وجود

... loading ...

وجود

سندھ حکومت دباؤ کے آگے ڈھیڑ،دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

جمعه 14 مارچ 2025 سندھ حکومت دباؤ کے آگے ڈھیڑ،دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی سے منظور

 

 

سندھ کے سراپا احتجاج بننے اور پیپلزپارٹی کے دُہرے رویے پر سندھ بھر میں تمام سیاسی جماعتیں احتجاج پر مجبورہوئیں، دریائے سندھ سے کینالز نکالنے پر ایک وسیع تر سیاسی اتحاد نے جنم لے لیا

سندھ بھر میںجاری احتجاج کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قرارداد پیش کی، دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد ایوان نے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کرلی

سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ایک طویل خاموشی کے بعد بآلاخر کینالز کے خلاف سندھ اسمبلی سے قرار داد منظور کرنے پر مجبور ہو گئی۔ سندھ کے سراپا احتجاج بننے اور پیپلزپارٹی کے دُہرے رویے پر سندھ بھر میں تمام سیاسی جماعتیں احتجاج پر مجبور ہوگئیں۔ یہاں تک کہ دریائے سندھ سے کینالز نکالنے پر ایک وسیع تر سیاسی اتحاد نے جنم لے لیا۔ مگر سندھ حکومت برائے نام بیانات پر اکتفا کر تی رہیں۔ مگر اب سندھ کے بپھرنے پر دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے خلاف قرارداد سندھ اسمبلی میں پیش کردی گئی جسے ایوان نے اتفاق رائے کے ساتھ منظور کرلیا۔سندھ اسمبلی کا خصوصی اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں شروع ہوا، اسپیکر سندھ اسمبلی نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کردیا، قاسم سومرو، عبد الوسیم، ندا کھوڑو سمیت چار ایم پی ایز کا اعلان کیا گیا۔وزیر پارلیمانی امور ضیاء لنجار نے اسپیکر سے آج کا بزنس مؤخر کرنے کی درخواست کی، سندھ اسمبلی کے بزنس کے موخر کردیا گیا۔،وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر 6 کنالز کے خلاف قرارداد پیش کی، پیپلز پارٹی کے رہنما جام خان شورو نے کہا کہ یہ اہم اور تفصیلی قرارداد لیڈر آف دی ہائوس نے پیش کی، پانی کے معاملے پر، سندھ کے لوگ حساس ہیں، پیپلز پارٹی نے پانی کی تقسیم پر ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے نے بغض پیپلز پارٹی میں اتحاد بنایا، جلال پور کنال کی ارسا نے این او سی دی اس کی مخالفت پیپلز پارٹی نے کی، سندھ کے لوگوں کو دیکھنا چاہیے کہ کس نے منظوری دی اور کس نے مخالفت کی، ہم کہتے ہیں پاکستان میں پانی کی قلت ہے ، ہمارے پاس پینے کا پانی نہیں ہے ، یہ ارسا کا رکارڈ ہے ، آج سے بیس سال قبل کہا جا رہا تھا ہم ارسا کی کچھ شقوں کو نہیں مانتے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی قلت کہہ کر پانی چورا کیا جا رہا تھا، آپ پاکستان کے معاشے حالات سدھارنا چاہتے ہیں، فضل اکبر کمیشن میں سندھ نے پانی کا کیس پیش کیا، تھل کنال گیز ون اور جلال پور کنال کی منظوری کے بعد کون سویا ہوا تھا؟ وزیر اعلی سندھ نے احسن اقبال اور اسحاق ڈار کو خطوط لکھے کہ ہم کنالز بننے نہیں دیں گے ۔جام خان شورو کا کہنا تھاکہ پنجاب بائیس سال سے کہہ رہا ہے پانی کی قلت ہے ، پھر نئے کنالز میں پانی کہاں سے آئے گا، پاکستان میں ہر سال سیلاب نہیں آتا۔سندھ اسمبلی اجلاس میں پانی کی قلت اور دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کے عوام باشعور بن چکے ہیں، اس ہائوس میں بیٹھا سارا سندھ ہے ، اس کنال بننے سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا، جی ڈی اے نے کہا اگر پیپلز پارٹی کنالز نہیں رکوا سکتی تو فیڈریشن سے الگ ہوجائیں۔ان کا کہنا تھا کہ لیاقت جتوئی کو واٹر اینڈ پاور کی وزارت دی گئی، لیاقت جتوئی نے جنرل پرویز مشرف کو بیٹو جتوئی میں بلایا۔نثار کھوڑو نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آصف زرداری نے اپنی پوزیشن واضح کی، سندھ والے تحمل کا مظاہرہ ضرور کرینگے لیکن زیادتی برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مجھے مانگنے پر را کا ایجنٹ قرار دیا گیا تھا، تونسہ سے گڈو تک کتنا پانی چوری ہوتا ہے ؟ بتایا جائے ، لیاقت جتوئی نے کہا محترمہ بینظیر بھٹو اگر دھرنے میں جائیں گی تو میں آپ کی قرارداد کی حمایت کروں گا، عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس قرارداد کا حصہ بننے پر مجھے فخر ہے ۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی نے پوزیشن واضح کرنے پر وقت لیا، بار بار پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے ، گرین پاکستان انیشیٹو کی صدر زرداری نے تعریف بھی کی توثیق کی، چولستان کنال بھی گرین پاکستان انیشیٹو کا حصہ ہے ، وزیر اعلی بتائیں سی سی آئی کو جو آپ نے خط لکھا اس کا جواب کیا آیا ؟ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی کا معاملہ بہت حصہ ہے ، ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ہی غلط ہے ، چولستان کنال کو پانی سندھ سے کینال پر کوئی کام ہوتے نظر نہیں آ رہا، صرف افواہوں پر ہم کو گالم گلوچ سے نوازا، وزیر اعلیٰ سندھ جائے گا تو یہاں پانی پہلے سے ہی کم ہے ، کہا جا رہا ہے پانی پنجاب سے لیا جائے گا پنجاب کا پانی تو پہلے ہی کم ہے ۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 6 کینال بن رہے ہیں، ہماری قرارداد یہ ہے کہ ہم چھہ کینالوں کو مسترد کرتے ہیں ، گریٹر تھل کینال ٹو کی تحریک انصاف کے دور میں منظوری ہوئی، اس کے خلاف ہم سی سی آئی میں گئے ، جب تک سی سی آئی کی میٹنگ نہیں ہوتی یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا ، ہم نے اسے آئینی طور پر غلط کہا ہے ، ہم نے سی سی آئی میں اس کو چیلنج کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ان کینالز پر کام نہیں چل رہا ہے ، اگر کوئی چھپ کر کرتا ہے تو کام کیسے ہوگا، کچھی کینال 2003 میں منظور ہوا تھا، یہ سیلاب میں شدید متاثر ہوا تھا، چشمہ رائیٹ کینال کے پی بھی پہلے سے منظور شدہ ہے ، ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے ،سب سے زیادہ شور چولستان کینال ہے یہ کینال بننے والا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ خود وفاقی حکومت کے ادارے پلاننگ کمیشن کی رپورٹ ہے ، اس کینال پر انگریزوں کے زمانے سے پروجیکٹ بنتے رہے ، اس زمانے سے یہ منصوبہ مسترد ہوتا رہا ہے ، پنجاب حکومت نے پی سی ٹو بنایا ہے ، یہ 2018 ارب کا منصوبہ ہے یہ غیر منظور ہے ، کینال پر کوئی کام ہوتے نظر نہیں آ رہا ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف افواہوں پر ہم کو گالم گلوچ سے نوازا، اس اشو کا سب سے رکھوالا پیپلز پارٹی ہے ، یہ معاملہ سی سی آئی میں ہے کچھ نہیں کر سکتے ، اگر سی سی آئی بھی منظور کرے گی تو ہم جوائنٹ پارلیمنٹ میں جائیں گے ، پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری بیٹھے ہیں، اچانک یہ فیصلہ کیا گیا تو میں نے پلاننگ وزیر کو خط لکھا، جب تک منظوری نہیں ہوگی کام کیسے ہوگا چولستان کینال کے بول رہے ہیں سیلاب کا پانی لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 4622 کیوسک پانی لینے کی بات کی گئی، کوئی پلاننگ نہیں فزیبلٹی نہیں ہے کینال کہاں سے بنیں گے۔ میں حیران ہوں کہ پنجاب پر اس کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جارہی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ ہم پنجاب کے زرخیز زمینوں کا پانی چولستان لے جارہے ہیں تو سندھ کو کیا اعتراض ہے ، تو کیا آپ اپنے سب سے زرخیز چچ دو آب، رچنا دوآب جوکہ راوی اور چناب کے درمیان کا علاقہ ہے ، جہلم اور چناب کے درمیان کا علاقہ جوکہ سب سے زیادہ زرخیز علاقہ ہے ، اُسے بنجر کرنے جارہے ہیں ؛ کہتے ہیں کہ وہاں سے پانی لے کر چولستان کو دیں گے تو اس سے سندھ والوں کو کیا پریشانی ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ باتیں بتائی جارہی ہیں؛ تو کیا آپ اپنا یہ سارا علاقہ بنجر کردیں گے ، ایک صحرا کو آبادکرنے کے لیے ؛ مجھے نہیں لگتا ، ویسے بھی دریا کے بالائی حصے میں آباد خود کو سوکھنے دیں گے ؛ یہ ہے ہمارا اعتراض ، 4ملین ایکڑ فٹ ہم آباد کرتے تھے جبکہ پنجاب ایک ملین فٹ کرتا تھا ، اب پنجاب نے وہ بڑھا کر ، تقریبا سکھر بیراج بننے سے پہلے اس کو 19 ملین ایکڑ پر لے گئے ۔دیگر رہنماؤں کے خطاب کے بعد دریائے سندھ پر چولستان کینال سمیت 6 نہروں کی تعمیر کے خلاف سندھ اسمبلی نے قرارداد متفقہ رائے سے منظور کرلی، سندھ اسمبلی نے چولستان کینال اور دیگر نئے نہری منصوبوں کو 1991 پانی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا، بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعے کے روز ڈہائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر