... loading ...
اسٹاک ہوم کی طرف روانہ ہوا تو ایسا نہیں لگا کہ کسی اور ملک گیا ہوں کیوں کہ اسکینڈے نیویا کا عمومی مزاج ایک جیسا ہے۔ صاف ستھرا ماحول، اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ، عوامی ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام، ایک ہی طرز کے ٹرانسپورٹ کارڈ، جیب پھاڑ قسم کی مہنگائی، امن و شانتی ایسی کہ لوگوں کے چہروں سے چھلکتی ہوئی محسوس ہو، دکھاوے سے ذرا دور سادہ دکھائی دینے والی اکثریت، گاڑیوں کے ساتھ ساتھ دوڑتی بھاگتی سائیکلیں اور ایک عجب سی خماری جو آسودگی کے بعد خود بخود چہرے کا حصہ بن جاتی ہے، جو باہر سے آنے والوں کو شاید بے نیازی لگتی ہے، بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہاں بھی ایسا بہت کچھ ہے جو ناروے، ڈنمارک اور سوئیڈن میں مشترک ہے۔یہاں ایک خوبی یہ بھی دیکھنے کو ملی کہ اجنبی لوگوں سے کافی دوستانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ اس رویے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ امریکی رویے کی طرح یہ چھلکتا نہیں، لوگ شاید کسی اجنبی کو مسکراہٹ نہ دیں لیکن جوں ہی آپ کسی کو مدد کے لیے پکاریں تو وہ فوری طور پر یکسوئی سے آپ کی بات سننے اور حتی المقدور اس کو حل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ بڑے شہروں کی مصروف زندگی میں ہوسکتا ہے کہ آپ کو کچھ اور طرز کے لوگ بھی ملیں لیکن بالعموم اسکینڈے نیویا کے لوگ مددگار قسم کی فطرت رکھتے ہیں۔
اسٹاک ہوم کی سیر کے حوالے سے جو ایک چیز مختلف تھی وہ کہ اس شہر کو میں دیکھنے نہیں گیا بلکہ مجھے اس شہر کو دیکھنے کے بلایا گیا تھا۔ سوئیڈن میں پاکستان کے سفیر طارق ضمیر کی دعوت مجھے اس شہر میں کھنیچ لائی تھی۔ محمود مرزا، ذیشان میاں اور ڈاکٹر عارف کسانہ صاحب کی معیت نے اس سفر کو آسودہ کردیا تھا۔ عمومی طور پر ہر شہر میں دیکھنے سے تعلق رکھنے والی مشہور جگہوں کو ڈھونڈنا اور کم وقت میں سب کو دیکھنے جانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، لیکن اگر کسی اجنبی شہر میں کوئی یار مہربان مل جائے تو یہ مشکل کام بہت آسان ہوجایا کرتی ہے۔میرا یہاں قیام صرف 2 دن ہی تھا، کیونکہ یہ شہر میرے بسیرے سے ایک گھنٹہ ہی دور تھا۔ اس لیے شہر میں آتے ہی سیر کو نکل کھڑے ہوئے۔ محمود مرزا صاحب نے بمشکل پارکنگ ڈھونڈی۔ یہاں مرکزی شہر کے اندر پارکنگ ڈھونڈنا ہر بڑے شہر کی طرح مشکل ہی ہے۔ پارکنگ پلازہ سینٹر سے کچھ فاصلے پر تھا، لیکن شہر کو ملاتی ہوئی زیرِ زمین ٹنل نے اس پارکنگ ہاؤس کو شہر سے بہت قریب کردیا تھا۔اس ٹنل کو پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے گزرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسکینڈے نیویا کی خوبصورتی ان چھوٹی چھوٹی جگہوں سے جھلکتی ہے، صاف ستھری، ہوادار اور روشن ٹنل، بجائے اس کے کہ آپ کو قبر کی طرف جانے والا راستہ لگے، ایک خوبصورت تجربہ بن گئی تھی۔کہیں کہیں مدھر گھنٹیوں کی آوازیں اور کہیں مختلف روشنیوں کے ملاپ سے ایسا ماحول بنایا گیا تھا کہ دل چاہ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر اور اسی ٹنل میں چلا جائے۔ مگر آگے تو جانا تھا، لیکن جیسے ہی تھوڑا آگے گئے تو ایک جگہ پر میوزک بجانے والا فنکار اپنے ساز سے دھنیں بکھیر رہا تھا۔اس ٹنل سے نکل کر ہم اس گلی میں آ پہنچے جہاں اسی (80) کی دہائی میں سوئیڈن کے وزیرِ اعظم اولف پالمے کا قتل ہوا تھا۔ وہ بنا کسی محافظ اپنی بیوی کے ساتھ فلم دیکھ کر نکلے اور گھات میں لگے ہوئے نامعلوم قاتلوں کا نشانہ بن گئے۔ اولف پالمے نامی اس وزیرِ اعظم سے ہمارے پاکستانی وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو بہت متاثر تھے اور ان سے ملنے اسٹاک ہوم بھی آئے تھے۔ اولف پالمے کی یادگار کے طور پر سڑک پر اس جگہ ایک چھوٹی سی تختی نصب ہے، جس پر لکھا ہوا ہے کہ اس جگہ وزیرِ اعظم پر حملہ ہوا تھا۔ بہت سے لوگ اس سڑک اور اس جگہ سے یوں گزر جاتے ہیں جیسے کسی کو اس جگہ کے بارے میں کچھ خبر ہی نہ ہو اور نہ ہی یہ جگہ چیخ چیخ کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ایک مقامی مارکیٹ سے گزرتے ہوئے ہم واکنگ اسٹریٹ تک چلے آئے۔ یورپ بھر میں بڑی بڑی شاپنگ کی گلیاں صرف پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔ دو طرفہ برانڈز کی دکانیں اور درمیان میں ایک کھلی گلی، جس پر ہمیشہ لوگوں کا ہجوم رہا کرتا ہے۔ کئی جگہوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے گلوکار، سازندے، شعبدے باز بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا تصور تو دنیا کے سینکڑوں ممالک میں پایا جاتا ہے، بس یہ کہ دکانوں کے نام، دکاندار اور لوگ بدل جاتے ہیں اور انہی لوگوں کی مناسبت سے ماحول میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔
واکنگ اسٹریٹ سے گزر کر ہم سینٹرل اسٹیشن والی سڑک پر آ نکلے۔ سوئیڈن سے گزرنے والے اس کی صفائی ستھرائی دیکھ کر اس کے نصف ایمان کی گواہی دیتے ہیں۔ اس شاندار عمارت کے وسیع لاؤنج سے گزر کر ہم سینٹرل اسٹیشن کی عمارت کے بالکل سامنے چلے آئے، آج یہاں پر میراتھان طرز کی کوئی سرگرمی چل رہی تھی، اس لیے سڑکوں پر چمکتی وردیوں والے رضاکار دکھائی دے رہے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے سامنے تالیوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ سامنے سے کچھ ایک درجن افراد دوڑتے ہوئے چلے آرہے تھے، جونہی دوڑتے ہوئے لوگ کناروں پر کھڑے تماشائیوں کے پاس سے گزرتے تو لوگ ہمت بندھانے والے نعروں اور تالیوں سے ان کا حوصلہ بڑھاتے رہتے۔ کچھ ہی دیر میں سینکڑوں کا ہجوم آتا دکھائی دیا اور لوگوں کی تالیوں کی گونج دوڑنے والوں کے بوٹوں کے شور میں گم ہوگئیں۔ اس دوڑ اور ہجوم سے تھوڑی دیر محظوظ ہونے کے بعد ہم اسٹاک ہوم کے ٹاؤن ہال کی طرف چلے آئے۔ نوبل انعام جیتنے والوں کو اسی ٹاؤن ہال میں بادشاہ کی طرف سے کھانا دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہمسفر ذیشان میاں صاحب نے بتایا کہ بعض اوقات حکومت کے لیے اچھا اور بہترین کام کرنے والوں کو بھی اسی ٹاؤن ہال میں بادشاہ کی طرف سے کھانے پر مدعو کیا جاتا ہے اور وہ خود یہ اعزاز 2 مرتبہ حاصل کرچکے ہیں۔ ہم ٹاؤن ہال پہنچے تو وہاں 2 سے 3 نوبیاہتا جوڑے دکھائی دیے۔ مجھے بتایا گیا کہ آپ ٹاؤن ہال کی اس تاریخی عمارت کو اپنی شادی کی تقریبات پر کرائے پر بھی حاصل کرسکتے ہیں، لیکن ان شادی شدہ جوڑوں کو دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ وہ یہاں صرف فوٹو شوٹ کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ٹاؤن ہال کی سمندر والی طرف رخصت ہونے والے موسم گرما کی آخری دھوپ کے مزے لوٹنے کے لیے خاصے لوگ موجود تھے۔ یہاں سے ہوتے ہوئے ہم سوئیڈن کی پارلیمنٹ کی عمارت اور بادشاہ کے محل کی طرف لوٹ آئے۔ شاہی محل کے سامنے شہر کی جانب ایک باغ میں کسی کنسرٹ کی تیاری چل رہی تھی۔ اس سے آگے ایک نخلستان نما گرین بیلٹ شہر کے بجائے کسی باغ میں چلنے کا احساس دے رہا تھا۔یہیں پر موجود درختوں کے نیچے بڑے بڑے مہروں والی شطرنج کی بساط بچھائی گئی تھی، جسے 2 لوگ کھیل رہے تھے اور کچھ لوگ بطورِ تماشائی اس کھیل سے محظوظ ہورہے تھے۔ لیکن ہم نے یہاں رکنے کے بجائے واپسی کی راہ لی، کیونکہ شام کو مجھے سفیر محترم کی رہائش گاہ پر کھانے پر مدعو کیا گیا تھا۔ اسی عشائیے پر اخوت کے بانی، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، جو بوجہ علالت سفیر محترم کے مہمان تھے۔
اگلی صبح بلاگر و مصنف عارف کسانہ صاحب نے شہر دکھانے کی ٹھانی۔ ان سے یہ طے ہوا تھا کہ صبح 9 بجے اسٹاک ہوم کے پرانے شہر میں ملا جائے گا، مگر صبح 6 بجے ہی اْٹھ کر شہر کی جانب چل پڑا. بڑے شہر کی گلیوں کو دن کی رونق سے آباد ہوتے دیکھنا اپنے اندر ایک تجربہ ہے۔ واکنگ اسٹریٹ پر اس وقت سناٹا تھا جبکہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے بھی بس اکا دکا لوگ تھے. یہاں میں نے ناشتہ کیا اور بادشاہ کے محل کی طرف سے ہوتا ہوا پرانے شہر کی طرف چل پڑا۔
سورج کی پہلی کرنیں شاہی محل کے سامنے سمندر کے پانی کو جگمگا رہی تھیں۔ لوگ اپنے کاموں کی طرف نکلنے کا آغاز کرچکے تھے، شاہی محل کے گارڈ تبدیل ہو رہے تھے اور اسی سڑک پر 5 سے 6 گھڑ سوار بھی نجانے کس طرف سے آرہے تھے۔ بظاہر یوں لگ رہا تھا جیسے کسی گھڑ سواری کے اسکول کی کلاس چل رہی ہو۔ کچھ ہی آگے چائینز سیاحوں کی ایک بس رکی اور درجن بھر چائینز سیاح کیمروں کو تھامے بس سے نکل آئے۔ سچ پوچھیے تو انہیں دیکھ کر مجھے بھی تسلی ہوئی کہ اتنی صبح سیر کرنے والا میں اکیلا دیوانہ نہیں۔ابھی میں پرانے شہر میں داخل ہی ہوا تھا کہ میرے رہبر عارف کسانہ صاحب کا فون آگیا۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں پہلے سے ہی شہر میں موجود ہوں تو وہ فوراً چلے آئے۔ گاڑی ہاتھ آنے سے مجھے شہر کے وہ حصے دیکھنے کا بھی موقع ملا جن کا تصور کم وقت کے لیے آنے والا کوئی سیاح بھی نہیں کرسکتا اور پھر شہر سے واقفیت کی بناء پر ہم ہر اس جگہ ٹھیک ٹھیک پہنچتے رہے کہ جہاں جانے کا سوچا گیا تھا۔
اسٹاک ہوم کی ایک پرانی فوجی چھاؤنی اور نیشنل میوزیم، سے ہوتے ہوئے ہم ٹی وی ٹاور تک جا پہنچے۔ یہاں جانے کی وجہ یہ تھی کہ یہاں سے شہر کا سب سے خوبصورت نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یورپ میں اس طرز کا رواج اب خاصا عام ہے کہ اونچی عمارتوں کے بالائی حصوں میں کیفے بنا دیے جاتے ہیں جن کو اسکائی بار کہا جاتا ہے۔ یہاں پر بھی ایک اسکائی بار بنائی گئی ہے، جہاں سے آپ نہ صرف شہر کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ کافی اور دیگر مشروبات سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔اس اسکائی بار پر کافی پیتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اتنا ہرا رنگ ہمارے شہروں کے رنگوں میں کیسے بھرا جاسکتا ہے؟ یہاں سے درختوں، ہریالی اور سمندر کے رنگوں میں گھری ہوئی عمارتیں اسٹاک ہوم کو ایک جادوئی سا شہر بنا رہی تھیں۔ٹی وی ٹاور سے پلٹ کر ہم پھر سے شہر کی طرف چلے آئے اور اْس جگہ پہنچے جہاں نوبل انعام یافتہ لوگ انعام لینے سے پہلے خطاب کیا کرتے ہیں۔ یہاں سے شہر کے مشہور پارک ہاگا پارک کا رخ کیا۔ ہاگا پارک کے داخلی دروازے سے کافی دور پہلے ہی چند والنٹیر گاڑیوں کا رْخ دوسری جانب موڑ رہے تھے، کیونکہ آج یہاں کوئی مقامی فیسٹیول چل رہا تھا جس کی وجہ سے قریب والی پارکنگ بھری ہوئی تھی۔ لیکن جب ہم نے ان دربانوں سے درخواست کی کہ ہم نے وہاں گاڑی پارک نہیں کرنی بلکہ کچھ ہی دیر میں واپس آجانا ہے تو انہوں نے ہمیں آگے جانے دیا۔ڈاکٹر کسانہ صاحب گاڑی میں ہی موجود رہے اور میں نے 10، 15 منٹ میں اس تقریب اور پارک کا ایک سرسری سا جائزہ لینے کے بعد واپسی کا فیصلہ کیا۔ اندر فیملیز کا ہجوم تھا، جہاں بچوں کے لیے انڈور کھیلوں کے انتظامات کیے گئے تھے جبکہ سامنے ایک وسیع سبزہ زار پر لوگ اپنے دوستوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں موجود تھے۔ وہاں کھڑے ہوکر میں نے دیکھا کہ منتظمین سائونڈ سسٹم چیک کررہے ہیں جس کی وجہ سے کسی میوزیکل بینڈ کے آنے کے بھی کچھ آثار معلوم ہوئے۔ ایسی گہما گہمی عام طور پر اسکینڈے نیویا میں عام نظر نہیں آتی، لیکن یہاں بے فکری کا ایک میلہ لگا ہوا تھا۔ لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ اس قدر مگن تھے کہ انہیں ارد گرد کی خبر ہی نہ تھی۔ میں نے ان چہروں سے آسودگی چرانے کی خواہش کی اور واپس چلا آیا اور واپسی میں دعا کرتا رہا کہ یا خدا ایسی بے فکری میرے دیس کی گلیوں تک بھی پہنچے، ایسی آسودگی کہ اپنی ضرورت سے زیادہ کمانے کی فکر نہ ہو اور کسی دوسرے کا حق چرانے کی خواہش نہ ہو۔یہاں سے ہم ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں چلے آئے اور دیسی طرز کا مزیدار کھانا کھایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسٹاک ہوم میں سفر کی غرض سے گزارے جانے والے یہ 2 دن میرے تمام ہی سفروں سے مختلف تھے، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ پہلے دن سے لیکر آخری شام تک میں مہمان بنا رہا اور پاکستانیوں سے محبت وصول کرتا رہا۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...