وجود

... loading ...

وجود

شیرِمیسور،ٹیپو سلطان

پیر 12 فروری 2018 شیرِمیسور،ٹیپو سلطان

ٹیپو سلطان کا نام اور اس عظیم ہستی کی تاریخی مذہبی رواداری اور اس کی طرزِ حکمرانی کی داستان پاکستان میں شاید صرف نصابی کتب تک ہی محدود رہ گئی ہے۔ تاریخ گوئی اور تاریخ سے سبق و رموز کی واقفیت ہمارے نوجوانوں اور خاص کر نئی پود (نسل) کیلئے بہت سود مند اور ضروری ہے، مگر شاید ہم اس کی جستجو نہیں رکھتے حالانکہ اس کی ضرورت کل بھی تھی اور آج بھی ہے۔ ٹیپو سلطان کو اس سے بہترین خراجِ عقیدت اور کیا دیا جا سکتا ہے کہ ان کی شخصیت کے شاندار اور خوبصورت پہلوئوں کو اجاگر کیا جائے اور دنیا کو بھی حقیقتِ حال سے روشناس کرایا جائے۔ اس نے برصغیر کو انگریزوں کی غلامی سے بچانے کیلئے نہ صرف اپنی حکومت کی قربانی دی بلکہ خود بھی قربان ہوگیا۔ یہ عظیم سپوت انگریزوں سے لڑائی لڑتے لڑتے آخر 04 مئی 1799ء￿ کو شہادت کے درجے پر فائز ہوگیا۔ حالانکہ اس کے پاس اپنی جان اور اپنی حکومت بچانے کے مواقع موجود تھے۔ آپ کے ذہنوں کو تازہ کرنے کیلئے یہاں برصغیر کے اس عظیم سپوت کے حوالے سے چند ضروری اطلاعات بھی قرطاسِ قلم کرتا چلوں تاکہ جنہوں نے اس کو بھلا دیا ہے اس کے ذہنوں میں یاد تازہ ہو جائے۔ ٹیپو سلطان نومبر 1750ء￿ کو کولار کے شمالی مغربی علاقے بنگلور میں دیون بلی نامی قصبہ میں پیدا ہوا۔ ٹیپو سلطان نے جب اس خوبصورت دنیا میں آنکھ کھولی تو انگریز وں کی حکومت اپنے بامِ عروج کو چھو ر ہی تھی اور ان کے ناپاک عزائم بھی تیزی سے ریاستوں کو روندتے چلے جا رہے تھے۔ ایک ایک کرکے انگریزوں نے مرہٹوں، آرکاٹ اور نظام حیدرآباد کی حکومتوں کو اپنے فریبی جال میں پھنسا لیا تھا۔ صرف ریاست میسور ہی ان کے ناپاک عزائم کی راہ میں رکاوٹ تھی، یوں ٹیپو سلطان کی پوری زندگی جنگ کے میدان میں گزری اور وہ بھی انگریزوں کے خلاف سر بکف رہتے ہوئے۔ انگریزوں نے اپنی مکاری، عیاری اور دغا بازی کے متعدد فارمولوں کو استعمال کرتے ہوئے ان کی شخصیت کو ایسا مسخ کر دیا کہ سفید کی جگہ سیاہ نظر آنے لگا۔ اور یوں ایک نہایت قابل اور عادل حکمران ظالم، ایماندار حکمران بے ایمان اور پاک صاف حکمران عیاش قرار دے دیا گیا۔ فہرستِ سلاطین میں سرِفہرست ٹیپو سلطان کا نام بھی آتا ہے۔ لکھاری حضرات جن میں کچھ نئے اور کچھ پرانے بھی شامل ہیں ، نے غلط طور پر ٹیپو سلطان کو ایک بے رحم، خون آشام، ستم شعار، آمر اور جنونی قرار دیا ہے لیکن راقم کے نزدیک حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیونکہ (تاریخ کے کئی کتابوں میں اس کا حوالہ ملتا ہے) کہ وہ کوئی متعصب یا شدت پسند نہیں تھا، وہ ایک متقی مسلمان تھا مگر اس نے کبھی اپنی ہندو رعایا کا مذہب تبدیل کرنے کی کوئی جبری و اجتماعی کوشش نہیں کی تھی مگر پھر بھی ہندو اس عظیم سپوت کے کارناموں سے اورمذہبِ اسلام سے اس کی دلی لگائو کو دیکھتے ہوئے اتنی زیادہ تعداد میں مسلمان ہوئے کہ انگریز دنگ رہ گئے۔ اور یوں ایک انگریز مو?رخ نے لکھا تھا کہ سلطان نے صرف کورگ شہر میں 70 ہزار لوگوں کو مسلمان بنایا تھا۔ لیکن شاید یہ اعداد و شمار ٹھیک نہیں ہیں۔ ان میں کچھ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ یہ تو بالکل سچ ہے کہ شہید ٹیپو سلطان نے سیاسی، فوجی، معاشی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور مذہبی اصلاحات بھی اپنے تئیں (خود) کیں ، اس نے تو اپنے دورِ حکمرانی میں مسلم عوام الناس میں پھیلی ہوئی بہت سی بدعات اور خرافات پر پابندی عائد کی۔ ذات پات کے فرق کو بھی اپنے دور میں گھٹانے کی جستجو کی اور اس میں بھی اسے خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔ جمعہ کے خطبے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ عوام میں اس کی مفید اثر انگیز ی رہے۔ اپنی پوری سلطنت میں شرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا، تاریخی کتب کی کتب بینی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے ہر شہر اور ہر قریہ میں پنچائت مقرر کر رکھی تھی۔ قدیم دستور کے مطابق ہر گائوں میں معمولی تنازعات کا فیصلہ یہی پنچائیت والے کر دیا کرتے تھے۔ اگر سامنے والے کو ان کے فیصلے سے تشفی نہ ہوتی تو مقدمہ عدالت اور اس کے بعد سلطان تک پہنچایا جاتا تھا۔ اورنگزیب عالمگیر کا دور اس کی وفات کے بعد ختم ہوا تو اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کا جیسے زوال ہونا شروع ہو گیا تھا، کیونکہ مغلیہ سلطنت ختم ہوگئی تھی اور مسلم شان و شوکت کا خاتمہ تقریباً یقینی ہو گیا تھا، اتحاد کی دولت سے محروم اور تفرقے کے شکار مسلمان لاچار ہو گئے تھے۔ ایسے میں انگریزوں کی چالوں کو بھانپ کر سلطنتِ میسور کے فرمانرواں حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا اور مسلمانوں کی شان و شوکت کو بحال کرنے کی شروعات کی، حیدر علی نے برطانوی افواج پر کئی کامیاب حملے کیے اور اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا مگر جب حیدر علی کا انتقال ہوگیا تو اس کے بعد شیرِ میسور نے افواجِ میسور کی قیادت سنبھال لی۔ سلطان کی تلوار اسلامی سلطنت کے احیاء اور وہاں سے انگریز وں کے انخلاء میں معاون رہی۔ سلطان ٹیپو کی پے در پے چالوں نے انگریزی سپہ سالاروں کو چکرا کر رکھ دیا، ان کی رسد کو کاٹنے میں اپنی ہر تدبیر آزمائی اور کامیاب بھی ہوئے اور یوں میسور کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والے فوج کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی اور میسور کی دہلیز برطانوی فوج کے لئے قبرستان بن گئی۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر