وجود

... loading ...

وجود

664 خدام کو مفت حج پر بھیجنے پر وزارت مذہبی امور سے تفصیلات طلب

جمعه 18 نومبر 2022 664 خدام کو مفت حج پر بھیجنے پر وزارت مذہبی امور سے تفصیلات طلب

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے وزارت مذہبی امور سے خدام کو مفت حج پر بھیجنے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے کہ کس کس کو بھجوایا گیا، کون کس کا رشتہ دار ہے۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیر صدارت ہوا جہاں کمیٹی نے حج کے لیے وفاقی وزیر، سیکریٹری اور دیگر افسران کے ساتھ جانے والے خدام کی فہرست طلب کرلی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں موجودہ پاکستان ہاؤس توسیعی منصوبے کی زد میں آ گیا ہے جس کو منہدم کر دیا جائے گا، تاہم سیکریٹری خارجہ کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا گیا۔ سیکریٹری وزارت خارجہ کو فوری طور پر اجلاس میں پہنچنے کی ہدایت کی گئی، تاہم وہ نہ پہنچ سکے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم خان نے کہا کہ اگر سیکریٹری خارجہ دستیاب نہیں تو ایڈیشنل سیکرٹری یا ڈائریکٹر جنرل کو بلایا جائے، جس پر ایڈیشنل سیکریٹری اجلاس میں پہنچے۔ اس دوران سیکریٹری مذہبی امور آفتاب درانی نے کہا کہ مدینہ منورہ میں پاکستان ہاؤس کی عمارت کو 1988 میں سعودی حکام نے توسیعی منصوبے کے لیے منہدم کیا تھا اور اس عمارت کے بدلے پاکستان کو 26 ملین ریال ملے تھے۔ سیکریٹری مذہبی امور آفتاب درانی نے کہا کہ اس رقم میں سے 19 ملین ریال کی دو عمارتیں خریدی گئیں جبکہ مدینہ میں موجودہ پاکستان ہاؤس بھی توسیعی منصوبے کی زد میں آ گیا ہے اور موجودہ پاکستان ہاؤس کو بھی منہدم کر دیا جائے گا کیونکہ وہاں موجود تمام عمارتیں منہدم کی جائیں گی۔ سیکریٹری خارجہ کو طلب کرنے کے باوجود نہ آنے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا جہاں ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ سیکرٹری، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو کا استقبال کرنے گئے ہیں۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نورعالم خان نے کہا کہ کیسی باتیں کر رہے ہیں، کیا سیکریٹری خارجہ کا استقبال کرنے جانا ضروری ہے یا پی اے سی میں آنا، آپ کو غیر ملکی دوروں کا پتا ہے پارلیمنٹ کو جواب دینے کا پتا نہیں تاہم چیئرمین پی اے سی نے ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ کو اجلاس سے واپس بھیج دیا۔ اجلاس میں نواب آف بہاولپور کی سعودی عرب میں جائیداد وقف کرنے کے معاملہ پر سیکریٹری مذہبی امور آفتاب درانی نے کمیٹی کو بتایا کہ نواب آف بہاولپور کی مکہ میں 5 اور مدینہ میں ایک جائیداد تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 1906 سے 1966 تک ان عمارتوں کو منیجرز سنبھالتے تھے،ایک سعودی منیجر کے پوتے نے ایک مکمل اور ایک میں سے نصف عمارت پر دعوی دائر کیا تھا جس کے بعد ڈیڑھ عمارتیں منیجر کے پوتے کو دے دی گئیں۔ آفتاب درانی نے بتایا کہ کسی نے اس فیصلے کے خلاف سعودی عرب میں اپیل دائر نہیں کی جہاں تین عمارتیں پاکستانی سفارت خانے کے زیر انتظام آ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دو عمارتیں ترقیاتی منصوبوں کے باعث منہدم کر دی گئی تھیں جبکہ حاصل ہونے والی رقم سے حصص خرید لیے گئے تھے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ سعودی انڈومنٹ فنڈ میں پاکستان کے ایک کروڑ 97 لاکھ سعودی ریال پڑے ہیں اور اس رقم سے مکہ اور مدینہ میں عمارتیں خریدنا چاہتے ہیں۔ سیکریٹری آفتاب درانی نے کہا کہ سعودی قوانین کے مطابق کوئی دوسرا ملک یا غیر ملکی شہری زمین کی ملکیت نہیں رکھ سکتا جبکہ عمارت بھی صرف ایک سال کے لیے کرائے پر لینے کی اجازت ہے، لہذا مکہ اور مدینہ میں عمارت خریدنے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔ نور عالم خان نے کہا کہ کمیٹی نے 2017 سے 2020 تک بھجوائے گئے خدام الحجاج کی فہرست طلب کی تھی جس پر سیکریٹری مذہبی امور آفتاب درانی نے کہا کہ ہم رپورٹ 30 ستمبر کو فہرست بھجوا چکے ہیں جس پر چیئرمین نے اپنے اسٹاف کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی رپورٹ آتی ہے تو فورا ارکان کو بھجوایا کریں۔ آفتاب درانی نے کہا کہ وزارت مذہبی امور نے 664 خدام کو سعودی عرب بھجیا تھا جس پر چیئرمین نے پوچھا کہ کیا ان خدام سے کوئی رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔ سیکریٹری نے کہا کہ تمام خدام مفت میں سعودی عرب جاتے ہیں جس پر کمیٹی نے خدام الحجاج کے معاملہ پر تفصیلات طلب کر لیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے کہا کہ بتایا جائے کہ کس کس کو بھجوایا گیا، کون کس کا رشتہ دار ہے، یہ غریب ملک ہے، سب نے تماشا لگا رکھا ہے، ایک خادم اور معاون کو بھجوانے پر ہونے والے اخراجات سے آگاہ کریں۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر