وجود

... loading ...

وجود

انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

جمعرات 19 اپریل 2018 انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان‘فوادعالم ایک بارپھرزیادتی کاشکار

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے پاکستان کے قومی ٹیسٹ کرکٹ ا سکواڈ کا اعلان کردیا۔قومی اسکواڈمیں پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار ٹیسٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔نئے شامل کیے گئے کھلاڑی نوجوان ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبارلگانے والے سپرفٹ کھلاڑی فوادعالم کوایک بارپھرنظراندازکردیاگیاہے۔ ٹیم میں شامل اگرنئے کھلاڑیوں کاجائزہ لیا جائے توان میں فخر زمان، امام الحق، سعد علی، عثمان صلاح الدین اور فہیم اشرف شامل ہیں۔

فخر زمان کو ٹیم میں شامل کیے جانے کی ایک وجہ تو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی حالیہ فارم دکھائی دیتی ہے اور دوسری وجہ ان کا جارحانہ انداز بھی ہو سکتی ہے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کے 2016-17 کے سیزن میں 51 کی اوسط سے 663 رنز بنائے۔ انھوں نے اسی سیزن کے فائنل میچ میں 170 رنز کی اننگز بھی کھیلی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ایک بڑی اننگز کھیلنی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نوجوان کرکٹر سعد علی کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ انھیں حالیہ قائد اعظم ٹرافی میں شاندار فارم کے بنیاد پر ٹیسٹ ا سکواڈ کاحصہ بنایاگیاہے۔بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 24 سالہ سعد علی نے گذشتہ سیزن میں 68.35 کی اوسط سے 957 رنز اسکور کیے تھے، جبکہ وہ اب تک اپنے فرسٹ کلاس کریئر 50 میچوں میں 3473 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ان کی 232 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔اسی طرح عثمان صلاح الدین جو کہ پاکستان کی جانب سے دو بین الاقوامی ایک روزہ میچز تو کھیل چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ انھیں ٹیسٹ ا سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ستائس سالہ عثمان صلاح الدین دائیں ہاتھ سے مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہیں اور اب تک 99 فرسٹ کلاس میچوں میں 6329 رنز اسکور کر چکے ہیں۔یادرہے کہ ٹیم میں نئے شامل ہونے والے تمام کھلاڑی بلے بازہیں سوائے فہیم اشرف کے جوآل رائونڈر اورعبدالرزاق کانعم البدل کہلائے جارہے ہیں

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ٹیم میں زیادہ ترنوجوانوںں کو شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہو رہا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔

انھوں بیٹنگ کو مضبوط کرنے کی وجہ کچھ یوں بتائی کہ ‘کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے ہم نے بیٹنگ آرڈر مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب کو موقع ملے گا۔پاکستان کے چیف سیلیکٹر کا کہنا تھا کہ جن دنوں میں یہ سیریز کھیلی جائے گی انگلیڈ اور آئرلینڈ میں گیند زیادہ سوئنگ ہوتا ہے اس لیے بلے بازوں کو احتیاط سے کھیلنا پڑے گا۔

جہاں تک تعلق ہے ٹیم میں نئے بلے بازوں کی شمولیت کاتویہ بھی یادرہے کہ دورہ انگلینڈ میں بائولنگ کی بھی زیادہ ترذمے داری نوجوانوں پرہی ہوگی کیونکہ ٹیم میں یاسرشاہ اوروہاب ریاض موجودنہیں ۔یاسرشاہ کی جگہ شاداب خان کواسکواڈمیں شامل کیاگیا ہے جواب تک صرف ایک ٹیسٹ ہی کھیل چکے ہیں ۔فاسٹ بائولر حسن علی بھی صرف دوٹیسٹ میچزکھیلنے کاتجرہ رکھتے ہیں ۔ فہیم اشرف نے اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا۔ ان کی ٹیم میں شمولیت کاایک فائدہ یہ بھی ہوگاکہ وہ ضرورت پڑنے پرناصرف اچھی بلکہ جارحانہ بلے بازی بھی کرسکتے ہیں ۔ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہوں گے، جب کہ بقیہ کھلاڑیوں میں اظہرعلی، سمیع اسلم، امام الحق، فخر زمان، اسد شفیق، حسن علی، فہیم اشرف، راحت علی، محمد عباس، عثمان صلاح الدین، شاداب خان، محمد عامر، بابر اعظم، حارث سہیل اور سعد علی شامل ہیں۔

قومی ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت اپنی جگہ لیکن شائقین کوجوبات سب سے زیادہ حیران کررہی ہے وہ ایک بارپھرفوادعالم کا ٹیسٹ اسکواڈمیں عدم انتخاب کیونکہ فوادعالم نہ صرف یہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ہرسیزن میں رنزکے ابنارلگاتے نظرآتے بلکہ ضرور ت پڑنے پراپنی نپی تلی بائولنگ سے مخالف بلے بازوں کی وکٹیں بکھیرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ فوادعالم کے عدم انتخاب پرجہاں چیف سلیکٹرانضمام الحق کوشدید تنقید کاسامنا ہے وہیں حکومتی حلقے میں اس پرانگلیاں اٹھاتے نظرآتے ہیں

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بھی ٹیم کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے گئے، صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین عبدالقہار خان وادان نے کہاکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق اور فخر زمان کو کس کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا، فواد عالم اور وہاب ریاض کو نظر انداز کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟جبکہ سابق کرکٹرزبھی سلیکشن کمیٹی پربرہم ہیں اس حوالے نجی ٹی وی پرگفتگوکرتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر راشد لطیف نے دورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے لیے اعلان کردہ قومی اسکواڈ پر سلیکشن کمیٹی کی قابلیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔راشد لطیف نے کہا کہ جب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تجربے کی اشد ضرورت تھی تو ایسے میں فواد کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 55.35 کی اوسط کے حامل فواد عالم نے دس ہزارسے زائدرنزبنائے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہاکہ گزشتہ سال دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد یونس خان اور مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے اور متحدہ عرب امارات کی سلو وکٹوں پر سری لنکا کی کمزور باؤلنگ لائن کے خلاف بیٹنگ لائن کی کمزوریاں عیاں ہو گئی تھیں۔میرا انضمام الحق سے سیدھا سا سوال ہے۔ جب مشکل کنڈیشنز میں ہونے والے تین ٹیسٹ میچوں کے لیے فواد سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھے تو انہیں دورے سے قبل لگائے گئے کیمپ میں کیوں طلب کیا گیا؟۔ میں انضمام اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے چند کھلاڑیوں کے ناموں پر حیرت میں مبتلا ہوں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے کہا کہ آپ تصور کریں کہ فواد عالم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ 2009 میں کھیلا تھا جب وہ صرف 23 سال کے تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ انضمام الحق سے قبل نیشنل سلیکشن کمیٹی کے دیگر سربراہان محسن حسن خان، محمد الیاس اور ہارون رشید نے بھی اعلیٰ سطح پر قومی ٹیم کی نمائندگی کے فواد عالم کے حق کو ان سے چھین لیا۔

یہ ایسا ہے کہ جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث مجرم کو سزائے موت دی گئی ہو۔ آج کل ایک ٹیسٹ پلیئر کو جتنا معاوضہ دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انضمام الحق نے فواد عالم کا معاشی قتل کیا۔ ان کا ٹریک ریکارڈ 27 سنچریوں اور 10ہزار 742 فرسٹ کلاس رنز کے ساتھ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔اپنے دور کے بہترین وکٹ کیپر تصور کیے جانے والے راشد نیمحدود اوورز کے اسپیشلسٹ بلے باز فخر زمان کے انتخاب کی منطق بھی دریافت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ بائیں ہاتھ کے بلے باز آئرلینڈ اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں جدوجہد کریں گے۔جب اظہر علی اور سمیع اسلم کے ساتھ تیسرے اوپنر کے طور پر امام الحق موجود تھے تو آخر فخر کو بیک اپ کے طور پر کیوں ٹیم میں رکھا گیا جبکہ تین اوپنرز کافی تھے؟۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے چوتھے اوپنرز کے انتخاب سے ٹیم کا توازن خراب ہوا ہے۔ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ انضمام نے آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ فراہم کرنے کی بات کیوں کی۔ جن کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا ہے ان میں سے کتنے کھلاڑی ورلڈ کپ میں موجود ہوں گے؟۔ کیونکہ اظہر علی، اسد شفیق اور سمیع اسلم یقیناً ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہوں گے اور میرا نہیں خیال کہ فخر زمان ان ٹیسٹ میچوں میں کھیل سکیں گے تو آخر اس بیان کی کیا منطق ہے کیونکہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 مکمل طور پر مختلف فارمیٹ ہیں۔

دوسری جانب قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے فواد عالم کو دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے لیے منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں بھی چیف سلیکٹر ہوتا تو فواد عالم کو اسکواڈ میں منتخب نہیں کرتا۔پیر کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ فواد عالم کے بارے میں میری رائے تھوڑی مختلف ہے اور میرے خیال میں ان کی تکنیک میں تھوڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے انہیں انگلینڈ میں مسئلے مسائل ہوتے۔ انھوں نے کہاکہ میرے خیال میں فواد عالم برصغیر کی کنڈیشنز میں زیادہ بہتر بلے باز ہیں لیکن بیرون ملک ان کی تکنیک شاید ان کا ساتھ نہ دے سکے۔اس موقع پر انہوں نے فواد عالم کو ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے مثال دی کہ کئی کرکٹرز کو جلد ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہیں ملتا لیکن وہ اپنی عمدہ کارکردگی سے ایک عمر کے بعد ٹیم میں جگہ بنا لیتے ہیں جس کی بڑی مثالیں مصباح الحق، آسٹریلیا کے سائمن کیٹچ اور مائیکل ہسی بھی ہیں۔واضح رہے کہ رمیز راجہ پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے فواد عالم کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے کیونکہ ان سے قبل وسیم اکرم، راشد لطیف اور سکندر بخت سمیت متعدد کرکٹرز بائیں ہاتھ کے بلے باز کو منتخب نہ کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔رمیز راجہ نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے انتخاب کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امام کے انتخاب کو متعصبانہ نظروں سے دیکھنا زیادتی ہے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیم میں منتخب بلے بازوں کی بچت بہت مشکل کیونکہ وہاں گیند بہت زیادہ سیم اور سوئنگ ہوتا ہے لہٰذا انضمام جیسے چیف سلیکٹر فواد جیسے اثاثے کو ٹیم کے ساتھ رکھنا کیوں نہیں چاہیں گے، میرا نہیں خیال کہ وہ ایسی بے ہنگم زیادتی نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ انگلینڈ قومی ٹیم کے لیے کافی مشکل ہو گا کیونکہ ہمارے پاس اوپنرز میں کوئی ہیرا نہیں ہے جسے میں یہ کہہ سکوں کہ ہمیں اگلے 10 سال میں ایک بہترین اوپنر مل جائے گا اور انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ہمارے بلے بازوں کی نئی گیند پر ٹھیک ٹھاک پیشی ہونے والی ہے۔رمیز راجہ نے فواد عالم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش کرتے رہیں اور رنز کے ڈھیر لگا کر سلیکٹرز پر دباؤ بڑھاتے رہیں جس کی بدولت یقیناً وہ جلد ہی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر