وجود

... loading ...

وجود

ارسطو کی داستان

هفته 13 جنوری 2018 ارسطو کی داستان

سائنس کا جنم کہاں ہوا، کب ہوااور کس نے کیا؟ پہیہ سائنس کی سب سے بڑی ایجاد سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا موجد کون تھا؟ سب سے پہلے آگ کس نے جلائی تھی؟ ہندسے کس نے بنائے؟ صفر، جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کی دریافت کس نے کی؟ تاریخ دان کا جنم سائنس دان کے بعد ہوا۔ زبان بھی سائنس کے بعد پیدا ہوئی لیکن سائنس کے بہترین دماغوں اور انسانیت کے بہترین محسنوں سے واقفیت عام نہیں۔ دراصل دنیا میں کئی مقامات پر ارسطو اور ارشمیدس جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ مگر جس مغربی سائنس کا آج ہم مطالعہ کرتے ہیں، اس کا براہِ راست رشتہ صرف یونان کے ارسطو سے ہی ملتا ہے۔ سائنس کا وجود ارسطو سے پہلے بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ مگر اسے تواہم پرستی سے الگ ایک باقاعدہ علم کا درجہ حاصل نہ تھا۔ افلاطون کے شاگرد اور سکندراعظم کے استاد کے طور پر ارسطو اپنی زندگی میں ہی ممتاز ترین عالم شمار ہوتا تھا۔ اس کی پیدائش 384ق م میں مقدونیہ کے ایک شہر میں ہوئی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں اس نے ایتھنز میں افلاطون کی شاگردی قبول کی۔

یونانی فلاسفرشاگرد کی ذہانت سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسے ذہانت کا مجسمہ قرار دیا۔ نوجوان طالب علم نے اپنی ساری آبائی دولت اپنے وقت کا سب سے بڑا کتب خانہ بنانے پر خرچ کردی۔ اس کتب خانے کی سب کتابیں ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں کیونکہ اس وقت تک چھاپہ خانہ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ارسطو کو اپنی زندگی شروع کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ پڑھائی ختم کرتے ہی اس کے پاس کئی شہزادے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے لگے۔ ان میں ایک شاگرد ہرمیاس نے تخت نشینی کے بعد اپنے استاد کو اپنے دربار میں شامل ہونے کی دعوت دی اور عقیدت کے طور پر اس سے اپنی بہن کی شادی کردی۔ ارسطو کی شہرت، تھوڑی ہی مدت میں اتنی پھیل گئی کہ اس زمانہ کا سب سے بڑا بادشاہ فلپ جب 344ق م میں اپنے بیٹے اور مستقبل کے سب سے بڑے فاتح سکندر کے لیے دنیا کے سب سے بڑے معلم کی تلاش میں تھا تو اس کی نگاہ انتخاب ارسطو پر ہی پڑی۔ ادھر سکندراعظم نے اپنی فتوحات کے ذریعے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کو ایک سیاسی نظام میں پرونا شروع کیا۔ ادھر فلاسفر ارسطو نے ذہنی میدان میں اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور سارے علوم کو فلسفہ کی ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی۔ مگر جہاں فوجی حاکم کی سلطنت کو منتشر ہونے میں زیادہ عرصہ نہ لگا، وہاں انسانی ذہنوں پر خاص کر یورپ میں فلاسفرزکا لگ بھگ مکمل تسلط کم از کم پندرہ صدیوں تک جاری رہا۔ ارسطو کی تعلیمات کا اثر پندرہویں صدی میں ایک نئے ذہنی انقلاب کی صورت میں ایک بار پھر نمودار ہوا جب قسطنطنیہ پر قبضہ کی وجہ سے عالمِ ارسطو کی تحریروں سمیت یورپ بھاگنے پرمجبور ہوئے۔ ان کے مطالعے سے یورپ میں جو نئی تحریک جاری ہوئی اسے احیائے علوم کا نام دیا گیا۔ جس کا براہ راست نتیجہ موجودہ سائنس اور ادب ہیں۔

یقیناً کسی ایک دماغ نے انسانی ذہنوں پر اتنے لمبے عرصہ کے لیے کبھی حکومت نہیں کی۔ ارسطو نے 53 سال کی عمر میں اپنا ا سکول شروع کیا جس کے قواعد طلبا خود بناتے تھے۔ ہر دس دن کے بعد وہ اپنے نگران کا چنائو کرتے تھے۔ اس ا سکول میں سائنس کے دیگر مضامین کے علاوہ نباتات اور حیوانیات کے مطالعہ کے خاص انتظامات تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایشیا اور یونان میں تقریباً ایک ہزار آدمی نباتات اور حیوانات کے نمونے جمع کرنے پر مامور تھے۔ ارسطو کے کہنے پر ہی سکندر نے دریائے نیل کے سیلابوں کی وجوہ کی کھوج کرنے کے لیے ایک مہم بھیجی تھی۔

سائنسی تحقیق کے لیے اس سے پہلے اس پیمانے پر انسانی اور مادی ذرائع کا کبھی استعمال نہیں ہوا۔ ارسطو سینکڑوں کتابوں، مضامین اور مسودوں کا مصنف تھا۔ سائنس کے علاوہ اس نے ادب اور فلسفہ کے بیشتر مضامین پر بھی اپنا قلم اٹھایا تھا۔ ارسطو نے کوئی نمایاں نئی سائنسی ایجاد نہیں کی اور نہ ہی سائنس کے کوئی دیرپا قوانین پیش کیے۔ یونان میں غلاموں کی سستی مزدوری دستیاب ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں کو نئی مشینین ایجاد کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ تجربہ کے لیے آلہ جات کی عدم موجودگی میں سائنس کے جو قوانین ارسطو نے پیش کیے وہ سب کے سب بعد کے تجربات اور تحقیقات کی روشنی میں کھرے ثابت نہیں ہوئے۔ مگر سائنس محض مشینوں کی ایجاد کا نام نہیں بلکہ سائنس سوچنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔ اس لحاظ سے ارسطو کے عظیم سائنس دان ہونے پر کوئی شک نہیں رہتا۔ کیونکہ ارسطو نے منطق کی جس سائنس کو جنم دیا، اس نے آنے والی نسلوں کے لیے سوچنے کے ضابطے اور ذہنی ڈسپلن کا ایک معیار پیش کیا۔ موجودہ سائنس کی بیشتر اصطلاحات وضع کرنے میں بھی اس کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ سائنس کے میدان میں باقاعدہ تجربہ اور مشاہدہ کا رواج بھی ارسطو نے ہی ڈالا۔ حیوانات اور نباتات کی ان گنت قسموں کو اپنی تجربہ گاہ میں جمع کر کے ارسطو نے کچھ ایسے مشاہدے کیے، جنہیں آج کی سائنس بھی درست مانتی ہے۔ چنانچہ اس نے بے جان چیزوں سے لے جاندار مخلوق کی مختلف اقسام کو ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں قرار دیا جسے بعد ازاں سائنس نے درست تسلیم کیا۔

ارسطو کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ اس کی غلط باتیں بھی صدیوں تک عقیدہ کے طورپر قبول کی گئیں۔ اس کی عظمت سائنس کی مزید ترقی کی راہ میں دیوار بن گئی۔ 1600ء میں برونو کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا کہ اس نے نظام شمسی کے بارے میںارسطو کے خیالات کی تردید کی تھی۔ چالیس سال بعد گلیلیو کو اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتارنے کی دھمکی دی گئی کہ اس نے ارسطو کے اس قول سے اتفاق نہیں کیا تھاکہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ سائنس پر ایک شخصیت کی اتنی مضبوط گرفت سے گھبرا کر تیرہویں صدی کے سائنس دان راجر بیکن نے اعلان کیا ’’اگر میرا بس چلے تو میں ارسطو کی سب کتابیں جلادوں۔‘‘ارسطو یقینا ایک عظیم سائنس دان تھا۔ نئے علم کی بنیادیں رکھتے ہوئے، کچھ غلطیاں سرزد ہوجانا غیرمتوقع نہ تھا۔ یونان کا فلاسفر سائنس دان کامیاب زندگی گزارنے کے بعد 322 ق م میں وفات پا گیا۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر