وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ پرلکھی گئی کتاب نے اشاعت سے قبل دنیابھرمیں تہلکہ مچادیا

بدھ 10 جنوری 2018 ٹرمپ پرلکھی گئی کتاب نے اشاعت سے قبل دنیابھرمیں تہلکہ مچادیا

جرات اسپیشل رپورٹ
امریکاکی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازعہ صدر ڈونلڈٹرمپ کے جواپنے بیانات اور ای میل پیغامات کی وجہ سے دنیا بھرمیں خبرو ںکی زینت بنے رہتے ہیں ۔ ان کی شخصیت پرمعروف صحافی مائیکل وولف کی کتاب فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اقتباسات منظر عام پر آئے جس نے اپنی اشاعت سے قبل ہی تہلکہ مچادیاہے۔
جلد شائع ہونے والی کتاب میں دعوے کیے گئے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی کامیابی پر انتہائی حیران تھے۔ انھیں اپنی تقریبِ حلف برداری میں بالکل لطف نہیں آیا اور وہ وائٹ ہاؤس جانے کے بارے میں خوفزدہ اور پریشان تھے۔
صحافی مائیکل وولف کی کتاب ’فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس‘ جلد شائع ہونے والی ہے۔ اِس کتاب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے صدارتی امیدوار بننے کے منصوبے کو بھی فاش کیا جائے گا۔
کتاب میں بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ میڈیا ٹائٹن روپرٹ مرڈوک کے بہت بڑے مداح ہیں تاہم روپرٹ مرڈوک ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے۔
اطلاعات کے مطابق اس کتاب کو لکھنے کے لیے مصنف نے 200 خصوصی انٹرویو کیے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ’جھوٹ سے بھری‘ ہوئی ہے۔
اس کتاب میں سامنے آنے والے دس دلچسپ انکشافات مندرجہ ذیل ہیں:
1 ٹرمپ جونیئر کی ملاقاتیں ملک
سے ’غداری‘ کے مترادف تھیں
نئی کتاب میں ا سٹیو بینن سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے بیٹے کی روسی حکام سے ملاقات ‘غداری’ کے زمرے میں آتی ہے۔
جون 2016 میں ہونے والی اس ملاقات میں روسی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ جونئیر کو امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کے خلاف معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
مائیکل وولف نے لکھا ہے کہ بینن نے انھیں اس میٹنگ کے بارے میں بتایا کہ:
’انتخابی مہم کے تین سینیئر اہلکاروں کا خیال تھا کہ ٹرمپ ٹاور کے 25ویں فلور پر ایک غیر ملکی حکومت سے بغیر کسی وکیل کی موجودگی میں ملنا ایک اچھا خیال تھا۔ وہاں کوئی بھی وکیل موجود نہیں تھے۔ آپ کے خیال میں اگر یہ غداری یا حب الوطنی کے منافی، یا بیوقوفی نہیں بھی تھی جو کہ میرے خیال میں یہ تینوں تھیں، تب بھی آپ کو فوری طور پر ایف بی آئی کو بتانا چاہیے تھا۔
اسٹیو بینن نے صحافی مائیکل وولف سے امریکی انتخاب میں روسی مداخلت کے بارے میں جاری تفتیش کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی توجہ کا مرکز منی لانڈرنگ ہوگا اور وہ لوگ ڈونلڈ جونیئر کو قومی ٹی وی پر انڈے کی طرح توڑ دیں گے۔
2 ۔ٹرمپ اپنی کامیابی سے
’انتہائی پریشان‘ ہوگئے تھے
نیویارک میگ نامی جریدے میں اس کتاب کے ایک حصے کو بطور ایک آرٹیکل شائع کیا گیا ہے جس میں اپنی انتخابی کامیابی پر ٹرمپ کی حیرانگی اور پریشانی قلمبند کی گئی ہے۔
’الیکشن نائٹ پر رات آٹھ بجے کے بعد، جب ایک غیر متوقع رجحان کی تائید ہونے لگی کہ ٹرمپ جیت سکتے ہیں تو ڈونلڈ جونیئر نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے والد نے کوئی جن دیکھ لیا ہے۔ میلانیا کے آنسو نکل آئے اور یہ خوشی کے آنسو نہیں تھے۔ ا سٹیو بینن کے جائزے کے مطابق ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک پریشان ٹرمپ ایک حیران ٹرمپ بن گئے اور پھر ایک خوفزدہ ٹرمپ بن گئے۔ اور کچھ ہی دیر میں ڈونلڈ ٹرمپ ماننے لگے کے نہ صرف صدارت ان کا حق ہے بلکہ وہ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں:
’ ٹرمپ اپنی تقریبِ حلف برداری پر انتہائی غصے میں تھے۔ انھیں غصہ تھا کہ سب سے بڑے ستاروں نے اس موقعے پر آنے سے انکار کر دیا تھا، انھیں بلیئر ہاؤس کے کمرے پسند نہیں آ رہے تھے اور وہ اپنی بیوی سے لڑ رہے تھے جو کہ واضح طور پر رونے کے قریب تھیں۔
4 ۔ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس
سے خوف آتا ہے
مصنف کا کہنا ہے کہ’ ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے انتہائی ناخوش رہتے ہیں اور یہاں تک کہ انھیں اس سے خوف آتا ہے۔ انھوں نے اپنا علیحدہ بیڈ روم تیار کروا لیا ہے جو کہ کینیڈی صدارت کے بعد سے پہلا موقع ہے کہ صدارتی جوڑے نے دو علیحدہ بیڈ روم استعمال کیے ہوں۔ انھوں نے کمرے میں موجود ٹی وی ا سکرین کے علاوہ دو اضافی ا سکرینوں کا آرڈر دیا اور اس دروازے پر تالا لگوانے کی کوشش کی تو سیکریٹ سروس کے ساتھ لڑائی ہوئی کیونکہ سیکریٹ سروسوالوں کا کہنا تھا انھیں کمرے تک رسائی درکار ہے۔
5 ۔ٹرمپ کا محبوب مشغلہ دوستوں
کی ’بیویوں پر نظر‘ رکھنا ہے
کتاب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہا کرتے تھے کہ ’دوستوں کی بیویوں کے ساتھ سونا ہی زندگی کا مزہ ہے‘۔
کتاب میں صدر ٹرمپ کے ایک دوست کا ذکر کیا گیا ہے جو کہتے ہیں ‘ٹرمپ اپنے دوست کی بیوی پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اْن کا شوہر وہ نہیں جو وہ سمجھتی ہیں۔
اِس کوشش میں وہ دوست کی بیوی کو بلا کر ان کے شوہر کے ساتھ اپنی گفتگو فون کے ا سپیکر پر سنواتے ہیں۔ ٹرمپ جان بوجھ کر اِس امید میں اپنے دوست سے ایسے سوالات کرتے ہیں کہ شاید وہ کوئی ایسا جواب دیں جو بیوی کو اچھا نہ لگے۔ مثلاً ’کیا آپ اب بھی اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرتے ہیں؟ کتنی مرتبہ؟‘
6 ۔ایونکا کو صدر بننے کی امید ہے
مصنف کے مطابق ایونکا اور ان کے شوہر کے درمیان مبینہ طور پر یہ معاہدہ ہوا ہے کہ مستقبل میں وہ صدارتی دوڑ میں حصہ لیں گی۔
’نفع نقصان کا اندازہ رکھتے ہوئے دونوں ایونکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر نے شاید اپنے دوست احباب کے مشوروں کے خلاف وائٹ ہاؤس میں کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اس جوڑے کا مشترکہ فیصلہ تھا اور ایک طرح سے ایک مشترکہ کام ہے۔ شاید دونوں نے آپس میں ایک فیصلہ کر رکھا ہے۔ اگر مستقبل میں موقع ملا تو وہ صدر کا الیکشن لڑیں گی۔ ایونکا ٹرمپ نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ پہلی خاتون صدر ہلیری کلنٹن نہیں ایونکا ٹرمپ ہوں گی۔ بظاہر دونوں کے اس معاہدے کا جب ا سٹیو بینن کو پتا چلا تو وہ انتہائی ناخوش ہوئے۔
7 ۔ایونکا والد کے بالوں
کا مذاق اڑاتی ہیں
کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایوانکا اپنے والد کا ذکر خاصی لاتعلقی بلکہ کچھ طنز کے ساتھ بھی کرتی ہیں اور اْن کے ہروقت بنے سنورے بالوں کا مذاق اڑاتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیئرا سٹائل کے بارے میں وہ اپنی دوستوں کو کچھ یوں بتاتی ہیں:
’چندیا گھٹانے کی سرجری کے بعد اْن کا سر ایک ایسا چکنا جزیرہ لگتا ہے جسے تین اطراف سے بالوں نے گھرا ہوا ہو۔ اِن سارے گیسوؤں کے سِروں کو سر کے بیچ میں جمع کرکے پیچھے کی جانب سنوارا جاتا ہے اور پھر بال ٹھہرانے والے اسپرے کے ذریعے اِسے مستقل سنبھال کررکھا جاتا ہے۔
کتاب میں کہا گیا ہے:
’بالوں کے مخصوص رنگ کے بارے میں مذاق میں کہتی تھیں کہ یہ صرف ‘جسٹ فور مین’ نامی ایک پروڈکٹ کے ذریعے ممکن ہے جسے جتنا لمبا عرصہ بالوں پر لگا رہنے دیا جائے اتنا ہی رنگ چوکھا ہوتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد بازی کا نتیجہ اْن کے بالوں کا اورینج بلونڈ ہونا ہے۔
8 ۔ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی
ترجیحات کا اندازہ ہی نہیں ہے
وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی چیف آف ا سٹاف کیٹی والس نے صدر کے سینئر مشیر کے طور پر جیرڈ کشنر سے پوچھا کہ ان کی انتظامیہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مگر اس کتاب کے مطابق کشنر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
’کیٹی والش نے پوچھا کہ ’بس مجھے ان تین چیزوں کا بتا دیں جس پر صدر ٹرمپ اپنی توجہ سب سے زیادہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ اس وائٹ ہاؤس کی تین ترجیحات کیا ہیں؟ یہ ایک انتہائی بنیادی سوال ہے جس کے بارے میں صدر بننے کے اہل کسی بھی امیدوار کو وائٹ ہاؤس میں رہائش حاصل کرنے سے کہیں پہلے سوچ لینا چاہیے۔ صدارت کے چھ ہفتے بعد بھی جیرڈ کشنر کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ انھوں نے کیٹی والس سے کہا ’ہاں، ہمیں اس کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔‘
9 ۔روپرٹ مرڈوک
کے لیے ٹرمپ کی محبت
مائیکل وولف ماضی میں روپرٹ مرڈوک کی سوانح عمری لکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روپرٹ مرڈوک کی بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔
’ایک مرتبہ روپرٹ مرڈوک نو منتخب صدر سے ملنے کے لیے جا رہے تھے کہ انھیں تاخیر ہوگئی۔ جب محفل سے کچھ دیگر مہمان جانے لگے اور ظاہری طور پر انتہائی ناخوش ٹرمپ نے مہمانوں کو یقین دہانی کروائی کہ مرڈوک آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ ایک عظیم آدمی ہیں، شاید عظیم آدمیوں میں سے آخری۔ آپ کو ان سے ملنے کے لیے رکنا چاہیے۔‘ ٹرمپ شاید یہ سمجھ ہی نہیں سکے تھے کہ اب وہ دنیا کے طاقتور ترین انسان تھے اور وہ اب بھی اس میڈیا موگل کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کر رہے تھے جو کہ خود ان کو ایک بیوقوف کے طور پر دیکھتا تھا۔
10 ۔مرڈوک ٹرمپ کو ’احمق‘ سمجھتے ہیں
تاہم یہ محبت باہمی نہیں ہے۔ وولف کا کہنا ہے کہ روپرٹ مرڈوک سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’سیلیکون ویلی کو میری بڑی ضرورت ہے کیونکہ اوباما نے ان پر بہت سختی کی تھی‘۔ مرڈوک نے انھیں سمجھایا کہ ’گذشتہ آٹھ سال میں تو صدر ان کی جیب میں تھا، انھیں تمھاری ضرورت نہیں‘۔ فون کال کے اختتام پر فون رکھتے ہی مرڈوک نے کہا کہ ’یہ آدمی کتنا احمق ہے۔
11 ۔فلِن کو معلوم تھا کہ روسیوں
سے پیسے لینا مسئلہ بنے گا
اس کتاب کے مطابق سابق نیشنل سکیورٹی مشیر مائیک فلن کو معلوم تھا کہ روسیوں سے تقاریر کے لیے پیسے لینا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس بارے میں انھوں نے ایک ساتھی سے کہا ’مسئلہ تو تب بنے گا اگر ہم جیت گئے۔
٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر