... loading ...
بھارتی دباؤ اور امریکی ایما پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں پاکستان کا نام پابندیوں کے لیے واچ لسٹ میں ڈالنے کی تجویز پر بحث کے حوالے سے پاکستان کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اس معاملے کو اب جون تک مْوخر کردیا گیا ہے اس وقت اس بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو یقین ہے کہ تین ماہ بعد بھی یہ قرار داد اسی طرح ناکام ہوجائیگی جس طرح اب ہوئی ہے۔ اس ضمن میں دوست ملکوں کے تعاون پر پاکستان اْن کا شگر گزار ہے اور توقع ہے کہ جون میں جب یہ قرار داد دوبارہ زیر بحث آئیگی پاکستان کو یہ تعاون بدستور حاصل رہے گا۔ پاکستان کے خلاف اس قرار داد کی تجویز امریکا نے پیش کی تھی جس میں پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا جسے فی الوقت مسترد کردیا گیا ہے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس فرانس میں جاری ہیں پاکستان کے مختلف اداروں کی ٹیم نے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی، امریکی قرار داد کی حمایت برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے کی جبکہ سعودی عرب، خلیج تعاون تنظیم، ترکی اور چین نے پاکستان کا ساتھ دیا اور قرار دار کی بھرپور مخالفت کی۔
امکان یہی ہے کہ تین ماہ بعد بھی جب قرار داد دوبارہ زیر بحث آئیگی تو دوست ملکوں کے تعاون سے اب کی طرح مسترد ہو جائیگی۔ روس بھی اس وقت تک پاکستان کی حمایت کرے گا کیونکہ اسے یقین ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ اپنی بساط سے بڑھ کر پورے حوصلے اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ بھی کررہا ہے روس کو یہ ’’عین الیقین‘‘ اس وقت حاصل ہوا جب گزشتہ برس روسی افواج نے دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستانی فوجوں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے مقابلے کی جنگی مشقوں میں حصہ لیا، روس ایک بڑی فوجی قوت ہے اگرچہ اس کے پاس اب سْپر پاور کا ’’سٹیٹس‘‘ تو نہیں رہا لیکن عالمی امور میں روس کی رائے کو ہر لحاظ سے اولیت حاصل ہے، بھارت میں ایک کانفرنس کے موقع پر جب نریندر مودی نے شرارت کرکے ایک ایسی قرار داد منظور کرانے کی کوشش کی تھی جس میں پاکستان کو ریاستی دہشت گردی کا موردِ الزام گردانا گیا تھا تو روسی مندوب نے مودی کو ایسا دندان شِکن جواب دیا تھا کہ وہ مبہوت ہو کررہ گئے تھے اور اس حالت میں ان کی زبان سے صرف یہ الفاظ نکل سکے کہ ’’پْرانے دوست نئے دوستوں سے بہتر ہوتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی خفت مٹانے میں ناکام رہے۔ اِسی طرح چین اور ترکی نے بھی کھل کر پاکستان کی حمایت کی، اب بھی فرانس میں یہی دوست ملک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اْن کی معاونت کی وجہ سے قرار داد فی الحال تو موخر ہوئی ہے لیکن اِن شا اللہ جون میں بھی یہ کوشش ناکام ہو جائیگی۔
دہشت گردی کی جو جنگ پاکستان اس وقت لڑ رہا ہے یہ بنیادی طور پر امریکا کی جنگ تھی جو افغانستان پر امریکی حملے اور بعدازاں امریکی افواج کی وہاں آمد کی وجہ سے پاکستان کے گلے پڑگئی اس جنگ میں اس وقت کی پاکستانی قیادت نے ہر طرح امریکا کا ساتھ دیا اور ہر قسم کی سہولتیں بھی فرشِ راہ کی طرح اس کے سامنے بچھا دیں، جو عناصر امریکا کی اس جنگ کے خلاف تھے وہ امریکا کو تو براہ راست نشانہ بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ نائن الیون کے بعد امریکا نے ایسے انتظامات کرلیے تھے کہ اس کی سرزمین پر اس طرح کے کسی دوسرے حملے کا امکان نہیں رہا تھا اس لیے انہوں نے امریکا کے ایک حلیف کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنانا شروع کردیا اورکئی سال تک پاکستان کو اس طرح دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑا کہ ایسے حملے روز مرہ بن کر رہ گئے کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا جب پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے پر دہشت گرد حملہ آور نہیں ہوتے تھے، اس خطے میں خود کش حملوں کا کلچر اس دوران ہی متعارف ہوا، اس جنگ میں پاکستان کا جانی نقصان تو اتنا قیمتی تھا کہ اس کا ازالہ ممکن ہی نہیں بڑی سے بڑی جنگ میں اعلیٰ رینک کے اتنے افسر شہید نہیں ہوتے جتنے افسر اس دہشت گردی کی نذر ہوئے، پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہوائی اڈے محفوظ تھے نہ بندرگاہیں، ہسپتال محفوظ تھے نہ تعلیمی ادارے، بازار محفوظ تھے نہ کھیل کے میدان، ہر اہم مقام کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں پر کھیل کر اس سیلابِ بلا کے سامنے بند باندھ دیا اور دہشت گردوں کو تتر بتر کردیا۔ اْن کے ٹھکانے اور کمین گاہیں برباد کردیں اْنہیں راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کردیا، اس دوران دہشت گردوں نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ملکوں میں تباہی پھیلائے رکھی اور جب اْن کے قدم وہاں سے اْکھڑے تو وہ افغانستان کی جانب بھاگے اب وہاں نہ صرف افغان طالبان ہیں بلکہ داعش بھی اپنے وجود کا ثبوت دے رہی ہے کابل میں جب امریکی ،نیٹو اور افغان فورسز پے درپے ہزیمتوں سے دو چار ہونا شروع ہوئیں تو اْن کے ’’ذہنِ رسا‘‘ نے انہیں یہ نتیجہ نکالنے پر اْکسایا کہ ہونہ ہو یہ دہشت گرد پاکستان میں محفوظ ٹھکانے قائم کرکے بیٹھے ہوں گے اس لیے اْن پر حملے ہورہے ہیں چنانچہ امریکا نے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ یہ مبینہ ٹھکانے ختم کرے پاکستان کا دو ٹوک موقف تھا کہ ہم نے اپنی بساط سے بڑھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور اْن کو تباہ کردیا اب ہماری سرزمین پر کوئی ٹھکانہ نہیں اگر کہیں امریکا کو نظر آتا ہے تو بتادے، اس موقف پر امریکا کی تشفی نہ ہوئی تو اس نے بہت سے محاذوں پر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی منصوبہ بندی کرلی۔یہ واچ لسٹ کا ڈرامہ بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔ امداد پہلے ہی بند کی جاچکی ہے بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم بھی روکی جاچکی ہے جو امداد ہے نہ قرضہ بلکہ وہ رقم ہے جس کی ادائیگی کولیشن سپورٹ کی مد میں امریکا پر واجب ہے، یہ سب کچھ دراصل افغانستان میں ہونے والی ناکامیوں سے پیدا ہونے والی مایوسی کا ردعمل ہے، لگے ہاتھوں اس میں بھارت کو بھی شامل کرلیا گیا جس کا مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں نے ناک میں دم کررکھا ہے اور بھارت اس کا ذمے دار بھی پاکستان کو ٹھہراتا ہے حالانکہ کشمیری حریت پسند اپنی آزادی کے چراغ اپنے لہو سے جلا رہے ہیں اور حریت کی جنگ اْن کے نوجوان لڑ رہے ہیں بھارت کی سات لاکھ فوج تو کشمیر میں ناکام ہے لیکن امریکا کے ساتھ مل کر وہ بھی پاکستان کو واچ لسٹ میں رکھوانے کے لیے کوشاں ہے، فی الحال یہ کوشش ناکام ہوگئی ہے اور آئندہ بھی اس کی کامیابی کا امکان نہیں، پاکستان کو اپنے دوستوں کو باخبر رکھنا چاہئے اور اس دوران سفارتی کوششوں کو جاری رکھ کر امریکا بھارت اور دوسرے ملکوں کی اس سعی نامشکور کو ناکام بنانے کے لیے مستعد رہنا چاہئے۔
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...
خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...
پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...