وجود

... loading ...

وجود
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود - بدھ 21 جنوری 2026

ب نقاب /ایم آر ملک سیاسیات، معاشیات اور سماجیات میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ "افراد اہم نہیں بلکہ ادارے اہم ہیں"۔ یہ نظریہ مستحکم قوانین، روایات اور تنظیموں کو طویل مدتی معاشرتی کامیابی کی کلید قرار دیتا ہے۔ لیکن تاریخ ایسے استثنیٰ بھی پیش کرتی ہے جب کوئی واحد فرد اپنی لگن، دیانتداری اور جرأت مندی سے نہ صرف اداروں کی...

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود - بدھ 21 جنوری 2026

اونچ نیچ ۔۔۔۔۔۔ تھنکر مین ایک مشہور مجسمہ ہے جسے فرانسیسی مجسمہ ساز Auguste Rodin نے 1880ء میں تخلیق کیا۔ اس مجسمے میں ایک برہنہ مرد چٹان پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے جو گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے، اس کی ٹھوڑی اس کے ہاتھ پر ٹکی ہوئی ہے۔ یہ انداز انسانی فکر، غور و فکر اور وجودی سو...

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود - بدھ 21 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بھارت بھر میں ہجومی تشدد، جبری تبدیلی مذہب، مذہبی مقامات کی تباہی اور نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتوں کو نفسیاتی، جسمانی اور معاشی ظلم و ستم برداشت کرنا پڑتاہے کیونکہ ہندو قوم پرست بیانیے کا مقصد ان کی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو مٹانا ہے۔...

بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود - منگل 20 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری فارن افیئرز کے مطابق مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں، جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا۔ جریدے کے مطابق...

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود - پیر 19 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جولائی 2024 میں شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہی رہنما کر رہے تھے جنھوں نے گذشتہ سال فروری میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کی۔ این سی پی نے ملک میں متبادل سیاست کی بات کی لیکن ناقدین انھیں جماعتِ اسلامی ...

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود - پیر 19 جنوری 2026

بے نقاب /ایم آر ملک تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور معاہدوں کی فہرست نہیں بلکہ طاقت اور برابری کے درمیان جاری ایک دائمی کشمکش کا نام بھی ہے۔ کبھی اقتدار کو ''الٰہی حق'' کا لبادہ اوڑھا کر عوام کو مخصوص سانچے میں ڈھالا گیا، تو کبھی عوام نے شعور کی مشعل اٹھا کر یہ تخت ہی الٹ دیے۔ ی...

تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود - پیر 19 جنوری 2026

محمد آصف ہر دور میں انسانی معاشرہ امن، استحکام اور ترقی کی تمنا رکھتا آیا ہے ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ محض معاشی خوشحالی، سائنسی ترقی یا عسکری طاقت کسی معاشرے کو پائیدار امن اور حقیقی ترقی نہیں دے سکتیں۔ ان تمام عوامل کی بنیاد اخلاقی اقدار پر استوار ہوتی ہے ۔ اخلاق وہ زنجیر ہے ج...

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود - اتوار 18 جنوری 2026

حمیداللہ بھٹی آٹھ جنگیں بند کرانے کے عوض نوبل انعام کے طلبگارصدرٹرمپ کونیک نامی توحاصل نہیں ہوئی البتہ وینزویلا کے منتخب صدرنکولس مادوروکواہلیہ سمیت اغواکرانے کا چرچا خوب ہوگیاہے ۔ ایران پر حملے اور گرین لینڈ پر بزور قبضے کی دھمکیوں پربھی دنیا حیران ہے کہ جنگیں بندکرانے کادعوی...

شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود - اتوار 18 جنوری 2026

بے لگام / ستار چوہدری تیسری عالمی جنگ بغیراعلان شروع ہو چکی ۔ نہ توپوں کی سلامی ہوئی، نہ ٹینک سرحدوں پر کھڑے نظر آئے ، مگر دنیا کے نقشے خاموشی سے بدلنے لگے ہیں، آج کی جنگ زمین کے ٹکڑوں پرنہیں بلکہ ان راستوں، ان گزرگاہوں اوران وسائل پر لڑی جا رہی ہے جن سے آنے والی صدیوں کی طاقت...

تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود - اتوار 18 جنوری 2026

منظر نامہ پروفیسر شاداب احمد صدیقی حالات کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہیں، جبکہ سرکاری بیانات اور مختلف سروے معیشت میں بہتری اور ترقی کے دعوے کرتے ہیں۔ یہ تضاد نہ صرف عوام کے ذہن میں سوالات پیدا کرتا ہے بلکہ ریاست...

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود - هفته 17 جنوری 2026

جاوید محمود ۔۔۔۔ امریکہ سے گزشتہ ایک صدی کے دوران تیل اورتوانائی کے ذرائع پر کنٹرول نے دنیا میں جنگوں کو جنم دیا۔ مختلف ممالک کو غیر متوقع اتحاد کرنے پر مجبور کیا اور متعدد سفارتی تنا زعات کو جنم دیا۔ مگراب دنیا کی دو بڑی معیشتیں ایک اور اہم اور قیمتی ٹیکنالوجی پر لڑ رہی ہیں...

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود - هفته 17 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری چھتیس گڑھ ،بھارت کی ریاستوں میں ایک ریاست ہے۔ یہ وسط بھارت میں واقع ہے۔ حال ہی میں ریاست مدھیہ پردیش کو تقسیم کرکے چھتیس گڑھ ریاست قائم کی گئی۔ اس کا دار الحکومت رائے پور ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چھتیس قلعے واقع ہوں لیکن مشہور برط...

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود - جمعه 16 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹ نک نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ ناکام ہونے کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا فقدان دیکھا گیا، جس کے باعث پیش رفت ممکن نہ ہوسکی۔ امریکی وزیرِ تجارت نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ...

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود - جمعه 16 جنوری 2026

بے لگام / ستار چوہدری سوال نہ کریں ۔۔۔!! میں تمہاری زبان اورانداز سے واقف نہیں، میں صرف سچ بولنا جانتا ہوں، اگر میری باتیں تمہیں عجیب لگیں تو اس کی وجہ یہ ہے ، کہ میں بناوٹ کے بجائے حقیقت بولتا ہوں۔ تم مجھ پرالزام لگاتے ہو کہ میں نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہوں، اور نئے دیوتا گھڑت...

اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جہان دیگر ۔۔۔۔۔۔ زریں اختر کولاژ ۔۔۔۔۔ ''اعزازی'' رکنیت بجائے خود اعزاز کا درجہ رکھتی ہے، شخصیات سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یہ ذمہ داری اٹھالیں ، یہ شخصیات بھی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے خیال سے بلا معاوضہ یہ درخواست قبول کرتی ہیںاوراصولوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلو...

معاوضے پر استعفیٰ

حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

اونچ نیچ ۔۔۔۔۔۔ آفتاب احمد خانزادہ ولیم گولڈنگ کا ناول Lord of the Flies کسی دور افتادہ جزیرے پر پھنسے بچوں کی کہانی نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی دنیا کی ایک ننگی تصویر ہے ۔ایسی تصویر جسے دیکھ کر انسان چونک اٹھتا ہے، کیونکہ اس میں دکھائی دینے والا چہرہ ہمارا اپنا ہے۔ یہ ناول ہمی...

حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

حاصل مطالعہ ۔۔۔۔۔۔ عبد الرحیم شاعر اور مضمون نگار حارث خلیق کے مطابق پاکستان میں آئیڈیاز،خیالات،تخلیقی آرٹس وادب پرکڑی نظر اور سخت گرفت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خودملک۔ایسی چیزیں موجود ہیں جنہیں ذی اثر آدمی،فرمانروا،کمانڈر ،جج اور علماء سننا، دیکھنا ،سونگھنا،سمجھنا ...

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

بے نقاب /ایم آر ملک شہر قائد کراچی کی سڑکوں پر عوام کا جم غفیر پاکستان کی تاریخ میں عوام کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ غیر جانبدار ذرائع کے مطابق لاکھ سے زیادہ لوگ تھے جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں تھی ۔ عوام کا اتنا بڑا اکٹھ چار برس کی فسطائیت ،جبر تشدد ،نا...

مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

معصوم مرادآبادی راجدھانی دہلی سے متصل اترپردیش کا شہر غازی آباد آج کل سرخیوں میں ہے ۔ایک طرف جہاں غازی آباد کی پولیس نے ایک ایسا آلہ ایجاد کرڈالا ہے جسے کسی کے جسم پر لگاکر اس کے بنگلہ دیشی ہونے کا پتہ چل جائے گا تو وہیں اس شہر میں ہندو رکشا دل نامی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ہ...

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری سفاک مودی کے دور میں بھارت پر ہندوتوا راج مسلط ہے جس سے تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔فاشسٹ مودی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی آزادیِ رائے کو جرم بنا دیا، آر ایس ایس کے ہاتھوں غاصب مودی نے تعلیمی اداروں کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا۔جنسی ہراس...

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ریاض احمدچودھری بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو میں حکومت نے 200 سے زائد گھروں کو مسمار کردیا، جس کے باعث سینکڑوں مسلمان خاندان بے گھر ہوگئے۔ریاستی حکومت کی جانب سے یہ انہدامی کارروائی رواں ہفتے کے آغاز میں 22 دسمبر کی صبح تقریباً 4 بجے فقیر کالونی اوروسیم لے آؤٹ (کوگیلو گا...

بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود - بدھ 14 جنوری 2026

آج کل ۔۔۔۔۔ رفیق پٹیل کراچی ،حیدرآباد،نوری آباد اور کوٹری میں خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کے موقع پر جمع ہونے والے انتہائی پرجوش ہجوم میں شامل عوام کی بہت بڑی تعداد کی ایک ا ہم وجہ عوام کی موجودہ حکمرانوں کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار بھی تھا۔ جن کے بارے ...

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

چوپال /عظمیٰ نقوی ریاست کو ہمیشہ ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی بھوک، سردی، تکلیف اور ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہے۔ ماں کے نزدیک کوئی بچہ کم تر یا غیر اہم نہیں ہوتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر ریاست واقعی ماں جیسی ہوتی ہے تو پھر سرد راتوں میں وہ م...

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود - بدھ 14 جنوری 2026

آواز ۔۔۔۔۔۔ امداد سومرو سندھ ایک ایسے معاشرے کا نام ہے جہاں صدیوں سے باہمی رہائش، برداشت اور انسانی اقدار کی روایات موجود رہی ہیں۔ یہ سرزمین ہمیشہ تنوع، رواداری اور اجتماعی شعور کی علامت رہی ہے ۔ مگر اس روشن تاریخ کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ آج کا سندھ کئی ایسے ...

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر