... loading ...
انسانی زندگی کی بنیاد صحت پر ہے اور ایک مہذب و متوازن معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں شہریوں کو بنیادی طبی سہولیات آسانی سےاور مناسب قیمت پر میسر ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کا شعبہ متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے ، جہاں بیماری سے زیادہ علاج کے اخراجات اور غیر معیاری طبی سہولیات عام آدمی کے لیے پریشانی کا باعث بن چکی ہیں۔ ایک طرف ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور علاج کے بھاری اخراجات نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ، تو دوسری طرف جعلی اور غیر معیاری ادویات کے کاروبار اور گلی محلوں میں پھیلے اتائی معالجین نے انسانی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے ۔ شہروں سے لے کر دیہات تک، صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور نگرانی کے غیر مؤثر نظام کے باعث عوام سستے علاج کی تلاش میں اپنی صحت اور جمع پونجی دونوں داؤ پر لگانے پر مجبور ہیں۔
اتائیت ہمارے معاشرے کا ایک سنگین مسئلہ ہے ، جو عوام کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے ۔ دیہی
علاقوں میں جہاں بنیادی مراکز صحت اور دیہی صحت کے مراکز میں بعض اوقات طبی عملے ، ضروری ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی ہوتی ہے، وہاں اتائی معالجین کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ یہ نام نہاد معالجین مستند طبی تعلیم اور مطلوبہ اہلیت کے بغیر مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور لوگوں کی لاعلمی، غربت اور مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف دیہات تک محدود نہیں، بلکہ بڑے شہروں کی کچی آبادیوں اور گنجان آباد علاقوں میں بھی ایسے افراد کے کلینکس موجود ہوتے ہیں۔
مریض فوری آرام کی امید لے کر ان کے پاس جاتے ہیں، جہاں بعض اوقات غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس، سٹیرائڈز اور انجکشن استعمال
کیے جاتے ہیں۔ ان ادویات کا غلط استعمال وقتی طور پر علامات میں کمی تو لا سکتا ہے ، لیکن اس کے سنگین مضر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے ، جبکہ بعض ادویات کا بے احتیاط استعمال گردوں، جگر اور جسم کے دوسرے اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ یوں معمولی بیماری کا علاج کروانے والا شخص غلط تشخیص اور غیر محفوظ علاج کے باعث مزید پیچیدگیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اتائیت کے ساتھ جعلی اور غیر معیاری ادویات کا کاروبار بھی ایک تشویش ناک مسئلہ ہے ۔ ادویات کی تیاری اور فروخت براہِ راست انسانی صحت اور زندگی سے وابستہ شعبہ ہے ، لیکن اس میں غیر قانونی منافع خوری اور ناقص نگرانی کے امکانات عوام کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ جعلی ادویات میں اصل دوا کا فعال جزو موجود نہ ہونے ، اس کی مقدار مقررہ معیار سے کم ہونے یا غیر منظور شدہ اجزا شامل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح غیر معیاری حالات میں تیار کی جانے والی ادویات بھی مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔شوگر، بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے معیاری ادویات کی دستیابی خاص طور پر اہم ہے ۔ اگر مریض ایسی دوا استعمال کرے جو مطلوبہ معیار پر پوری نہ اترتی ہو تو بیماری قابو میں نہیں آتی اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔ بعض اوقات مریض دوا کے غیر مؤثر ہونے کو اپنی بیماری کی شدت سمجھتا رہتا ہے ، جس سے مناسب علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے ۔ اس لیے جعلی ادویات کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت کو محض مالی بدعنوانی نہیں بلکہ انسانی صحت کے خلاف سنگین جرم سمجھتے ہوئے روکنا ضروری ہے ۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، صوبائی محکمہ ہائے صحت اور ڈرگ انسپکٹرز کی ذمہ داری ہے کہ ادویات کے معیار، تیاری، تقسیم اور فروخت کی مؤثر نگرانی کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
پاکستان کا صحت کا بنیادی ڈھانچہ کاغذوں میں مختلف سطحوں پر قائم ہے ، جہاں بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں سے لے کر بڑے تدریسی ہسپتالوں تک علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم متعدد علاقوں میں ان اداروں کو عملے کی کمی، ادویات کی عدم دستیابی، ناکافی طبی آلات اور انتظامی کمزوریوں جیسے مسائل کا سامنا ہے ۔ بعض مقامات پر عمارتیں موجود ہونے کے باوجود مطلوبہ طبی خدمات میسر نہیں ہوتیں، جبکہ کہیں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی غیر حاضری مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے ۔
دیہی علاقوں میں مناسب علاج نہ ملنے کے باعث مریض بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں مریضوں کی
زیادہ تعداد کے مقابلے میں بستروں، ڈاکٹروں اور دیگر سہولیات کی کمی علاج کے عمل کو مشکل بنا دیتی ہے ۔ ادویات کی قلت، تشخیصی آلات کی خرابی اور طویل انتظار کے باعث غریب مریضوں کو مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے حالات میں اتائی معالجین اور غیر مستند مراکز عوام کو آسان اور سستا علاج فراہم کرنے کا تاثر دے کر اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، حالاں کہ غیر محفوظ علاج بعض اوقات بیماری کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی اس بحران کی ایک اہم وجہ ہیں۔ مہنگائی، خام مال اور درآمدی اشیا کے اخراجات، ترسیل اور دیگر پیداواری عوامل ادویات کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جب عام شہری کی استطاعت سے باہر ہو جاتی ہیں تو اس کے لیے باقاعدہ علاج جاری رکھنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ ایک دیہاڑی دار مزدور یا کم آمدنی والے خاندان کے لیے اپنے بچے ، والدین یا کسی دوسرے بیمار فرد کے علاج کے اخراجات پورے کرنا بڑا امتحان بن جاتا ہے ۔ ایسے میں بعض لوگ مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے کم خرچ علاج کی تلاش میں اتائیوں کے پاس چلے جاتے ہیں یا غیر معتبر ذرائع سے ادویات خرید لیتے ہیں۔ اس طرح غربت، مہنگا علاج اور طبی سہولیات کی کمی ایک دوسرے سے جڑ کر عوام کی صحت کے لیے خطرات بڑھا دیتی ہیں۔
اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے محض اعلانات اور دعوے کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلے
صوبائی ہیلتھ کیئر کمشنر اور متعلقہ اداروں کو فعال بنایا جائے تاکہ غیر مستند طبی مراکز کی نشاندہی، معائنہ اور قانون کے مطابق مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے ۔ صرف کلینک سیل کرنا کافی نہیں؛ جہاں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے شواہد موجود ہوں، وہاں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے۔
ادویات کی تیاری سے لے کر تقسیم اور فروخت تک نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے ۔ سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی، ادویات کے بیچ
نمبروں اور رجسٹریشن کی جانچ، لیبارٹریوں میں باقاعدہ معیار کی آزمائش اور مشتبہ ادویات کی فوری واپسی جیسے اقدامات جعلی ادویات کی
روک تھام میں مدد دے سکتے ہیں۔ میڈیکل اسٹورز پر متعلقہ قوانین کے مطابق مستند فارماسسٹ اور اہل عملے کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔
جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں تاکہ انسانی زندگی سے کھیلنے والے عناصر کی
حوصلہ شکنی ہو۔ اسی طرح دیہی علاقوں کے بنیادی مراکز صحت اور ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں، ضروری ادویات اور تشخیصی سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے ۔ دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے طبی عملے کے لیے مناسب مراعات اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے ۔
غریب خاندانوں کو ضروری اور جان بچانے والی ادویات مناسب قیمت پر مہیا کرنے کے لیے مؤثر سرکاری معاونت اور امدادی پروگرام
بھی شروع کیے جائیں۔ ذرائع ابلاغ، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ادویات استعمال کرنا، غیر ضروری انجکشن لگوانا اور غیر معتبر ذرائع سے دوا خریدنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔
صحت کی سہولیات کی فراہمی کوئی خیرات نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ جعلی ادویات اور اتائیت کے خلاف مؤثر کارروائی
اسی وقت ممکن ہے جب حکومت، متعلقہ ادارے ، طبی تنظیمیں اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو محفوظ علاج، معیاری ادویات اور مستند طبی مشورے تک رسائی دینا ناگزیر ہے۔ اگر ان مسائل کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دی جائے ، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور انسانی جان کی حرمت کو ہر قسم کے ناجائز منافع سے بالاتر رکھا جائے تاکہ کوئی شہری سستے علاج کی تلاش میں اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہو۔
٭٭٭