وجود

... loading ...

وجود

اپوزیشن نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

هفته 12 جون 2021 اپوزیشن نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا

اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا، پارلیمانی جماعتوںکی طرف سے بھرپور مخالفت کا فیصلہ کرلیا گیا، قائد حزب اختلاف شہباز شریف کومشترکہ حکمت کا اختیار دے دیا گیا ان کی غیر مشروط حمایت کردی گئی ،بجٹ اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کی تصدیق کردی ہے ۔بجٹ اجلاس کے بعد شہبازشریف کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ جو باتیں کررہے تھے ، اس سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور ملک کے بجٹ اور معیشت کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک جہاں عوام تاریخی، بیروزگاری اور مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں، اسی ملک کا وزیر اعظم اور وزیر خزانہ معاشی ترقی کی جو بات کرتے ہیں، اس میں کوئی وزن نہیں ہے اور وہ مصائب سے دوچار عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کے اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم نے مل کر اس بجٹ اور اس نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کرنا ہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ اس بجٹ کے خلاف پیپلز پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی اپنے ووٹ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو غیرمشروط طور پر دے رہے ہیں تاکہ وہ اسے حکومت کے خلاف استعمال کریں۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ہم تمام اپوزیشن جماعتوں نے طے کیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں، اس حکومت کی ناکامیوں کو منظر عام پر لائیں گے ، انہوں نے غلط اعدادوشمار دیے ہیں جن کے حقائق سامنے لائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غریب مررہا ہے ، اسے ایک وقت کی روٹی نہیں مل رہی، غربت اور بیروزگاری کا سمندر ہے ، ایسے میں یہ کہتے ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے لہذا ہم ان کے خلاف مل کام کریں گے اور اس حکومت کو بجٹ کو پاس کرنے کے خلاف ٹف ٹائم دیں گے ۔پیپلز پارٹی نے کم ازکم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا بعدازاں بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ آپ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کیوں اضافہ نہیں کررہے ، آپ یہ اس لیے نہیں کررہے کیونکہ آپ جھوٹے ہیں، آپ ہمیشہ غریب عوام سے ناانصافی کرتے ہیں، اتنی مہنگائی میں محض 10 فیصد اضافے کا کیا فائدہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ نے اپنے پہلے بجٹ میں صرف 10 فیصد اضافہ کیا لیکن مہنگائی میں اس سے زیادہ اضافہ ہوا، اگلے سال آپ نے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور اب اس سال پھر صرف 10 فیصد اضافہ کیا، جب مہنگائی، غربت اور بے روزگاری تاریخی سطح پر ہے اور جب پوری دنیا میں وبا چل رہی ہے تو آپ کو چاہیے تھا کہ زیادہ سے زیادہ اضافہ کردیتے ، آپ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافہ کردیتے اور آپ کو کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنی چاہیے تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبے میں کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرے ، آپ کو پتا ہے کہ ہمیں شکایات ہیں کہ وفاق تمام صوبوں سے ناانصانی کرتا ہے ، کم پیسہ دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم تنخواہ اور پنشن میں اضافہ کرتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو ہم نے تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ کیا تھا اور پینشن میں 100 فیصد اضافہ کیا تھا اور جب آپ مہنگائی کا مقابلہ کررہے ہیں تو ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ غریب عوام کو لاوارث نہ چھوڑے ، اگر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو تنخواہ میں بھی اتنا ہی اضافہ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور تمام اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ جو انصافی ہو رہی ہے ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے ، ہم آپ کے مطالبات کو ایوان میں بھی اٹھائیں گے ، ہم سے جو بھی ہو سکے گا وہ کریں گے تاکہ ہم اس بجٹ کو روک سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بجٹ پاس ہوجاتا ہے ، اگر وہ آپ کی تنخواہ میں مہنگائی کے مطابق اضافہ نہیں کرتے ، اگر وہ اسی پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل پر چلتے ہیں تو پھر میں بھی پاکستان کے عوام کے ساتھ مل کر گلی گلی، شہر شہر جا کر عوام کو بتاں گا کہ کس طرح یہ نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کی وجہ سے آپ کی جیب پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے اور ان کی نااہلی اور نالائقی کا بوجھ آپ اٹھا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ جیسے سندھ نے کم از کم تنخواہ 25 ہزار مقرر کی ہے ، آپ بھی ایسا ہی کریں اور جیسے ہم نے اپنے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ کیا، آپ بھی ایسا ہی کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں دہشت گردی کا مقابلہ اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی سپاہیوں کی تنخواہوں میں 175فیصد اضافہ کیا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ آپ بھی ایسا ہیں کریں، اگر تحریک انصاف یہ سب کردیتی ہے تو ہم سب ان کے لیے تالیاں بجائیں گے لیکن اگر یہ نہیں مانتے ہیں تو ہم ان سرکاری ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید وجود - منگل 30 دسمبر 2025

شیر خوار بچوں اور خواتین کی زندگیاں خطرے میں، بارشوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اسرائیلی فوج کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں، بارش کا پانی خیموں میں داخل ہوگیا اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتَھ غزہ میں موسم مزید سرد ہونے سے فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، ایک طرف صیہوبی بر...

غزہ میں موسم مزید سرد، فلسطینی شدید مشکلات کا شکار،مزید 4 شہید

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور جگہ جگہ رک کر عوام سے خطابات کیے، نعرے لگوائے، عوام کی جانب سے گل پاشی ، لاہور ہائیکورٹ بار میںتقریب سے خطاب سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں عمران خان زندہ بادکے نعرے گونج رہے ہیں،خان صاحب کا آخری پیغام سڑکوں پر آئیں ت...

پی ٹی آئی کی لاہور سے عوامی تحریک شروع ،سہیل آفریدی کا بھرپور استقبال، عمران خان کے حق میں نعرے

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ وجود - اتوار 28 دسمبر 2025

جیسے جیسے 2025 اختتام کو پہنچ رہا ہے شہر کا نامکمل انفراسٹرکچر اور تاخیری منصوبے صحت عامہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں کھوکھلے وعدوں کے سائے میں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بند گٹر، بڑھتی آلودگی نے سانس کی بیماریوں میں اضافہ کردیا ہے جیسے جیسے 2025اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کراچی کا نامکمل ان...

کراچی کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار،عوام آگ بگولہ

مضامین
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

فنا کی کہانی وجود جمعرات 01 جنوری 2026
فنا کی کہانی

آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت وجود بدھ 31 دسمبر 2025
آر ایس ایس کی گرفت اور بھارتی جمہوریت

بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟ وجود بدھ 31 دسمبر 2025
بانی پی ٹی آئی مائنس ہونے کو تیار؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر