وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
بائیو آملہ شیمپو کے مالکان سے ڈسٹری بیوٹرز کی خریدو فروخت کے لیے ٹریڈ مارک سرٹیفکیٹ ، سیلز ٹیکس انوائسزطلب وجود - جمعرات 13 ستمبر 2018

بائیو آملہ شیمپو بنانے والی کمپنی فارول کاسمیٹکس (تحلیل شدہ)کے مالکان سے ملک بھر کے بائیو آملہ شیمپو کے ڈسٹری بیوٹرز نے ’’ شیمپو‘‘ کی خریدو فروخت کے لیے بائیو آملہ شیمپو کا ٹریڈ مارک وکاپی رائٹ سرٹیفیکٹس اور سیلز ٹیکس انوائسزطلب کرلی ،کمپنی مالکان کی ڈسٹری بیوٹرز کو زبانی یقین دہانی کی کوشش ناکام، آپس کے جھگڑوں میں اُلجھے ہوئے کمپنی مالکان ذکاء الدین شیخ اور کاشف ضیاء کا متعلقہ ادارے سے بائیو آملہ شیمپو کے ٹریڈ مارک سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے’’ ایجنٹوں ‘‘سے مشترکہ رابطہ ،ڈسٹری ب...

بائیو آملہ شیمپو کے مالکان سے ڈسٹری بیوٹرز کی خریدو فروخت کے لیے ٹریڈ مارک سرٹیفکیٹ ، سیلز ٹیکس انوائسزطلب

17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں ایچ اے نقوی - هفته 21 اکتوبر 2017

سندھ کے مختلف محکموں میں کرپشن کی کہانی کھل کر سامنے آگئی ہے،اور یہ ظاہرہوگیاہے کہ سندھ کے مختلف محکموں میں اب بھی کم وبیش ایسے1300 سے زیادہ ایسے افسران اعلیٰ عہدوں پر کام کررہے ہیں جو نہ صرف یہ کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں بلکہ کرپشن ثابت ہونے کے بعد نیب کے ساتھ پلی بارگین ڈیل کے بعد رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور کرپشن کے ذریعے کمائی گئی دولت کا ایک حصہ قومی خزانے میں واپس جمع کرانے پر مجبور ہوئے تھے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس صورت حال کا سختی سے نوٹس لیاہے ا...

17 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن میں ملوث1300کرپٹ افسران اپنے عہدوں پر کام کررہے ہیں

سندھ کے خزانے کی بے رحمی سے لوٹ مار الیاس احمد - هفته 21 اکتوبر 2017

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ اپنی جگہ درست ہوتی کہ وہ نوجوان ہیں متحرک ہیں ۔ خود جا کر معاملات کا جائزہ لیتے ہیں اور تمام امور کی خود نگرانی کرتے ہیں وغیرہ ۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ جس طرح سندھ کو مالی طور پر سید مراد علی شاہ نے نقصان دیا ہے یوں کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ مراد علی شاہ نے سندھ کے خزانے کی جس طرح دل کھول کر لوٹ مار کی ہے اس کی پچھلے پچاس سال میں تو کوئی مثال نہیں ملتی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تنخواہیں اور الائونس بڑھا دیتے ہیں ایسا لگتا ہے...

سندھ کے خزانے کی بے رحمی سے لوٹ مار

واٹر سپلائی میں گھپلے سندھ ہائیکورٹ میں ملزم کو مخبوط الحواس قرار دے کر بری کرانے کی کوشش ناکام وجود - جمعه 20 اکتوبر 2017

تہمینہ حیات سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی زیر قیادت دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز نیب سے سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے حلقہ انتخاب سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر ملکی امداد سے شروع کی جانے والی واٹر سپلائی اسکیم میں مبینہ طورپر اربوں روپے کے گھپلوں اور خورد برد کی تحقیقات کے حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور خصوصی پراسیکیوٹر کو 15 نومبر کو اس حوالے سے تفصیلی اورمکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ سید ...

واٹر سپلائی میں گھپلے سندھ ہائیکورٹ میں ملزم کو مخبوط الحواس قرار دے کر بری کرانے کی کوشش ناکام

سول اسپتال خیر پور اور کے ایم سی کے اسپتالوں میں مالی بے قاعدگیاں ‘ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تشویش الیاس احمد - جمعرات 12 اکتوبر 2017

حکومتی اداروں میں کرپشن کی ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے جو ناقابل بیان ہے، حکومتیں اب کرپشن کو اپنے لیے آکسیجن سمجھتی ہیں کیونکہ حکومت کے وزراء ، مشیر، معاونین خصوصی تب تک رعب و دبدبہ قائم نہیں رکھ سکتے جب تک ان کے پاس کروڑوں ، اربوں روپے نہ ہوں ان کے پاس ہوٹر والی گاڑیاں نہ ہو، سیکیورٹی گارڈز نہ ہوں اور ایسا کرنے کے لیے واحد راستہ کرپشن ہے، نیب نے اب تک جو کردار ادا کیا ہے وہ مایوس کن ہے کیونکہ نیب نے جن افراد کو چھوٹ دی ہے یا ان کی انکوائریز ختم کی ہیں وہ حقیقی معنوں میں کرپٹ ...

سول اسپتال خیر پور اور کے ایم سی کے اسپتالوں میں مالی بے قاعدگیاں ‘ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تشویش

سندھ میں ہر ایم پی اے کو 10 کروڑ روپے کی سیاسی رشوت الیاس احمد - هفته 30 ستمبر 2017

سابق فوجی حکمراں ضیاء الحق ویسے تو بظاہر بڑے میسنے لگتے تھے خاموش رہتے تھے اور آہستہ آہستہ گفتگو کرتے تھے لیکن وہ بڑے شاطر تھے انھوں نے جو بیج بویا تھا وہ آج کیا آنے والے کئی سالوں تک اس کی فصل پاکستان کے عوام کاٹتے رہیں گے۔ ضیاء الحق نے افغان جہاد کے نام پر ہیروئن اور کلاشنکوف کا جو تحفہ دیا وہ آنے والی نسلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ اور یہ ہیروئن اور کلاشنکوف اب ہمارے سماج کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ یوں ضیاء الحق نے ایک چال اور چلی کہ ارکان پارلیمنٹ کو ناکارہ بنایا جائے ۔اس کے ...

سندھ میں ہر ایم پی اے کو 10 کروڑ روپے کی سیاسی رشوت

علامہ اقبال اور قائد اعظم یونیورسٹی کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف وجود - جمعه 29 ستمبر 2017

تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میںعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور قائد اعظم یونیورسٹی کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف ہواہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے گریڈ20-22 کے ملازمین کو 2014-15 کے دوران اپنی نجی گاڑیوںمیں فیول کے نام پر4.36 ملین یعنی 43 لاکھ60 ہزار روپے دے دیئے گئے،پارلیمنٹ میں آڈیٹر جنرل کی جانب سے حال ہی میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس کاانکشاف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیاہے کہ عملے کو فیول کے نام پر رقم کی فراہمی خلاف ضابطہ اور خلاف قانون ہے ک...

علامہ اقبال اور قائد اعظم یونیورسٹی کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں الیاس احمد - جمعرات 28 ستمبر 2017

قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملک میں کسی بھی طرح ریاست کے اداروں کو مضبوط نہیں کیا گیا، ریاست کمزور اور افراد طاقتور ہوتے گئے جس کے نتیجے میں یہاں عوام محکوم ہوئے اورایک خاص طبقہ مزید طاقت پکڑگیا۔اب صورت حال یہ ہے ملک کے بیس کروڑ عوا م پر چندگنے چنے طاقتورافرادکی حکمرانی ہے۔غریبوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ انہی طاقتورخاندانوں کے افرادبارباراقتدارمیں آتے رہے۔جنھوں نے عوام کومزید غریب کی پستی میں دھکیلنے میں کوئی کثرنہ چھوڑی۔کسی بھی دور حکومت میں عوام کے لیے کوئی ا...

محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کردیں

محکمہ تعلیم کا افسر 6عہدوں پر براجمان سپریم کورٹ کے احکامات اُڑن چھو الیاس احمد - بدھ 13 ستمبر 2017

حکمرانوں کی بھی عجیب نفسیات ہوتی ہے راضی ہوتے ہیں تو تمام حدود پھلانگ دیتے ہیں اور اگر ناراض ہوتے ہیں رَتی برابر بھی فائدہ نہیں دیتے۔ 2007ء سے لے کر اب تک سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دو سو سے زائد مقدمات ایسے چلے جو صرف سرکاری افسران کے تھے جن کو آئوٹ آف ٹرن پروموشن دیا گیا۔ ان کو اصل گریڈ سے اوپر تعینات کیا گیا۔ بیک وقت دو تین عہدے دیئے گئے لیکن حکومت سندھ ان کو ہٹانے کے لیے قطعی تیار نہیں تھی صورتحال جب واقعی خراب ہوئی تو لوگوں نے اعلیٰ عدالتوں کی جانب رجوع کیا ۔ پہ...

محکمہ تعلیم کا افسر 6عہدوں پر براجمان سپریم کورٹ کے احکامات اُڑن چھو

سنتا جا شرماتا جا؛ محکمہ خوراک کے 70 افسران ڈھائی ارب کی گندم ڈکار گئے الیاس احمد - بدھ 06 ستمبر 2017

دنیا کہیں کی کہیں پہنچ جائے لیکن سندھ کا محکمہ خوراک کبھی نہیں سدھرے گا خیر اب تو محکمہ خوراک کی اصلاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس مرتبہ گندم کی خریداری سے قبل دو ارب روپے کی جوٹ کی بوریاں خرید نے کے بجائے زرداری کے دست راست انور مجید کے اومنی گروپ سے پلاسٹک بیگ خریدے گئے اور یہ پلاسٹک کے بیگ سخت گرمی میں پھٹ جاتے ہیں جس سے اربوں روپے کی گندم ضائع ہو جائے گی لیکن محکمہ خوراک کو اس سے کیا سروکارکہ گندم خراب ہوتی ہے یا بچ جاتی ہے؟ ان کو تو صرف اومنی گروپ کی اشیر باد چا...

سنتا جا شرماتا جا؛ محکمہ خوراک کے 70 افسران ڈھائی ارب کی گندم ڈکار گئے

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے ایچ اے نقوی - منگل 05 ستمبر 2017

آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں 6.5ارب روپے کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری فنڈز کے خرچ میں بے قاعدگیوں ،فراڈ ،خورد برد اوربے اعتدالیوں کے ذریعہ کم وبیش 19کروڑ55 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ رقم ذمہ دار افراد سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے صرف 23 فارمیشنز کے آڈٹ کے دوران پوسٹل لائف انشورنس (پی...

پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ , 6.5 ارب روپے کی بے قاعدگیاں ،ایک ارب چالیس کروڑ کی زمینوں پر قبضے

حکومت سندھ کا نیب زدہ افسران کو ہٹانے سے انکار الیاس احمد - جمعه 01 ستمبر 2017

حکومت سندھ نے نیب کے قوانین سندھ سے ختم کردیے مگر سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد حکومت سندھ کے تمام خواب چکنا چور ہونا شروع ہوگئے کیونکہ حکومت سندھ نے جن کرپٹ افراد کو بچانے کے لیے نیب کے قوانین ختم کرنے کی قانون سازی کی تھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت شاذر شمعون، منظور کاکا، ثاقب سومرو، اویس مظفر ٹپی، ضیاء الحسن لنجار، فقیر داد کھوسو سمیت 65 سے زائد ان شخصیات کو بچانا چاہتی ہے جن پر کرپشن کے الزامات ہ...

حکومت سندھ کا نیب زدہ افسران کو ہٹانے سے انکار

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ۔ 53 ؍ارب 50 ؍کروڑ روپے کی لوٹ مار نجم انوار - بدھ 30 اگست 2017

پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کیا تو اس کے سربراہ کا نام چیف کنٹرولر کے بجائے ڈائریکٹر جنرل قرار دیا اور اس کے دفاتر حیدر آباد، سکھر، لارکانہ، نواب شاہ اور میر پور خاص میں بھی قائم کیے اور اس کے پہلے سربراہ منظور قادر عرف منظور کاکا بنے جو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی تھے اور پھر ان کو ملک ریاض کے ساتھ مذاکرات کرنے اور حکومت سندھ کی زمینیں ملک ریاض کو دینے کا ٹاسک دیا گیا۔ منظور کاکا نے جس طرح لوٹ مار ک...

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ۔ 53 ؍ارب 50 ؍کروڑ روپے کی لوٹ مار

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے شہلا حیات نقوی - منگل 29 اگست 2017

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری کے معاملے کی آڈٹ کے دوران زمین کی خریداری میں 50 کروڑ30 لاکھ روپے سے زیادہ کے گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے،آڈیٹر جنرل پاکستان کی تیار کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ورکرز کے لیے 3 ہزار فلیٹوں کی تعمیرکے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے سے زیادہ کے زائد اخراجات کاپتہ چلایاگیاہے، رپورٹ کے مطابق یہ پراجیکٹ بروقت مکمل نہ کیے جانے کے سبب اس کی مجموعی لاگت 85 کروڑ 45 لاکھ 34 ہزار بڑھ جائے گی جبکہ اس پراجیکٹ کے لیے زمین کی خریداری ...

ورکرز کے فلیٹوں کی تعمیر کے لیے زمین کی خریداری میں 50 کروڑ روپے کے گھپلے

سندھ میں اندھیر نگری چوپٹ راج, نیب زدہ افسر کو گریڈ 21 مل گیا۔ احمد جنید میمن کی چاندی ہوگئی الیاس احمد - اتوار 27 اگست 2017

اگر ملک کی تاریخ میں کرپشن بے قاعدگیوں اور قانون کی دھجیاں اڑانے کی بات کی جائے تو یقیناحکومت سندھ اس معاملے میں صدی کا سب سے بڑا انعام حاصل کرے گی ۔ یہاں ایسی اندھیر نگری مچی ہے کہ جس کی مثالیں تاریخ میں نہیں ملتیں ۔ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں سینکڑوں ایسے مقدمات چل رہے ہیں جس میں مالی بے قاعدگیوں ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قواعد و ضوابط کے برعکس کام کرنے جیسی نایاب مثالیں قائم کی گئی ہیں ۔حکومت سندھ نے پچھلے 9 برسوں کے دوران ایسی حکومت چلائی ہے جیسے بادشاہت یا ...

سندھ میں اندھیر نگری چوپٹ راج, نیب زدہ افسر کو گریڈ 21 مل گیا۔ احمد جنید میمن کی چاندی ہوگئی

محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے کی کرپشن‘ مزاروں کے متولیوں کی تقرری میں گھپلے شہلا حیات نقوی - هفته 26 اگست 2017

سندھ کے محکمہ اوقاف میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں واقع معروف اولیائے کرام اور بزرگان دین کے کم وبیش500 مزاروں پر زائرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے نذرانے ،چڑھاوے اور عطیات کے طورپر حاصل ہونے والی رقم اور قیمتی اشیا مبینہ طورپر خورد برد کرلی جاتی ہیں اوران کابہت ہی معمولی ساحصہ سرکاری خزانے میں جمع کرایاجاتاہے، اطلاعات کے مطابق مزاروں پر ہونے والی آمدنی کی خورد برد اور چوریوں میں ان مزاروں کی ...

محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے کی کرپشن‘ مزاروں کے متولیوں کی تقرری میں گھپلے

قصہ 62 ٹریکٹرز کو روکنے کا ‘انور مجید کی طاقت سندھ ہائی کورٹ کے سامنے ختم ہوگئی ؟ الیاس احمد - بدھ 09 اگست 2017

سندھ میں انور مجید کے بارے میں پہلی مرتبہ عوام اور میڈیا کو اس وقت پتہ چلا جب ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے دھواں دار پریس کانفرنس کی سیریز کی تھی۔ انور مجید کون ہے؟ اس بارے میں عوام اور میڈیا تاحال تفصیلی طور پر نہیں جان سکے ہیں ۔ صرف عمومی طور پر یہ خبریں آئی ہیں کہ انور مجید ایک کشمیری ہے جو اومنی گروپ کا سربراہ ہے اور اس گروپ کا اصل مالک آصف علی زرداری ہے انور مجید ہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے حکومت، پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کے آئی جی سندھ پولیس سے اختلاف ہوئے ہیں ۔ انور مجید ٹھٹھہ...

قصہ 62 ٹریکٹرز کو روکنے کا ‘انور مجید کی طاقت سندھ ہائی کورٹ کے سامنے ختم ہوگئی ؟

ارکان سندھ اسمبلی نے نئی ملازمتوں کو دھندا بنا دیا!!! الیاس احمد - پیر 07 اگست 2017

جیسے ہی عام الیکشن کی طرف حالات جارہے ہیں حکومت سندھ ایسے فیصلے کررہی ہے جس سے عوام کو کم‘ حکومت سندھ اور پیپلزپارٹی کو زیادہ فائدہ ملے۔ ترقیاتی منصوبے بھی ایسے بنائے جارہے ہیں جس سے ارکان سندھ اسمبلی کو ٹھیکیداروں سے کمیشن بٹورنے کے مواقع زیادہ ملے اور وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں اور ترقیاتی منصوبے بھی ایسے بن رہے ہیں جو صرف اپنوں کے فائدے کے ہوں مخالفین کے لیے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں بنایاگیا۔ سندھ حکومت نے اب تازہ اطلاعات کے مطابق عام انتخابات سے قبل نئی ملازمتیں...

ارکان سندھ اسمبلی نے نئی ملازمتوں کو دھندا بنا دیا!!!

سندھ میں اعلیٰ افسران کا قحط گریڈ 21 کے افسران ناپید، سینئر افسران سندھ میں آنے کے لیے تیار نہیں الیاس احمد - بدھ 02 اگست 2017

حکومت کی وصف کیا ہے؟ یہ تو سادہ سی بات ہے لیکن پر کسی کو علم نہیں کہ حکومت کس چیز کا نام ہے؟ اصل میں حکومت کی معنی کا بینہ ہوتی ہے لیکن حکومت کو چلانے کے لیے بیورو کریسی ہی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گریڈ 20 سے لے کر گریڈ 22 تک کے افسران ایسے ہوتے ہیں جو بادشاہ گر ہوتے ہیں۔ سیکریٹری ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور چیف سیکریٹری وہ عہدے ہوتے ہیں جو آئیڈیل تصور کیے جاتے ہیں۔ سندھ میں کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں لیکن پچھلے دس سالوں میں جو کچھ بے رحمی سے کیا گیا اس سے سیاسی رہ...

سندھ میں اعلیٰ افسران کا قحط  گریڈ 21 کے افسران ناپید، سینئر افسران سندھ میں آنے کے لیے تیار نہیں

سنتا جا شرماتا جا……!اینٹی کرپشن کا محکمہ کرپشن کا گڑھ !! الیاس احمد - جمعرات 20 جولائی 2017

حکومت سندھ ان دنوں نیب سے خفا ہے اور اپنا صوبائی احتساب کمیشن بنانا چاہتی ہے، اور امکان ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو احتساب کمیشن یا اینٹی کرپشن ایجنسی کا نام دے دیا جائے گا یعنی بوتل نئی کرکے اُس میں پُرانی شراب اُنڈیلی جائے گی۔ محکمہ اینٹی کرپشن پر حکومت سندھ خصوصاً آصف علی زرداری اور فریال ٹالپور راضی ہیں کیونکہ محکمہ اینٹی کرپشن کے حال ہی میں تبدیل ہونے والے چیئرمین غلام قادر تھیبو اس وقت آصف زرداری اور فریال ٹالپور کے ذاتی ملازم کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ان کو کہا گیا تھا ک...

سنتا جا شرماتا جا……!اینٹی کرپشن کا محکمہ کرپشن کا گڑھ !!

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین الیاس احمد - اتوار 16 جولائی 2017

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ سندھ کی جیلیں تو جہنم ہیں لیکن اب ایسا نہیں۔پاکستانی جیلوں کی ا نوکھی تاریخ میں حال ہی میں شاندار باب اس وقت لکھا گیا جب رینجرز کے چھاپے کے دوران موبائل فونز سے لے کر ریفریجریٹر تک بر آمد ہوئے۔جیلوں میں اب قانون شکن عناصر کی عملداری ہے جو جیلر سمیت پورے پورے عملے کو خرید لیتے ہیں اور جیل پر خود حکمرانی کرتے ہیں ۔ ملک میں کچھ جیلیں واقعی ایسی جیلیں ہیں جن کی سختیوں کی کئی داستانیں ہیں ۔جن میں مچ جیل‘ ساہیوال جیل‘ اڈیالہ جیل ‘بنوں جیل‘ خیرپورجی...

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی نے حکمرانوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ایچ اے نقوی - پیر 03 جولائی 2017

امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے آپ بیتی لکھی ہے جس میں انھوں نے لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلی روداد بیان کی ہے جس میں امریکا اور پاکستان کے درمیان سفارتی بحران اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے بڑے ڈرامائی انداز میں جیل روڈ اور فیروز پور روڈ کے سنگم پر پیش آنے والے واقعے کی منظر کشی کی ہے، جس میں انھوں نے دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے تو ان کی گاڑی کے آگے موٹ...

امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی سنسنی خیز آپ بیتی نے حکمرانوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

محکمہ آبپاشی کا بیڑہ غرق!! الیاس احمد - اتوار 02 جولائی 2017

محکمہ آبپاشی اس لحاظ سے اہمیت کا حامل رہا ہے کیونکہ وہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چھوٹی بڑی نہروں کو مضبوط بنانے اور سیلاب سے قبل بچائو کے لیے اقدامات کرتا ہے مگر محکمہ آبپاشی ہمیشہ اپنے مینڈیٹ سے انحراف کے باعث تنقید کا نشانا بنتا رہا ہے۔ سیلاب اور سپرسیلاب آتے ہیں تو بڑی تباہی پھیل جاتی ہے لیکن محکمہ آبپاشی کے کسی ایک بھی اہلکار کو سزا نہیں ملتی۔ محکمہ آبپاشی کو اربوں روپے ملتے ہیں تاکہ دریائے سندھ مضبوط ہو چھوٹے بڑے نہر کے حفاظتی بند ناقابل تسخیر بن جائیں اور سیلاب میں ...

محکمہ آبپاشی کا بیڑہ غرق!!

گندم کی خریداری، ہر مرحلہ میں کرپشن، حکومت سندھ خاموش تماشائی بن گئی الیاس احمد - پیر 22 مئی 2017

سندھ میں گندم کی خریداری میں ہمیشہ بے قاعدگیاں کی گئی ہیں، کبھی گندم کی خریداری پر تو کبھی خالی بوری (باردانہ) کی خریداری پر بے قاعدگیاں ہوگئیں ،کبھی تو گندم کو خریدنے کے بعد غائب کرکے باقی بوریوں میں مٹی ڈال کر کاغذی کارروائی کی گئی۔ 2008ءمیں جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس وقت نادرمگسی کو وزیر خوراک بنایا گیا اس وقت حیرت انگیز ظورپر مالی بے قاعدگی کی حد کر دی گئی۔ پہلے تو خالی بوریاں چھپادی گئیں اور پھر ہر بوری 200 روپے میں فروخت کی گئی اور پھر گندم کا جوریٹ سرکاری طور پر...

گندم کی خریداری، ہر مرحلہ میں کرپشن، حکومت سندھ خاموش تماشائی بن گئی

جہانگیر صدیقی نیب کے نشانے پر: آزگرد کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی وجود - جمعرات 26 مئی 2016

قومی احتساب بیورو نے بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے مختلف اداروں اور لوگوں کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جس میں جہانگیر صدیقی کے ادارے آزگرد نائن لمیٹڈ میں اندرونی تجارت (ان سائیڈر ٹریڈنگ) کا معاملہ بھی شامل ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین قمر زمان چودھری کی قیادت میں نیب ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں بدعنوانی کے کئی معاملات پر تحقیقات کے فیصلے کیے گئے جن میں آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی خریداری میں اندرونی تجارت اور نیشنل بینک کی جانب ...

جہانگیر صدیقی نیب کے نشانے پر: آزگرد کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی

پاکستان میں سرمایہ لوٹنے والا جہانگیر صدیقی لندن میں سرمایہ کاری کانفرنس کا میزبان بن گیا! وجود - پیر 23 مئی 2016

پاکستان میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس میں سرمایہ لوٹنے والا سرمائے کا محافظ بن جاتا ہوں۔ جہانگیر صدیقی پاکستان میں بدعنوانیوں کی ایک بدترین مثال ہے مگر وہ 23 اور 24 مئی کولندن میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس کے میزبان بن گیے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کانفرنس میں اُن کے شریک میزبانوں میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نام بھی شامل ہے ۔ جس کے سرمایہ کاروں کے سرمائے کو منظم طور پر ڈبونے اور ہڑپنے کے لیے جہانگیر صدیقی نے 2006 سے 2008 تک ایک ایسا جال بچھ...

پاکستان میں سرمایہ لوٹنے والا جہانگیر صدیقی لندن میں سرمایہ کاری کانفرنس کا میزبان بن گیا!

پاناما پیپرز میں موجود ایجنٹوں اور انٹیلی جنس حکام کے نام وجود - جمعرات 14 اپریل 2016

پاناما کے قانونی ادارے موسیک فونسیکا کی دستاویزات کے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے سے متعدد ممالک کے انٹیلی جنس حکام اور ایجنٹوں کے نام بھی ظاہر ہوگئے ہیں، جو اپنی مالیاتی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے فرنٹ کمپنیاں چلاتے تھے۔ جرمن اخبار شودوئچے زیتونگ، کہ جسے گزشتہ موسم گرما میں تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز ڈیٹا موصول ہوا تھا، نے پایا ہے کہ ان ناموں میں مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور افریقہ کے ساتھ ساتھ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے قریبی مذاکرات کار بھی شامل ہیں۔ ...

پاناما پیپرز میں موجود ایجنٹوں اور انٹیلی جنس حکام کے نام

پاناما پیپرز کو سی آئی اے منظر عام پر لایا، سابق سوئس بینکر کا انکشاف وجود - بدھ 13 اپریل 2016

ایک سابق سوئس بینکر نے پاناما پیپرز کے منظر عام پر لانے میں سی آئی اے کے کردار کو مرکزی قرار دیا ہے۔ ان دستاویزات میں کئی عالمی رہنماؤں، اداروں، تنظیموں، کاروباری و معروف شخصیات کے ٹیکس سے فرار اختیار کرتے ہوئے اپنے اثاثے بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سوئس ادارے یو بی ایس کے لیے سابق امریکی بینکر بریڈلی برکن فیلڈ کا کہنا ہے کہ "میری رائے میں اس کے پیچھے یقیناً سی آئی اے ہے۔" وہ سی این بی سی کو گزشہ روز میونخ سے انٹرویو دے رہے تھے۔ یہ برکن فیلڈ ہ...

پاناما پیپرز کو سی آئی اے منظر عام پر لایا، سابق سوئس بینکر کا انکشاف

پاناما پیپرز، ایک نیا منظرنامہ، ایک نئی سازش وجود - منگل 12 اپریل 2016

ٹیکس سے فرار اختیار کرنے والے افراد کو ظاہر کرنا بلاشبہ ایک بہترین کاوش ہے، لیکن پاناما پیپرز کے مقاصد کچھ "مشکوک" سے بھی لگتے ہیں۔ اس سے نقد کے خاتمے اور عام افراد کو ٹیکس دائرے میں لاکر ان کے استحصال کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ "پاناما پیپرز" کے نام سے ہونے والے تباہ کن انکشافات ایک ایسے ادارے کی خفیہ دستاویزات سے سامنے آئے جو جعلی ادارے تشکیل دیتا تھا۔ تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف سمجھی جانے والی ان دستاویزات نے نہ صرف غم و غصے کی ایک بڑی لہر پیدا کی بلکہ کئی شکوک...

پاناما پیپرز، ایک نیا منظرنامہ، ایک نئی سازش

پاناما پیپرز کے مکمل انکشافات عوام کے سامنے لائے جائیں، وکی لیکس وجود - هفته 09 اپریل 2016

وکی لیکس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز کو مکمل طور پر شائع کرنا چاہیے تاکہ عوام کو انکشافات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔ آئس لینڈ کے ایک تفتیشی صحافی نے، جو بعد میں وکی لیکس کے نمائندہ بنے، ذرائع ابلاغ کی موجودہ کوریج کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ اگر وہ اسے ذمہ دارانہ صحافت کہتے ہیں تو میں مکمل طور پر عدم اتفاق کرتا ہوں۔ جولین اسانج کے قانونی جنگ میں جت جانے کے بعد کرسٹن ہرافنسن وکی لیکس کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے روس کے ابلاغی ادارے...

پاناما پیپرز کے مکمل انکشافات عوام کے سامنے لائے جائیں، وکی لیکس

"امریکا اچھا، پاناما برا"، ٹیکس فراریوں کی حقیقی جنت امریکا وجود - جمعرات 07 اپریل 2016

امریکا کے صدر براک اوباما نے گزشہ روز اپنی تقریر میں ان ناقص قوانین کو تنقید کا نشانہ بنایا جو دنیا بھر میں رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ تقریر ایک ایسے موقع پر کی گئی جب پوری دنیا میں "پاناما پیپرز" کے انکشافات کا ہنگامہ ہے۔ اوباما نے اسی لیے کہا کہ "ٹیکس سے فرار ایک بہت بڑا اور عالمی مسئلہ ہے، اس کا سنگین پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر معاملات قانونی تقاضوں پر پورے اترتے ہیں۔" اس بیان کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ اور بھی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ٹیکس فراریوں ...


پاناما پیپرز، ایک دوسرا پہلو وجود - بدھ 06 اپریل 2016

پاناما پیپرز نے دنیا بھر میں پھیلی نام نہاد اشرافیہ کی بدعنوانی کا پردہ چاک کیا ہے اور اگر تاریخ میں خفیہ دستاویزات کا سب سے بڑا اور اہم ذخیرہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جعلی ادارے قائم کرکے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اپنے اثاثے چھپانے کی حرکات کی عالمی سطح پر تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو تو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا، پاکستان میں ابھی دفاع جاری ہے لیکن بڑے اور اہم مغربی ممالک میں کچھ اور ہی کہانی چل رہی ہے۔ 11 ملین دستاویزات کے بڑے ذخیرے میں رشوت ستان...

پاناما پیپرز، ایک دوسرا پہلو

پاناما پیپرز، شریف خاندان کے علاوہ کس کے نام؟ وجود - منگل 05 اپریل 2016

پاناما پیپرز نے دنیا بھر کی اشرافیہ کی مالیاتی سرگرمیوں کی قلعی کھول دی ہے۔ کون کتنا شریف ہے، سب کے سامنے آ چکا ہے۔ پاکستان میں تو صرف شریف خاندان کے ناموں کا ہی ہنگامہ مچا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کئی دیگر پردہ نشینوں کے بھی نام ہیں۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ماورائے ساحل ادارہ (آف شور کمپنی)بنانابڑا جرم ہے؟ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اب تک جو انکشافات ہوئے ہیں اس میں شریف خاندان کے لیے بہت زیادہ پریشان کن بات نہیں ہے۔ شریف خاندان کے علاوہ اب...

پاناما پیپرز، شریف خاندان کے علاوہ کس کے نام؟

نواز خاندان کے بیرون ملک خفیہ اثاثے منظرعام پر، پاناما پیپرز میں انکشاف وجود - پیر 04 اپریل 2016

ہو سکتا ہے آپ نے کبھی 'موساک فون سیکا' کا نام نہ سنا ہو۔ یہ پاناما میں قانونی ماہرین کا ایک ادارہ ہے جو عالمی مالیاتی اداروں اور سیاسی اشرافیہ میں کافی مقبول ہے کیونکہ سیاسی شخصیات کو اپنی دولت کو خفیہ رکھنے اور بڑے مالیاتی اداروں کو اپنے ملکوں میں ٹیکس سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ تفتیشی صحافت کرنے والے صحافیوں کی ایک بین الاقوامی انجمن 'تاریخ کا سب سے بڑا راز' کھول کر اس ادارے کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لائی ہے جس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ توقعات کے عین مطابق وزیر اعظم پاکستان نو...

نواز خاندان کے بیرون ملک خفیہ اثاثے منظرعام پر، پاناما پیپرز میں انکشاف

جہانگیر صدیقی نے قومی معیشت پر ہاتھ کیسے صاف کیے؟ (قسط ۔4) وجود - بدھ 09 مارچ 2016

وجود ڈاٹ کام جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے حوالے سے زیر نظر تحقیقاتی سلسلے میں تمام حقائق کو انتہائی چھان بین اور متعلقہ دستاویزات کے باریک بینی سے جائزے کے بعد پیش کررہا ہے۔ یہ قومی صحافت کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں کہ قومی معیشت پر اتنے بڑے اور مسلسل ڈاکوں کی تفصیلات کواس طرح پیش کیا جائے کہ جس کی تمام تفصیلات ثبوت وشواہد کے ساتھ مہیا کی جاسکے۔ وجود ڈاٹ کام انتہائی اطمینان کے ساتھ یہ اعلان بھی کر رہا ہے کہ وہ ان حقائق سے متعلق تمام دستاویزات کو کسی بھی قانو...

جہانگیر صدیقی نے قومی معیشت پر ہاتھ کیسے صاف کیے؟ (قسط ۔4)

ریلوے کے مقدمات بھی کھل گئے! رائل پام اور بزنس ٹرین اسکینڈلز کی تحقیقات شروع وجود - اتوار 06 مارچ 2016

قومی احتساب بیورو (نیب) میں ریلوے سے متعلق بدعنوانیوں کے متعدد اسکینڈلز دوبارہ کھولے جانے کے امکانات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ضمن میں ریلوے کی سیکریٹری پروین آغا سے حال میں ہی اسلام آباد میں نیب کی ایک ٹیم نے ملاقات کی ہے۔ وزارت ریلوے نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ریلوے کی سیکریٹری پروین آغا نے نیب کے ڈائریکٹر جنرل ظاہر شاہ سے ادارے کے اہم ترین مقدمات کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی تھی جس میں رائل پام گالف کلب اور بزنس ٹرین اسکینڈلز شامل ہیں، جن کی تحقیقات کو ایک طو...

ریلوے کے مقدمات بھی کھل گئے! رائل پام اور بزنس ٹرین اسکینڈلز کی تحقیقات شروع

سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری! وجود - هفته 05 مارچ 2016

پاکستان میں سرکاری اداروں کو بارسوخ افراد کے ہاتھوں استعمال کرنے کا بھیانک رجحان نوازشریف کے دور حکومت میں آخری حدوں کو چھونے لگا ہے۔ نواز حکومت میں ایگزیکٹ اور بول کوجس طرح شکار کیا گیا ہے، اور اُس میں ایف آئی اے سے لے کر قانونی نظام کی جکڑ بندیوں اور ریاستی طاقت کے جن ذرائع کو باربار استعمال کیا گیا ہے ، اُس نے صرف حکومت کو ہی بدنام نہیں کیا بلکہ قومی اداروں کو بھی بے وقار اور ناقابلِ اعتبار سطح پر کھڑا کردیا ہے۔ میر شکیل الرحمان اور سلطان لاکھانی کی خوشنودی کی خاطر ...

سرکاری اداروں کے ذریعے ایگزیکٹ اور بول کو شکار کرنے کا بھیانک کھیل جاری!

جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط) وجود - جمعه 04 مارچ 2016

پاکستان کے اندر جاری مسلسل اقتصادی دہشت گردی کے ایک واقعاتی جائزے میں گزشتہ تحریر میں آٹھ نکات کے ذریعے اُس عمل کا ایک جوہری تذکرہ کیا گیا تھا، اگلے کچھ نکات اس کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ فراڈ، بے ایمانی اور منی لانڈرنگ سے قومی خزانے کو کہاں کہاں سے اور کتنا کتنا نقصان پہنچایا گیا۔ 9۔ اندرونی تجارت اور آزگرد نائن حصص میں امتناعی سرگرمیاں آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری بازار حصص میں سب سے بڑی جعل سازیوں میں سے ایک تھی۔ جس کی تحقیقات ایس ای سی پی نے بینک دولت...

جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے داماد کے قومی خزانے پر ڈاکے (تیسری قسط)

نیب کا جھانسا:ڈاکٹر عاصم کے خلاف 5 ارب کا ریفرنس، جہانگیر صدیقی کے خلاف تحقیقات روک دی گئیں! وجود - جمعرات 25 فروری 2016

نیب ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف آج (25 فروری) 5ء 462 ارب روپے کا ایک ریفرنس دائر کر رہا ہے۔ جس میں ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف منی لانڈرنگ سمیت کل پانچ الزامات عائد کئے گیے ہیں۔ان الزامات میں منی لانڈرنگ، سرکاری اختیارات کاناجائز استعمال، سرکاری اراضی پر غیر قانونی تجاوزات اور فراڈ الاٹمنٹ کے معاملات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریفرنس میں 2013 میں فرٹیلائزر کارٹیل کے ذریعے گیس کی بلیک مارکیٹنگ کا الزام بھی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر نیب کے پاس پہلے سے موجود ان تح...

نیب کا جھانسا:ڈاکٹر عاصم کے خلاف 5 ارب کا ریفرنس، جہانگیر صدیقی کے خلاف تحقیقات روک دی گئیں!

شرجیل میمن نے سرکاری اشتہارات کی مد میں پانچ ارب روپے کا نقصان پہنچایا(نیب) وجود - جمعرات 25 فروری 2016

نیب (قومی احتساب بیورو) نے عدالت عالیہ سندھ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی مد میں سرکاری خزانے کو 5 ارب روپے نقصان پہنچانے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کروایا، جو گرفتاری سے بچنے کے لیے پی پی پی کے خود ساختہ جلاوطن رہنما کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل شرجیل میمن کی جانب سے دو مختلف پٹیشنز دائر کی گئی تھیں، جن میں سے ایک میں ضمانت قبل ...

شرجیل میمن نے سرکاری اشتہارات کی مد میں پانچ ارب روپے کا نقصان پہنچایا(نیب)

جہانگیر صدیقی کا پاکستانی معیشت کو اپاہج کرکے "گاڈ فادر "بننے کا خواب (قسط اول) وجود - جمعه 12 فروری 2016

افواجِ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں عظیم کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں لیکن اب بھی وطنِ عزیز میں موجود اُن گروہوں کی گردنیں دبوچنا باقی ہے جو ملک کی مالیاتی مارکیٹوں کو تباہ کرنے میں ملوث رہے اور عام سرمایہ کاروں اور عوام کو بڑے پیمانے پر ٹھگ رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ عموماً کسی بھی معیشت کی صحت و ترقی کو ظاہر کرتی ہے اور کارپوریٹ گورننس کے عمدہ اقدامات ہی دیگر ممالک میں پاکستان کو ساکھ کو بہتر بناتے ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متوجہ ہوتی ہے۔ مگر جے ایس گروپ...

جہانگیر صدیقی کا پاکستانی معیشت کو اپاہج کرکے

اے کے ڈی سیکورٹیزانتقام کا نشانہ ،ایس ای سی پی کی رپورٹ سے ثابت ہو گیا ۔ ایف آئی اے پریشان! وجود - جمعه 29 جنوری 2016

ایف آئی اے نے بالآخرای او بی آئی کے متعلق سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی رپورٹ انسدادِ دہشت گردی کی وفاقی عدالت میں28 نومبر کو جمع کرادی ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود ایف آئی اے اس میں ممکنہ حد تک ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی، مگر جمعرات کو اُسے مجبوراً یہ رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کرناپڑی ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ای اوبی آئی اسکینڈل سے اے کے ڈی سیکورٹیز کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں تھا۔ رپورٹ سے اس بنیادی حقیقت کے افشا ہونے کے خوف سے ایف آئی...

اے کے ڈی سیکورٹیزانتقام کا نشانہ ،ایس ای سی پی کی رپورٹ سے ثابت ہو گیا ۔ ایف آئی اے پریشان!

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ! باسط علی - بدھ 27 جنوری 2016

ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ شاہد حیات کے لئے ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ کے بعد اب اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مقدمہ انتہائی پریشانی کا باعث بننے والا ہے۔ باخبر ذرائع سے وجود ڈاٹ کام کو معلوم ہوا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف شاہد حیات کی طرف سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی اب خو داُن کے لئے مشکلات میں اضافہ کررہی ہیں۔ جس سے خود ایف آئی اے کے کردار پر کافی سوالیہ نشان اُٹھ گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کو دوران تفتیش ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو طوفان بدتمیزی...

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف تحقیقات میں خود ایف آئی اے کے خلاف تحقیقات کا خطرہ!

این آئی سی ایل مقدمہ: ایف آئی اے نے جہانگیر صدیقی کی کمپنی کو کیسے بچایا؟ باسط علی - پیر 25 جنوری 2016

پاکستان میں سرکاری ادارے طاقت ور لوگوں کی ایک فرماں بردار کنیز بن چکے ہیں۔ ایف آئی اے گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح جہانگیر صدیقی کے احکامات کی بجاآوری میں مصروف نظر آتا ہے اس سے لگتا ہے کہ سرکاری ادارے اپنے قدروقیمت کھو کر اب بجائے خود ایک استحصالی روپ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اس تجزیئے کا ایک ایک حرف مشہور زمانہ ’’این آئی سی ایل‘‘ (نیشنل انشورنش کارپوریشن لمیٹیڈ) اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی کمپنی جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹیڈ کے خلاف ایف آئی اے کے کرائم سرکل کی ایک انت...

این آئی سی ایل مقدمہ: ایف آئی اے نے جہانگیر صدیقی کی کمپنی کو کیسے بچایا؟

میر شکیل الرحمان نے اپنے سمدھی جہانگیر صدیقی کے لئے جنگ اور جیوکی ساکھ داؤ پر لگادی باسط علی - منگل 19 جنوری 2016

جنگ گروپ نے اپنے سمدھی جہانگیر صدیقی کی کاروباری مسابقت کی لڑائی کو خود اوڑھ کر صحافتی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ یہ ادارہ جتنا بڑا ہے ، اس لڑائی میں اُتنا ہی چھوٹا بن کر ظاہر ہو رہا ہے۔ جس کے باعث جنگ اور جیو کی ساکھ مکمل داؤ پر لگ چکی ہے۔ ادارہ جنگ کے متعلق یہ بات بہت پہلے سے مشہور ہے کہ جنگ میں پہلا حملہ سچ پر ہوتا ہے۔ اس ادارے کی الزام تراشیوں کی روش نے اب ایک منظم مہم کی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ اس مہم میں ہر حد کو پار کرنے لگا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جنگ...

میر شکیل الرحمان نے اپنے سمدھی جہانگیر صدیقی کے لئے جنگ اور جیوکی ساکھ داؤ پر لگادی

مہوش اینڈ جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے خلاف نیب میں تحقیقات باسط علی - هفته 16 جنوری 2016

عدالتی حکم پر جے ایس گروپ کی پانچ کمپنیوں کے خلاف نیب میں جاری تحقیقات، میر شکیل الرحمان کے بھاری بھرکم ذرائع ابلاغ کے اثرورسوخ کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ جس میں آزگردنائن حصص کی اندرونی تجارت سمیت بدعنوانی کی نہایت انوکھی قسموں پر تفتیش کی جارہی تھی۔ یہ جے ایس گروپ کے خلاف 'کاریگری' دکھانے کا واحد مقدمہ نہیں ہے۔ اس میں اسپرنٹ انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ کے نام سے سی این جی اسٹیشنوں کے متعدد مقامات کی منتقلی کا ایک اور معاملہ بھی شامل ہے۔ اگر ادارے کے فارم "اے" اور فارم "29" دیکھے جائ...

مہوش اینڈ جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے خلاف نیب میں تحقیقات

ڈی ایچ اے سٹی معاملہ: سابق فوجی سربراہ کے بھائی کامران کیانی بھی ملوث قرار وجود - پیر 11 جنوری 2016

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کے منصوبے ڈی ایچ اے سٹی میں بھیانک بدعنوانیوں کی تحقیقات کا دائرہ پھیلاتے ہوئے ایڈن گروپ کے حماد ارشد کے ساتھ ساتھ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔ جبکہ کامران کیانی کے بیرون ملک ہونے کے باوجود اپنے روایتی اور بھونڈے طریقے سے نہ صرف اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کرلیا ہے بلکہ اُن کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے جارہے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے جیسے شرجیل میمن...

ڈی ایچ اے سٹی معاملہ: سابق فوجی سربراہ کے بھائی کامران کیانی بھی ملوث قرار

عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟ باسط علی - جمعرات 07 جنوری 2016

عقیل کریم ڈھیڈی ملک کی معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ اُن کی کمپنی اے کے ڈی سیکورٹیز، اسٹاک مارکیٹ کے چند بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے نے ۴؍جنوری بروز پیر اے کے ڈی سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر سمیت تین ملازمین کو اچانک دھر لیا۔جسے حسب توقع جنگ گروپ نے اپنی اشاعتوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیاہے۔ ایگزیکٹ کے اسکینڈل کے بعد جنگ گروپ نے جس معاملے میں سب سے زیادہ دلچسپی اب تک دکھائی ہے وہ عقیل کریم ڈھیڈی کے مختلف معاملات سے متعلق ہے۔ مگر اس معاملے کے سیاق وسباق پر دھی...

عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟ باسط علی - پیر 28 دسمبر 2015

سندھ ریونیو بورڈ کی انتظامیہ کی صریح غفلت کی وجہ سے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس نے ایگزیکٹ سے 'سیلز ٹیکس آن سروسز' وصول نہیں کیا۔ مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے، اصل کہانی اس سے کہیں زیادہ پُرپیچ ہے اور یہ ایگزیکٹ سے کہیں زیادہ سندھ ریونیو بورڈ اور ذرائع ابلاغ کے درمیان موجود ایک خاموش ملی بھگت کے بدترین اور مسلسل جاری بدعنوانی کے ایک سلسلے سے جڑی ہے۔ سب سے پہلے تو ایگزیکٹ کے مسئلے کو ہی لیجئے جس کی تفصیلات سے اصل کہانی کو سم...

ایگزیکٹ ایک ارب کا ٹیکس ہڑپ گیا: بول کے مخالف جیو اور ایکسپریس نے اس خبر کو کیوں دبایا؟

بحریہ ٹاؤن مالی بحران کا شکار: صرف لاہور سے پندرہ سو ملازمین فارغ وسیم احمد - هفته 26 دسمبر 2015

نجی شعبے میں پاکستان کا سب سے بڑا ہاؤسنگ ادارہ ہونے کا دعویدار ، بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے لاہور میں اپنے 30فیصد ملازمین کو اچانک فارغ کر دیا ہے ۔اس فیصلے کے پس منظر میں ادارے کابڑھتا ہوا مالی بحران بتایا جا رہا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے اندرونی ذرائع نے وجود ڈاٹ کام کو انکشاف کیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنے لاہور آفس سے کم و بیش 30فیصد ملازمین کو ملازمت سے فراغت نامے تھما دئیے ہیں جن کی تعداد لگ بھگ 1500بنتی ہے۔تفصیلات کے مطابق ان میں زیادہ تر وہ ملازمین شامل ہیں جن کا تعلق چھوٹے ...

بحریہ ٹاؤن مالی بحران کا شکار: صرف لاہور سے پندرہ سو ملازمین فارغ

نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا انس فہمی - پیر 07 دسمبر 2015

نیشنل بینک کی تاریخ رہی ہے کہ اسکے اعلیٰ افسران ہمیشہ نچلی سطح سے ترقی پاتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائزہوتے رہے اور بینک سے پُرانی وابستگی (چند خامیوں کے باوجود )کے باعث ادارے کی ترقی کو چار چاند لگاتے رہے۔ اس طرح نیشنل بینک آف پاکستان ملک کا مضبوط ترین مالیاتی ادارہ بن گیا۔ اس کے اثاثے اتنے مضبوط ہوگئے کہ ایک عرصہ سے لوٹ مار کے باوجود یہ ادارہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔لیکن گاڑی کتنی ہی مضبوط ہو اگر اس کا چلانے والا اناڑی ہو تو اسے تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کسی تخریب کاری ک...

نیشنل بینک میں غیر معیاری بھرتیاں:لوٹ مار کا پُرانا دھندہ شروع ہوگیا

ڈاکٹر عاصم حسین نیب کے حوالے: زمینوں پر قبضےاور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج وجود - بدھ 25 نومبر 2015

نیب نے بآلاخر ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اُن پر مقدمہ زمینوں پر قبضے کے متعین معاملات ، غیر قانونی الاٹمنٹ اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عاصم حسین کو مقدمہ نمبر 231096/15 کے تحت ڈاکٹر عاصم حسین کو باقاعدہ گرفتار کرکے اُن سے اِن الزامات کی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے متعلق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اُن کی رینجرز کی تحویل میں رکھنے کی قانونی مدت ایک روز بعد ختم ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر ...

ڈاکٹر عاصم حسین نیب کے حوالے: زمینوں پر قبضےاور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج

بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے لیے سندھ حکومت کے خزانے کو سوا چار ارب روپے کا چونا لگا دیاگیا باسط علی - منگل 17 نومبر 2015

ملک ریاض اور آصف علی زرداری میں کافی چیزیں مشترک ہیں۔ اس لئے دونوں کی ساجھے داری ہر جگہ خوب نبھ رہی ہے۔ ملک ریاض کے نواب شاہ میں اعلان کئے گئے منصوبے کو اگر سندھ کے لوگ ’’زرداری ٹاؤن ‘‘ کہتے ہیں تو کچھ اتنا غلط بھی نہیں کہتے۔ کیونکہ وجود ڈاٹ کام کے موثق ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں خودپیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرادی پچاس فیصد حصے کے شراکت دار ہیں۔ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے بعد دوسال قبل ایک دوسرا پراجیکٹ نواب شاہ میں اعلان کیا تھا۔ جس کا اب ایک روز قبل ا...

بحریہ ٹاؤن نواب شاہ کے لیے سندھ حکومت کے خزانے کو سوا چار ارب روپے کا چونا لگا دیاگیا

ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات رضوان رضی - جمعرات 12 نومبر 2015

ملک ریاض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک طریقۂ واردات کا نام ہے۔ اُن کے متعلق کوئی شخص بھی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے بے پناہ دولت کے ذخائر جس طرح جمع کئے ہیں ، وہ اگر دیانت داری سے کئے ہوتے تووہ ملک میں ایک مثال بن کر جیتے۔ مگر وہ سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کے ساتھ ایک خاص طریقے سے کاروبار کو برتتے ہیں جس کا اندازا بہت کم لوگوں کو ہیں ۔ وہ اپنے ہر پراجیکٹ کو ایک انوکھے فراڈ سے کامیاب بناتے ہیں ۔ مگر پاکستان میں فراڈ کو جانچنے کے لئے درکار ضروری دیانت داری کا دور دور...

ملک ریاض: ہاؤسنگ اسکیموں کی کامیابی کا طریقۂ واردات

محکمہ صحت کراچی کے 22 کروڑ روپے ہڑپنے کا منصوبہ سراج امجدی - جمعرات 05 نومبر 2015

محکمہ صحت کراچی کے 22کروڑ روپے کا بجٹ ٹھکانے لگانے کے لئے وزیراعلیٰ ہاؤس اور وزارت صحت کی اہم شخصیات کا مبینہ گٹھ جوڑ سامنے آیا ہے ۔ اس غرض سے چیف سیکریٹری سندھ کے اختیارات حکومتی جماعت کی سیاسی شخصیات نے سنبھال لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رواں مالی سال کی اختتامی سہ ماہی میں کراچی کے ٹاؤنز کے صحت کے اداروں کے لئے ادویہ کی خریداری کیلئے 7کروڑ روپے کے علاوہ ایڈیشنل ڈویلپمنٹ فنڈز کی مد میں 14کروڑ روپے کابجٹ رکھا گیا ہے ۔ جبکہ دیگر اشیاء کی خریداری کے لئے ...

محکمہ صحت کراچی کے 22 کروڑ روپے ہڑپنے کا منصوبہ

پیپلز پارٹی کے کچھ اور رہنما نیب کے نرغے میں، زرداری مشتعل وجود - بدھ 21 اکتوبر 2015

نیب نے بدعنوان افراد کے خلاف اپنی تحقیقات کے دائرے کو مزید پھیلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس ضمن میں چیئر مین نیب قمرالزمان کے زیرصدارت 21 اکتوبر بروز بدھ ہونے والے ایک اجلاس میں تحقیقات کی پانچ نئی مسلوں کی منظوری دی ہے۔ جس کے تحت سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق کے خلاف تیرہ ہزار جعلی اساتذہ کو بھرتی کرنے اور قومی خزانے کو تقریباً چار سے چھ ارب روپے کانقصان پہنچانے کے الزام کی تحقیقات کی جائے گی۔اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور کے وزیر ارباب عالمگیر اور اُن کی اہلیہ عاصمہ ارباب کے ...

پیپلز پارٹی کے کچھ اور رہنما نیب کے نرغے میں، زرداری مشتعل

نواز شریف اور عمران خان اربوں کھربوں کے مالک مگر ماننے اور ٹیکس دینے کو تیار نہیں ظفر محمود شیخ - اتوار 18 اکتوبر 2015

پا کستانی سیاست کے دو اہم ترین کردار گذشتہ ڈھائی سال سے آپس میں سینگ لڑاتے ہوئے عوام کے دکھوں کا رونا رو رہے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ صرف وہی عوام کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف ان دونوں نے اربوں روپوں کے اثاثے اور جائیدادیں بنائیں اور اب جرات سے انہیں تسلیم نہیں کرتے کہ کیا کچھ ان کے پاس ہے۔ حالیہ دنوں میں ہر دو قائد ین نے جس تواتر کے ساتھ غریب کے چولہے کا رونا رویا ہے ، اُسے سامنے رکھتے ہوئے کیوں نہ ان کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا کچھ عوام کے ...

نواز شریف اور عمران خان اربوں کھربوں کے مالک مگر ماننے اور ٹیکس دینے کو تیار نہیں

ڈاکٹر عاصم حسین کے طبی جرائم پر طبی حلقوں کی پراسرار خاموشی سراج امجدی - هفته 17 اکتوبر 2015

ڈاکٹر عاصم حسین نے آرتھو پیڈک سرجن کی ڈگری 1985ء میں آسٹریا سے حاصل کی ۔ اسی ڈگری کی بنیاد پر وہ محکمہ صحت سندھ کے زیر انتظام سول اسپتال کراچی میں 1986ء سے 1996ء تک بطور آرتھو پیڈک سرجن حکومت سندھ میں ملازمت بھی کرچکے ہیں اور اسی دوران وہ اپنے ذاتی دوست آصف علی زرداری کی اسیری کے دوران پس پردہ رہ کر فرضی بیماریوں کے ذریعے انہیں اپنے ذاتی ضیاء الدین ہسپتال کلفٹن میں سہولیات بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ پروفسیر مسعود حمید کی اہلیہ نے اُسی تلاش کمیٹی کی اہلیت کے خلاف مقدمہ دائر کر...

ڈاکٹر عاصم حسین کے طبی جرائم پر طبی حلقوں کی پراسرار خاموشی

نیشنل بینک کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے ڈکار لیے گئے! کوئی احتساب نہیں ہوا وجود - جمعه 16 اکتوبر 2015

نیشنل بینک میں قومی سرمائے کو کس طرح مال مفت دل بے رحم کی طرح لُٹایا جاتا ہے اس کی ایک مثال معاف کیے گیے قرضے ہیں جو مختلف وجوہ کی بنا پر بدعنوانیوں کے ایک گورکھ دھندے کی نذ کر دیے جاتے ہیں۔ ذیل میں اُن ایک سو تیس (130) افراد کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے جسے خود نیشنل بینک نے نہ صرف اپنی بیلنس شیٹ میں ظاہر کیا بلکہ اسے سینیٹ میں بھی پیش کیا گیا۔ فہرست میں شامل ناموں کا فرداً فرداً مطالعہ کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کس بے رحمی سے اس ملک کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کو...

نیشنل بینک کے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت سے اربوں روپے ڈکار لیے گئے! کوئی احتساب نہیں ہوا

ادویہ کی تھوک فروش مارکیٹ کے صدر پر قاتلانہ حملہ باسط علی - جمعرات 15 اکتوبر 2015

پاکستان کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کراچی کے صدر غلام ہاشم نورانی پر 14 اکتوبر بدھ کی شب ادویہ کے اسمگلروں اور کھیپیوں کی جانب سے قاتلانہ حملے نے پوری مارکیٹ میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ہول مارکیٹ کے صدر غلام ہاشم نورانی کچی گلی ، میریٹ ہوٹل مکہ میڈیسن میں واقع اپنے دفتر کی بالائی منزل سے اُتر کر اپنے شراکت دار منیر کے ہمراہ پارکنگ کی جانب بڑھے تو اُن پر پیچھے سے آنے والے آٹھ دس ملزمان نے تیز دھار آلے سے حملہ کر دیا۔ جس سے اُن کی گردن اور بازو پر گہرے زخم آ...

ادویہ کی تھوک فروش مارکیٹ کے صدر پر قاتلانہ حملہ

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کا تنازع نئے موڑ پر سراج امجدی - منگل 13 اکتوبر 2015

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے انتظامی سربراہ کی تقرری کا تنازع ایک بار پھر عدالت عالیہ سندھ جاپہنچا ہے۔ جہاں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور پروفیسر محمد سعید قریشی کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی آج 13 اکتوبر بروز منگل سماعت ہورہی ہے۔ فاضل عدالت اس سے قبل ہی ڈاؤ یونیورسٹی کے متنازع وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نوشاد احمد شیخ کی تقرری کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔باخبر طبی حلقوں کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین منصب پر تنازع کے پس پردہ متعدد اسباب میں سے سب سے بڑا سبب ڈاکٹ...

ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کا تنازع نئے موڑ پر

نیشنل بینک معاشی دہشت گردی کا شکار انس فہمی - منگل 06 اکتوبر 2015

نیشنل بینک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بدعنوان ترین افسر ہی سب سے معتبر مقام کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اربوں روپے ڈکارنے والے افسروں کو سزادینے کے بجائے اُلٹی ترقیوں سے نوازا گیا۔ جو نادہندہ تھے انہیں دوبارہ قرضے جاری کردیے گیے۔ اکثرلوٹے ہوئے مال کی جگالی کے لئے بیرونِ ملک سکونت اختیار کرگیے۔ بعدازں ہضم کرکے دوبارہ نیشنل بینک کو لوٹنے آگیے۔علی رضا کی بدعنوانیوں کے پرانے شراکت دار ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ مسعود کریم اسکی زندہ مثال ہے۔جو بینک کو لوٹ کر گیے اور دوبارہ بینک جوائن کرلیااور ...

نیشنل بینک معاشی دہشت گردی کا شکار

نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے وجود - جمعه 02 اکتوبر 2015

نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ اُنہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں۔اپنی ذات اور حکومت کے سب سے بڑے دشمن وہ خود ہوتے ہیں۔ اچھے کام بھی کرتے ہیں مگر اتنے کم کہ اُن کے بُرے کاموں پر غالب نہیں آسکتے۔ اپنے موجودہ پانچویں اقتدار کا نصف گزارنے کے بعد اپنے آپ کو تاحال ’’مسٹر کلین ‘‘ کے طور پر منوا نہیں سکے ۔ یکے بعد دیگے ایک دو نہیں، درجنوں ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں ،جن میں ان کی عوام دوستی کے دعوؤں کے برخلاف لوٹ مار اور بدعنوانیاں واضح نظر آرہی ہیں۔ اس میں سرفہرست نندی پور تھرمل پاؤر پراجیکٹ...

نندی پور پراجیکٹ: حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے

دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا انس فہمی - بدھ 30 ستمبر 2015

سید علی رضا کاشمار اُن بینکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بینکنگ کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دیئے ۔ نیشنل بینک میں کئی صدور آئے اور اپنا مقام پیدا کیا۔مگر جو کام سید علی رضا نے کیا، وہ سب سے مختلف تھا۔سید علی رضا کی تعیناتی کسی معیار (criteria)کے تحت نہیں ہوئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انہیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہان متعین لایا گیا۔ جس کے پیچھے پاکستان کا مفاد نہیں بلکہ عالمی بینک کی معرفت ان قوتوں کا مفاد تھا جو ملک کے واحد مالیاتی ادارے کے تجارتی و کاروباری چیلینجز( Busi...

دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا

اہم تعلیمی ادارے کے پرو-ریکٹر پر سرقے کا الزام وجود - بدھ 16 ستمبر 2015

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اہم تعلیمی ادارے کام سیٹس انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پرو-ریکٹر اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے چیف ایگزیکٹو کا پی ایچ ڈی مقالہ 70 فیصد سے زیادہ سرقہ شدہ پایا گیا ہے۔ ان اہم عہدوں پر فائز ڈاکٹر ہارون رشید نے 2006ء میں اپنا پی ایچ ڈی مقالہ پریسٹن یونیورسٹی میں جمع کرایا تھا لیکن اطلاعات ہیں کہ یہ مقالہ 72 فیصد سے زیادہ نقل شدہ ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس ضمن میں گزشتہ ماہ شکایت وصول کی تھی اور اب اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔ ایچ ای سی ک...

اہم تعلیمی ادارے کے پرو-ریکٹر پر سرقے کا الزام

نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ انس فہمی - پیر 14 ستمبر 2015

نیشنل بینک کی تباہی کا پس منظر سمجھنے سے قبل ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت کس طرح مرحلہ وار اس قومی ادارے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے؟ واقعہ کچھ یوں ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا کہ ان کے ملک کی ایک بہت بڑی کمپنی جو امریکہ کے لئے کاروباری چیلنج بن چکی تھی کا ڈائریکٹر امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا ہے۔ چنانچہ وہ حرکت میں آگئے اور ایک منصوبہ کے تحت اس کمپنی میں اپنے کئی افراد بطور ملازم داخل کردئیے۔جنہوں نے اس ڈائریکٹر...

نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ

نیشنل بینک میں مالیاتی دہشت گردی کی بڑی وارداتیں انس فہمی - هفته 05 ستمبر 2015

نیشنل بینک آف پاکستان کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اِسے ایک ایسی چراہ گاہ بنادیاگیا جہاں گزشتہ بیس برسوں سے مشیر وں کے نام پر وہ لنگڑے گھوڑے اسے چرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں، جنہیں ادارے کو تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ یہاں وہ دسترخوان ہے جس پرموجود انواع و اقسام کی لو ٹ مار کی مغلیائی ڈشیں سجی ہیں جنہیں حکومتی بادشاہ اور انکے درباری مسلسل ڈکار رہے ہیں۔ذرائع ابلاغ لوٹ مار کے حیرت انگیز انکشافات کرتے رہے مگر ان میں بھی کچھ ڈٹے رہے اور کچھ بکتے رہے۔ تحقی...

نیشنل بینک میں مالیاتی دہشت گردی کی بڑی وارداتیں