... loading ...
آج کل کے والدین کو اپنے بچوں کی پرورش کے سلسلے میں کل کے والدین سے زیادہ پریشانیوں اور اُلجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آج کی دنیا گزشتہ دور سے بے حد مختلف ہو چکی ہے۔ والدین کی ذمہ داریوں میں اس لیے اضافہ ہو گیا ہے کہ بچہ باہرکے اثرات قبول کر رہا ہے اور اس کی سماجی ،نفسیاتی اور جسمانی صحت پر باہری ماحول کے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ بچوں کی نگہداشت، ان کی پرورش اور ان کی صحت کے ہر پہلو کا جائزہ لینا کس طرح ممکن ہے اور کن اہم چیزوں کو مدِ نظر رکھ کر مائیں اپنے بچوں کو بہتر طور پر جان سکتی ہیں۔زیرِ نظر مضمون اس حوالے سے آپ کی رہنمائی کرے گا۔
شیر خوار بچے: وہ بچے جنہیں دنیا میں آئے چند دن ہی ہوئے ہیں ،ان کے لیے زندگی کی ابتداء عمر کے اسی مرحلے میں ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کے بچے،کل کے بچوں سے زیادہ محفوظ اور صحت مند ہوتے ہیں،میڈیکل سائنس کی ترقی نے بے شمار بیماریوں کو بچوں سے دور کر دیا ہے۔اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آج کا بچہ اپنی پہلی سالگرہ کل کے بچے سے زیادہ صحت مندانہ انداز میں مناتا ہے۔لاتعداد بیماریاںجو مختلف وجوہات کی بناء پر پچھلے دور میں بچوں کو لاحق ہوا کرتی تھیں وہ اب قبل از پیدائش اور پیدائش کے فوراً بعد کے ٹیکوں سے دور ہو گئی ہیں۔بچوں کو صحت مند اور محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں اور بہت سے امکانات کی ضرورت ہوتی ہے ۔جن میں سب سے اہم توجہ اور پیار ہے۔
بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر صحت مند اور توانا رکھنے کے لیے بھر پور توجہ اور پیار کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔اگر صرف ان کی غذائی یا جسمانی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور ان کے ساتھ پیار اور محبت کا برتائو نہ کیا جائے تو ان کی نشو و نما کمزور ہو جاتی ہے۔مختلف تحقیقات میں یہ بات واضح طور پر دیکھی گئی ہے کہ وہ بچے جنہیں مائوں کی بھر پور توجہ اور اہمیت حاصل رہتی ہے،ا ن بچوں سے کہیں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جن کے پاس بد قسمتی سے پیار کی نعمت نہیں ہوتی۔
بچوں کو ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ پیار کر سکیں اور جو ان سے پیار کرے،ان پر توجہ دے ،جو اٹھتے ،روتے اور سوتے جاگتے ان کا خیال رکھے۔عام طور پرایسی ہستی ماں ہوا کرتی ہے اور اگر ماں نہ ہو تو اس کی کمی باپ، دادا،دادی یا نانا ، نانی پوری کر دیا کرتے ہیں۔اگر کسی بچے کو ایک سے زیادہ پیار کرنے والے مل جائیں یعنی ماں ،باپ کے علاوہ نانا،نانی وغیرہ تو یہ اس کی مزید خوش نصیبی ہو گی۔اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں بچہ ان ہی رشتوں اور ان تعلقات میں زیادہ اپنائیت محسوس کرتا ہے۔ پیار اور توجہ ماں اور بچے کے درمیان وہ معاہدہ ہے جس کے تحت ایک عورت اپنی اولاد کی ہو کر رہ جاتی ہے۔قدرت کا نظام ہی ایسا ہے کہ ماں اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے،اور اسے اپنی اولا د کی فکر ستانے لگتی ہے۔لہٰذا مائوں سے قریب بچے اس معاملے میں نہایت پُر اعتماد اور خوش قسمت ہوتے ہیں۔
بچے کی نشو ونما کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔سب سے سستا،محفوظ ،صحت مند اور فوری دستیاب صرف یہی دودھ ہوتا ہے جو بچے کے لیے ہر قسم کی اور بھر پور توانائی مہیا کرتا ہے۔کم از کم چار سے چھ ماہ تک بچے کے لیے اس دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔اگر بچہ بیمار بھی ہوتو اسے دودھ پلانا ترک نہ کریں۔قدرت نے ماں کے دودھ میں وہ ساری خوبیاں شامل کر دی ہیں جو بچے کی نشو و نمااور اس کی زندگی کے لیے بہت ضروری ہیں۔اس میں بے پناہ پروٹین اور منرلز پائے جاتے ہیں اور چکنائی نہایت کم ہوتی ہے۔غرضیکہ ماں کا دودھ بچے کے لیے ہر لحاظ سے انتہائی مفید ہے۔لہٰذا بچے کی مناسب صحت کے لیے پہلی ترجیح ماں کا دودھ ہی ہونا چاہیے۔
تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...
وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...
کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...
مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...
جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...
دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...
ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...
حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...
تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...
سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...
پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...
رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...