وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود - منگل    01    جنوری    2019

امریکی میگزین فوربز نے2018میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری کی جس کے مطابق امریکی باکسرفلائیڈ مے ویدر سب پر بازی لے گئے ہیں جبکہ ایک سو افراد کی اس فہرست میں اکشے کمار اورسلمان خان سمیت جارج کلونی ، کیلی جینر،جے کے رولنگ،برونو مارس، ایڈشیرن ، میسی ، کرسٹیانورونالڈو،ڈریک ، ڈیوین جانسن اور راجر فیڈرر بھی شامل ہیں۔41سالہ سابق امریکی باکسر مے ویدر 285ملین ڈالر کما کر اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ معروف اداکار جارج کلونی 239ملین ڈالر کما کر دوسرے نمبر پر رہے۔ ...

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود - بدھ    26    دسمبر    2018

سال 2018میں پاکستان سمیت سیاست ٗ شوبز ٗ اسپورٹس ٗ قانون دان سمیت کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں جن میں عاصمہ جہانگیر ٗ ادا کار قاضی واجد ٗ اداکارہ سری دیوی ٗاقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان اور سابق بھارتی وزیر اٹل بہاری واجپائی بھی شامل ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو 66 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں ۔...

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود - پیر    14    مئی    2018

لیڈرشپ کی تھیوریاں ہمیں بتاتی ہیں جو لیڈر بنے، وہ پیدا ہی قیادت کرنے کے لیے ہوئے تھے اور جب موقع آیا تو لیڈر بن گئے۔ صدیوں سے یہی عقیدہ چلا آرہا تھا کہ کچھ لوگوں میں لیڈرشپ کی خداداد صلاحیتیں ہوتی ہیں اور لہٰذا وہ ایسے انداز اور ایسے مناصب پر قیادت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں جو کہ عام آدمی کے بس سے باہر ہیں۔ تقریباً ہر معاشرے میں قیادت دیوتائوں کے اوتار سے لے کر سرداروں تک کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ آج بھی، ’’پیدائشی قائد‘‘ کا تصور قبولِ عام کی سند رکھتا ہے، خصوصاً اس ...

ماضی کی رہنما خواتین

جرأت مندشاعرہ غزلؔ جعفری سے کرن صدیقی کا مکالمہ وجود - اتوار    06    مئی    2018

لوح و قلم کی اپنی تہذیب ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ملک کے نامور شعرا اور شاعرات نے ہر دور میں قلم سے جہاد کیا، انقلابی نظمیں ،طرحی مشاعرے ہمارے ادب کا خاصہ رہے ۔ گزشتہ 30 برسوں سے ہمارے نئے لکھنے والوںنے اپنے مخصوص انداز کے باعث لوگوں میں شہرت پائی جن میں شعراا ور شاعرات کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن ہماری آج جس شاعرہ پر نظر گئی وہ اپنے لب و لہجے میں بے انتہا کشش رکھتی ہیں، ان کے لکھنے کا انداز منفرد ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ غزل جعفری شاعرِ پاکستان کیف بنارسی کی...

جرأت مندشاعرہ غزلؔ جعفری سے کرن صدیقی کا مکالمہ

طلعت حسین…وقارِ فن وجود - اتوار    29    اپریل    2018

بلا شبہ کہانی لکھنا اپنی جگہ ایک فن ہے لیکن اس کے مرکزی خیال کو عملی جامہ پہنانے میں اس کے منفی و مثبت اثرات مرتب کرنے اور عوام الناس تک پہنچانے کی تمام تر ذمے داری اس فن کار کی ہے کہ وہ کردار کو کس طور نبھا کر، اس میں ڈوب کر کہانی کو یادگار اور خود کو امر کرسکتا ہے۔ کردار جو بھی ہو ،اس کے مطابق اداکاری کرنا، نقل اُتارنے کے زمرے میں آتا ہے لیکن فن کار نقال نہیں ہوتا۔ فن کی معراج کی سرحدوں کو چھونے کے لیے ضروری ہے کہ فن کار وہ روپ دھانے سے پہلے اس ماحول میں خود غرق ہوجائے، اس ...

طلعت حسین…وقارِ فن

فسانہ طراز حقیقت نگار: حکیم عبدالرؤف کیانی وجود - اتوار    22    اپریل    2018

وطن سے دوری نے رشتوں، محبتوں اور کتابوں سے بھی دور کرڈالا ہے۔اچھی کتاب نصیب ہونے پر خوش گوار احساس سے زیادہ کسی تہوار کا احساس ہوتا ہے۔حکیم عبدالرؤف کیانی کے افسانوی مجموعے نصیب ہوئے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ افسانے قرأت کرنے پر قلبی سرشاری کا احساس ہوا۔مَیں نے سطر سطر مطالعاتی حظ لیا اور جملوں کی تَہ داریوں میں پنہاں معنوی فکر کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ میری بدقسمتی کہیے کہ مَیں اب تک حکیم عبدالرؤف کے افسانے پڑھنے سے محروم رہا۔مَیں ان کے افسانوں میں جیتی جاگتی دُنیا دیکھتا ہ...

فسانہ طراز حقیقت نگار: حکیم عبدالرؤف کیانی

پاکستان کے نمائندہ شاعر سعیدؔالظفرصدیقی وجود - اتوار    08    اپریل    2018

سعیدؔالظفرصدیقی کے فن پر اُردو دنیا کے جید ناقدین، مشاہیرِ ادب، اہلِ علم و ہنر اور صاحبِ اُسلوب شعرا نے اپنی اپنی مثبت آرا کا اظہار فرمایا ہے اور اُن کے فنِ شاعری کی گواہی دی ہے کہ وہ عہدِ موجود کے معتبر ،صاحبِ اُسلوب اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ اُن کے فنِ شاعری کا لوہا ماننے والوں میں ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر اجملؔ نیازی، ڈاکٹر کامران، محسن اعظم محسنؔ ملیح آبادی، پروفیسرجاذبؔ قریشی،پروفیسر سحرؔ انصاری، خالدؔ شریف، رفیع الدین رازؔ، ڈاکٹر اخترؔ ہاشمی، پروفیسر یونس حسن، یوسفؔ فضل، ڈ...

پاکستان کے نمائندہ شاعر سعیدؔالظفرصدیقی

بھٹو تاریخ ایک صدی کی ہے وجود - بدھ    04    اپریل    2018

کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے "جب یہ نعرہ سندھ سے پختون خوا ہ تک گونجتا ہے تو اکیسویں صدی کے آغاز میںپیدا ہونے والی یہ نسل سوال کر تی ہے کہ کہ بھٹو کیوں زندہ ہے ؟انہیں بتائیے کہ ہماری تاریخ کا یہ عظیم کردار لازوال کیوں ہے ، بھٹو کیوں زندہ ہے ؟ بات چند سالوں کی نہیں تاریخ ایک صدی کی ہے ۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو 5جنوری 1928؁ء کو لاڑکانہ میںاپنی آبائی رہائش گاہ میں پیدا ہوئے ۔ سندھی روایت کے مطابق مقامی مسجد میں جاکر تلاوت کلام پاک کے بعد اُن کے والد نے اعلان کیا ک...

بھٹو تاریخ ایک صدی کی ہے

نزہت عباسی وجود - اتوار    01    اپریل    2018

’’شاعری ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔ یہ اَدب کا مقصد بھی ہے اور حتمی انجام بھی۔ یہ انسانی ذہن کی اعلی و ارفع سوچ کی مظہر ہے۔ یہ حسن اور لطافت کے حصول کا نام ہے۔ نثر نگار اس مقام سے دامن بچاتا ہے جہاں سے شاعر بآسانی گزر جاتا ہے۔‘‘ شاعری کی اہمیت اور نثر پر اس کی فوقیت کا سکّہ بٹھانے والے یہ زوردار الفاظ نامور انگریز ادیب سمر سٹ ماہم (Sommerset Maugham)کے ہیں۔ مَیں خود بھی اسی ’’مسلک ‘‘کا پیرو کار ہوں۔ مَیں اُن لوگوں سے اتّفاق نہیں کرتا جو کہتے ہیں کہ شاعری تو چلتے پھرتے بھی ہو ج...

نزہت عباسی

ڈائریکٹرجنرل کے ڈی اے سمیع صدیقی سے ملاقات وجود - جمعرات    29    مارچ    2018

15برس قبل کراچی کی شہری حکومت اور بعد ازاں کے ایم سی کے ساتھ الحاق کے بعد اربوں روپے کی اراضی کی بندر بانٹ اور بد ترین مالی بے قاعدگیوں اور سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں اور بے ہنگم غیر قانونی بھرتیوں اور جعلی ترقیوں کے باعث مکمل طور پر قلاش اور تباہ ہو جانے والا اہم شہری ادارہ ( KDA )ادارہ ترقیات کراچی میں ایک مرتبہ پھرزندگی کے آثار رونماء ہونے لگے ہیں۔ کے ڈی اے اپنے انتہائی با صلاحیت سربراہ کی کاوشوں اور حکومت سندھ کے بھرپور تعاون اور کراچی کی تعمیر و ترقی میں معاونت کے باعث ...

ڈائریکٹرجنرل کے ڈی اے سمیع صدیقی سے ملاقات

نواب سراج الدولہ وجود - بدھ    28    مارچ    2018

نواب سراج الدولہ بنگال کے آخری آزاد’’ نواب آف بنگال‘‘ تھے۔ ان کا دور ختم ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت شروع ہو گئی۔ بنگال کے بعد قریباً پورا جنوبی ایشیا ایسٹ انڈیا کمپنی کے تسلط میں آ گیا۔ سراج الدولہ اپریل 1756 میں اپنے نانا کی وفات کے بعد نواب آف بنگال بنے۔ اس وقت ان کی عمر 23 برس تھی۔ سراج الدولہ 1733ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام زین الدین احمد خان اور والدہ کا نام امینہ تھا۔ جس دن سراج الدولہ پیدا ہوئے اسی دن ہی ان کے نانا کو بہار کا ڈپٹی گورنر بنا دیا گیا۔ س...

نواب سراج الدولہ

قاضی واجدمداحوں کواداس چھوڑگئے وجود - بدھ    14    فروری    2018

چھبیس مئی 1930 کو لاہور میں پیدا ہونے والے قاضی واجد پاکستانی شوبز سے پانچ دہائیوں سے جڑے ہوئے تھے انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز 1956 میں ریڈیو سے کیا اور پی ٹی وی کے آغاز کے ساتھ ہی اس کا حصہ بنے اور متعدد سدابہار ڈراموں کے ذریعے خود کو منوایا۔ان کے کریڈٹ میں خدا کی بستی، حوا کی بیٹی، باادب باملاحظہ ہوشیار، دھوپ کنارے، مرزا غالب بندر روڈ پر، تنہائیاں، پل دو پل، کرن کہانی، ننگے پائوں، شمع، سوتیلی، کسک، ہوائیں، مہندی، شہزوری، خالہ خیرن اور دوراہا جیسے سپر ہٹ و کلاسیک ڈرامے ہیں...

قاضی واجدمداحوں کواداس چھوڑگئے

علامہ اقبالؒ اور فرقہ واریت وجود - جمعرات    09    نومبر    2017

کون نہیں جانتا علامہ اقبالؒ کو مشہور انقلابی شاعر جس نے اپنے کلام میں ہر موضوع کو اس انداز میں بیان کیا گویا سمندر کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نہ صرف اردو ادب کے ماہر فن تھے بلکہ ان کو مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر مسلمانوں میں کوئی دو رائے نہیں تو کیوں نہ آج علامہ صاحب کے کلام میں سے اس شعر کو پڑھ کر کچھ غوروفکر کیا جائے جس میں انہوں نے جنت اور ملا کو موضوع بنایا ہے۔ کلیات اقبال کے ایک حصہ بال جبریل کے صفحہ 79پر یہ اشعار د...

علامہ اقبالؒ اور فرقہ واریت

مفکرِ پاکستان ‘علامہ ا قبال علیہ الرحمہ کا سوانحی خاکہ وجود - جمعرات    09    نومبر    2017

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ آپ ایک عظیم لیڈر تھے۔ پاکستان کی سیاسی، ادبی اور ثقافتی زندگی میں آپ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی آپ کی بنیادی وجہِ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ آپ اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرنے میں کوشاں رہے۔ آپ کے اشعار اور نظموں کو بے پناہ مقب...

مفکرِ پاکستان ‘علامہ ا قبال علیہ الرحمہ کا سوانحی خاکہ

دنیا بھر میں خواتین کاکردار بڑھ رہاہے صبا حیات - پیر    23    اکتوبر    2017

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، دنیا بھر میں 15 خواتین بر سرِ اقتدار ہیں جن میں سے 8 اپنے ملک کی پہلی خاتون رہنما ہیں۔جن میں برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے اور جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اپنی سیاست اور سفارتکاری کے اعتبار سے اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد اور میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی اپنی سفاکی ، بے رحمی اور اسلام دشمنی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں،پوری دنیا میں صرف خواتین بر سرِ اقتدار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خواتین رہنما اقوام متحدہ کی 193 رکن ریاستوں میں سے 10 ...

دنیا بھر میں خواتین کاکردار بڑھ رہاہے

سیاسی جماعتوں کے خواتین سے اپنائے جانے والے رویے ماضی ‘ حال اور مستقبل کا جائزہ وجود - منگل    08    اگست    2017

انسانی تاریخ میں ہمیشہ عورت عتاب کاشکار رہی ہے اور جب کائنات تخلیق ہوئی تو پہلا قتل بھی ایک عورت کی وجہ سے ہوا عورت اس کائنات کی خوبصورت تخلیق ہے۔ عورت کی وجہ سے ہی یہ دنیا حسین اور پرکشش ہے اگر عورت کا وجود نہ ہو تو شاید کائنات کا وجود ہی ختم ہوجائے پیارے پاکستان کے قیام کے وقت محمد علی جناح کے ساتھ بھی خواتین کھڑی ہوگئیں ۔فاطمہ جناح اور رعنا لیاقت ایسی حوصلہ مند خواتین تھیں جو آنے والی خواتین کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتی تھیں قائداعظم اور خانزادہ لیاقت علی خان نے دونوں خوا...

سیاسی جماعتوں کے خواتین سے اپنائے جانے والے رویے ماضی ‘ حال اور مستقبل کا جائزہ

مولانا نورانی ممتاز عالم دین،نابغہ روزگار سیاستدان وجود - اتوار    09    جولائی    2017

ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما،ممتازعالم دین،نابغۂ روزگارسیاستدان، قائد ملت اسلامیہ، قائد اہلسنّت امام شاہ احمدنورانی صدیقیؒ18رمضان 1344بمطابق یکم اپریل 1926ء کوہندوستان کے شہرمیرٹھ کے ایک دینی ،علمی اور ادبی گھرانے میں پیداہوئے جوہندوستان میں مذہب کے ساتھ ساتھ علم وادب میں بھی نمایاں مقام رکھتاتھا،یہی وجہ تھی کہ اس گھرانے کوپورے میرٹھ میں نہایت عزت واحترام کی نظرسے دیکھاجاتاتھا۔علامہ شاہ احمدنورانی ؒ کے والدگرامی حضرت مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی ؒ اپنے عہد کے ممتاز عالم دین...

مولانا نورانی ممتاز عالم دین،نابغہ روزگار سیاستدان

سندھی زبا ن کے عظیم شاعر ۔۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی(شخصیت،فکر اور فلسفہ) وجود - پیر    05    جون    2017

شاہ عبداللطیف بھٹائی1690ءمیں قصبہ ہالا ضلع حیدر آباد ،سندھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد سید حبیب علاقے کے پارسا اور با کردار انسان تھے ۔انہوں نے ہالا سے گاؤں کوٹری کی طرف ہجرت کی ۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کوٹری کے ایک مدرسے آخوند نور محمد میں تعلیم کا آغاز کیا ۔یہاں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ شاہ صاحب نے الف کے بعد ب پڑھنے سے انکار کر دیا ۔مگر ریسرچراس روایت کو معتبر نہیں مانتے ۔کیونکہ شاہ صاحب سندھی زبان کے علاوہ عربی ،فارسی اور ہندی پر بھی عبور رکھتے تھے ۔ سفر زیست میںش...

سندھی زبا ن کے عظیم شاعر ۔۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی(شخصیت،فکر اور فلسفہ)

تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر شہریوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی وجود - جمعه    19    مئی    2017

[caption id="attachment_44577" align="aligncenter" width="784"] متحدہ لندن قائد کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کا راگ الاپا جا رہا ہے، ریڈ وارنٹ خواہش اور فرمائش پر جاری نہیں ہوتا ،حکومت اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قائم ہونے والے شہری امن کو بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائے بغیردوام نہیں بخشا جاسکتا،کراچی کے شہری مسائل میں گھرے ہوئے ہیں‘ ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے کہ اگر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا خیال نہ رکھا گیا تو انڈے کا سائز چ...

تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر شہریوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی

شیر میسور ٹیپو سلطان کی جنگی سپاہ وجود - جمعرات    04    مئی    2017

[caption id="attachment_44393" align="aligncenter" width="784"] ٹیپو سلطان کی فوج کا سب سے خطرناک ہتھیار "تغرق” المعروف میسوری راکٹ تھا،بری افواج کے علاوہ مؤثر بحریہ فوج بھی اس کی قوت تھی‘حیدر علی اور ٹیپو کوتوپوں کے معاملے میں انگریزوں پر فوقیت حاصل تھی، ٹیپو سلطان سے غداری نہ کی گئی ہوتی تواس کی فوج کو شکست دینا مشکل تھا‘[/caption] ٹیپو سلطان(10نومبر 1750۔4 مئی 1799ء) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ ...

شیر میسور ٹیپو سلطان کی جنگی سپاہ

سابق فوجی صدر ’’مفرور‘‘ پرویز مشرف ٹی وی تجزیہ کار بن گئے وجود - جمعرات    02    مارچ    2017

پاکستان کے سابق فوجی صدر( ر) جنرل پرویز مشرف نے پاکستانیوں کو اپنے بلند پایہ افکارِ عالیہ سے مستفید کرنا شروع کردیا ہے اور وہ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے تجزیہ کار بن گئے ہیں۔ نجی چینل نے اتوار کی شب ان کا ہفتہ وار ٹی وی پروگرام نشر کرنا شروع کیا ہے جس کا نام ’’ سب سے پہلے پاکستان پرویز مشرف کے ساتھ‘‘ ہے۔اس میں وہ پاکستان سے ایک ٹی وی اینکر کے سوالوں کے دبئی سے جواب دیتے ہیں جہاں وہ ملک سے علاج کے نام پر فرار ہوکر خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے میڈ...

سابق فوجی صدر ’’مفرور‘‘ پرویز مشرف ٹی وی تجزیہ کار بن گئے

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر وجود - جمعرات    24    نومبر    2016

تحریر : شازیہ فاطمہ پروین شاکر اردو ادب کی انتہائی معروف اور معتبر شاعرہ تھیں وہ 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں جبکہ 26 دسمبر 1994 ء میں راہی ٔملک ِعدم ہوئیں۔ پروین شاکر کا گھرانہ چونکہ خوشحال تھا لہٰذا اسے مفلسی اور بے زری اور محرومی کے دور سے نہیں گزرنا پڑا لیکن اس کا وژن اس قدر وسیع تھا ،اس میں ادراک کی اس قدر قوت تھی کہ اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں موجود لڑکیوں اور خواتین کے ہر طرح کے جذبات و احساسات کو پوری طرح سے محسوس کرلیا تھا ۔اسی لیے جب یہ نازک اندام شا...

خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

گفتار میں کردار میں اللہ کی بُرہان وجود - بدھ    09    نومبر    2016

یہ آج سے تقریباً دو سو ٗ سوا دو سو سال قبل انیسویں صدی کے اواخر یا بیسویں صدی کے اوائل کی بات ہے کہ کشمیری برہمنوں کے ایک خاندان نے اسلام قبول کر لیا تھا جس کی وجہ سے اسی وقت سے اس خاندان میں تقویٰ و طہارت اور خشیت و للہیت کا رنگ غالب ہوگیا تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد کشمیری بر ہمنوں کایہ نومسلم خاندان کشمیر سے ہجرت کرکے غیر منقسم (برطانوی) ہندوستان کے مشہور صوبہ ٗ صوبہ پنجاب کے مشہور شہر سیالکوٹ میں آکر آباد ہوگیاتھا۔ اس نو مسلم خاندان میں ایک شخص شیخ نور محمدنامی بھی تھے جو ...

گفتار میں کردار میں اللہ کی بُرہان

دیدہ ور وجود - بدھ    09    نومبر    2016

تحریر:ڈاکٹر نبی بخش بلوچ ان کی آنکھ بینا تھی‘ ذہن بیدار تھا اور فکر عالمگیر تھی۔ علامہ اقبال اپنے وسیع مطالعے‘ فکری تجربے اور ذہنی مشاہدے سے صحیح معنوں میں ’دیدہ ور‘ کی منزل پر پہنچ چکے تھے۔ وہ اس حقیقت سے آشنا تھے کہ اس مختصر کُروی زندگی کی آموزش گاہ میں فیضیاب ہوکر’دیدہ ور‘ کی منزل تک پہنچنا کوئی آسان بات نہیں۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا تاہم وہ اپنی ہمہ گیر دانش اور قلبی بصیرت سے ’دیدہ ور‘ بن کر اس زیست کے راز کے راز دان بن چکے تھے‘ اور ان کو اس کا بھی ش...

دیدہ ور

آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے! شیخ امین - منگل    16    فروری    2016

انجم زمرودہ حبیب اسلام آباد (اننت ناگ) سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون ہیں جنہوں نے 80ء کی دہائی میں ہی وومینز ایسوسی ایشن بنائی تھی، جہاں سے وہ خواتین کے مختلف سماجی مسائل کو حل کرنے میں ایک کردار ادا کررہی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ زمردہ جی، حنفیہ کالج اسلام آباد میں اس وقت ایک معلمہ کی حیثیت سے کام کررہی تھیں، جب کشمیری مردو زن سڑکوں پر نکل آئے اور پوری قوت سے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ کشمیری جوانوں نے بھارتی ہٹ دھرمی توڑنے کے لیے بندوق اٹھانے کا فی...

آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

معروف مصنفہ اورڈراما نگار فاطمہ ثریا بجیا انتقال کر گئیں! وجود - بدھ    10    فروری    2016

معروف مصنفہ ، ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آج (10فروری کو)انتقال کر گئیں۔ وہ یکم ستمبر 1930ءکو بھارتی شہر حیدرآباد کے ضلع کرناٹک میں پیدا ہوئی تھیں اور قیام پاکستان کے بعد پورے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔ فاطمہ ثریا بجیا ادبی دنیا کے سرگرم معروف خاندان کا حصہ تھیں جو کل دس بہن بھائیوں پر مشتمل تھا ، وہ احمد مقصود اور انور مقصود کی بہن تھیں جبکہ زہرہ نگار، سارہ نقوی اور زبیدہ طارق اُن کی بہنیں ہیں۔ فاطمہ ثریا بجیا نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ مگر اُنہوں نے ادبی دن...

معروف مصنفہ اورڈراما نگار فاطمہ ثریا بجیا انتقال کر گئیں!

"سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا" ندا فاضلی انتقال کرگئے نجم انوار - منگل    09    فروری    2016

معروف بھارتی شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا 8 فروری کو بھارتی شہر ممبئی میں انتقال ہو گیا۔اُن کا اصل نام مقتدا حسن تھا۔ وہ 12 اکتوبر 1938 ء کو گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔مگر دہلی منتقل ہوگیے اور تعلیم بھی وہیں پائی۔ ندا فاضلی کے والد بھی ایک شاعر تھے ۔ وہ 1960 ء کے فسادات میں قتل کردیئے گیے تھے۔ اُن کا پورا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا تھا، مگر ندا فاضلی بھارت میں ہی رہے۔ وہ مرزا غالب اور میرتقی میر دونوں سے متاثر تھے۔ ندا فاضلی کو بھارتی حکومت کی جانب سے پدم شری ، ساہتیہ اکیڈ...


انتظار حسین: 'آخری آدمی' وجود - بدھ    03    فروری    2016

بالآخر انتظار حسین بھی چلے گئے اور اردو ادب کا دامن مزید سکڑ گیا۔ وہ چراغ جو 7 دسمبر 1923ء کو بلند شہر میں روشن ہوا تھا، اپنی پوری آب و تاب پر آنے کے بعد فروری 2016ء میں لاہور میں بجھ گیا۔ بوقت انتقال انتظار حسین کی عمر 92 سال تھی۔ انتظار حسین قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے، اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد صحافت سے وابستہ ہوئے۔ ان کی طویل ترین وابستگی روزنامہ "مشرق" کے ساتھ رہی جہاں وہ لاہور نامہ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "گلی کوچے" کے نام سے 1951ء میں...

انتظار حسین: 'آخری آدمی'

پٹھان کوٹ ہماری کارروائیوں کا تسلسل ہے، اس کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں، سید صلاح الدین کا خصوصی انٹرویو وجود - منگل    19    جنوری    2016

محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین 1990ء سے جموں کشمیر کی سب بڑی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور ریاست جموں و کشمیر کے ممتاز مزاحمتی رہنما ہیں۔ حزب المجاہدین کی قیادت سنبھالنے سے پہلے وہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے رہنما تھے۔ وہ ضلع بڑگام اور ضلع سری نگر کے امیر ضلع اور شعبہ طلبہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سربراہ رہے ہیں۔ 1987ء میں جمو ں و کشمیر مسلم متحدہ محاذ کی ٹکٹ پر امیرا کدل سری نگر سے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور کامیاب ہونے کے باوجود نہ صرف ان کی شکست کا...

پٹھان کوٹ ہماری کارروائیوں کا تسلسل ہے، اس کا مذاکراتی عمل سے کوئی تعلق نہیں، سید صلاح الدین  کا خصوصی انٹرویو

بھارت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، شبیر شاہ شیخ امین - اتوار    17    جنوری    2016

جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (جے کے ڈی ایف پی) کے سربراہ شبیر احمد شاہ تحریک آزادی جموں و کشمیر کے ممتاز رہنما ہیں۔ 14جون 1954ء کو کا ڑی پورہ اسلام آباد مقبوضہ کشمیر میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1968ء میں جب ان کی عمر صرف 14سال تھی، تحریک آزادی کشمیر کے حق میں ایک مظاہرے کی قیادت کرنے کے جرم میں گرفتار کئے گئے اور 3مہینے پندرہ دن تک سری نگر سینٹرل جیل میں قید رہے۔ قید وبند کا سلسلہ تب سے جاری رہا اور اب تک کی 62سالہ زندگی کے 29سال انہوں نے جموں و کشمیر اور بھارت ...

بھارت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، شبیر شاہ

ریاست جموں کشمیر کی آزادی جہاد فی سبیل اللہ ہی سے ممکن ہے! شیخ امین - پیر    04    جنوری    2016

سیف اللہ خالد حزب المجاہدین کے نا ئب امیر ہیں۔ اور تحریک آزادیٔ کشمیر کی توانا آوازہیں۔ حلقہ احباب میں فصاحت اور بلاغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اللہ کے دین اور آزادی کشمیرکی جدوجہد میں مجاہدانہ اور قائدانہ کردار جو سیف اللہ خالد نے پیش کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ لیور پہلگام اسلام آباد کے ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والے58 سالہ مجاہد کمانڈر عامر خان المعروف سیف اللہ خالد ربع صدی سے بھارتی استعمار کے ظلم و جبراور آٹھ لاکھ فوج کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ 1995 سے1999...

ریاست جموں کشمیر کی آزادی جہاد فی سبیل اللہ ہی سے ممکن ہے!

جمیل الدین عالی انتقال کرگئے وجود - پیر    23    نومبر    2015

عالی جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے گا پاکستان کے معروف شاعر، ماہر تعلیم اور اردو زبان و ادب کی مشہور ترین شخصیت جمیل الدین عالی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ 90 سالہ جمیل الدین عالی ذیابیطس اور سانس کے مرض کے شکار تھے اور کافی عرصے سے زیر علاج تھے یہاں تک کہ سوموار کی شام حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ جمیل الدین عالی قومی تاریخ کے مشہورترین ملی نغموں کے خالق تھے۔ جیوے جیوے پاکستان، ہم تا بہ ابد سعی...

جمیل الدین عالی انتقال کرگئے

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کا انتقال وجود - هفته    21    نومبر    2015

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 76 برس کی عمر میں کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔وہ طویل عرصے سے بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ مخدوم امین فہیم کا ایک طویل عرصے سےلندن میں علاج جاری تھاجہاں سے وہ حال ہی میں کراچی منتقل ہوئے تھے اور ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ مخدوم امین فہیم 4اگست 1939 ء کوضلع مٹیاری کے علاقے ہالا میں پیدا ہوئے۔وہ سندھ کے بااثر جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ سندھ یونیورسٹی سے 1961 میں گریجویشن...

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم کا انتقال

بھارت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مفتی نظام الدین انتقال کرگئے وجود - اتوار    18    اکتوبر    2015

بھارت میں 17 اکتوبر بروز ہفتہ سہ پہرمسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مفتی نظام الدین کا انتقال ہو گیا۔ جس سے پورے بھارت کی مسلم برادری میں ایک سوگ کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ مفتی نظام الدین کی عمر نواسی (89)برس تھی ۔ وہ بہار میں ضلع گیا کے گھوری گھاٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کی تاریخ پیدائش 31 مارچ 1927 تھی۔ اُنہوں نے 1942 ء میں دارلعلوم دیوبند سے فضیلت کی سند حاصل کی۔ وہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن ، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی مجلس منتظمہ کے رکن اور اسلامی فق...

بھارت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مفتی نظام الدین انتقال کرگئے

قابل اجمیری: عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہو جائے نجم انوار - هفته    03    اکتوبر    2015

قابل اجمیری کا اصل نام عبدالرحیم تھا۔ قابل، تخلص تھا۔ وہ 27؍ اگست1931ء کو ضلع اجمیر کے قصبہ چرلی میں پیدا ہوئے۔ اِسی مناسبت سے قابل اجمیری کہلائے۔ وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ ضلع اجمیر میں قابلِ اجمیری کے مکان کاعقبی دروازہ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سامنے کھلتا تھا۔ قابل اجمیری کے سوانح نگاروں کے مطابق درگاہ سے سنی جانے والی نعتوں ، غزلوں اور قوالیوں نے قابل اجمیری کے شعری ذوق کو پرواز دی۔یہاں سنا جانے والا بہت سا کلام قابل اجمیری کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے محف...

قابل اجمیری: عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہو جائے

تابش دہلوی۔۔۔۔اردو نظم وغزل کی کلاسیکی روایت کے علمبردار نجم انوار - بدھ    23    ستمبر    2015

تابش دہلوی 9 نومبر 1911ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ خاندانی نام سید مسعود الحسن تھا۔ پہلا تخلص بھی مسعود تھا۔ اُنہوں نے پہلا شعر کم وبیش تیرہ برس میں اسی تخلص کے ساتھ کہا کہ کہاں کہاں مجھے مسعودؔ لوگ ڈھونڈ آئے بھلا میں اُس کی گلی کے سوا کہاں جاتا سید مسعود الحسن نے بعد میں تابش تخلص اختیار کیا اور پھر وہ تابش دہلوی کے نام سے ہی معروف ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی پھر اپنے نانا کے پاس حیدرآباد دکن چلے گئے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی اور 1932ء میں حیدرآباد کے پوسٹ آفس میں پہلی ...

تابش دہلوی۔۔۔۔اردو نظم وغزل کی کلاسیکی روایت کے علمبردار

”ایک دن ہم بھی بہت یاد کیے جائیں گے“ وجود - منگل    22    ستمبر    2015

معروف شاعر اقبال عظیم 8 جولائی 1913ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والدسید مقبول عظیم کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ خود لکھنؤ اور اودھ میں پروان چڑھے ۔لکھنؤ یونیورسٹی سے 1934ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ پھر آگرہ چلے گئے جہاں سے 1943ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔اُنہیں ڈھاکا یونیورسٹی سے ریسرچ اسکالر شپ ملی اور ’’ٹیچرز ٹریننگ کالج ، لکھنؤ‘‘ سے تدریسی تربیت بھی حاصل کی۔اقبال عظیم نے باقاعدہ تدریس کا آغاز’’گورنمنٹ جوبل کالج ، لکھنؤ ‘‘ سے کیا۔ساڑھے گیارہ برس یوپی کے س...

”ایک دن ہم بھی بہت یاد کیے جائیں گے“

خدائے سخن، رئیس المتغزلین میر تقی میر کا دوسو پانچواں یوم وفات وجود - اتوار    20    ستمبر    2015

محمد تقی المعروف میر تقی میر آج سے دوسو پانچ برس پہلے اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔ مگر کہاں گئے تھے ۔ وہ اگلی کئی صدیوں تک زندہ ، تابندہ رہیں گے۔ اردو زبان میں اُن کے متعلق یہ جملہ بلاتردد بولا جاسکتا ہے کہ وہ اس زبان کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ اُن کے علاوہ اردو کی پوری شعری روایت میں کبھی ، کسی بھی شاعر کو خدائے سخن نہیں کہا گیا۔ میر تقی میر ۱۷۲۳ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔میر کی زندگی اور شاعری دونوں کو غم والم سے ایک خاص مناسبت رہی۔ میر کی ابتدائی تعلیم اُن کے والد کے دوست سید...

خدائے سخن، رئیس المتغزلین میر تقی میر کا دوسو پانچواں یوم وفات

تاریخ ِ پاکستان کا ایک زندہ ورق پلٹ گیا، عبدالحفیظ پیرزادہ رخصت ہوگئے وجود - منگل    01    ستمبر    2015

پاکستان کے متفقہ ۱۹۷۳ء کے آئین کے مُحَّرِر ممتاز قانون دان عبدالحفیظ پیرزادہ یکم ستمبر کی رات لندن کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے۔وہ جولائی کے وسط سے وہاں زیرِ علاج تھے۔ ایک قانون دان کے طور پر اُنہوں نے اپنی آخری ذمہ داری اس ٹیم کے سربراہ کے طور پر نبھائی جو ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر بنائے گئے عدالتی کمیشن کے سامنے تحریک انصاف کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئی۔ مگر مذکورہ ٹیم عدالتی کمیشن کے سامنے تحریک انصاف کے مقدمے میں سرخرو نہ ہو سکی تھی۔ تحریک انصاف کے اِن دنوں نارا...

تاریخ ِ پاکستان کا ایک زندہ ورق پلٹ گیا، عبدالحفیظ پیرزادہ رخصت ہوگئے

سلیم احمد : میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں وجود - منگل    01    ستمبر    2015

تحریر: محمد طارق فاروقی جدید اردو ادب کی تاریخ کے بے مثال شاعر اور بے بدل نقاد سلیم احمد ۲۷؍ نومبر ۱۹۲۷ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ اور یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔سلیم احمد نے اپنے آبائی قصبے کھیولی سے ہی میٹرک کیا اور میرٹھ کالج میں داخلہ لیا جہاں اُن کے مراسم پروفیسر کرار حسین ،محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی اور انتظار حسین سے اُستوار ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن...

سلیم احمد : میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں

ادا جعفری وجود - پیر    24    اگست    2015

نہایت نرم اور انتہائی شگفتہ آواز کی منفرد و معروف شاعرہ اداجعفری 22؍ اگست 1924 کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔اور اکیانوے برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 12؍ مارچ 2015 کو انتقال کر گئیں۔ وہ محض تین برس کی تھیں جب اُن کے والد بدرالحسن انتقال کر گئے۔ چنانچہ اُن کی مکمل پرورش اپنے ننھیال میں ہوئی جہاں صرف تیرہ برس کی عمر میں اُنہوں نے شعر کہنے شروع کر دیئے تھے۔خاندانی نام عزیز جہاں تھا مگر اپنے تخلص’’ ادا ‘‘کی مناسبت سے ابتدا میں ادا بدایونی کے نام سے شعر کہے ۔ مگر نور الحسن جعفری ...

ادا جعفری