وجود

... loading ...

وجود

نیاز حسین بھٹو غیرت کا کوہ ہمالیہ

منگل 24 اپریل 2018 نیاز حسین بھٹو غیرت کا کوہ ہمالیہ

محکمہ صحت سندھ میں نیم طبی عملے کے نامور محبوب رہنما نیاز حسین بھٹو دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ خبر نیم طبی حلقوں کو سوگوار کرگئی۔ نیاز حسین بھٹو پاکستان پیرامیڈیکل ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سابق مرکزی صدر اور موجودہ پاکستان پیرامیڈیکل سندھ کے صدر تھے۔ ان کی پوری زندگی محکمہ صحت کے نیم طبی عملے کے جائز حقوق کی جنگ لڑنے سے عبارت ہے اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے محکمہ صحت سندھ کے نیم طبی ملازمین کے ہیلتھ الائونس کی منظوری کی جدوجہد پہلے اپنی تنظیم کی سطح پر کی اور بعدازاں دوستوں کی مشاورت سے اس تاریخی تحریک کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا حصہ بن گئے اور اسی دوران میری اور ان کی ایک طویل ملاقات ان کی زندگی کی میری آخری ملاقات ہوگئی۔ وہ نیم طبی عملے میں ہر دلعزیز اور اپنوں کے علاوہ غیروں میں بھی اپنے صاف ستھرے کردار کی وجہ سے وہ ہمیشہ احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن اور بلاامتیاز و تفریق سب کے لیے ایک سایہ دار شجر تھے۔ انہوں نے کم و بیش تین دہائیوں تک بے لوث، جرأت مندی اور بے باکی سے نہ صرف نیم طبی عملے کی رہنمائی کی بلکہ ان کے حقوق کی بھرپور انداز میں جنگ بھی لڑی اور جوڑ توڑ اور پس پردہ کی سیاست سے وہ ہمیشہ دور رہے۔ لیکن نیم طبی عملے کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہنا ان کی پوری زندگی کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔

نیاز حسین بھٹو خود داری اور غیرت کا کوہ ہمالیہ تھے۔ وہ ایک سچے بااصول رہنما تھے۔ انتظامیہ اور حکومت ان کی کبھی مجبوری نہیں رہے۔ بلکہ ایم کیو ایم کے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد سے نیم طبی عملے کی ملازمتوں کے حوالے سے انہوں نے کھلی جنگ لڑی۔ وزیر صحت نے اقتدار کی طاقت کے نشے میں نیاز حسین بھٹو کے خلاف انتقامی کارروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن نیاز بھٹو وزیر صحت کے سامنے جھکنے کے بجائے وزیر محنت کی لاقانونیت کا مقابلہ قانون کے ذریعے کرتے رہے۔ بالآخر اللہ نے نیاز حسین بھٹو کو سرخرو کیا اور انہیں دربدر کرنے کا خواب دیکھنے والے خود دربدر ہوگئے۔ یہاں ضمناً بتاتے چلیں یہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی مفاہمتی سیاست کا وہ دور تھا جب محکمہ صحت میں میرٹ کے بجائے دونوں جماعتوں کے مابین ساٹھ فیصد اور چالیس فیصد کوٹے کے تحت جعلی اسناد پر بھرتی کا عمل کھلم کھلا جاری تھا اور اس عمل کے خلاف سندھ سروسز ہسپتال کراچی میں ہونے والی بھرتیوں کے خلاف نیاز حسین بھٹو نے فوتگی کوٹے کی بھرتیوں کا مطالبہ کیا تھا۔ نیاز حسین بھٹو چند ہفتوں قبل سے حلق کے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ تشخیص کے بعد ان کے باقاعدہ علاج کی راہ میں ان کی خود داری اور غیرت حائل رہی۔ اللہ نے انہیں ہمیشہ دینے والوں میں شامل رکھا۔ وہ آخری دم تک لینے والوں کی فہرست سے دور رہے۔ یہی وجہ تھی اپنی حیات کے آخری ایام میں انہوں نے سندھ سروسز ہسپتال کراچی کی سرکاری رہائش گاہ تک اس لئے اپنے آپ کو محدود کرلیا کہ جب وہ نیچے اپنے دفتر میں آتے تھے تو ان سے محبت کرنے والے بے شمار لوگ ان کی طبیعت کو دیکھ کر انہیں اپنی پرخلوص مدد کی پیشکش کرتے۔ جنہیں نیاز حسین بھٹو مسکرا کر خوش دلی سے پیشکش کرنے والے کا شکریہ ادا کرکے اس سے اپنی صحت کی دعا کے لئے درخواست کرتے تھے۔ معاملہ دراز ہوا تو انہوں نے اپنے آپ کو گھر تک محدود کرلیا۔ میں بھی آتے جاتے سلام دعا ان کے ایک خاص آدمی کے ذریعے انہیں بھجوا دیا کرتا تھا۔ وہ شروع سے آخری سانس تک پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن سے ہی وابستہ رہے اور اپنی تنظیم کو کسی بھی حکومت کا نہ تو ایک منٹ کے لیے حصہ بنایا اور نہ ہی کسی بھی محکمہ صحت کی انتظامیہ کے کبھی ٹاوٹ رہے اور نہ ہی نیم طبی عملے کو بیچ کر مال بنایا۔ میں ذاکر حسین شہید کی طرح نیاز حسین بھٹو کو ذاتی طور پر بہت قریب سے جانتا ہوں، ذاکر حسین تو میرے کلاس فیلو رہے لیکن نیاز حسین بھٹو کی اصول پسندی نے مجھے ان کے قریب ہونے پر مجبور کیا۔ میں جذبات میں نہیں محتاط انداز میں ذاکر حسین شہید اور نیاز حسین بھٹو کے بارے میں یہ کہوں کہ ان دونوں نیم طبی عملے کے رہنمائوں نے مال نہیں اعمال بنائے یقینا ان دونوں کی بہت ساری چھپی ہوئی بھلائیاں ان کے اور قریبی لوگوں کے علم میں اور سینوں میں محفوظ ہوں گی۔ذاکر حسین شہید اگر اپنے نام کی نسبت سے قافلہ حسینیت کا مجاہد تھے تو نیاز حسین بھٹو بھی حسینی قافلے کے بہت بڑے فقیر تھے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ 21 اپریل 2018ء کی شب ایک بجے دنیا سے رخصت ہونے سے قبل بظاہر تو نیاز حسین بھٹو ایران زیارتوں کے سفر پر روانہ ہورہے تھے اسی مناسبت سے انہوں نے پانچ گھنٹے قبل فون پر رابطہ کرکے قریبی دوستوں سے رابطہ کرکے معافی تلافی کرتے رہے۔ اس میں چوہدری نذیر احمد نے مجھے بتایا کہ میں ان کی باتوں کو مدتوں فراموش نہیں کرسکوں گا۔ جب پونے 2 بجے شب بابو مختار نے مجھے موبائل پر نیاز حسین بھٹو کی رحلت کی اطلاع دی تو اپنی مذکورہ مصروفیات کے ٹھیک پانچ گھنٹے بعد وہ سفید چادر اوڑھ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین۔

ان کی گرانقدر خدمات محکمہ صحت کی تاریخ کا سنہری باب ہے لیکن ان کی کمی کا خلا مدتوں پر نہیں ہوپائے گا۔

زمانہ اس کی عظمت پر بہت حیران ہوتا تھا
جب انسان کے پرائے درد کا درمان ہوتا تھا
سکوت مرگ ہے طاری یہاں پر آج کل لیکن
کبھی دل کے سمندر میں بڑا طوفان ہوتا تھا


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر