وجود

... loading ...

وجود

آرٹیکل63 اے کی تشریح، سپریم کورٹ کا صدارتی ریفرنس کی سماعت آج مکمل کرنے کا عندیہ

منگل 17 مئی 2022 آرٹیکل63 اے کی تشریح، سپریم کورٹ کا  صدارتی ریفرنس کی سماعت آج مکمل کرنے کا عندیہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت آج (منگل کو) مکمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت کے کندھے اتنے کمزور نہیں، یہ کندھے آئین پاکستان ہے۔ آئین کے تحفظ اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے، دوران سماعت ریمارکس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، آئین جمہوریت کوتحفظ اور فروغ دے کر سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے سیاسی جماعت کے نظام کو بچاتا ہے۔ دوران سماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل مصطفی رمدے اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ آج اٹارنی جنرل اشتر اوصاف دلائل دیں گے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے اور وہ لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ تو عامر رحمن کا کہنا تھاکہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آ رہے ہیں 3 بجے تک پہنچ جائیں گے، پنجاب کے کچھ معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے, اس دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں، یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہاکہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے، اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی، مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا، ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے۔ یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں۔ ایک سرکار کے وکیل ہیں دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں۔ اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے سماعت کے لیے کیس مقرر کیا۔ ہم آئین کے آرٹیکل تریستھ اے کے حوالے سے فیصلہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم ایشو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل تین بجے پہنچ رہے ہیں تو چار بجے تک سن لیتے ہیں ہم رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ خدمت کا کام ہے جوہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے، اٹارنی جنرل کو تین بجے سن لیں گے۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ عدالت تو چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اس دوران معاون وکیل سعد ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان سترہ مئی کو واپس آجائیں گے۔ مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے یہ بینچ دستیاب نہ ہو۔ چیف جسٹس نے پھر کہا کہ پورا ہفتہ لارجر بینچ دستیاب ہے لیکن معذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے۔ مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں وہ تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں۔ اس پر معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان سے رابطہ کر کے عدالت کو آگاہ کرونگا۔ چیف جسٹس نے معاون وکیل سے کہا کہ مخدوم علی خان کو پیغام دے دیں بینچ کا ہر رکن انکا بڑا احترام کرتا ہے۔ یہ کیس آئینی تشریح کا بڑا اہم مقدمہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج ایڈوکیٹ جنرلز اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل)کے وکیل کو سن لیتے ہیں اوراٹارنی جنرل کا بھی انتظار کریں گے۔ بی این پی کے وکیل مصطفی رمدے نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے میں مںحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا تمام طریقہ کار موجود ہے اگر آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف طرف دیکھ سکتی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے پارٹی موقف سے انحراف خالصتا سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کرنے کی سزا کافی ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف جبکہ آدھے ارکان نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،ایک سیاسی جماعت کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو اسی جماعت کے صدر کی جانب سے صدارتی ریفرنس لایا گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ آئین جمہوریت کو فروغ اور تحفظ دیتا ہے اور سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آئین کی افراد سے کمٹمنٹ نہیں ہے بلکہ آئین سیاسی جماعت کو مضبوط کرتاہے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے اس کے ارکان نے پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ بھی کرتا ہے اور پارٹی کے رکن کو چار چیزوں پر پالیسی کا پابند کرتا ہے۔ مصطفیٰ رمدے نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی کی پالیسی کا پابند کرکے انحراف سے منع کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے تو ایسی صورتحال میں اس رکن کو کوئی سزا تو نہ ہوئی۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، ا س لیے عدالت پارٹی سربراہان کے کنڈکٹ کو بھی سامنے رکھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے۔ مصطفی رمدے نے کہاکہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی جمہوریت نہیں ہے۔ سیاسی پارٹی سربراہ کی ڈکٹیر شپ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر ہر رکن اپنی مرضی کرے گا تو ملک میں جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا؟ کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے؟ آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے توکیا دس پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا چند افراد کو پارٹی ہائی جیک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ مصطفیٰ رمدے کا کہنا تھا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ انفرادی شخصیت کون ہے؟ آئین آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے کہ وہ مرضی سے ووٹ دیں لیکن کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا۔ اس لیے عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ کیا سزا بڑھانے سے پارٹی سربراہ کی آمریت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا سینیٹ الیکشن میں کیا ہوا سب نے دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی کے موقف سے انحراف سے بہتر ہے منحرف ارکان استعفی دے دیں، استعفی دینے سے سیاسی سسٹم بھی بچ جائے گا، استعفی دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا، آئین کی تشریح کریں گے اور تشریح کیلئے معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا، اس کا مطلب ہے کہ آئین ضمیر کے مطابق ووٹ دینے والے کے اقدام کو بھی قبول نہیں کرتا، مصطفی رمدے نے دلائل میں کہا کہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد ہوئی، پارٹی سربراہ نے کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا، آزاد کشمیر میں وزیراعظم تبدیل ہوا پارٹی سربراہ نے کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آئین انحراف کی اجازت دیتا ہے؟ کیا یہ جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ انحراف کس قسم کا ہے، ووٹ شمار ہوگا یا نہیں ہوگا، مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ ووٹ شمار نہ کرنے کی دلیل پر سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے زور نہیں دیا یہ لوگ پارلیمنٹ میں آئین کو بدلنے کی بجائے اپنا وزن عدالت کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہیں ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے آئین کا تحفط اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو کالعدم کردیتا ہے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا اس اقدام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے؟ مصطفی رمدے نے کہا کہ میں یہ بالکل نہیں کہہ رہا میں حقیقت بتا رہا ہوں، آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے رکن کو ڈی سیٹ کرتا ہے کہیں اختلاف پر ووٹ دینے سے نہیں روکتا اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل تریسٹھ اے کی زبان بڑی واضح ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح میں واقعات کو بھی دیکھنا ہوگا، جسٹس جمال خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے 32 ملکوں میں انسداد انحراف قانون ہے اوران 32 ممالک میں صرف 6 ملکوں میں اس قانون پر عمل ہوتا ہے ان 6 ممالک میں انحراف پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے، اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین انحراف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ مصطفی رمدے ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ریفرنس سیاسی مفاد کے لیے بھیجا گیا ہے, آرٹیکل تریسٹھ اے سے آرٹیکل 95 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کو اپنے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے؟ آرٹیکل 95 ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ دلیل سے آپ نے سیاسی پارٹی کو ختم کردیا۔ اس طرح سے سیاسی پارٹی چائے (ٹی) پارٹی بن جائے گی۔ ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے لیکن کیا سیاسی جماعت کا سربراہ اپنی پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردے توکیا یہ آئین کے خلاف ہو گا؟ کیا سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس دوران وکیل بابراعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے۔ مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ اگر اختلاف پر ارکان استعفی دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے۔ اس دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل ساڑھے تین چار بجے تک پہنچ جائیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر چار بجے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل منگل کو پیش ہوں گے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل دیں چیف جسٹس نے کہا کہ کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو آرٹیکل باسٹھ کے ساتھ ملا کر پڑھا جانا چاہئے۔ آئین کی کوئی شق خوبصورتی کے لیے نہیں، ان دونوں آرٹیکلز کوایک ساتھ پڑھا جائے تو اس کے سنگین نتائج ہونگے، پارلیمنٹ کے بعد بھی دو فورمز نے انحراف کا جائزہ لینا ہے، اگر کوئی اسمبلی میں نہ آئے تو یہ بھی انحراف ہے، چاہے کسی نے گن پوائنٹ پرروک لیا ہو، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ اگر وزیراعظم اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو کیا پھر بھی رکن چاہے کہ وہی وزیر اعظم رہے۔ شمائل بٹ نے کہا کہ مانتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ فورم ہے، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ کیا پارٹی سربراہ کی شکایت پر الیکشن کمیشن کسی رکن کے کردار کو غلط یا صحیح کہہ سکتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ کے دلائل مکمل ہوئے تو کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر