... loading ...
سندھ اسمبلی نے ہفتہ کو اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی، احتجاج اور ہلڑ بازی کے دوران سندھ بلدیاتی ترمیمی بل بعض نئی ترامیم کے ساتھ ایک مرتبہ پھر منظور کرلیا، پہلے منظور کئے جانے والے بل پرگورنر سندھ نے بعض اعتراضات لگاکر اسے واپس ایوان کو بھیجوادیا تھا جس کی ایوان نے آج اپنے ہنگامہ خیز اجلاس میں ایک بار پھر منظوری دی، بل وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے پیش کیا تھا جس کی مرحلہ وار منظور ی دی گئی اس دوران اپوزیشن کے ارکان اسپیکر کی نشست کے سامنے جمع ہوکر مسلسل احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے وہ سندھ حکومت کا کالا قانون منظور نہیں کے نعرے لگائے رہے تھے او رانہوں نے اپنے ہاتھوں میں مختلف پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر سندھ حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ان کے احتجاج کے دوران ایک موقع پر حکومت اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے سے گھتم گتھا بھی ہوگئے اور نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی ۔شدید ہنگامہ آرائی کے دوران سندھ اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا ۔سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت نصف گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔کارروائی کے آغاز ہی میں ایوان کا ماحول کشیدہ نظر آیا ۔ جب وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے بلدیاتی ترمیمی بل بعض نئی ترامیم کے ساتھ ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن کی جانب سے زبردست احتجاج اور نعرے بازی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ۔اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر کی نشست کے سامنے جاکر جمع ہوگئے جہاں انہوں نے نعرے بازی کی ، بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگارکھا تھا وہ اپوزیشن کے شور شرابے سے بے نیاز ہوکر بل پیش کرتے رہے ان کی جانب سے بل کی غرض و غائیت بھی بیان کی ۔بل کی منظوری کے وقت اسپیکر آغا سراج درانی نے اپوزیشن کے دو ارکان سدرا عمران اور ارسلان تاج کے نام پکارے کہ انہوں نے بل پر جو ترامیم پیش کی ہیں ان پر بات کریں لیکن اپوزیشن احتجاج میں مصروف تھی اور کسی نے اسپیکر کی بات پر دھیان نہ دیا بل کی منظوری کے دوران ہی اپوزیشن ایوان سے واک آٹ کرکے چلی گئی۔وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے سندھ کے کچھ ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں ٹاون بنانے کی ترمیمی شق پیش کی جسے منظور کرلیاگیا۔ شورشرابے کے دوران ہی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ترمیمی بل کی بھی ایوان نے منظوری دے دی۔ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بل پر گورنر سندھ نے اعتراض کیا تھا،سندھ حکومت نے گورنر سندھ کے دو اعتراضات دور کردئیے ،کراچی سمیت ڈویڑنل ہیڈکوارٹرز میں ٹاونز بنانے کی شق برقرار ہے ،پیدائش و اموات کی رجسٹریشن کا اختیار بلدیاتی کونسلز کو واپس دیدیاگیا ہے۔ترمیمی قانون میں کہا گہا ہے کہ ٹاونز,میونسپل کمیٹیز کے چیئرمینز کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوگا۔بلدیاتی کونسلز کے چیئرمینز کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے کرا نے کی شق واپس لے لی گئی ہے ۔سندھ بھر میں بلدیاتی کونسلز کو 9صوبائی محکموں کے امور کی نگرانی اختیار دیدیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر کے اعتراض پر بلدیاتی کونسلز کی مدت کی شق میں بھی ترمیم کردی گئی ہے ۔بلدیاتی قانون و قواعد میں ترمیم کے اختیار کی شق کو واپس لے لیا گیا ہے ۔سندھ پولیس کے امور میں منتخب بلدیاتی کونسلز کو شامل کیاجائیگا۔سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے شیڈول میں ترمی کے ذریعے ایس ایس پی متعلقہ بلدیاتی چیئرمین سے رابطے کا پابند ہوگا۔پولیس امور ,امن وامان سے متعلق رپورٹ پولیس افسران بلدیاتی کونسل کو دینگے ۔پراسیکیوشن,پولیس ایڈمنسٹریشن,کرمنل کیسز میں بلدیاتی نمائندوں کا اختیار نہیں ہوگا۔پرائمری سیکنڈری اسکولز,بنیادی مراکزصحت کے افسران سہ ماہی رپورٹ بلدیاتی کونسلز کو دینے کے پابند ہوں گے ۔محکمہ کھیل,محکمہ خصوصی افراد,زراعت,لائیو اسٹاک کیضلعی دفاتر بلدیاتی کونسلز کو رپورٹ دینگے ۔سندھ کی ہر بلدیاتی کونسل میں خواجہ سراوں کیلئے ایک فیصد نشست ہوگی ۔خصوصی افراد کیلئے بھی ایک فیصد نشستیں بلدیاتی کونسل میں مختص ہونگی ۔یونین کونسل,یونین کمیٹی,ٹاونز,میونسپل کمیٹیز میں بھی خواجہ سراوں کی نمائندگی ہوگی ۔کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں خواجہ سراوں کے لئے نشستیں مختص ہونگی۔ کارروائی کے دوران اپوزیشن ارکان جب دوبارہ ایوان میں آئے تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر شور شرابہ شروع کردیا اور ان کے ہنگامہ آرائی کے دوران سندھ اسمبلی نے سندھ فیکٹریز ترمیمی ایکٹ اور سندھ سول کورٹس آرڈیننس ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان اسپیکر کی نشست کے سامنے زبردست احتجاج کرتے رہے اور انہوں نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر اچھال دیں۔اس موقع پر مکیش کمار چالہ نے کہا کہ ایسا مت کرو بدتمیز۔ اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کا متنبہ کیا کہ ان کایہ طریقہ درست نہیں ہے ، مستی کرنی ہے تو باہر چلے جائیں اپوزیشن نے اسپیکر کی بات پر کوئی توجہ نہ دی اور وہ ہنگامہ آرائی میں مصروف رہے ۔ اس دوران پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اراکین آپس میں دست و گریبان بھی ہوگئے جس کے دوران ارکان نے ایک دوسرے کے خلاف مخلظات کا استعمال بھی کیا ۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔اسی ہنگامہ آرائی کے دوران سندھ اسمبلی کا اجلاس برخاست کردیا گیا۔قبل ازیں ایوان کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے رکن محمد علی عزیز کی ایک تحریک استحقاق جوصوبائی پبلک سیفٹی اینڈ پولیس کمپلینٹس کمیشن کے غیر موثر ہونے سے متعلق تھی ۔وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ کی یقین دہانی پر واپس لے لی گئی ۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...