیں کیا گیا لیکن اس زبان کی خوبی یہ ہے کہ آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں چلے جائیں، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ایک شہر سے ایک استاد کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے مزے کی بات بتائی کہ ہم جب اردو بولتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں تم تو پنجابی بول رہے ہو۔ بات یہ ہے کہ پنجابی اردو کے بہت قریب ہے، صرف بعض الفاظ میں تلفظ کا فرق ہے۔ یہی نہیں بہت سے پنجابی دوستوں سے اردو محاورے اس دعوے کے ساتھ سنے ہیں کہ یہ پنجابی ہیں۔ اس میں حرج کوئی نہیں ہے۔ دراصل کئی ہندی محاورے اردو اور پنجابی میں در آئے ہیں۔ یہی نہیں، ان کا ترجمہ پشتو میں ہوا تو یہ پشتو ہوگئے۔ ہمارے ایک ساتھی پشتو محاورے کا ترجمہ سناتے ہیں تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ یہ تو اردو کا محاورہ ہے۔ محاوروں پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ہمیں اسکول میں انگریزی محاوروں کا سلیس اردو ترجمہ پڑھایا جاتا تھا۔ مثلاً انگریزی کا محاورہ ہے کہ ’’بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں‘‘۔ اس کا ترجمہ ہمیں یہ پڑھایا گیا ’’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘‘۔ دیکھا جائے تو دونوں ہی باتیں غلط ہیں یا سو فیصد صحیح نہیں ہیں۔ بھونکنے والا کتا کاٹ بھی لیتا ہے، اس محاورے پر اعتماد کرکے خطرہ مول نہ لیں۔ اسی طرح ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ بادل برسنے سے پہلے خوب گرجتے ہیں۔ ہمارے والد ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ہاتھ بھی چھوڑ دیتے تھے اور محاورے کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ یہی محاورے بنگالی اور سندھی میں بھی مل جائیں گے۔ برعظیم کی زبانوں کی ماں ’’سنسکرت‘‘ ہے، چنانچہ اس کے الفاظ مقامی زبانوں میں در آئے ہیں۔ پشتو پر فارسی کا اثر زیادہ ہے۔ جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو اس کا بڑا حصہ عربی اور فارسی پر مشتمل ہے۔ انگریز کی آمد سے پہلے فارسی نہ صرف سرکاری زبان تھی بلکہ دفتری زبان ہونے کی وجہ سے ہر پڑھے لکھے شخص کی زبان بن گئی تھی۔ تعلیم کا آغاز شیخ سعدی کی گلستان، بوستان سے ہوتا تھا۔ بیشتر شعراء نے فارسی میں شاعری کی۔ مرزا غالب کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ ان کی اصل شاعری فارسی میں ہے لیکن شہرت اردو شاعری سے ملی۔ علامہ اقبال کے کلام کا بڑا حصہ فارسی میں ہے۔ اب فارسی تو رہی نہیں اور اردو کو اس کا مقام ملا نہیں، انگریزی اس قوم کی مجبوری بن گئی ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ زبان اپنے ساتھ اپنا کلچر، اپنی تہذیب بلکہ اپنا مذہب بھی لے کر آتی ہے۔ عربی چونکہ دینِ اسلام کی زبان ہے، اس لیے یہ بڑی حد تک نہ صرف اردو بلکہ مقامی زبانوں میں شامل ہے۔ شاید ہی اردو کا کوئی ایسا جملہ ملے جس میں عربی، فارسی کے الفاظ نہ ہوں۔ مثلاً ایک اخبار کی سرخی ہے ’’مشتبہ افراد کی گرفتاری معما بن گئی‘‘۔ اس میں مشتبہ، معما، افراد عربی الاصل ہیں اور گرفتاری فارسی۔ یہ ایک مثال ہے، آپ خود اخبار پڑھتے ہوئے یا گفتگو کرتے ہوئے غور کرسکتے ہیں۔

ہم نے سطور بالا میں لفظ ’’حرج‘‘ استعمال کیا ہے۔ یہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے: رکاوٹ، تنگی، سختی، نقصان، کمی، ضرر وغیرہ۔ اسی سے حارج ہے، مزاحمت کرنے والا۔ لیکن ایک اور لفظ ہائے ہوّز یعنی ہاتھی والی ہ سے ’’ہرج‘‘ ہے۔ یہ بھی عربی کا لفظ ہے اور اس میں ’ر‘ ساکن ہے یعنی ہَرْج۔ یہ مذکر ہے اور اس کا مطلب ہے: شورش، ہنگامہ، دنگا، گڑبڑ، فتنہ، نقصان، خسارہ، خلل، ڈھیل، دیر وغیرہ۔ اردو میں ہرجانہ ، ہرجہ وغیرہ مستعمل ہیں۔ عدالتی زبان میں ہرجہ، خرچہ کہا جاتا ہے۔ دونوں کے معانی قریب قریب ہیں چنانچہ ایک کی جگہ دوسرے کے استعمال میں کوئی ہرج نہیں۔

بدھ 29 جنوری کے جسارت میں یونس بارائی پر حملے کی خبر میں تین جگہ ’’رفاعی پلاٹ‘‘ چھپا ہے۔ حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ رفاعی غلط ہے، یہ رفاہی ہے۔ رفاہ کا مطلب ہے: بہبود، آرام، چین، سکھ، بھلائی وغیرہ۔ عربی کا لفظ ہے اور ’’رفہ‘‘ کی جمع ہے۔ مگر اردو میں واحد ہی مستعمل ہے۔ رفاہ عام کے نام سے کراچی میں ایک بستی بھی ہے یعنی عوام یا خلقت کی بہبود کی سوسائٹی۔ لیکن اس بستی میں بھی ’’رفاع عام سوسائٹی‘‘ کے بورڈ لگے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لغت میں ’’رفاع‘‘ کا لفظ نہیں ملا البتہ رفع ہے جو عام ہے۔ بلند کرنا، دور کرنا، معاملہ کو رفع، دفع کرنا تو آپ نے بھی سنا ہوگا۔ ’’ناجائز تجاوزات‘‘ بھی اخبارات میں عام ہیں، جب کہ تجاوزات بجائے خود ناجائز ہوتی ہیں۔

اخباروں میں ایک لفظ استعمال ہورہا ہے، وہ ہے ’’مواقعوں‘‘۔ جانے یہ مواقع کی جمع الجمع کس اصول کے تحت بنا لی گئی، صرف مواقع سے تسلی نہیں ہوتی۔ موقع کی جگہ موقعہ بھی صحیح نہیں ہے۔ ایک مضمون نگار نے ’’بلند و بانگ پہاڑی سلسلہ‘‘ لکھا ہے۔ ان دو الفاظ کے درمیان ’’واؤ‘‘ کا استعمال ویسے بھی غلط ہے، لیکن پہاڑ کا بانگ سے کیا تعلق ہے؟ بانگ تو آواز یا صدا کو کہتے ہیں، اذان کو بانگ کہا جاتا ہے۔ مرغ کی بانگ بھی سنی جاتی ہے۔ ایک بڑھیا نے گاڑی والوں سے ناراض ہوکر دھمکی دی تھی کہ میں اپنا مرغا لے کر چلی جاؤں گی، نہ اس کی بانگ سنو گے نہ نیند سے جاگو گے، پڑے سوتے رہ جاؤ گے۔ لیکن بلند و بانگ پہاڑ کا کیا مطلب ہوا؟ علامہ اقبال کا شعری مجموعہ ’’بانگ درا‘‘ اور لاہور کے استاد دامن کا مجموعہ کلام ’’بانگ دُہل‘‘ ہے۔ ممکن ہے جس پہاڑ پر یہ کتابیں رکھی ہوں یا بڑھیا کا مرغ چڑھ کر بانگ دے رہا ہو اُس کو بلند و بانگ کہا جا سکے۔

گزشتہ ماہ بھارت نے یوم جمہوریہ منایا۔ ایک مضمون میں پڑھا ’’بھارتی یوم جمہوریہ کا دن۔‘‘ ماہِ رمضان کا مہینہ، شب برأت کی رات بھی تو سنتے رہتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختون خوا کے دوست نے ’’لالچ‘‘ کے مونث ہونے کی بڑی دلچسپ دلیل دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بچپن سے پڑھتے آرہے ہیں ’’لالچ بری بلا ہے‘‘۔ دراصل ’’بری‘‘ کا تعلق ’’بلا‘‘ سے ہے، لالچ سے نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’’لالچ برا فعل ہے‘‘، تب؟ یہ گڑبڑ جسارت میں بڑی پابندی سے ہورہی ہے اور بار بار ٹھیک کروانے کے باوجود ’’کی اظہار تعزیت‘‘ چھپ جاتا ہے۔ فاضل سب ایڈیٹر کے ذہن میں شاید یہی ہوتا ہے کہ تعزیت تو مونث ہے لہٰذا ’’کی اظہارِ تعزیت‘‘ ہونا چاہیے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ اگر ’’کی‘‘ ایسی ہی ناگزیر ہے تو ’’اظہار‘‘ نکال دو۔ بری، برا، اچھی، اچھا وغیرہ کا تعلق بعد میں آنے والے لفظ سے ہے۔ اسی طرح کی، کو، کا وغیرہ کا بھی۔ لالچ بہرحال مذکر ہے خواہ بری بلا ہو یا بری حرکت۔ ہم نے کئی مضامین میں لالچ کو مونث بنتے دیکھا ہے۔

زبان کوئی بھی ہو، اگر غلطیوں سے پاک ہو تو اچھا اثر ڈالتی ہے۔ لیکن اچھی زبان کے لیے اغلاط سے گریز کے علاوہ بھی کچھ درکار ہے۔ ایک صاحب عامر لیاقت، جو نجانے کس طرح اپنے نام میں بڑے اہتمام سے ڈاکٹر کا سابقہ لگاتے ہیں، انہوں نے مضمون نگاری بھی شروع کی ہوئی ہے۔ وہ دینی اسکالر بھی کہلاتے ہیں اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔ وہ صحافی بھی رہ چکے ہیں۔ 3 فروری کے اپنے مضمون ’’چہار درویش‘‘ میں مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’اسے ثالثی کی کوشش قرار دے کر مسئلہ پر مٹی ہی پا دوں۔‘‘ ان کے اس جملے میں خود ان کے لیے ذم کا پہلو ہے اور یہ کام مشکل بھی ہے۔ ادارتی صفحہ کے انچارج کو چاہیے تھا کہ ’’مٹی پاؤں یا مٹی ڈال دوں‘‘ کردیتے۔ لیکن بعض لکھنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ انچارج بھی اصلاح کی ہمت نہیں کرتا۔


متعلقہ خبریں


وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟ عارف عزیز پنہور - منگل 27 ستمبر 2016

زندہ قومیں اپنی زبان کو قومی وقار اور خودداری کی علامت سمجھا کرتی ہیں اور اسی طرح قومی لباس کے معاملے میں بھی نہایت حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چینی رہنما کسی بھی عالمی فورم پر بدیسی زبان کو اپنے خیالات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اپنی ہی زبان میں خطاب کرتے ہیں ،یہ معاملہ صرف بڑی طاقتوں کا ہی نہیں ہے ایران کی رہنما بھی عالمی فورمز پر اظہار خیالات کیلئے فارسی کا ہی سہارا لیتے ہیں، جبکہ عرب لیڈر بالعموم عربی میں ہی خطاب کرتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے...

وزیراعظم نواز شریف اپنی شیروانی کہیں رکھ کر بھول گئے؟

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی وجود - پیر 25 جولائی 2016

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی نے قومی زبان اردو کے سرکاری زبان کے طور پر نفاذ کے حوالے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس میں صرف بیورو کریسی ہی رکاوٹ نہیں بلکہ اس سلسلے میں عدالتی فیصلے کے نفاذ کے خلاف مختلف وزراء بھی ہیں۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام قومی نفاذ اردو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قومی زبان تحریک کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ہر صوبے میں اردو اور علاقائی زبان پڑھائی...

وفاقی وزراء بھی نفاذِ اردو کے مخالف ہیں، مشیرِ وزیراعظم عرفان صدیقی

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘ اطہر علی ہاشمی - پیر 11 جولائی 2016

مجاہد بک اسٹال، کراچی کے راشد رحمانی نے لکھا ہے کہ آپ کو پڑھ کر ہم نے اپنی اردو درست کی ہے لیکن 11 اپریل کے اخبار میں مشتاق احمد خان کے کالم نقارہ کا عنوان ’’لمحہ فکریہ‘‘ ہے۔ ہے نا فکر کی بات! صحیح ’لمحہ فکریہ‘ ہے یا ’لمحہ فکر‘؟ عزیزم راشد رحمانی، جن لوگوں نے سید مودودیؒ کو نہیں پڑھا وہ کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔ سید نے ہمیشہ ’لمحہ فکر‘ ہی لکھا اور یہی صحیح ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار، داخلہ کے وزیر بھی ہیں اور وزیروں کے چودھری بھی، اس لیے ان کو بجا ہے کہ وہ ذمے دار کو ...

’’کھُد بُد‘‘ اور ’’گُڈمُڈ‘‘

فصل کی برداشت اور تابع دار اطہر علی ہاشمی - بدھ 22 جون 2016

پنجاب میں زراعت کے تعلق سے ایک اصطلاح نظر سے گزری جو ہمارے لیے نئی ہے اور ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لیے بھی نئی ہو۔ یہ ہے ’’برداشت‘‘ کا استعمال۔ ویسے تو عوام ہی بہت کچھ برداشت کررہے ہیں اور صورتِ حال پر برداشتہ خاطر (بیزار، اداس، آزردہ) بھی ہیں۔ لیکن ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے، فیصل آباد کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’گندم کی فصل برداشت کے مرحلے میں داخل ہوگئی، بروقت کٹائی کا انتظام کرلیں‘‘۔ اسی طرح لاہور سے محکمہ زراعت کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’چنے کی فصل برداشت ...

فصل کی برداشت اور تابع دار

خودرا فضیحت اطہر علی ہاشمی - اتوار 12 جون 2016

فارسی کی ایک مثل ہے ’’خودرا فضیحت دیگراں را نصیحت‘‘۔ یعنی خود تو غلط کام کرنا، دوسروں کو نصیحت کرنا۔ فضیحت کا مطلب رسوائی، ذلت، بدنامی بھی ہے۔ یہ محاورہ یوں یاد آیا کہ کچھ قارئین غلطیوں کی نشاندہی کرکے یہی مثل سنا دیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں کہ اپنے جن صحافی ساتھیوں کی زبان درست کرنے کی سعیٔ نامشکور کرتے ہیں وہی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے اور طعنہ ہمیں سننا پڑتا ہے۔ ’’ہبہ‘‘ عطیے وغیرہ کو کہتے ہیں۔ لڑکیوں کے نام بھی رکھے جاتے ہیں کہ وہ بھی عطیۂ خداوندی ہیں۔ لیکن جانے کیوں یہ نا...

خودرا فضیحت

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘ اطہر علی ہاشمی - بدھ 20 اپریل 2016

ایک ہفت روزہ کے سرورق پر سرخی ہے ’’پیپلزپارٹی تتّر بتّر ہوسکتی ہے‘‘۔ یعنی دونوں جگہ ’ت‘ پر تشدید ہے۔ پڑھ کر خوشگوار حیرت ہوئی، کیونکہ عموماً لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کردیتے ہیں جب کہ تشدید کے ساتھ ہی صحیح ہے۔ فرہنگ آصفیہ، فیروزاللغات وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، اور اردو کی کلاسیکی کتاب باغ و بہار میں بھی دونوں ٹکڑوں میں ’ت‘ پر تشدید ہے۔ رشید حسن خان کے مطابق جو لوگ بغیر تشدید کے تتربتر کہتے ہیں، یہ بھی درست ہے۔ ایک جملہ عموماً استعمال کیا جاتا ہے ’’لگ گیا تیر، نہیں تو تکّا‘‘...

’’غیر معمولی ترقیاں و مراعاتیں‘‘

دار۔و۔گیر پر پکڑ اطہر علی ہاشمی - بدھ 03 فروری 2016

گزشتہ تحریر میں ہم نے ’دارو‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’یاد رہے دارو گیر میں بھی دارو موجود ہے لیکن یہ ایک الگ لفظ ہے۔ دارو گیر کا دارو سے کیا تعلق ہے، یہ ماہرین ہی بتاسکتے ہیں‘‘۔ یہ معاملہ ازراہِ تفنن ہم نے ماہرین پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے تو جسارت کے پروف ریڈر گزجناب ندیم نے اطلاع دی کہ یہ تو دو الگ الگ الفاظ ہیں یعنی دار۔و ۔ گیر۔ اور پھر ماہرین نے دارو گیر شروع کردی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ ماسٹرز ایسوسی ایشن ضلع رحیم یار خان کے صدر محمد انور علوی نے لاہور سے متوجہ کیا ہے ...

دار۔و۔گیر پر پکڑ

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘ اطہر علی ہاشمی - جمعه 29 جنوری 2016

علامہ طاہر اشرفی علماء کے سرخیل ہیں۔ انہوں نے غالباً عربی بھی پڑھی ہوگی، ورنہ اردو تو ضرور پڑھی ہوگی۔ اب اگر اتنے کلّے‘ ٹھلے کے اور جسیم عالم بھی ملک کو ’’مولک‘‘ کہیں تو تھوڑی سی حیرت تو ہوگی۔ اگر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اﷲ علم کو ’’ایلم‘‘کہیں تو یہ اُن کو زیب دیتا ہے بلکہ اُن کی شخصیت سے مطابقت بھی رکھتا ہے۔ ہم نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کبھی ’’ذمے وار‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا کہ انہیں ٹوکنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کافی ہیں۔ ایک بہت پڑھے لکھے صحافی جناب خورش...

’’مولک‘‘ اور ’’ایلم‘‘

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا علی منظر - منگل 19 جنوری 2016

آج بہت دنوں بعد کسی کو خط لکھنے کے لئے قلم اٹھایا، تو خیال آیا کہ ہمیں دوست کا پتہ ہی معلوم نہیں ۔ سستی، بے پروائی اور وقت کی کمی کے بہانے تو پہلے بھی تھے، پھر بھی ہم طوعاً وکرہاً خط لکھ ہی لیا کرتے تھے۔ برق گرے اس ای میل پر جب سے ہم اپنے کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ سے متصل ہوئے ہیں، ہمیں دوستوں کا پتہ نہیں اُن کا برقی پتہ محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور موبائل کی آمد کے بعد سے تو گویا قلم و کاغذ سے رہا سہا تعلق بھی جا تا رہا۔ خط و کتابت اب ماضی بعید کا قصہ بن چکا ہے۔ کورے کاغذ کی خوشب...

یارب! اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

پڑھتے کیوں نہیں؟ ارشاد محمود - جمعه 11 دسمبر 2015

ایک دوست کی فرمائش پر اردوڈائجسٹ خریدنے اسلام آبادکے ایک کتاب گھر جانا ہوا۔ غیر ارادی طور پرمالک سے گپ شپ شروع ہوگئی۔ کہنے لگا کہ ابھی بھی اردو ڈائجسٹ کے کافی قارئین ہیں لیکن سب معمر افراد ہیں۔ نوجوانوں میں خال خال ہی کوئی ڈائجسٹ خریدتا ہے حتیٰ کہ سب رنگ اور خواتین ڈائجسٹ کے بھی نئے خریدار بن نہیں رہے ۔ بتانے لگا کہ کسی زمانے میں انگریزی کی ریڈرز ڈائجسٹ دُکان پر دو سوکے لگ بھگ آتی اور ہاتھوں ہاتھ نکل جاتیں۔ طلبہ اورکم آمدنی والے نوجوان پرانے شمار ے سستے داموں فراہم کرنے ...

پڑھتے کیوں نہیں؟

یہ وطیرہ کیا ہے؟ اطہر علی ہاشمی - پیر 16 نومبر 2015

جناب پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں اور اس لحاظ سے تمام صحافیوں کے سرخیل ہیں۔ ان کا فرمانا ہمارے لیے سند ہے۔ لاہور کا معرکہ جیتنے پر وہ فرما رہے تھے کہ فلاں کی تو ضمانت تک ضَبَطْ (بروزن قلق‘ شفق‘ نفخ وغیرہ یعنی ضَ۔بَط) ہوگئی۔ اب جو مثالیں ہم نے دی ہیں نجانے ان کا تلفظ وہ کیا کرتے ہیں۔ بطور مثال ہم نے غَلط کا لفظ نہیں لکھا، کیونکہ یہ عجب تماشا ہے کہ غلط کو ضبط کے وزن پر اور ضبط کو غلط کے وزن پر بولا جارہا ہے۔ جناب پرویز رشید تو کبھی پی ٹی وی کے افسرِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ ج...

یہ وطیرہ کیا ہے؟

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ اطہر علی ہاشمی - هفته 07 نومبر 2015

ہمارے وفاقی وزیر چودھری نثار تو ذمہ داری کو ذمہ واری کہتے رہیں گے، انہیں ان کی ذمہ واری پر چھوڑتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف شمسی توانائی کی کارکردگی پر وضاحت پیش کرتے ہوئے ’’اوسط‘‘ کو بروزن دوست‘ گوشت وغیرہ کہتے رہے اور بار بار کہتے رہے۔ لیکن یہ تو حکمران طبقہ ہے۔ اسے زیبا ہے کہ جو چاہے کہے۔ البتہ جن کا تعلق صحافت سے ہے اور بہت پرانا ہے، انہیں دوبارہ اردو پڑھ لینی چاہیے۔ ٹی وی چینل ڈان کے نمائندۂ حیدرآباد جناب علی حسن بڑے سینئرصحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ایک قدیم ع...

پرشکوہ بروزن جوابِ شکوہ