وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف بھی جوتاکلب کے ممبربن گئے ،تین سابق وزرائے اعظم کے ہم رکاب

منگل 13 مارچ 2018 نوازشریف بھی جوتاکلب کے ممبربن گئے ،تین سابق وزرائے اعظم کے ہم رکاب

سیاست وہ اہم پیشہ ہے جس کے فرائض کی انجام دہی کے دوران عدم برداشت کا پہلو بہت ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات عوام کی جانب سے عدم براداشت کے باعث سیاستدانوں کو جوتے کھانے پڑ جاتے ہیں۔ ان دنوں ملک میں وفاقی وزرائاور سینئر رہنماؤں پر جوتے اور سیاہی سے حملے کے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن یہ کوئی خاص بات نہیں اس سے قبل بھی پاکستان میں متعدد سیاست دانوں پو جوتے سے وار ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ جامعہ نعیمیہ میں اس وقت پیش آیاجب ایک شخص نے دوران تقریرسابق وزیراعظم میاں نوازشریف کوجوتادے مارا۔نوجوان کی اس حرکت پرتقریب میں بھگدڑمچ گئی تاہم ملزم کوگرفتارکرلیاگیا۔پولیس نے صرف جوتاپھنکنے والے ملزم کوہی گرفتارنہیں کیااس کے دوساتھیوں کوبھی گرفتارکیاہے دونوں ملزما ن کے خلاف پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ در ج کیاجنھیں عدالت نے چودہ روز ہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔مقدمہ تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں اے ایس آئی اکبر کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں 16ایم پی او،506اور 355کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تینوں ملزمان منور حسین،عبد الغفور اور محمد ساجد کو گزشتہ روز ہتھکڑیاں لگا کر سخت سکیورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ زرتاشہ بگٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے جامعہ نعیمیہ آمد پرنواز شریف پر جوتا پھینکا جس پر ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ملزمان کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ملزمان سے مزید تفتیش نہیں کرنی لہٰذا انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا جائے۔ جس پر عدالت نے تینوں ملزمان کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ملزم کی پیشی کے وقت کینٹ کچہری لاہور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

سوال یہ پیداہوتا کہ خوداپنے خیال کے ملک ک ے مقبول ترین لیڈرنوازشریف پران کے اپنے حلقہ انتخاب میں قائم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں جوتاکیوں پھینکاگیاتواس حوالے معلوم ہواہے کہ جامعہ نعیمیہ کے طلبا اور اساتذہ تقریب میں نواز شریف یا مریم نواز کی آمد کے خلاف تھے۔ جامعہ نعیمیہ کے کئی اساتذہ نے اسی وجہ سے تقریب میں شرکت بھی نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف پر ایک سے زائد جوتے پھینکے گئے لیکن کئی جوتے اسٹیج تک پہنچ ہی نہیں سکے۔اطلاعات کے مطابق جامعہ کے اساتذہ اور طلبا کئی مرتبہ نعیمی صاحب کو کسی بھی تقریب میں نواز شریف یا مریم نواز کو مدعو کرنے سے متعلق منع کرچکے تھے اساتذہ اور طلبا ختم نبوتﷺ میں ترمیم پر نواز شریف کو ذمے دار سمجھتے ہیں۔ان کے منع کرنے کے باوجود مولانا راغب نعیمی نے نواز شریف کو دعوت دی۔ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے وقت بھی جب نواز شریف اور مریم نواز نے یہاں آنے کی کوشش کی تھی تب بھی طلبا کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا جس کے بعد انہیں بلایا نہیں گیا تھا۔

میڈیا چینل ذرائع نے بتایا کہ جوتا پھینکنے کے بعد نواز شریف کے خلاف اور ختم نبوت ﷺ قانون کے حق میں نعرے بازی بھی کی گئی اس حوالے تین افرادکوگرفتاربھی کیاگیا ۔ کسی بھی شخص کے مدعی بننے پرآمادہ نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے خوداپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔

یہی نہیں اس واقعے سے ایک روزقبل جب وفاقی وزیرخارجہ خواجہ آصف بھی اپنے آبائی شہراورحلقہ انتخاب میں ورکرزکنونشن میں خطا ب کے لیے اسٹیج پرموجودتھے توایک شخص نے ان کے چہرے پرسیاہی پھینک دی جس سے خواجہ آصف کاچہرہ اورلباس سیاہ ہوگیا۔ اس حوالے سے سینئرصحافی اور اینکرپرسن حامد میر نے کہنا ہے کہ نوازشریف پرجوتا اورخواجہ آصف پرسیاہی پھینکنے والے دونوں تحریک لبیک کے ممبر ہیں، جوتا پھینکنے والے 4لڑکے ہیں جن میں ابھی تین پکڑے گئے ہیں ،یہ چاروں لڑکے 6سال پہلے اس مدرسے سے فارغ ہوچکے ہیں ،نوازشریف پرجوتا پھینکے جانے والا واقعہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جامعہ نعیمیہ میں ہرسال سالانہ تقریب ہوتی ہے۔میں بھی ہرسال وہاں جاتا ہوں۔لیکن مجھے پچھلے سال اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے کیونکہ پچھلے سال نوازشریف کے ساتھ اسٹیج پرمیں بھی موجود تھا۔جب پچھلی صفوں میں ممتاز قادری کے حق میں نعرے لگنے شروع ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف پرسیاسی پھینکنے والا اور جس نے آج نوازشریف پرجوتا پھینکا یہ 4لڑکے ہیں جن میں دو پکڑے گئے ہیں جبکہ 2ابھی نہیں پکڑے جاسکے۔

یہ چاروں لڑکے 6سال پہلے اس مدرسے سے فارغ ہوچکے ہیں ، اور لاہور کی ایک مسجد میں پڑھاتے بھی ہیں۔یہ دونوں مولوی خادم حسین کی مذہبی جماعت لے ممبر بھی ہیں۔جبکہ مولوی خادم حسین رضوی کاکہناہے کہ نوازشریف نے ختم نبوت قانون میں تبدیلی کروائی ہے۔

کچھ دن قبل وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نارووال میں ہونے والے ورکرز کنونشن میں شریک تھے تواس دوران ایک شخص نے وفاقی وزیر پر جوتا پھینکا. جوتا ان کے ہاتھ پر لگایہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اسٹیج پر پہنچے ہی تھے اس شخص نے جوتا اچھال دیا۔. جوتا پھینکنے والے نوجوان بلال حارث کو پولیس نے حراست میں لیا لیکن وزیر داخلہ کے کہنے پرنوجوا ن کورہا کر دیا گیا۔یہی نہیں چندروزقبل ایک تقریب کے دوران پرویزرشید پربھی جوتاپھینکاگیاتھا۔

جوتاکھانے والوں میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد‘سندھ کے سابق وزیراعلی ارباب غلام رحیم پرسندھ اسمبلی میں جوتوں سے حملہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ سابق صدرجنرل پرویزمشرف پربھی ایک انٹرویوکے دوران جوتااچھالا جاچکا ہے ۔سیاستدانوں پرجوتوں سے حملہ ہوناپاکستان میں نئی با ت ضرورہوسکتی ہے لیکن دنیابھرمیں ایسے واقعات عالمی منظرپرنظرآتے رہے ہیں ۔ جوتاپھینکے جانے کاسب سے زیادہ مشہورواقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کا ہے جن پرر 2008 میں عراق میں ایک تقریب کے دوران صحافی کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جس سے وہ بال بال بچ گئے تھے لیکن وہ صحافی جس کانام منتظرالزیدی تھا دنیابھرمیں اپنی جرات کے باعث شہرت پاگیا۔ اس واقعے کواتنی پذیرائی ملی کہ سیاسی محفلوں میں دنوں تک اس واقعے کاچرچارہااورویڈیوگیم بھی بنادیاگیا۔

سابق آسٹریلوی وزیر اعظم جان ہاروڈ پر اس وقت ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جب وہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر لاس ایگاس میں تقریب کے دوران ایک خاتون نے جوتے سے حملہ کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکمیرون اورٹونی بلیئربھی عوام کے ہاتھوں جوتوں کانشانہ بن چکے ۔ یورپی سیاستدانوں کے علاوہ بھارتی سیاست دان بھی جوتوں کے حملوں کی زدمیں رہے ۔سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ ‘سابق بھارتی وزیرداخلہ چدم برم ‘عا م آدمی پارٹی کے سربراہ اروندکیجروال بھی مخالفین کے ہاتھوں جوتے کھاچکے ہیں ۔ بلکہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ کویہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ ان پرایک سے زائد بارجوتوں سے حملے کے علاو ہ ان پربھرے مجمے میں تھپڑوں کی بارش بھی کی جاچکی ہے ۔مقبوضہ کشمیرکے سابق کٹھ پتلی وزیراعلی عمرعبداللہ پربھی جوتوںکے وارہوچکے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر