... loading ...
آج ایسے ہی بیٹھے بیٹھے محبت یاد آگئی۔محبت کے کئی رنگ ہیں،اگربیٹے کی والدین سے ہو توان کی جھریوں میں اپنی پوری کائنات دکھائی دیتی ہے ۔اگرشاگرد کی استاد سے ہو تو استاد کے الفاظ کتابوں سے نکل کرزندگی کا راستہ بن جاتے ہیں۔اگرشوہر کی بیوی سے ہو تو اس کی تھکن اپنے حصے میں اور اس کی مسکراہٹ اپنی خوشی میں بانٹ لی جاتی ہے ۔ اگر بیوی کی شوہر سے ہو تو وہ اس کے خالی ہاتھوں میں بھی امید کے چراغ جلاتی ہے ۔اگر بھائی کی بہن سے ہو تو وہ اس کی آنکھوں میں آنسو آنے سے پہلے اس کے دکھ کی وجہ تلاش کرتا ہے ۔لیکن محبت، مٹھاس کے ساتھ ساتھ تباہی کی تلخی بھی لیے ہوئے ہیں۔ جب کوئی سپہ سالار یا سربراہ مملکت دل کی کمزوری میں گرفتارہوجاتا ہے تو کبھی کبھی پوری سلطنت اس کی قربان گاہ بن جاتی ہے ۔ محبت انسان کو طاقتور بھی بناتی ہے اورکمزور بھی۔ مگر جب یہ محبت ریاست کے معاملات پرغالب آ جائے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے اورعظیم سلطنتیں خاک میں مل جاتی ہیں۔تاریخ ایسی داستانوں سے بھری پڑی ہے جن میں عشق نے سلطنتوں کو برباد کر دیا۔ یہاں سوال محبت کی سچائی کا نہیں، اختیار کی ذمہ داری کا ہے ۔ کسی سے عشق کرنا جرم نہیں، لیکن جب کسی ریاست کا محافظ اپنی ذاتی خواہش اور قومی فرض کے درمیان فرق بھول جائے تو معاملہ دو دلوں کا نہیں رہتا۔ پھر اس کے فیصلوں میں جذبات کی آمیزش فوجوں کی شکست، اقتدار کی تبدیلی اور ملکوں کی آزادی چھن جانے تک جا پہنچتی ہے ۔
مارک اینٹونی اورکلیوپٹرا کی داستان محبت تاریخ کیسے بھول سکتی ہے ۔ روم کا طاقتور سپہ سالار مارک اینٹونی بہادری اور فوجی عظمت کا پیکرتھا۔ جولیس سیزر کے بعد وہ روم کی تقدیر کا اہم فیصلہ ساز تھا۔ مگر جب اس کی ملاقات مصر کی حسین اور ذہین کلیوپٹرا سے ہوئی تو سب کچھ بدل گیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ کشش تھی جو سلطنتوں کو سرنگوں کر دے ، اور اینٹونی اس میں اس طرح گم ہوا کہ روم کی سیاست، فوج اور ذمہ داریاں پسِ پشت چلی گئیں۔ اس نے کلیوپٹرا سے شادی کی، مصرمیں وقت گزارا اور رومی روایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے بچوں کو بڑی سلطنتیں دینے کا اعلان کر دیا۔ آکٹاوین نے موقع سے فائدہ اٹھایا، ایکٹیم کی بحری جنگ میں اینٹونی کی فوج شکست کھا گئی۔ وہ خودکشی کر گیا، کلیوپٹرا نے بھی جان دے دی۔ مصر رومی سلطنت کا حصہ بن گیا ۔
چین کی تانگ سلطنت میں شہنشاہ شوان زونگ اوریانگ گوئی فی کی داستان بھی کم المناک نہیں۔ شہنشاہ اپنی خوبصورت محبوبہ کی محبت میں اس قدر گم ہو گیا کہ سلطنت کے معاملات نظرانداز کر دیے ۔ اس نے اس کے رشتہ داروں کو بڑے عہدے دیے اور ترک جرنیل آن لوشان کو بے حد طاقتور بنا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آن لوشان نے بغاوت کر دی۔ دارالحکومت لوٹ لیا گیا، لاکھوں لوگ مارے گئے اور تانگ سلطنت کبھی اپنی پرانی عظمت نہیں پا سکی۔ یانگ گوئی فی کو خود فوجیوں نے شہنشاہ کے سامنے قتل کروا دیا۔ ایک سنہری دورمحبت کی آگ میں جل کرراکھ ہو گیا۔یونانی داستانوں میں پیرس اورہیلن آف ٹرائے کی کہانی مشہور ہے ۔ ٹرائے کے شہزادہ پیرس یونان کی سب سے خوبصورت عورت ہیلن کو بھگا کر لے آیا، اس ایک عمل نے پورے یونان کو اکٹھا کر دیا۔ دس سالہ خونریزجنگ چھڑ گئی۔ بالآخر ٹرائے مکمل طور پر تباہ ہو گیا، اس کے محلات جلادیے گئے اورسلطنت مٹ گئی،پیرس کی محبت نے ایک پوری ریاست کو مٹا کررکھ دیا۔پرتگال میں شہزادہ پیڈرو اور انیس دی کاسترو کی داستان بھی دلچسپ ہے ۔ پیڈرو اپنی بیوی کی نوکرانی انیس کے عشق میں مبتلا ہوگیا۔ اس کے باپ بادشاہ نے سیاسی خطرے کے خوف سے انیس کو قتل کروا دیا۔ پیڈرو نے شدید بغاوت کر دی اور باپ کے خلاف خانہ جنگی چھیڑ دی۔ شمالی پرتگال تباہ ہوا اورکئی دہائیوں تک پرتگالی تخت کمزور اور تقسیم رہا۔ باویریا کے بادشاہ لوڈوِگ اول نے آئرش رقاصہ لولا مونٹیز کی محبت میں اس قدر اندھا ہوا،اسے لقب اوراثر و رسوخ دے دیا کہ عوام اور اشرافیہ سخت ناراض ہو گئے ۔ بغاوتیں اٹھیں اور بالآخر بادشاہ کو تخت چھوڑنا پڑا۔ اس کی محبت نے اس کی سلطنت ختم کر دی۔روس کے آخری زار نکولس دوم الیگزیڈرا کی محبت میں بے پناہ گم ہوگیا،ان کی ناپسندیدگی اور راسپوٹن جیسے لوگوں پر انحصار نے عوام میں شدید نفرت پیدا کردی،نتیجہ یہ نکلا،1917کے انقلاب نے روسی سلطنت کو ختم کردیا اور اس کے خاندان کو قتل کردیا گیا۔
محبت کے کئی رنگ ہیں،تاریخ کے اوراق میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو محبت کی مٹھاس کے ساتھ ساتھ تباہی کی تلخی بھی لیے ہوئے ہیں۔ جب کوئی سپہ سالار یا سربراہ مملکت دل کی کمزوری میں گرفتارہوجاتا ہے توکبھی کبھی پوری سلطنت اس کی قربان گاہ بن جاتی ہے ۔ محبت انسان کو طاقتور بھی بناتی ہے اور کمزور بھی۔ مگر جب یہ محبت ریاست کے معاملات پر غالب آ جائے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے اورعظیم سلطنتیں خاک میں مل جاتی ہیں۔
٭٭٭