وجود

... loading ...

وجود

لداخ میں چین بھارت کشیدگی

جمعه 23 اکتوبر 2026 لداخ میں چین بھارت کشیدگی

چین نے ایک بار پھر لداخ سے متعلق بھارت کے اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2019 میں قائم کیے گئے بھارتی مرکز کے زیرِ انتظام لداخ کو تسلیم نہیں کرتا۔ چین نے بھارت کے اس حالیہ فیصلے پر بھی تنقید کی جس کے تحت لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خطوں کو باضابطہ نام دیے گئے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے ان مقامات کو سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔

چین کا دعویٰ ہے کہ ان میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو متنازع ہیں یا چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں۔ بھارت کا یہ اقدام ‘غیر قانونی اور ناقابل قبول’ ہے اور اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔چین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت کی سرحد کے مغربی حصے میں واقع متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ نے دو اکتوبر کو جن مقامات کے نام سرکاری طور پر درج کیے ان میں گوگرا اور ہاٹ سپرنگز کے علاقے بھی شامل ہیں، یہ دونوں مقامات 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی تصادم کے اہم مراکز رہے تھے۔ایکچول لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب واقع یہ علاقے انڈین فوج کی گشت اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں،ان میں چاپ چھینگل درہ، کنشکا چوٹی، پرپیک گلیشئر، کرون پیر پہاڑ، علیشا گیری، شیکمیریک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی اور درا کارپو سمیت متعدد جغرافیائی مقامات شامل ہیں۔

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد 31اکتوبر 2019 کو لداخ کو مرکز کے زیر انتظام ایک علیحدہ علاقہ بنا دیا تھا۔چین خطے کے بعض حصوں خصوصا چین اور بھارت کی سرحد کے مغرب میں واقع علاقوں پر بھارت کے علاقائی دعووں کو مسترد کرتا ہے۔لداخ کے پہاڑی علاقے میں چین اور بھارت کے درمیان سرحد کے قریب مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں متنازع علاقوں سے فوجیوں کو واپس بلانے پر رضامندی کے بعد اپنی زمین چین کے حوالے کردی ہے۔ بھارت اور چین کی درمیان 2020 سے مغربی ہمالیہ میں سرحد پار تنازع جاری رہا، تاہم دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی فوجی اجلاسوں میں تناؤمیں کمی کے فیصلے کے بعد گوگرہ ہاٹ اسپرنگس کے متنازع علاقے سے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کردیا۔جنگ بندی کے معاہدے کے تحت بفر زونز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں کسی بھی فریق کے فوجیوں کو گشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مقامی لوگوں اور علاقے کے منتخب نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ بفر زونز ان علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جو پہلے بھارت کے زیر انتظام تھے۔ ہماری فوج ان علاقوں کو خالی کر رہی ہے جو ہرگز متنازع نہیں تھے جبکہ چینی افواج ان علاقوں میں تعینات ہیں جہاں عموماً بھارتی افواج کا گشت ہوتا تھا۔ بھارت نے 2021 کے معاہدے کے دوران پینگونگ جھیل کے آس پاس کے علاقوں سے دستبرداری کے لیے پہلے ہی زمین چھوڑ دی تھی۔ ہم نے پہلے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا تھا، پینگونگ تسو کے علاقے میں بھی ہماری فوج نے ایک بہت بڑا علاقہ کھو دیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہماری تشویش صرف چین کی دراندازی تھی لیکن اب ہماری حکومت خوشی سے ہماری زمین چین کے حوالے کر رہی ہے، اگر بھارت کا رویہ ایسا ہی رہا تو ہم مزید علاقہ کھو دیں گے۔ مقامی لوگ بھی اس دراندازی سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ایسے علاقے کھو دیے ہیں جنہیں وہ اپنے مویشیوں کے چرانے کے لیے استعمال کرتے تھے، انہیں خدشہ ہے کہ اس سے ان کی روز مرہ زندگی کے اہم ذرائع متاثر ہوں گے۔

اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 1000 مربع کلومیٹر کا علاقہ بغیر لڑے چین کے حوالے کردیا ہے۔پینگونگ جھیل کے علاقوں میں پرتشدد جھڑپ کے بعد 5؍ مئی 2020 کو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تناؤ کا آغاز ہوا تھا، ایک ماہ بعد کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی مارے گئے تھے۔تناؤ شدت اختیار کرنے کے بعد دونوں ممالک نے بھارے ہتھیار سے لیس دسیوں ہزار فوجی متنازع علاقے میں ایک دوسرے کے مقابل تعینات کرنا شروع کر دیے تھے۔ 2020 کا واقعہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ 1962 کے بعد اتنی بڑی تعداد میں فوج کا یہاں آنا لوگوں کے لیے پہلا تجربہ تھا۔ سرحد پر چین کے ساتھ اس طرح کا ٹکراؤ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پہلے صرف ڈیمچوک اور چومور ایریا میں چینی فوج کا کچھ سٹرکچر ہوتا تھا۔چوشول کے پاس جتنے بھی پہاڑ دکھائی دے رہے ہیں ہر جگہ فوج ہی فوج دکھائی دے رہی ہے ۔

مشرقی لداخ میں جہاں جہاں بارڈر ہے وہاں چین نے فائیو جی ٹاور لگا دیے ہیں۔ یہی نہیں اس نے پینگونگ سو جھیل پر دو پل تعمیر کر دیے ہیں۔ چین 2020 کے بعد سے اس خطے میں بہت زیادہ فوجی تعمیرات میں لگا ہوا ہے۔ اس سے واضح اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس موڈ میں ہے۔

لداخ دو بین الاقوامی سرحدوں سے گھرا ہوا ہے۔ مغرب میں پاکستان اور مشرق میں چین۔ 1962 کے بعد چین نے اس خطے میں پہلی بار اتنی بڑی جارحیت کی ہے۔ انھوں نے اس دراندازی میں ہماری بہت سے سرحدی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ پہلے انھوں نے اپنے چرواہوں کو ہماری چرا گاہوں میں بھیج کر کافی زمین ہڑپ کی۔ لیکن 2020 میں انھوں نے گلوان وادی، ڈیپسانگ، ہر جگہ زمینوں پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد پینگونگ سو میں اتنی مداخلت کی، اتنی زمین پر قبضہ کیا کہ اس جانب سے ان کی روشنیاں نظر آتی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
قوموں کا زوال وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
قوموں کا زوال

فیصلہ آخر کس کا؟ وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
فیصلہ آخر کس کا؟

اتائیت کا راج، سستے علاج میں موت کا سودا وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
اتائیت کا راج، سستے علاج میں موت کا سودا

لداخ میں چین بھارت کشیدگی وجود جمعه 23 اکتوبر 2026
لداخ میں چین بھارت کشیدگی

ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں! وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
ریاستیں یوں بھی تباہ ہوئیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر